1


12ربیع الاوّل کی صبح عالم انسا نیت کے لیے یمن و سعادت کی صبح ہے_۔۔۔۔۔رحمت و بر کت کی صبح ہے_۔۔۔۔۔بہجت و مسرت کی صبح ہے ۔۔۔۔۔ خیر و برکت کی انہی ہمایوں سا عتوں میں حضور پر نور شا فع یومِ نشور کتم غیب سے منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوئے۔۔۔۔۔ ستاروں نے اپنے نو رانی کٹوروں سے روشنیاں زمین پر بر سا ئیں۔۔۔۔۔ ہوائوں نے اپنے دوش پر خو شبو یں لاد کر مادر گیتی کا طواف کیا۔۔۔۔۔ ظہور قدسی پر کار گاہِ حیات کی ایک ایک چیز نے بصد ادب و توقیر گردنیں جھکا دیں ۔۔۔۔۔ سمندروں،در یائوںاور نہروں میں لہریں محو رقص دکھا ئی دینے لگیں۔۔۔۔۔فضائوں میں ایک شور سا اٹھا۔۔۔۔۔ سلیم فطرت لو گوں نے اس کی تعبیر درودو سلام سے کی ۔۔۔۔۔ کرّو بیاں زمین کی طرف جھانک کر دیکھنے لگے۔۔۔۔۔ آج آغوش خاک سے کون ابھر ا ہے ۔۔۔۔۔ تاریخ نے انبیاء و مرسلین کی بشا رتوں کو دامن میں سجا کر نعرۂ رسالت بلند کیا ۔۔۔۔۔بت خا نوں میں نصب کیے گئے بت اور صنم لرزنے لگے ۔۔۔۔۔ آج کا شانہ ابر ہیمی سے بت شکن جلوہ گر ہو گیا ۔۔۔۔۔مہبطِ آدم پر آج جنتی پھو لوں کی نگہت بیزیاں اور روشنیاں مشام عالم کو معطر کرنے لگیں ۔۔۔۔۔ کعبے سے تعلق باللہ استوار کر نے والے کی میلادی خوشیوں پر اذانیں گونجیں ۔۔۔۔۔نام محمد ﷺ کی بر کتوں نے جہان آب و گل کو شگفتگی اور درخشندگی کا تحفہ دیا ۔۔۔۔۔ رضوان جنت نے فر دوسِ آرام و راحت کے در وازے کھولے۔۔۔۔۔اس لیے کہ آغوشِ آمنہ میں سیا دتوں کا سر تاج رو حانی چاند بن کر اترا۔۔۔۔۔ آج کے دن ان کی ولادت ہو ئی جنہیں جس نے قریب سے دیکھا اس کی کا یا پلٹ دی گئی ۔۔۔۔۔ان کے دو ستوں میں ابو بکرؓ سب سے عزیز ہیں ان کی زندگی ایک واشگاف اعلان ہے محمد ﷺ کا چہرہ لاجواب ہے ۔۔۔۔۔
ا ن کے عزیزوں میں علی ؓسب سے پیا رے ہیں وہ قسم کرکے کہتے ہیں ان ایسا نہ پہلوں میں کو ئی آیا ہے اور نہ بعد والوں میں کو ئی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔خدمت گاروں میں ایک غلام ہے ان کا تو پہلے سے اعلان ہے محمد ﷺ نور ہیں۔۔۔۔۔ ان کی پہلی بیوی مو منوں کی ماں کہتی ہیں اللہ کبھی انہیں عزت سے دور نہیں کر ے گا اس لیے کہ وہ مہمان نواز ، کسبِ معدوم کر نے والے ہیں ۔۔۔۔۔اور ضرورت مندوں کی مدد کر نے والے ہیں ۔۔۔۔۔
حضور ﷺ کے میلاد پر علم مسکرایا ۔۔۔۔۔حکمت قہقہ زن ہوئی ۔۔۔۔۔کر دار نے محبت کی جوت جی میں جگائی ۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق نے خو شیوں کا میلہ ر چا یا۔۔۔۔۔بہاروں نے بھنگڑے ڈالے ۔۔۔۔۔خو شبویں اور رو شنیاں ہم آغوش ہوئیں _۔۔۔۔۔زندگی کی افسر دہ رگوں میں حرارت کی لہریں دو ڑیں۔۔۔۔۔شبستانِ ادب میں نورِ سحر پید ا ہوا ۔۔۔۔۔ محرومیوں اور شقاوتوں کے دام ٹو ٹے ۔۔۔۔۔ما یو سیوں کے قفس بکھر ے ۔۔۔۔۔ تمرد اور طغیاں کی گردنیں ٹو ٹیں ۔۔۔۔۔آوارہ طبعیت شیطانوں پر شہا بیے بر سا ئے گئے ۔۔۔۔۔ محبتوں کی خو ئے سلیم رکھنے والے صہبائے اخوت سے سر شار ہو ئے ۔۔۔۔۔رخ ہستی پر اجا لا ان کی جبین درخشندہ سے پھیلا۔۔۔۔۔آج کی صبح محسوس یہ ہو ا جیسے ما ہتاب و آفتاب کا شانہ آمنہ کی دہلیز پر پڑے ہو ئے ذروں میں آکر بٹ گئے۔۔۔۔۔
