1

المصطفیٰ پاکستان کے ہیڈ آفس مزنگ روڈ لاہور میں مدحت رسول کا چراغاں

ثناخوانان مصطفی اور شعراء کرام کا بارگاہ رسالت مآب میں عقیدتوں اور محبتوں کا والہانہ اظہار
عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت کے موقع پر محبت رسول کی خوشبوؤں سے مہکتی محفل میلاد اور نعتیہ مشاعرہ کا شاندار انعقاد
محمد نواز کھرل
نعتیہ مشاعرہ کی صدارت جناب سعود عثمانی نے کی جںکہ بطور مہمان اعزاز شرکت کرنے اور اپنا نعتیہ کلام سنانے والے شعرا کرام میں اقتدار جاوید ، صادق جمیل ، واجد امیر ، عرفان صادق ، سلطان محمود ہاشمی ، حسنین مظہری ، آفتاب جاوید ، طاہر ہاشمی ، ڈاکٹر نبیل احمد نبیل ، شبنم مرزا ، عروج زیب ، سیدہ تسنیم بخاری ، عقیل اختر ، اغر ندیم سحر ، حکیم سلیم اختر ، محمد اسلم سعیدی ، جنید رضا ، ولایت احمد فاروقی اور شاہ میر مغل شامل تھے ۔۔۔ محفل میلاد میں ندیم اقبال باہو ، حافظ محمد طلحہ ، وقار محمود ہاشمی اور صاحبزادہ حزیفہ اشرف عاصمی نے اپنی خوبصورت آواز میں بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کئے ۔۔ محفل میلاد اور نعتیہ مشاعرہ کے آخر میں ایم ڈی المصطفی پاکستان محترمہ نصرت سلیم نے اپنے خطاب میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ نظامت کے فرائض محمد نواز کھرل نے سرانجام دیئے ۔۔ بعد ازاں ضیافت میلاد کا بھی اہتمام کیا گیا ۔۔۔ نعتیہ مشاعرہ میں پڑھے گئے نعتیہ کلام کے کچھ منتخب حصے ملاحظہ فرمائیں ۔
یہ اک سبق بھی پیمبر سے روشنی کو ملا
کہ سب سے تیز سفر جسم ہی کا ہوتا ہے

جیسے یثرب ہوا شاہ کا مستقر راہ تکتے دیاروں کے ہوتے ہوئے
یہ زمیں میزبان پیمبر بنی سربوں کھربوں ستاروں کے ہوتے ہوئے
( سعود عثمانی )

رکھ کے لب اسم-محمد پہ ہٹاتا بھی نہ تھا
جب مجھے نام-نبی ٹھیک سے آتا بھی نہ تھا
آپ اس کی بھی سنا کرتے تھے پہروں باتیں
وہ جسے پاس کوئی اپنے بٹھاتا بھی نہ تھا
( واجد امیر )

بدر میں آئے تھے سرکارؐ لڑائی ہوئی تھی
لفظ کی پہلی دفعہ معنٰی کشائی ہوئی تھی
سات پردوں کی حقیقت نہ تھی واضح ایسے
شبِ معراج میں افلاک نمائی ہوئی تھی
( اقتدار جاوید )
میں ان کا ذکر جو کرتا ہوں اس قرینے سے
شعائیں پھوٹنے لگتی ہیں میرے سینے سے

دل و دماغ معطر سے ہو گئے سب کے
ہوائیں لوٹ کے آئی ہیں جو مدینے سے
(عرفان صادق )

اپنی سرکار کا ہم ایسے کہا مانتے ہیں
جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا مانتے ہیں

ہم کو سرکار کی نعتوں سے سکوں ملتا ہے
آلِ ابلیس کے افراد برا مانتے ہیں
( قاری صادق جمیل )

وہی نعتِ نبی کو لب کھولے
بخت جس آدمی کا رب کھولے
ہاتھ آجائے جس کے خاکِ نجف
اس کو لازم ہے وہ مطب کھولے
( حسنین مظہری )

نبی کی نعت کہنا اس قدر آساں نہیں ہوتا
وگرنہ کون سے مومن کا یہ ارماں نہیں ہوتا
( شبنم مرزا )

دل بےتاب کو ہر وقت سنبھالے،بخشے
غم سرکار تسلی کے دوشالے بخشے
روزِ محشر یہ منادی پہ منادی ہو گی
جن کو محبوب تو دامن میں چھپا لے ، بخشے
( عقیل اختر )

نہ پوچھ لوح پہ بھی وہ لکھی ہوئی نہیں
جو کیفیت مِری کل شب برائے نعت ہوئی

پھر اِس میں سرمدی اسباب پیدا ہوتے گئے
یہ کائنات جونہی آشنائے نعت ہوئی
( طاہر ہاشمی )

لکھی گئی ہے شفاعت ہماری نعت کے ساتھ
کہ جڑ گیا ہے تعلق تمہاری ذات کے ساتھ

حضور آپ کے آنے سے ہو گئے روشن
جڑا تھا جن کا تعلق سیاہ رات کے ساتھ

انہی کے ذکر سے دل کو سکون ملتا ہے
انہی کا ذکر میں کرتا ہوں بات بات کے ساتھ
( اغر ندیم سحر )

ہے اتنا وسیع دیکھیئے دامان محمد
کونین کو حاصل ہوا فیضان محمد
امت ہے بری میری سزا و جزا سے
محشر میں سنیں گے سبھی اعلان محمد
( عروج زیب )

ہر ایک شے کا تقاضہ حضور جانتے ہیں
ہمارے دل کا ارادہ حضور جانتے ہیں

فلک سے نور کی آمد ہے کس کے ہونے سے
یہ راز دنیا میں تنہا حضور جانتے ہیں
( سیدہ تسنیم بخاری )

نعتیہ گیان قصوی

میں قصوی ھوں
یہ میرے سوار کی برکت ھے
کہ میرا ایک پاؤں زمین پر پڑتا ھے
تو دوسرا آسمان پر

میری غذا مدینہ کی گھاس
اور جڑی بوٹیاں ہیں
مگر میرا پیٹ
ان کے قدموں کی چاپ سے بھرتا ھے

میں بانصیب ھوں
وہ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں
تو میرے دودھ میں
شہد گھلنے لگتا ھے

میں بنو نجار کے محلہ میں ہوں
جہاں، ہر ایک کی یہی خواہش ھے
یہ ماہ۔کامل
ہمارے صحن میں اترے
میں انہیں کیسے سمجھاؤں
میری رسی
جبرائیل کے ہاتھ میں ھے
وگرنہ میں آمنہ کا لال
انہی کے دروازے پر اتارتی
میں قصوی ھوں
میں سیاہ رات سے
سفید دن کیطرح طلوع ھوتی ھوں
میں انمول ھوں
میں شاہ۔عرب کی سواری ھوں
ایوب انصاری سے کہنا
قصوی پوچھتی ھے
میرا احسان کیسے اتارو گے
( آفتاب جاوید )

جب ہوا تنگ کسی نعت سرا کا رستہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں