
عبدالرزاق ساجد
سیرتِ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ محض ایک عظیم تاریخی شخصیت کی زندگی پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی حقیقت، اس کے مقصدِ تخلیق، اس کے اخلاقی امکانات اور اس کی روحانی منزل کو سمجھنے کا سفر ہے۔ دنیا کی تاریخ میں بے شمار بادشاہ، فاتح، فلسفی، مصلح، عالم اور قانون ساز گزرے ہیں، لیکن ان میں سے ہر شخصیت کا اثر کسی خاص زمانے، علاقے، قوم یا شعبۂ زندگی تک محدود رہا۔ کسی نے عدل کی بات کی مگر رحمت کا جامع تصور نہ دے سکا، کسی نے روحانیت کا درس دیا مگر معاشرتی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی، کسی نے اقتدار حاصل کیا مگر انکسار اور خدمت کو برقرار نہ رکھ سکا، اور کسی نے اخلاقیات کی تعلیم دی مگر انہیں ایک مکمل اجتماعی نظام میں نہ ڈھال سکا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس وہ واحد جامع اور کامل نمونہ ہے جس میں عبادت بھی ہے اور سیاست بھی، خلوت بھی ہے اور جلوت بھی، فقر بھی ہے اور اقتدار بھی، عدل بھی ہے اور عفو بھی، قیادت بھی ہے اور خدمت بھی، شمشیر بھی ہے اور آنسو بھی۔ اسی لیے سیرتِ محمدی ﷺ کا مطالعہ ایک انسان کی زندگی کا مطالعہ نہیں، بلکہ انسانی امکاناتِ کاملہ کا مطالعہ ہے۔
تری رفعت تفکر کی حدود ِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشور ی پر ہے
سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کی پہلی شرط ادب، عقیدت اور محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات ہمارے لیے صرف ایک تاریخی کردار نہیں، بلکہ ایمان، محبت، اتباع اور تعظیم کا مرکز ہے۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول، خاتم النبیین، سید المرسلین اور رحمت للعالمین ہیں۔ مسلمان کے لیے آپ ﷺ کا ذکر محض معلومات کا وسیلہ نہیں بلکہ دل کے نور، روح کے سکون اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ ہے۔ سیرت کو صرف تاریخ کی کتاب سمجھ کر پڑھنا اس کے حقیقی فیض سے محروم رہنا ہے، کیونکہ سیرت واقعات کی ترتیب کے ساتھ ساتھ محبت کا سفر، عقیدے کا اظہار، اخلاق کی تعلیم اور انسان کی باطنی تربیت بھی ہے۔ جب قاری سیرت کے مقدس دروازے سے داخل ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ماضی کے کسی خاموش عجائب گھر میں نہیں، بلکہ ایک ایسے زندہ چشمے کے کنارے آ پہنچا ہے جس سے ہر دور کا انسان اپنی ضرورت کے مطابق روشنی، حوصلہ، حکمت اور رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔
انسانی تاریخ دراصل اس سوال کی تاریخ ہے کہ انسان کیا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان مٹی سے بنا ہے مگر اس کے دل میں آسمان کی پیاس رکھی گئی ہے۔ وہ روٹی بھی چاہتا ہے اور معنی بھی، گھر بھی تعمیر کرتا ہے اور خدا کو بھی تلاش کرتا ہے، بازار بھی آباد کرتا ہے اور محراب بھی بناتا ہے۔ اس کے وجود میں خواہش بھی ہے اور وجدان بھی، کمزوری بھی ہے اور خلافت بھی، خاک بھی ہے اور نور بھی۔ یہی دوہری ساخت اس کے امتحان اور عظمت دونوں کا سرچشمہ ہے۔ عقل اسے راستہ دکھا سکتی ہے، مگر ہر حال میں منزل کا صحیح تعین نہیں کر سکتی۔ علم اسے طاقت دے سکتا ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ طاقت کے استعمال کا اخلاق بھی عطا کرے۔ تاریخ میں بڑے ذہین اور علم یافتہ انسانوں نے بھی ظلم کیا، سلطنتیں قائم کیں، جنگیں برپا کیں اور کمزوروں کو پامال کیا۔ اس لیے انسان کو عقل کے ساتھ وحی اور نظریے کے ساتھ ایک زندہ عملی نمونے کی ضرورت تھی۔ دنیا کو ایسی شخصیت درکار تھی جس میں علم ہو مگر تکبر نہ ہو، اقتدار ہو مگر جبر نہ ہو، عبادت ہو مگر رہبانیت نہ ہو، محبت ہو مگر اصولوں کی قربانی نہ ہو، عفو ہو مگر عدل معطل نہ ہو، اور قوت ہو مگر انتقام کی آگ نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی ذات میں انسانی خلافت اور اخلاقی کمال کی یہی مکمل تعبیر سامنے آئی۔ آپ ﷺ یتیم بھی رہے، تاجر بھی بنے، شوہر اور باپ بھی رہے، معلم بھی بنے، قاضی، سپہ سالار اور حکمران بھی ہوئے، لیکن ہر مقام پر اخلاق، رحمت، صدق، امانت، عفو، حلم، احسان اور محبت کی نئی تعریف قائم فرمائی۔ میدانِ جنگ میں بھی عدل سے تجاوز نہیں کیا اور محراب میں کھڑے ہو کر بھی انسانیت کی ضروریات سے بے نیاز نہیں ہوئے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ روحانیت کا مطلب انسانوں سے فرار نہیں، بلکہ خدا سے تعلق کی قوت لے کر انسانوں کی خدمت کرنا ہے۔ قیادت لوگوں کی گردنیں جھکوانے کا نام نہیں، بلکہ ان کے کندھوں سے بوجھ اتارنے کا نام ہے۔ عظمت تخت پر بیٹھنے سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ کمزور، مجبور اور محروم انسان کے دل میں جگہ بنانے سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے دنیا کو دکھایا کہ ایک کامل انسان وہ ہے جو اللہ کے سامنے سب سے زیادہ جھکا ہوا اور بندگانِ خدا کے لیے سب سے زیادہ رحمت والا ہو۔
درود اس پر کہ جس نے سر بلندی خاک کو بخشی
تجلیٰ آدمی کی ، قریہ ء افلاک کو بخشی
رسول اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے قبل دنیا ظاہری ترقی کے باوجود باطنی بحران کا شکار تھی۔ روم قانون کا دعوے دار تھا مگر قانون طاقتور کے سامنے بے بس تھا۔ ایران تہذیب اور سلطنت رکھتا تھا مگر انسان طبقاتی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ ہندوستان روحانیت کا وارث تھا مگر ذات پات کی تقسیم نے انسان کو انسان سے دور کر دیا تھا۔ مذہبی عبادت گاہیں آباد تھیں مگر انسانی دل ویران تھے۔ بازاروں میں دولت تھی مگر دیانت کم تھی، قوانین موجود تھے مگر انصاف نایاب تھا، علم بڑھ رہا تھا مگر حکمت کم ہو رہی تھی، اور قوت میں اضافہ ہو رہا تھا مگر رحم سکڑتا جا رہا تھا۔ انسان نے اپنے ہاتھ مضبوط کر لیے تھے مگر اپنا دل کھو بیٹھا تھا۔ ایسے ماحول میں انسانیت کو محض ایک نئے فلسفے، نئے قانون یا نئی سلطنت کی ضرورت نہیں تھی؛ اسے ایک ایسے زندہ معیار کی ضرورت تھی جو انسان کو دوبارہ انسان بنا سکے۔ حضرت محمد ﷺ کی بعثت اسی انسانی پیاس کا جواب اور اسی روحانی تاریکی میں طلوع ہونے والا آخری اور کامل نور تھی۔
آپ ﷺ کی ولادت کسی بادشاہ، فاتح یا شاہی وارث کی پیدائش نہ تھی۔ ایک ایسے بچے نے دنیا میں آنکھ کھولی جس کے والد پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ نہ محل تھا، نہ خزانہ، نہ لشکر، نہ ظاہری اقتدار، مگر یہی یتیم بچہ آگے چل کر پوری انسانیت کے دلوں کا حکمران بنا۔ اس آغاز میں ایک عظیم سبق پوشیدہ تھا کہ حقیقی عظمت دولت، اقتدار، حسب و نسب اور ظاہری وسائل کی محتاج نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی تربیت حالات، محرومیوں، مصائب اور تجربات کے ذریعے فرمائی۔ یتیمی نے آپ ﷺ کو یتیموں کا درد سمجھایا، غربت نے محتاجوں کے احساس سے آشنا کیا، تجارت نے دیانت کا عملی معیار قائم کرنے کا موقع دیا، مخالفت نے صبر، ہجرت نے توکل، مدینہ نے اجتماعی قیادت، جنگ نے عدل اور فتح نے عفو کی معراج دکھائی۔ اس طرح آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی مرحلہ ایسا نہ رہا جس میں انسانیت کے لیے رہنمائی نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا سب سے نمایاں وصف رحمت ہے۔ قرآن مجید نے آپ ﷺ کو کسی ایک قوم، نسل، ملک یا زمانے کے لیے رحمت نہیں کہا بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ آپ ﷺ کی رحمت دوستوں تک محدود نہ تھی، بلکہ دشمنوں، کمزوروں، غلاموں، یتیموں، بیواؤں، جانوروں، درختوں، زمین اور آنے والی نسلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ طائف کی وادی میں جسم لہولہان ہوا، مگر زبان سے بددعا نہ نکلی۔ فتح مکہ کے موقع پر برسوں ظلم کرنے والے دشمن سامنے بے بس کھڑے تھے، مگر انتقام کے بجائے معافی کا اعلان ہوا۔ یہی سیرت کا انقلاب تھا کہ طاقت انتقام کی خدمت گار نہیں رہی بلکہ رحمت اور عدل کا وسیلہ بن گئی۔ آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ معاف کرنا کمزوری نہیں، بلکہ قدرت رکھنے کے باوجود انتقام سے بلند ہو جانا اصل طاقت ہے۔ رحمت کا مطلب اصولوں کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اصولوں کو انسان کی اصلاح اور فلاح کے لیے استعمال کرنا ہے۔
سلام اس پر کہ جو جاگیر داری کا مخالف تھا
جہاں میں مال و زر کی شہریاری کا مخالف تھا
آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں کمزور محفوظ، حاکم جواب دہ، محنت باوقار، علم محترم، عورت صاحبِ عزت اور مذہبی و قبائلی گروہ ایک عادلانہ معاہدے کے تحت امن سے رہ سکتے تھے۔ مدینہ منورہ صرف ایک شہر یا جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی تصور بن گیا۔ جہاں بھوکے کو کھانا ملے، کمزور کو تحفظ حاصل ہو، حاکم سے سوال کیا جا سکے، بازار میں دیانت ہو، مسجد عبادت کے ساتھ خدمت کا مرکز ہو، عورت محفوظ ہو اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے حقوق تسلیم کیے جائیں، وہ معاشرہ مدینہ کے تصور سے قریب ہے۔ ہر نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عہد میں مدینہ کی اخلاقی تعمیر کرے، مگر یہ تعمیر صرف اینٹوں، نعروں، جلسوں یا اقتدار کے دعووں سے نہیں ہوتی؛ یہ کردار، خدمت، عدل، امانت اور رحم سے ہوتی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں عبادت اور معاشرت کے درمیان بھی غیر معمولی توازن پایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کی عبادت رات کی تنہائی میں آنسو بھی تھی اور دن کی روشنی میں خدمت بھی۔ آپ ﷺ کا سجدہ انسانوں سے لاتعلقی کا نام نہیں تھا، بلکہ انسانوں کی خدمت، ان کے دکھ اٹھانے اور حق کے قیام کے لیے روحانی قوت حاصل کرنے کا ذریعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت ہمیں محراب اور بازار، ذکر اور فکر، دعا اور تدبیر، توحید اور حقوق العباد کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اگر نماز کے بعد بھی ظلم باقی رہے، روزے کے باوجود نفس بے لگام ہو، حج کے بعد تکبر زندہ رہے اور زکوٰۃ کے باوجود پڑوسی بھوکا ہو تو عبادت کی ظاہری صورت تو موجود ہے مگر اس کی روح مفقود ہے۔ دین انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن، عبادت کے ساتھ اس کے رویے اور خدا کے ساتھ تعلق کے ساتھ بندگانِ خدا کے حقوق کی اصلاح چاہتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کی روح ہے، لیکن محبت صرف جذبات، نعت خوانی، اجتماعات یا زبانی عقیدت کا نام نہیں۔ سچی محبت اتباع کا مطالبہ کرتی ہے۔ سیرت سے محبت کا حقیقی ثبوت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امانت ہماری تجارت میں، آپ ﷺ کا عدل ہمارے فیصلوں میں، آپ ﷺ کی شفقت ہمارے گھروں میں، آپ ﷺ کی سادگی ہماری زندگی میں، آپ ﷺ کی عبادت ہماری راتوں میں، آپ ﷺ کی خیر خواہی ہماری گفتگو میں اور آپ ﷺ کی رحمت ہمارے روزمرہ رویوں میں دکھائی دے۔ وہ محبت جو کردار نہ بدلے، معاملات درست نہ کرے، زبان کو نرم نہ بنائے اور کمزوروں کے لیے دل میں درد پیدا نہ کرے، اپنے حقیقی مقصد تک نہیں پہنچتی۔ امت کی ذمہ داری صرف اپنے لیے نجات تلاش کرنا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بننا ہے۔
آج کی دنیا سائنسی، معاشی اور تکنیکی ترقی کے باوجود شدید اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ انسان نے فاصلے کم کر دیے ہیں مگر دلوں کے درمیان دوریاں بڑھ گئی ہیں۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر حکمت کی کمی، رابطے کے ذرائع زیادہ ہیں مگر تنہائی بڑھ رہی ہے، دولت میں اضافہ ہو رہا ہے مگر سکون کم ہوتا جا رہا ہے، قانون کے ادارے موجود ہیں مگر انصاف کے لیے لوگ ترس رہے ہیں، اور مذہب کے نام پر بھی نفرت، تقسیم اور تشدد پیدا کیا جا رہا ہے۔ جدید انسان کی سب سے بڑی غربت وسائل کی کمی نہیں بلکہ مقصد کی گمشدگی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ چیزیں کیسے بنائی جاتی ہیں، مگر یہ نہیں جانتا کہ زندگی کس لیے گزاری جائے۔ وہ زمین کی گہرائی اور خلا کی وسعت ناپ سکتا ہے، مگر اپنے نفس، لالچ، غرور اور غصے پر قابو نہیں پا رہا۔ ایسے دور میں سیرتِ رسول ﷺ ایک بار پھر انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتی ہے۔
مسلمانوں کا اپنا حال بھی سیرت کے آئینے میں سنجیدہ غور کا مطالبہ کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے منتشر قبائل کو ایک امت بنایا تھا، لیکن ہم نے امت کو فرقوں، قومیتوں، زبانوں، سیاسی جماعتوں اور ذاتی مفادات میں تقسیم کر دیا۔ آپ ﷺ نے دل جوڑے تھے، ہم نے دیواریں تعمیر کر لیں۔ آپ ﷺ نے مسلمان کو مسلمان کا بھائی قرار دیا، مگر ہم نے اختلاف کرنے والے بھائی کے لیے ایسی زبان اختیار کر لی جو دشمن کے لیے بھی مناسب نہیں۔ سیرت ہمیں دوبارہ اس مرکز کی طرف بلاتی ہے جو محبتِ رسول ﷺ، قرآن کی ہدایت، عدل، رحمت اور انسانیت کی خیر خواہی سے تشکیل پاتا ہے۔ اتحاد کا مطلب اختلاف کا خاتمہ نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود ادب، انصاف، خیر خواہی اور انسانی احترام کو برقرار رکھنا ہے۔
سیرت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ وسائل، تعداد اور ظاہری قوت کامیابی کی قطعی ضمانت نہیں۔ کامیابی کا تعلق اللہ تعالیٰ سے تعلق، اخلاقی سچائی، مقصد کی پاکیزگی اور قیادت کی ثابت قدمی سے ہے۔ حنین کے موقع پر مسلمانوں کو اپنی تعداد پر اعتماد ہوا، مگر ابتدائی انتشار نے واضح کر دیا کہ نصرت صرف کثرت سے نہیں آتی۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ ثابت قدم رہے اور منتشر لشکر کو دوبارہ جمع فرمایا۔ اس واقعے کا سبق یہ ہے کہ حقیقی قائد بحران میں اپنے لوگوں سے آگے کھڑا ہوتا ہے، خوف کے لمحے میں استقامت دکھاتا ہے اور کامیابی آنے پر سارا اعزاز اپنی ذات کے لیے محفوظ نہیں کرتا۔
مکمل معجزے تھے چادر تطہیر کے نیچے
کوئی لب قم بادنی تھے ،کسی کا ہاتھ پارس تھا
چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود سیرتِ رسول ﷺ کی تازگی اور معنویت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سلطنتیں بنتی اور بکھرتی رہیں، فاتحین کے نام مٹ گئے، فلسفے بدل گئے اور تہذیبوں کے عروج و زوال کا سلسلہ جاری رہا، مگر محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر آج بھی زمین کے ہر حصے میں زندہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیم کسی ایک زمانے کے عارضی مسئلے کا جواب نہیں بلکہ انسانی فطرت کی دائمی ضرورت کا جواب ہے۔ جب تک دنیا میں ظلم ہوگا، سیرت عدل کی دعوت دیتی رہے گی؛ جب تک نفرت ہوگی، سیرت محبت کا راستہ دکھائے گی؛ جب تک غرور ہوگا، سیرت انکسار سکھائے گی؛ جب تک انتشار ہوگا، سیرت وحدت کی طرف بلائے گی؛ اور جب تک انسان اپنی گمشدہ انسانیت تلاش کرتا رہے گا، سیرتِ محمدی ﷺ اس کے لیے روشن ترین منزل رہے گی۔
جب کسی فکر سے روشن رخِ تاریخ ہوا
میں نے جو غور کیا آپ کا احساں نکلا
سیرت کا حقیقی مطالعہ وہ ہے جو انسان کو صرف معلومات نہ دے بلکہ تبدیل کر دے۔ قاری جب کتاب بند کرے تو اس کی زبان زیادہ سچی، دل زیادہ نرم، معاملات زیادہ دیانت دار، عبادت زیادہ زندہ، نگاہ زیادہ پاکیزہ اور رویہ زیادہ رحمت والا ہو۔ سیرت ماضی کی داستان نہیں، حال کا محاسبہ اور مستقبل کی تعمیر ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے باطن کو بدلنا، اقتدار سے پہلے کردار، نعروں سے پہلے عمل اور دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ طیبہ انسانیت کے لیے وہ چراغ ہے جو کبھی بجھ نہیں سکتا۔ اس چراغ کی روشنی میں انسان اپنے رب کو بھی پہچانتا ہے، اپنی حقیقت کو بھی دریافت کرتا ہے اور دوسرے انسانوں کے حقوق و مقام کو بھی سمجھتا ہے۔ یہی سیرت کا ابدی پیغام ہے اور یہی انسان کی دنیاوی فلاح اور اخروی نجات کا روشن راستہ ہے۔
ہزاروں کائناتیں دم بخود تھیں خاک طیبہ پر
محمد شمع ِ محفل تھے ، خدا خود میرِمجلس تھا
1
