
ترتیب: رضوانہ لطیف / دینی عالمہ
ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا قمری مہینہ ہے۔’’ربیع ‘‘عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے۔اور اوّل کے معنی ہیں۔پہلا تو ربیع الاول کے معنی ہوئے۔ پہلا موسمِ بہارموسمِ بہار دو زمانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک تو اس کا ابتدائی زمانہ جس میں کلیاں اور پُھول کھلتے ہیں اور دوسرا وہ زمانہ جب پھل پک جاتے ہیں، پہلے زمانے کو ربیع الاوّل یعنی پہلا موسمِ بہار، جبکہ دوسرے زمانے کو ربیع الثانی یعنی دوسرا موسمِ بہار کہا جاتا ہےجب ان مہینوں کے یہ نام رکھے جارہے تھے تو اس وقت بہار کے یہی موسم تھے، اورپھر بعد میں ان مہینوں کے یہی نام پڑگئے۔ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ’’ربیع الاول ‘‘یہ ’’ارتباع ‘‘سے نکلا ہے۔جس کے معنی ہیں’’موسمِ بہار میں قیام کرنا‘‘ چونکہ عرب لوگ اس مہینےمیں سفر کرنے کے بجائے موسمِ بہار گزارنے کی غرض سے گھروں میں قیام پذیر ہوتے تھے۔اس لیے اس مہینے کا نام’’ ربیع الاول‘‘رکھا گیا۔اس مہینے میں سرورِ دو عالم حضور اقدس جناب محمد رسول اللہ ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور یہ مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں اسی لیے جب آپ ﷺ سے پیر کےدن روزے کےبارے میں پوچھاگیا۔تو آپ ﷺ نے اس کی فضیلت کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس دن میں پیدا ہوا۔ جب پیر کے دن روزہ کو حضورﷺ کی ولادت کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے۔تو ماہِ ربیع الاوّل کوبھی آپ ﷺ کی ولادت کا مہینہ ہونے کی خاص حیثیت کے اعتبارسے سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔تمام مؤرخین اور اصحاب ِسیر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کی ولادت باسعادت پیرکے دن ہوئی ۔
جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت پیرکے روز ہوئی اوروفات بھی پیر کے روزہوئی۔اسی طرح اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ رسولِ اکرمﷺ عام الفیل (یعنی جس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر کےساتھ بیت اللہ شریف پر حملہ کیا) میں پیدا ہوئےاور جمہور اہلِ علم کا مسلک یہ ہے کہ آپﷺ ماہ ربیع الاول میں پیدا ہوئے۔رسولِ اکرمﷺ کی تاریخ ولادت کیا ہے ؟اس بارےمیں مؤرخین اور سیرت نگاروں کے متعدد اقوال ہیں۔ کسی نے ربیع الاول کی دو تاریخ کہا کسی نے آٹھ، کسی نے دس کسی نے بارہ کسی نے سترہ، کسی نے اٹھارہ اور کسی نے بائیس ربیع الاول کہا اور بہت سےمحققین نے ۱۲ کی بجائے ۹ ربیع الاول کو یومِ ولادت ثابت کیا ہے۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ فیل کے پچاس یا پچس روز کے بعد بتاریخ ۸ ربیع الاول پیر یوم دو شنبہ مطابق ماہ اپریل ۵۷۰ عیسوی مکہ مکرمہ میں صبح صادق کے وقت ابو طالب کے مکان میں پیدا ہوئے ولادت باسعادت میں مشہور قول تو یہ ہے کہ حضور پُرنور ﷺ ۱۲ ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔ لیکن جمہور محدثین اور مورخین کے نزدیک راجح اور مختار قول یہ ہے کہ حضور ﷺ ۸ ربیع الاول کو پیدا ہوئے عبداللہ بن عباس اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنھم سے بھی یہی منقول ہے اور اسی قول کو علامہ قطب الدین قسطلانی رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔(سیرت مصطفی ،ج:۱،ص:۵۶،ط:دارالناشر)حضور اقدس ﷺ کی تاریخ وفات۔آپﷺ کی تاریخِ وفات کے بارے میں تین اقوال (یکم ربیع الاول دوربیع الاول اوربارہ ربیع الاول )ملتے ہیں۔جمہور مؤرخین اور سیرت نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ۱۲؍ ربیع الاول رسولِ اکرمﷺ کا یوم وفات ہے۔۱۔ علامہ ابن سعد نے حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا کی روایت نقل کی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ اللہ کے رسولﷺ پیر کے دن ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو فوت ہوئے۔۲۔ حافظ ابن کثیر نے لکھاہے کہ اللہ کے رسولﷺ بارہ ربیع الاول کو فوت ہوئے۔۳۔ مؤرخ علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ جب آپﷺ کا مرض شدت اختیار کرگیا توآپ کو حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارکہ میں منتقل کیا گیا۔ آپ ﷺچاشت کے وقت پیر کے دن بارہ ربیع الاول کو اس وقت فوت ہوئے جس وقت میں آپﷺ مدینہ میں داخل ہوئے تھے۔
سرکارِ دوعالمﷺ کے بارے میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو بھیجا ہی اس مقصد کیلئے تھا کہ آپ انسانیت کے سامنے ایک مکمل اور بہترین نمونہ پیش کریں۔ ایسا نمونہ بن جائیں جس کو دیکھ کر لوگ نقل کریں۔ اس کی تقلید کریں، اس پر عمل پیرا ہوں اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ اس غرض کیلئے نبی کریمﷺ کو اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر ایک لمحہ ہمارے لئے ایک مثال ہے۔ ایک نمونہ ہے اور ایک قابل تقلید عمل ہے اور ہمیں آپﷺ کی زندگی کے ایک ایک لمحے کی نقل اُتارنی ہے۔ اور ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہے۔لہٰذا ہم نبی کریمﷺ کو دنیا کے دوسرے لیڈروں پر قیاس نہیں کرسکتے کہ ان کا ایک دن منایا اور بات ختم ہوگئی بلکہ سرکارِ دوعالمﷺ کی حیاتِ طیبہ کو ہماری زندگی کے ایک ایک شعبے کیلئے اﷲ تعالیٰ نے نمونہ بنایا ہے اور سب چیزوں میں ہمیں ان کی اقتدا کرنی ہے ہمارا زندگی کا ہر دن ان کی یاد منانے کا دن ہے۔
اصل ربیع الاوّل اس کا ہے جو رات دن ہر وقت حضور ﷺ کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینے کے لیے نہیں ایک دن کے لیے نہیں بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں جس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے. جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے.ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں؟ شادی کیسے ہو؟ غمی کیسے ہو؟ ساری سنتیں پوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے۔تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فد ا ہو اس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے۔ جو شخص آپ کی سنت پرعمل کررہاہے اس کا روزانہ بارہ ربیع الاوّل ہے۔
1