چشم و گوش کے ایوان گو نج اٹھے ۔۔۔۔۔صحیفہ نور ورق ورق کھلتا گیا۔۔۔۔۔چاندنی کی صفیں بچھتی گئیں۔۔۔۔۔فرشتے درودوں کے نغمے گنگنا تے ہو ئے اورروحیں سلاموں کے گیت گا تی ہو ئیں کا شانہ آمنہ کے گرداگرد حلقہ زن ہوئیں۔۔۔۔۔آواز آئی
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ
’’اوربے شک اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور اور روشن کتاب آئی ‘‘۔(المائدہ:15)
اس رو شنی کے ابھر نے سے پہلے ، اس رحمت کے چھا جا نے سے قبل او راس مسیحا کے آجا نے سے پہلے انسا نی معاشرہ کیا تھا اور کیسا ؟ ایک سیرت نگا ر کی تصویر کشی ملا حظہ ہو :
’’بتوں پر آدمیوں کی قربانی چڑھا ئی جا تی تھی ۔با پ کی منکو حہ بیٹے کو وراثت میں ملتی تھی ۔حقیقی بہنوں سے ایک شادی جا ئز تھی۔ ازدواج کی کوئی حد نہ تھی قمار بازی ،شراب خوری اور زنا کاری کا رواج عام تھا ۔بے حیا ئی کی یہ حا لت تھی کہ سب سے بڑا نا مور شا عر امر ء القیس جو شا ہزادہ بھی تھا قصیدہ میں اپنی پھو پھی زاد بہن کے ساتھ اپنی بد کاری کا واقعہ مزے لے لے کر بیان کر تا ہے اور یہ قصیدہ در کعبہ پر آویزاں کیا جا تا ہے ۔ لڑائیوں میں لو گوں کو زندہ جلا دینا ۔مستورات کے پیٹ چاک کر دینا معصوم بچوں کو تہ تیغ کر دینا عمو ماً ٹھیک بلکہ اچھا جا نا جا تا ‘‘۔
یہ تھے وہ حا لا ت جن میں میلاد نبوی کی رو شنی رحمت کا پیغام بن کر ہر سو چھا گئی ۔یہ فیصلہ مشیت ایزدی کا تھا۔۔۔۔۔ یہ اہتمام کار ساز فطرت کا تھا ۔۔۔۔۔یہ شفقتوں کی رُت خود خالق کا ئنا ت نے بنا ئی تھی کہ صرف اپنے گھر والوں کی نہیں۔۔۔۔۔ایک قبیلہ کی نہیں ۔۔۔۔۔ایک قوم کی نہیں۔۔۔۔۔ایک ملک کی نہیں بلکہ عوالم کی تقدیر سازی کر دی جائے۔۔۔۔۔ ان میں ایسا مسیحا اٹھا یاجا ئے جس کے دم دم میں تڑپتی سسکتی انسا نیت کے لیے سکون اور رحمت کا پیغام ہو ۔۔۔۔۔جو فطرت کے نظام سے بغاوت کر نے والوں کا انجام بتا ئے۔۔۔۔۔جو فر عونوں ،نمرودوں اور سر کش طا غو توں کی
گر دنیں مر وڑ دے۔۔۔۔۔ اور جس کی نشست و بر خاست میں دا ئمی اور مسلسل بر کتیں ارزاں ہو ں ۔
تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا
’’برکت نواز ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیاتاکہ وہ تمام جہان والوں کو ڈر سنانے والا ہو ‘‘۔(الفرقان:1)
آج کی صبح کتنی سہا نی صبح ہے۔۔۔۔۔آج کی صبح کی فیض با ر یاں لفظوں میں نہیں لا ئی جا سکتیں ۔۔۔۔۔ آج کی صبح ایک اعلان ہے کہ دنیا پر چھا ئی ہو ئی ظلم کی سیاہ رات اب ختم ہو گئی ہے۔۔۔۔۔ آج جو پاکیزہ ،عظیم خوبصورت اور عظمت مآب روح جلوہ گر ہو ئی ہے ۔اس کی آمد کی بر کت سے اندھے بینا ہو ں گے ۔۔۔۔۔ بیمار تندرست ہو ں گے۔۔۔۔۔ اور مر دوں کو حیات نو کا پیغام ملے گا۔۔۔۔۔ وہ دنیا میں ایسا نا دِ انقلاب ،ناد اعجازاور ناد نور پھونکیں گے کہ رہزن رہرو بلکہ رہبر بن کر چھا جا ئیں گے ۔۔۔۔۔صداقتوں اور پا کیزگیوں کو شر ف و مجد کی خلعتیں پہنائی جائیں گی ۔۔۔۔۔ آنے والے نوراور چھا جانے والے سراپائے سرور کی نظر اٹھے گی تو ہدا یت کے پیما نے ہر سو گر دش کرنے لگیں گے ۔۔۔۔۔ان کی نظر جھکے گی تو حیا کی اقدار اپنے چہرے پر اعتبار کی تازگی محسوس کریں گی اور بے بسیاں قوت ،طاقت اور یقین کا ما حول بن جا ئیں گی ۔
ان کی آمد کا جلوہ ان کے خالق نے اپنی کتاب میں نور کی زبان میں برنگ نور بیان کیا ہے ۔
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ
’’بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول تشریف فر ما ہو ئے ہیں تمہارا مشقت میں پڑ جا نا ان پر بڑا گراں گزرتا ہے وہ تم میں سے ہر ایک کے خیر خواہ اور مو منوں پر تو نہایت مہربانیاں فر ما نے والے اور رحمت فر ما نے والے ہیں ‘‘۔(التوبہ:128)
12ربیع الاوّل کی صبح معجزات کی ’’ بارا ت‘‘ ہے۔۔۔۔۔عقیدتوں کے پھول برس رہے ہیں ۔۔۔۔۔ محبتوں کی گل پا شیاں ہو رہی ہیں ۔اس نو رانی صبح کی طلعت سے پہلے محبت کے سارے گیت اور نغمے سازوں میں دبے تھے ۔۔۔۔۔دلوں میں دھڑکنیں تھیں لیکن ان کے اندر مسّرتوں کی روح مفقود تھی ۔۔۔۔۔حسن تھا لیکن ابھی پر دے میں۔۔۔۔۔ عشق تھا لیکن ابھی اس پر لرز ہ طاری نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔ لفظ تھے لیکن ان کے قالب میں معا نی کی روح نہیں تڑپتی تھی ۔۔۔۔۔کتابیں تھیں لیکن ان کا مصدق ابھی جلوہ گر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔ نظر یں تھیںلیکن ابھی چہرہ بے مثل کی زیارت سے محر وم تھیں ۔۔۔۔۔دل تھے لیکن انہیں معبود سے کو ئی ملا نے والا ختم نبوت کی خلعت میں مبعوث نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔کان تھے لیکن فاران کی اذان ابھی نہیں گو نجی تھی ۔۔۔۔۔بچے پید ا ہو تے تھے لیکن ان کے کا نوں میں تو حید رسالت پر ایمان کا رس گھولنے والا ابھی نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔یہ اعجاز12ربیع الاوّل کی صبح کو ملا جب کا شانہ آمنہ ؄کی روشنیاں تمام جہانوں پر محیط ہو گئیں ۔۔۔۔۔ان کی میلاد کی خو شیاں اتنی میٹھی تھیں کہ در ختوں ،پو دوں ،پتھروں اور سنگریزوں سے درودوں کی صدائیں گو نجنے لگ گئیں۔۔۔۔۔
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
’’ بے شک اللہ اور اس کے فر شتے نبی پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان لانے والو! تم بھی ان پر خوب اور خوب درودو سلام بھیجو ‘‘۔(الاحزاب:56)
آج کا دن اس ہستی کے ظہور اور ولادت کا دن ہے جس نے دنیا میں مہر و محبت بانٹی ،شفقت و الفت کے قاسم بنے اور ہمدردی اور رحمت کی نقا بت کی ۔۔۔۔۔آج کا دن ان کی ولادت کا دن ہے جنہوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں کو سمجھایا حکمت اور دانش تمہاری کھو ئی ہو ئی متا ع ہے۔۔۔۔۔ تمہیں جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کر لو ۔۔۔۔۔آج کے دن جن کی ولادت ہو ئی انہوں نے اعلان فر ما یا تھا جو دوسروں پر رحم نہیں کر تا وہ خود رحم سے محروم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔ آپ کی نظر ہمیشہ حقائق پر رہی ۔آج کے مو لود کی بر کت یہ بھی تھی کہ ان کی ولا دت نے سڑی ہو ئی لا شوں کے چہروں سے خوشنما نقاب نو چ نو چ کر پھینک دیے ۔۔۔۔۔اور ہر گندگی کی بیخ کنی کر دی۔۔۔۔۔ ’’ھذاحق‘‘ ولادت نبوی نے رہنمائی کا تا زہ مفہوم عطا کیا ۔
اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ٘-یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْؕ-فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
’’وہ لوگ جو نبی امّی کی پیروی کر تے ہیں انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہو ا پا تے ہیں کہ وہ حکم دیں گے انہں بھلائی کا اور برائی سے رو کیں گے اور پا کیزہ چیزیں ان کے لیے حلال کر یں گے اور گندگیوں کو ان پر حرام کر یں گے اور ان کا بو جھ ان سے اتاریں گے اور ان طو قوں کو جو ان پر بو جھ بنے ہیں سو جو ان پر ایمان لا یا اور ان کی خوب تعظیم کی اور ان کی مدد کی او ر اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل ہوا تو وہی لوگ فلا ح پانے والے ہیں ‘‘۔(الاعراف157:)
آج کے دن آنے والا آج ہی کے دن جہاں سے آیا تھا وہاں ہی چلا گیا ۔۔۔۔۔آتے ہوئے ’’اللہ اکبر ‘‘ کی صدا لبوں سے بکھیر ی ۔۔۔۔۔اور جا تے ہوئے یہ مختصر کلمات ان کی زبان سے سنے گئے :’’نماز اور غلام ‘‘
مظلوم انسانیت ، مقہور انسانیت اورمجبور انسانیت کے لیے آج کے مو لو د نے کیا کیا نہ کیا ؟ کسی شاعر نے یہ صحیح کہا تھا :
یتیموں کا والی غلاموں کا مو لیٰ
آپ کی تعلیمات تھیں :
’’یہ غلام تمہارے بھائی ہیں جو خود کھا تے ہو ان کو وہی کھلا ئو اور جو خود پہنتے ہو وہی ان کو پہنا ئو ‘‘
آپ کے لفظوں سے آزادی کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہے :
اے لو گو ! انہیںکو ئی میرا غلام یا لو نڈی نہ کہے بلکہ میر ا بچہ یا بچی کہہ کر پکا رے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ
اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر
12 ربیع الا وّل کے مو لو دِ عظیم کے آنے کی بر کت تھی کہ آپ کی والدہ کہتی ہیں جب آپ کی ولادت ہو ئی تو میرے جسم سے ایک نور نکلا ۔۔۔۔۔جس سے ملک شام کے محلات روشن ہو گے ۔۔۔۔۔ایوانِ کسریٰ کے چو دہ کنگرے گر گئے ۔۔۔۔۔مجوس کا آتش کدہ ٹھنڈا ہو گیا۔۔۔۔۔ دریائے سا ویٰ خشک ہو گیا ۔۔۔۔۔اور اس کے ارد گرد کے گر جے منہدم ہو گئے۔۔۔۔۔عبد المطلب نے آپ کی پیدا ئش پر صحیح کہا تھا :
و البیت ذوالحجب و النصب و الشھب
ان ابنی ھذا سبب من السبب
’’یہ گھر عظیم پر دوں والا،مرتبے اور عزت والا اس کی عظمتوں کا ایک سبب میرا یہ بیٹا ہے ‘‘
عبدالمطلب کے بیٹے پر سلام ۔۔۔۔۔
اور اللہ کے رسول پر درود آئو مل کر ان کی اطاعت کریں ۔۔۔۔۔
اور ان کی فکر و عمل کے لیے تسلیم سے جینے کی امنگ سینے
میں سجا لیں ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں