1

معراج انسانیت

محمدمنصورآفاق

تخلیق کا اعجاز ازل سے ارتقاء کی راہوں پر رواں دواں رہا ہے ۔ اگرچہ حضرت غالب نے قطرے سے گہر ہونے تک کے مر احل ارتقاء کے کرب کا ادراک کر لیا تھا ۔ مگریہ نہیں سوچا تھا کہ قطرہ گہر کی صورت میں تشکیل پاکر کس قدر بیش قیمت ہوجاتا ہے ۔
غالب نے اس حقیقت سے صرف، نظر کر لیا تھا کہ ہر قطرہ انہی مراحل درد سے گزر کر بیش نہیں ہو سکتا ۔ دراصل یہ رب کا ئنات کا ایک معجزہ نماراز ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ کون سا قطرہ گہر ہونے کے قابل ہے ۔ اور کون ساقطرہ آغوش صدف میں پرورش پاکر غلاظت مآب کیڑا توبن سکتا ہے ۔ گہر نہیں ہو سکتا !…
یمحو اللّٰہ ما یشاء و تیبت
(اللہ جسے چاہتا ہے ارتقاکی راہ میں قائم رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے )
عرض کہ ارتقاء مقصود تخلیق کائنات ہے مگر اس کی منزل کیا ہے ؟
مادی ارتقاء کا دیوتا ڈارون بھی یہی کچھ کہہ سکا کہ نوعی ارتقاء انسان پر آکر رک گیا ۔ اب یہاں سے علمی و فکری ارتقا ء کی حدود شروع ہوتی ہیں گویا نوعی ارتقاء کی انتہاء انسان ہے اور انسان کی فکری و علمی ارتقاء کی انتہا کیا ہے ؟ یہاں آکر سائنس اور فلسفہ کی فکری کا وشیں چپ سادہ لیتی ہیں ۔ اور حضرت اقبال یہ کہہ کہ چٹکی لیتے ہیں
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے ۔
تو خرد مند اپنی در ماندگی پر دم بخودرہ جاتے ہیں ۔ یہاں ڈارون اور سرایلمن فروئیڈ سانس روک لیتے ہیں ۔ ارتقا کا آغاز کس انداز سے ہوا ؟ اس موضوع پر تو وہ ظن و تخمین کے تیرے چلاتے ہیں مگر انسان کی انتہا کیا ہے ؟ اسے کہاں پہنچ کر اپنا سفر ارتقاء ختم کرنا ہے ْ علم و دانش کا یہ طویل سفر کون سی منزل پر اختتام پذیر ہوگا ؟ کون ہے جس کے نقش پاپر نجدے بکھیرتے ہوئے انسان اپنی منزل مقصود سے ہم آغوش ہو کرکہہ سکے گا ؟
منزل مِلی مقام ملا مد عا ملا ِ …… سب کچھ مجھے ملا جو تر انقش پا ملا
یہ تمام سوالات سائنس کی بار گاہ میں ابھی تشنہ جواب ہیں ۔ دانشوروں نے اپنے اپنے انداز میں اس کا جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ نٹشے کے نزدیک ” فوق البشر ” کی تخلیق ہی فکری ارتقاء کا منتہیٰ ہے مگر اس سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا پیش کر دہ ” فوق البشر ” قوت کا جابرو قاہر مجسمہ تو ہو سکتا ہے ۔ مگر اس میں رحمت و شفقت کے جذبات سر اسر مفقود ہیں اسکا فوق البشر ہٹلر اور مسولینی کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔ اور پوری دنیا کو بھسم کر دینے کے وحشی جذبات سے سر شار ہو کر کہتا ہے ؟
دل یہ کہتا ہے کہ سر سینے میں خنجر پھونک دوں خلق کو بھڑکے ہوئے دوزخ کے ا ندر جھونک دوں
خون کی پیاسی زمین کو آدمی کا خون دوں خاک کر دوں بھسم کر ڈالوں جلادوں بھون دوں
قہر بن کر میں جواب فتنہ ابلیس دوں راکھ کر دوں سر مہ کر ڈالوں رگڑدوں پیس دوں
زندگی کی موج میں زہرہلاہل گھول دوں جی میں آتا ہے کہ توپوں کے دہانے کھول دوں
ظاہر ہے یہ ارتقاء نہیں رجعت قہقریٰ ہے جو انسان کو وحشت و بربریت کے دوزخ میں جھونکنے کا درس دیتی ہے نٹشے کے بعد تعمیر پسند مفکرین میں سے رابرٹ بر یفائٹ اور بر ٹرینڈ رسل نے ان موضوعات پر سوچا ہے ان لوگوں کا دور وہ ہے جب نٹشے کا فوق البشر ایک ہی صدی میں انسانیت کو دو عالمگیر جنگوں کے جہنم میں جھونک چکا تھا ۔ ان جنگوںکی ہلاکت خیزیوں نے پوری دنیا کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ امن عالم کی بات کرے ۔ بریفائٹ نے اس دور میں تعمیر انسانیت (Making of Humanity) لکھی جس میں اس نے بتایا کہ انسانی ارتقاء ایک ایسے دور کا متقاضی ہے جس میں انسان اس قدر بیدار ہو چکا ہے کہ وہ اپنے مفاد پر مفادِ غیر کو ترجیح دے رسل نے بھی انہی نظریات کا پر چارک بن کر عالمی امن پر زور دیا مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہا کہ ارتقاء یا فتہ معاشرہ کس طرح وجود میں آسکتا ہے ۔ گویا بے خدا تہذیب و حکمت کے علمبرداروں کے یہاں یہ سلگتا ہوا سوال ابھی تک محروم جواب ہے ۔ اور انسانیت مجبور ہے کہ اس سوال کا جواب اسی سے مانگے جس نے تخلیق و ارتقاء کا یہ سلسلہ چھیڑا ہے ۔ اس طرح نگاہ ڈالئے تو حقائق خود ہی بے نقاب ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
انسانیت کے ہر دور ارتقاء کی رہنمائی کیلئے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے انبیاء و رسل کا سلسلہ زر یں جاری رکھا حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک اپنے اپنے دور کی رہنمائی کے لئے وقت کے مطابق کا مل و اکمل رہنما تشریف لاتے رہے ۔ اور اپنے فرائض منصبی بطریق احسن سر انجام دیتے رہے ۔ مگر ابھی تک کائنات کا ارتقاء نا تمام تھا ۔ اس لئے ” کن فیکون ” کی صدائیں آتی رہیں ۔ اور جب انسانیت فکر ی لحاظ اپنے آخری اور تکمیلی دور کا آغاز کرنے لگی اور اس نے اپنی راہ نمائی کیلئے تڑپ کر آسمان کی طرف دیکھا تو آسمان والے نے اہل زمین کی ترستی نگاہوں کو مایوس نہیںگیا اور قیامت تک کیلئے حضور سر ور عالم ؐ کی ذات میں ایک حادی برحق اور رہبرِ کامل و اکمل کو بھیج دیا ۔ جو جمیع صفاتِ حسنہ کا مجموعہ ئِ دلنواز تھا ۔
حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوباں ہمہ دار ند تو تنہاداری
انسانیت کبریٰ کا یہ پیکر کا مل انابتِ آدم ، سفرتِ نوح ، سلامتی قلب خلیل ، ایثار اسماعیل ، طہارت ِ فکر لوط ، صبر،ایوب ،انکِ یونس ، استقامتِ صالح ، ثبات ہود ، صفاتِ دراست ادریس ، اوصافِ تربیت شعیب ، جلال ضربِ کلیم ، جمال حلمِ رہارون ، کمال علم ِ ذکریا ، صدقِ فراست یحیٰ ، اور رافت در حمت عیسیٰ کا حامل تھا ۔
اس کی والدت باسعادت محض ایک انسان کی ولادت نہ تھی بلکہ انسانیت کے ان تمام محاسن کے ارتقائی منتہیٰ کی ولادت تھی جو خالقِ کائنات کا مقصود حقیقی تھے ۔ اس کی ولادت کا دن خدا کی تمام صفات ِ کاملہ کی نمود کا دن تھا جنہیں وہ اپنی مخلوق میں منعکس دیکھنا چاہتا تھا ۔
یہ، تخلقو ابا خلاق اللہ کے مظہر اتم کی جلوہ نمائی کا نور پاش سویر ا تھا ۔ اور سچ پوچھئے تو عید کا مل ِ کا یہ یومِ میلاد انسانیت کے یوم نجات کی بشارت تھی ۔ کیونکہ ربیع الاول کی عطر بیز بہاروں کی ایک گلپوش سحر نے تبسم کی طبا شیربکھیر کر جسکی ولادت کا اعلان کیا ۔ اسکی تشریف آوری کا مقصد توحید بھی اسکے خالق نے یہی بیان کیا کہ
یعضع عنھم اصرھم ولا غلال التی کا نت علیھم ۔
آپ کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ ان کے وہ بوجھ اتار یں جنہوں نے انکی پیٹھیں دوہری کر رکھی ہیں ۔ اور ان کے وہ اغلال و سلاسل کا ٹ دیں جنہوں نے انکی گردنیں بوجھل کر رکھی ہیں ۔
اس کی ولادت کی برقپاش درخشانی سے قصرِملوکیت کے کنگرے گر گئے ۔ فریب پا ماہیت کے فسوں سازبت لر زہ بر اندام ہوگئے اور طلسم کا ری قارونیت کے پیکران سمین بدن اخگر زہر پا اور آتش در پیر ہن بن گئے ۔ ادھر عالم قدس میں ملائکہ مطہرین یہ کہتے ہوئے سر بسجود ہوگئے کہ اے تخلیق آدم پر ہمارے سوالات کے جواب میں صرف انی اعلم ملا تعلمون کہہ کر ہمیں خاموش کر دینے والے قدوس ذوالجلال آجہی ہم پر تیرے سلسلہ تخلیق و ارتقاء کی پر عظمت حکمت منکشف ہوئی ہے ۔ ملااعلیٰ سے خدا کی تمجید و تقدیس کے غلغلے بلند ہو ئے اور نحن نسبح محمد ک و نقدس لک کے ترانوں سے فضانے نور معمور ہوگئی مگر خالق کائنات نے کہا میری تسبیح و تمجید تو ان گنت صدیوں سے ہو رہی ہے آئو آج ہم مل کر اسی کے تذکار جلیلہ سے محفل کائنات سجائیں جسکی
پیدائش سے خلق کی تقدیر جاگ اٹھی ہے ۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی اور کائنات درودو سلام کے نغمات مقدس سے گونج اٹھی ۔ آسمان پیرنے چونک کر زمین کی طرف دیکھا اور اس کے مقدر کی معراج دیکھ کر مجسمہ رشک و حسرت بن گیا اور زمین جس کی بد نصیب چھاتی پر صدیوں سے ابلیس کا وحشیانہ رقص ہو رہا تھا سراپا ناز بنکر مسکرا اٹھی ؟ یہ وقت ہے شگفتن گلہائے ناز کا ۔
حیات توازل سے اپنی نمود کیلئے بے قرار رہی تھی اور اس نے کروڑوں قسم کے رنگ و روپ میں جنم لیا تھا ۔ مگر آج جس انداز میں زندگی ظہور پذیر ہوئی تھی ۔ اس کی مثال چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔ یہ زندگی رحمت العالمین کی نمود بن کر جلوہ فروز عالم ہوئی تھی
خلق و تقدیر و ہدایت ابتدا است رحمت العالمین انتہا است
یہ زندگی ہزار پہلو تھی اور اس کے ہر پہلو میں قوس قزح کے شوخ جلولے بکھرے ہوئے تھے ۔ یہ تریسٹھ سالہ مختصر زندگی پیکران آب و گل کی ہر طرح کی زندگیوں کے لئے نمونہ کا مل اور اسوہ حسنہ کی جلوہ طرازیوں سے مملو تھی ۔ یہ زندگی ایک جوئے رواں تھی ۔ جو مزاحمتوں اور رکاوٹوں سے بے نیاز مست خرامی سے بہتی چلی گئی اور اس نے مر غزاروں ، صحرائوں ، بوستانوں اور شورستانوں کو یکساں طور پر سیراب کر دیا
بنگر کہ جوئے آب چہ مستانہ می رود باخود یگانہ از ہمہ بیگانہ می رود
یہ زندگی ہر طرح کی زندگی رکھنے والوں کی رہنمائی کرنے کی تعجب خیز صلاحیتوں کی حامل ہے خدانے زندگی کے اس شہکار پر ناز کرتے ہوئے فرمایا ۔
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوةحسنہ
یہ پوری نسل انسانی کیلئے ایک مستقل دعوت ہے ۔ ایک دائمی اور ابدآ شنا پکار ہے کہ اگر کوئی یتیم ہے تو دیکھ لے یتیم عبداللہ نے مکہ کی گلیوں میں اپنی یتیمی کیسے گذاری کوئی نوجوان اگر ایک ایسے غلط کا رمعاشرہ میں گھر گیا جہاں ہر طرف فحاشی و عریانی کے دام ہمرنگ زمین بچھے ہیں تو اسے مکہ کی طرف آنکھ اٹھانا چاہیے ۔ جہاں وہ دیکھے گا کہ عکاظ کا جشن ِ طرب برپاہے ۔ شرابوں کے خم کے خم لنڈھائے جارہے ہیں۔ شیطانیت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ دعوتِ نظارہ دیتے ہوئے محور قص ہے
ساقی بجلوہ دشمن ایمان وآگہی مطرب بہ نغمہ رہزن تمکین و ہوس ہے
عیش کو شیوں کے دلفریب سامان پکار پکار کر کہہ رہے تھے
بے غمی پہلو میں ہو اور مال وزر قدموں کے پاس میز پر عمدہ غذا ہو جسم پر اعلیٰ لباس
جھومتے ہوں مستی غیرت میں بس رنگین حواس یار ہو گلزار ہو گردش میں ہونے کا گلاس
بس یہی دنیا ہے باقی وسوسہ ہے وہم ہے کھا ، پی ، پہن ، عیش کر دنیا میں گردی جہنم ہے
اور پورا مکہ ان عصیان ِ در آغوش دعوتوں پر لبیک کہتے ہیں رنگینوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ مگر ایک نوجوان ایسا بھی ہے جو صحت مند شباب ، مر دانہ حسن ، وجاہت اور آسائشاتِ حیات کا حامل ہوتے ہوئے بھی ان مناظر سے بے تعلق ہو کر گزر جاتا ہے اور غارِ حرا کی اداس خلوتوں میں گھٹنوں پر سر رکھ کر سوچنے لگتا ہے
دریں میخانہ اے ساقی ندارم محر ے دیگر کہ من شاہد نخستیں آو مم از عالمے دیگر
منازل حیات میں جوانی کی نو خیزیاں لغز شوں کا غیر منقطع تسلسل بن جایا کر تی ہیں ۔ مگر اس بے داغ شباب کا آفتاب نصف النہار تک پہنچ جاتا ہے اور لغز ش تو کجا لغزش کا تصور بھی اس کے فکر ادراک اور جذبات و عواطف کے دامن اطہر کو آلودہ نہیں کر پاتا ۔ اور جب بھر پور جوانی کو تاہل کی زندگی کا خیال آتا ہے ۔ تو نگاہ ِ انتخاب کسی حسن پر شباب پر نہیں پڑتی ۔ بلکہ ایک چالیس سالہ بیوہ پر آرکتی ہے ۔ جو حسن سیرت کا دلآ ویز پیکر ہے ۔ شباب کے بعد قانون فطرت کے مطابق جسم کے مادی عناصر کہولت آشنا ہونے لگتے ہیں تو تیوروں میں تلخی ، اندازو اطوار میں کسیلا پن ، طبیعت میں بد مزاجی اور چڑچڑاہٹ نہیں آتی بلکہ بڑھاپا بھی اس کے تبسم زار لبوں سے حسن اخلاق کا سہاگ نہیں چھین سکتا یہ جسم کے تقاضوں کے مطابق میلانات و عاطفات کے تغیر میں اس قدوسی صفات زندگی کی خیرہ
سامانیاں ہیں ۔ اور اب ذرا دنیا ئے اقتضاد و معاشرت میں اس کی عدیم المثال درخشانیاں دیکھئے اس میدان میں بھی وہ عظمت مآب زندگی منارِ نور کی طرح ہر طرح کے لوگوں کی رہنمائی کے لیے اجالے پھیلا رہی ہے اگر کوئی تاجر ہے تو دیکھ لے تجارت میں دیانت کی فقید النظیر مثالیں اسی زندگی میں نظر آئیں گی ۔ اشیائے تجارت میں ملاوٹ کاکا لا کا ر و بار ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری تو دور کی باتیں ہیں کا روبار کے سلسلہ میں ذرا سا تساہج بھی طبع صفا پر گراں ہے ۔ سو اونٹوں کا خریدار دیکھ بھال کر سودا کر تا ہے ۔ رقم دے کراور جانور لے کر چلا جاتا ہے ۔ اور بعد میں یاد آتا ہے ۔ کہ ایک اونٹ کی چال میں ذرا سا لنگڑا پا ہے اور یہ بات خریدار کو بتائی نہیں گئی ۔ یہ خیال ایک چبھتی ہوئی پھانس بن کر سکون و قرار لوٹ لیتا ہے ۔ اور جب تک خریدار کو رقم واپس نہیں کی جا تی چین نہیں آتا لین دین میں اتنا کھر اپن ایسی صفائی اور اتنی بے مثل صداقت تاریخ میں کہاں مل سکتی ہے ؟ اگر کوئی اجیر ہے تو یہاں آکر دیکھ لے کہ خدیجہ الزہرا ء کے ہاں اجرت پر کام کر تے ہوئے اس شخص نے فرائض کو گرانباری غیر سمجھ کر کبھی ادنیٰ سی غفلت اور چشم پوشی سے بھی کام نہیں لیا ۔ بلکہ کاروبار کو ذاتی کا روبار سمجھ کر جانفشانیوں کی انتہا کر دی ۔ معاشرتی زندگی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انسان اپنوں اور غیروں کی نگاہوں میں بلند مقام پر فائز ہو ۔ اس لحاظ سے دیکھئے تو بھی یہ زندگی اس کہکشاں گیر مقام ِ ارفع پر نظر آئیگی ۔ جسے دنیا کی عظمتیں اور رفعتیں آج بھی للچائی ہوئی نظر وں سے دیکھ رہی ہیں ۔ تاریخ میں کونساایسا شخص گزرا جس نے دشمنوں کو یہ چیلنج کیا ہے کہ میر ی زندگی میں کذب و دروغ ، فریب وریا ، فحاشی و عریانی غرضیکہ کسی بھی گناہ کا کوئی ادنیٰ ساداغ بھی دکھاو ۔ قَدْ بِعَثْتُ فِیْکُمْ عُمْراً افلا تِعْقُلُوْن ط پھر یہ زندگی دو چار سال کی نہیں پورے چالیس برس یا تقریباً نصف صدی کو محیط ہے ۔ اور جان لیوا عزائم رکھنے والے دشمن بھی اس اعتراف پر مجبور ہیں کہ ۔وَحَدْ ناَ ک صِدْ یْقِ اَمِیْن” بلا شبہ تیرا دامن حیات بالکل بے داغ ہے ۔ ہم نے اس پر غلط کاری کی کوئی ادنی ٰ سی چھینٹ بھی نہیں دیکھی اتنی پر عظمت شہادت اس آسمان کے نیچے انبیاء کے سوا کہیں بھی کسی شخص کے متعلق نہیں دی گئی ۔ عداوت کی نگاہیں تو اتنی تعصب آلودہ ہوتی ہیں کہ انہیں سورج بھی سیاہ گولہ نظر آتا ہے ۔ مگر شدت ِ عداوت بھی اسکی سیرت میں کہیں گناہ تو کجا شائبہ گناہ بھی نہیں دیکھ سکی۔ پھر یہ ہے کہ قیادت کے علمبردار ملمع شدہ زندگی بسر کرتے ہیں ۔ وہ اپنے چہرے پر سنہری خول چڑھائے رکھتے ہیں مگر یہ خول اپنے قریبی دوستوں کو اور اپنے گھروالوں کو دھوکانہیں دے سکتے ۔ کیونکہ محرمان ِ زار احباب پر انکی حیات کا ہر رنگ بے حجاب ہو گا
پہر رنگے کہ خواہی جا مہ پوشی من انداز قدت رامی شنا سم
ہمارے ارد گرد ایسے خول چڑھائے پھر نے والے بیسیوں چہرے ہیں ۔ جو سیٹج پر تقدس ِ مآب نظر آتے ہیں مگر ان کی نجی محفلوں کے پردے اٹھا کر جھانکئے تو گھن آنے لگتی ہے ۔ اپنے لنگو ٹیا یا روں میں بیٹھ کر وہ لوگ دنیا جہاں کی فحاشی و بے حیائی کے پیکر نظر آتے ہیں ۔ ایسی دو ھری دو غلی زندگیاں بسر کر نے والے اور ظاہر و باطن کے ہولناک تضاد کا شکار لوگ کہاں نہیں ملتے ۔ وہ عرب کے امرائو القیس کے دور میں بھی تھے جب اس نے کہا تھا
و بعرتہ مُطَلا ً اہتدا سٍ وجد تہ سُیغا المھز بیلا
(میری آنکھ نے اسے خالص سونے کا ڈھلا ہوا پیکر خیال کیا مگر جب سونے کاپتہ او رخول اٹھایا تو غلاظت آلودہ پتھر تھا )
حافظ شیرازی کی باریک بین نگاہوں سے بھی ایسے لوگ پوشیدہ نہیں رہے
واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند چوں بخلوت می روید ایں کا ر دیگر می کنند
جلوت خلوت میں اختلاف رکھنے والوں سے غالب کا بھی میل ہوگیا
کہاں سے خانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ پر تانا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
اور داغ سے بھی ان کی صاحب سلامت اور علیک سلیک ہوگئی
جناب شیخ ہیں ! آدب عرض کرتے ہیں
اندھیری رات میں چھپ کر کہاں چلے استاد
غیر ضیکہ یہ مصنوعی تقدس کے حامل چہرے اپنی قماش کے دوستوں سے اپنا باطن کبھی نہیں چھپا سکے ۔ مگر کتنا عظیم تھا وہ شخص محترم جس کے لب اعلان صدق کے لئے وا ہوئے تو اس کا اپنا لنگوٹیا یار ” صدیق ” مردوں میں سب سے پہلے پکار اُٹھا
صَدَ قْتُ وَامَنْتُ
(میں نے تصدیق کی اور ایمان لایا )
بچپن ، لڑکپن اور جوانی کا ساتھی تو پوری زندگی کو بے نقاب دیکھ رہا تھا۔ آخر اس سے کونسی بات پوشید ہ رکھی جا سکتی تھی ۔ اور اگر اس سے کوئی گوشہ مستور بھی رہا تو اس کے اپنے چھوٹے چچیر ے بھائی سے وہ گوشہ کہاں مخفی رہ سکتا تھا ۔ جس کے گھر میں اس شخص نے لڑکپن کو جوانی اور پھر زوال شباب میں بدلا تھا ۔ مگر وہ لڑکا علی بھی صدیق کا ہم آہنگ ہو کر تصدیق کر تا ہے ۔ اور اگر بالفرض چند گوشے دوست اور بھائی سے بھی اوجھل رہ گئے تھے تو انہیں اس خلوت و جلوت میں شریک بیوی سے کہاں کہاں چھپایا جا سکتا تھا ۔ بیوی کے سامنے تو انسان کی پوری زندگی عریاں ہوتی ہے مگر اس کے دعویٰ کی اولین مصدق خود اس کی بیو ی بنتی ہے ۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ تصدیق کس چیز کی ہو رہی ہے ۔ یہ قیادت اور سیاست کا جھگڑا نہیں ، لیڈر شپ کے حصول کا قصہ نہیں بلکہ ایمان و عقیدہ کی تبدیلی کی بات ہے ۔ اپنے آبائی مذہب کو ٹھکرا دینے کا جانکاہ مر حلہ ہے ۔ اور یہ تصدیق ان بتوں کی تکذیب ہے جو صدیوں سے آبائو آجداد کی قبروں پر نصب ہیں اور نسلاً بعد نسل اپنی پرستش کا خراج و صول کر تے آئے ہیں ۔ اوریہ مر حلہ زندگی کا سب سے کھٹن مراحلہ ہوا کرتا ہے
کسطرح کوئی کہنہ روایات چھوڑ دے ماں کا مزاج باپ کی عادات چھوڑدے
گھٹی میں ہیں جو حل وہ خیالات چھوڑ دے ایماں جو بن چکی ہے وہی بات چھوڑ دے
کس جی سے کوئی رشتہ او ھام چھوڑدے ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے
مگر سلیم رو حیں تسلیم کر لیتی ہیں کہ جس شخص نے عمر بھر جھوٹ نہیں بولا اس خاص معاملہ میں وہ کذب و دروغ کا مرتکب کیسے ہو سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ بے مثل کر دار جسکی صداقت ایک مسلمہ کی طرح ہر جگہ اور ہر شخص کیلئے ایسی ناقابل انکار تھی کہ اس وقت کا سب سے بڑا دشمن ابو سفیان بھی قیصر روم کے دربار میں کہتا ہے کہ محمد ؐکی پوری زندگی جھوٹ سے پاک ہے وہ ہمیشہ صداقتوں کا امین رہا ہے مگر ہم اپنا آبادئی مذہب نہیں چھوڑ سکتے ۔
یہ تو مکی زندگی کے چند شفق تاب پہلو تھے ۔ مدنی زندگی میں ہی باکمال اور بے مثال ذات ایک حکمران کی حیثیت سے نمودار ہوتی ہے مگر یہاں بھی اس کا نرالا پن برقرار رہتا ہے ۔ دنیا نے قیصر روم اور کسریٰ کی سطوت و شوکت اور بے مایہ خدائی کا جلال وجبروت دیکھا مگر آج ایک عجیب نظارہ اسکی آنکھیں خیر ہ کر رہا تھا ۔ یہ ایک ایسا حکمران ہے جو مسجد نبوی کے کچے فرش پر بیٹھا اپنے ساتھیوں کو اطوار جہانگیری اور قواعد جہاں بانی سکھا رہا ہے ۔ دوسرے ملکوں سے وفد آتے ہیں تو انہیں پہچان نہیں ہوپاتی۔ درویشوں کے اس اجتماع میں اسلامی حکومت کا سربراہ کون ہے ؟ صحابہ کو خیال آتا ہے اور وہ اس کی عدم موجودگی میں صحن مسجد میں ہی ایک چھوٹا سا چبوترہ بنا دیتے ہیں مگر جب دنیا کو مساوات انسانی کا درس دینے والا یہ انوکھا حکمران اس چبوترے کو دیکھتا ہے ۔ تو اس کی منور پیشانی پر ناگواری کی شکنیں اُبھرآتی ہیں اور جب اسے بتایا جاتا ہے کہ باہر سے آنے والے وفود کا خلجان دور کرنے کیلئے یہ چبوترہ بنایا گیا ہے تو وہ اپنے پائوں کی ٹھوکر سے اسے گراتے ہوئے کہتا ہے ” لگے ہو تم بھی وہ امتیازات پیدا کرنے جنہیں مٹانے کیلئے میں آیا ہوں ”۔
وہ لوگ جو آج مساوات انسانی کے علمبر دار بنے پھرتے ہیں ۔ کیا آج اس روشن دور میں ایسی کوئی مثال پیش کر سکتے ہیں ؟ حکمرانی کا یہ بے نظیر انداز تاریخ میں
ایک انتہائی ارتقائی موڑ ہے ۔ ملوکیت کا دور اس طرح اپنی شکست کی آواز بن کر رہ جاتا ہے ۔ اور جہاں تازہ کی نمود کا آغاز ہو تا ہے جہانبانی کے بعد بھی اس زندگی کے معمولات میںکوئی فرق نہیں آتا اسی طرح عوامیت کا رنگ برقرار رہتا ہے۔ اسی طرح گھر کا سودا سلف بازار میں جاکر خود حکمران اپنے ہاتھ سے خریدتا ہے ۔ شیش محل نہیں بنتے کچے ہجرے اس کا مسکن ہیں۔ اور سونے کیلئے کھجور کی کھری چٹائی جسم اطہر پر اپنے نشانات ثبت کر تی رہتی ہے
بوریا ممنونِ خواب راحتش تخت کسریٰ زیر پائے امتش
راتیں قیام و سجود میں بسر ہوتی ہیں اور دن معاملات حکومت کی سر انجام دہی میں گزر تے ہیں حکومت کے حصول کے بعد بھی عجز ونیاز میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ اور کبر و غرور کا ادنی ساخیال بھی نفس قدوسی صفات کو داغِ آشنا نہیں کر سکتا ۔ اپنے ساتھیوں کی محفلیں اسی طرح چمن زار رہتی ہیں اور ان کے ساتھ لطیف مزاح بھی ہوتا رہتا ہے ۔ کسی کی علالت کی خبر ملتی ہے ۔ تو حکمران خود بے قرار ہو کر اس کی عیادت کو پہنچ جاتا ہے ۔ یہ زندگی حکمرانوں کے لئے فقید المثال بن کر رہ گئی ہے ۔ اور اپنے دامن فیض میں صدیق اور فاروق جیسے حکمرانوں کی پرورش کرتی ہے ۔ جو نابینا بیوائوں کے گھروں میں جھاڑو دیتے ہیں انہیں ضروریات حیات مہیا کرتے ہیں اور آٹے کی بوریاں اپنی پیٹھ پر لاد کر حاجتمندوں تک پہنچاتے ہیں فی الواقع یہ زندگی تاریخ کو ایک عظیم ترین انقلاب سے دو چار کر تی ہے ۔ اب حکمران عوام کی گرد نوں پر تخت رکھ کر خود نہیں بیٹھ جاتے بلکہ اپنی گردن پر تخت سجا کر اس پر عوام کو بیٹھا دیتے ہیں نظریہ ء ِ سلطنت و حکومت میں یہ سب سے بڑا تغیر ہے اور اگر انسان اپنے منتہیٰ تک پہنچناچاہتا ہے تو اسے اس جیسی مثالی زندگی کہیں نہیں مل سکتی ۔ کیا تاریخ نے یہ پر عظمت آواز بھی کہیں سنی تھی کہ حکمران اپنی رعیت سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہو ۔
”میں مسلمانوں سے انکے افراد کی نسبت زیادہ قریب ہوں سنو ان میں سے جو مقروض وفات پاجائے تو اس کے قرض کی ادائیگی بھی میرے ذمہ ہے ”
(کتاب الاموال لابی مبید)
جس شخص کو اللہ مسلمانوں کے بعض امور کا نگران بنائے اور وہ لوگوں کی ضروریات اورحاجات کی طرف سے لا پروائی برتے تو اللہ اس کی ضررویات اور احتیاجات سے بے نیاز ہو جائے گا ”
(کتاب الخراج ابودائود )
”جو امام ضرور تمندوں ، محتاجوں اور مسکینوں پر اپنے دروازے بند کر لیتا ہے خدا اس کی ضروریات اور حاجات کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیتا ہے ۔
(ترمذی کتاب الا حکام )
حکمران کو اس انداز سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کبھی نہیں دلا یا گیا تھا ۔ اور اس مہتم بالشان نظریہ حکومت نے عمر فاروق جیسے خلفاء کو جنم دیا جو ہر وقت اپنی ذمہ داریوں کی گرانباری سے پریشان رہتے اور فرماتے
خدا کی قسم اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے اس کی بھی باز پرس ہوگی ” ( کتاب الا موال )
ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب خون جگر و دیعت مژگانِ یار تھا ۔
اس انسان کا مل واکمل کی زندگی صرف یہیں تک محدود نہیں۔ وہ ایک جرنیل اور سپہ سالار کی حیثیت سے بھی بے نظیر صلاحیتوں کی حامل ہے ۔ جنگ احد میں درہ پر سپاہیوں کا متعین کرنا ، جنگی تدبر تھا ۔ اور جب غلطی سے اس حکم کی خلاف ورزی کی گئی اور فتح شکست میں بدلتی نظر آئی اور مسلمانوں کی فوج بھاگ کھڑی ہوئی تو بھی یہ جرات مند سپہ سالار اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ پورے ثبات و استقلال سے میدان جنگ میں ڈٹا رہا اسے اپنے خدا کے وعدوں پر ایسا یقین کا مل تھا کہ بر ملا اعلان کر تا رہا
اناالبنی لاکذب انا بن عبد المطلب
(میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں )
جنگ کے متعلق اس وقت بھی یہی کہا جاتا تھا اور آج بھی اس قول کو مسلم سمجھا جاتا ہے ۔ ( All is fair in love and war)جنگ اور محبت سب کچھ جائز ہے مگر اس سپہ سالار نے پہلی مرتبہ اپنے پیرو کا روں کو یہ حکم سنایا کہ
وَلایجرِ مَنَّکمْ سنانْ قوم عَلیٍٰ اَلمَّا تَعْدِ لُوْا اِعْدِ لُوْا ھُوْا َ قْرَ بْ لِلتَّقْوٰی۔
(کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آماد ہ نہ کرے کہ تم عدل کا دامن چھوڑ دو ۔ نہیں عدل کر و کیونکہ یہی تقویٰ کے قریب ہے )
یہ اسی کی زبان عدل ترجمان تھی جو کہہ رہی تھی ” غیر متحارب آبادی پر ہاتھ نہ اٹھائو بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو کچھ نہ کہو ” یہ نظریہ جنگ بھی تاریخ ساز ہے ۔ اور پھر اس کے ساتھ معاہدات کا احترام اتنا فقید المثال کہ صلح حدیبیہ میں ابھی معاہدہ کی تسوید ہو رہی تھی مگر یہ شق لکھی جا چکی تھی کہ مکہ سے اگر کوئی شخص مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس جائے گا تو مسلمان اسے مکہ واپس کر دیں گے لیکن اگر کوئی مسلمان کا فر ہو کر مکہ آگیا تو مکہ والے اسے واپس نہیں کریں ” ۔ اور عین اس وقت دو مسلمان مکہ سے بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آتے ہیں اور انکی درد مندانہ اپیل کے باوجود انہیں واپس کر دیا جاتا ہے ۔ اس طرح ہر قدم پر تاریخ کو انقلاب آفرین نظریات ملتے ہیں ۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے دنیا کو آزادی ء رائے کے مقام بلند سے روشناس کرایا ۔ زید حضرت خدیجہ کا غلام لڑکا ہے شادی کے بعد وہ اسے آقائے انسانیت کے غلامی میں دے دیتی ہے ۔آپ ؐ اسے نہ صرف آزاد کر دیتے ہیں بلکہ اپنا منہ بولا بیٹا بنالیتے ہیں ۔ اور عنایات و نوازشات کا باب یہیں بند نہیں ہوتا بلکہ اس پر کرم گستری کی انتہا کر تے ہوئے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب سے اس کا نکاح کر دیتے ہیں جن دماغوں میں جاہلیت باقی ہے کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ شادی کا میاب نہیں ہوسکتی ۔ اور منافقین توا سے ایک سلوگن بنا لیتے ہیں کہ غضب ہو گیا ہاشمی خاندان کی ایک معزز خاتون کی شادی ایک غلام سے ہوگئی اور اتفاق سے شادی ناکام ہو جاتی ہے اور حضرت زید طلاق دینے کا فیصلہ کر لیتے ہیں ۔ حضور ؐ خود زید کے پاس جا کر کہتے ہیں ۔
آ مْسِکَ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقْ اللّٰہ
(خدا سے ڈر اپنی بیوی کو طلاق نہ دے )
سوچئے کہ کہنے والا کون ہے اور سننے والا کون ہے ۔ کہنے والاوہ محسن ہے جس نے زید کو غلامی کی ذات سے نجات دی اور آزادی کی نعمت سے بہرہ مند کیا ۔ کہنے والا وہ ہے جس نے سننے والے کو منہ بولا بیٹا بنایا اور اس طرح اسے اس کے باپ کی حیثیت حاصل ہو گئی ۔کہنے ولا وہ ہے جس پر ایمان لا کر سننے والا مسلمانوں کی صف میں شامل ہوا۔ اور جس کی محبت و اطاعت اصل ایمان ہے پھر کہنے والا ایک عظیم ترین سلطنت کا فرمانروا ہے اور سننے والا اسکی رعیت کا ایک ادنیٰ فرد ہے ۔ اور کہنے والا صرف یہ کہہ رہا ہے کہ زید میری بہن کو طلاق نہ دے ۔ ادھر حریت فکر اور آزادی رائے کی انتہا یہ ہے کہ سننے والا پوچھتا ہے ” حضور ؐیہ آپ کی ذاتی رائے ہے یا اللہ کا فرمان ہے ” نہیں اللہ کا حکم نہیں میری ذاتی رائے ہے ۔ زید کہتا ہے ۔ حضور ؐ اگریہ آپ کی ذاتی رائے ہے تو میں اپنے خانگی معاملات خود بہتر سمجھتا ہوں ” ۔ اور پھر وہ طلاق دے دیتا ہے ۔ اگر آج کسی محسن کی رائے سے اس طرح اختلاف کیا جائے تو محسن کشی اور نمک حرامی کے طعنوں سے زندگی اجیرن کر دی جاتی ہے اگر کوئی بیٹا باپ سے یوں اختلاف رائے کرے تو اسے نا خلف ، پسر نوح اورنجانے کیا کیا کہا جاتا ہے ۔ اگر کسی مذہبی رہنما سے اس کا کوئی عقید تمند اختلاف کرے تو اسے ملعون و مر دود قرار دے کر اس کے جہنمی ہونے کی وعیدیں سنائی جاتیں اور اگر کسی حکمران کے ساتھ اس کی رعیت کا کوئی فرد ایسا معاملہ کر ے تو وہ اگلی دنیا کا انتظار بھی نہ کرے اور یہیں اسے کولہو میں پیس کر جہنم رسید کر دے مگر آزادی رائے کا یہ اجنبی منظر دیکھئے کہ اس شخص پر مرید اکرامات کئے جاتے ہیں ۔ اور خدا کو یہ واقعہ اس قدر پسند آتا ہے کہ وہ اسے قرآن میں محفوظ کر کے ہمیشہ کیلئے انسان کے بنیاد ی حق یعنی آزادی ء ِ رائے کی مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے ۔ دنیا ئے معیشت و اقتصاد میں بھی اس ذات جلالت مآب کے نظریات بے انتہا ارتقاء یافتہ ہیں، جاگیر داری کے اس دور استبدار میں پہلی مر تبہ اس کی یہ مقدس پکار بلند ہو تی ہے ۔
زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی اللہ کے ہیں اس لئے اللہ کی زمین اللہ کے بندوں کیلئے رہنی چاہیے ” ( ابودائو د)
لَیسْ لْاِ نسان الا ما سعیٰ
کا انقلاب خیز نعرد اسی مقدس کے لبوں سے بلند ہوتاہے ۔ اور ایک کو دوسرے کی محنت کا استحصال کرنے سے قطعی طور پر روک دیتا ہے ۔ ابن ِ ابی نعیم سے روایت ہے ۔
”رافع بن خدیج نے کچھ زمین کا شت کی وہ اس کی آبیاری کر رہے تھے کہ حضور ؐ کا وہاں سے گزر ہوا پوچھا یہ کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی ہے ؟ رافع نے کہا یہ کھیتی میرے بیج اور میری قوت کا نتیجہ ہے ۔ اس کا ایک حصہ میرا ہوگا اور ایک حصہ فلاح خاندان کا جسکی یہ زمین ہے آپ ؐنے فرمایا تم دونوں سودی اور کاروبار
کر رہے ہو ۔ لہٰذا زمین صاحب کو واپس کر دو اور اس سے اپنا خرچہ وصول کر لو ۔ نسائی نے حضور ؐکے اس فیصلہ کی مزید توضیحات دی ہیں کہ رسول خدا ؐ سے سوال کیا گیا کہ زمین کا مالک کا شتکار سے تھوڑا بہت اناج بھی نہیں لے سکتا ۔ فرمایا ‘ ‘ نہیں ” پھر سوال کیا اچھا غلہ نہ سہی بھوسہ تو لے سکتا ہے ۔ فرمایا ‘ بالکل نہیں ” اس لے الارض لِلّٰہ( زمین اللہ کی ہے ) اور سوا ء اللسائلین (4/10 ) ہر ضرورت مند کے لئے برابر کا حصہ ہے جو اس میں محنت کرتا ہے وہی اس کے پھل کا مستحق ہے ۔ اس طرح جا گیرداری اور زمینداری کو ایک لعنت قرار دیتے ہوئے اس کا استحصال کیا جاتا ہے دوسری طرف سرمایہ داری کے طلسمکاربت کو بھی یہ کہہ کر پاش پاش کر دیا جاتا ہے ۔ یسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو( اے نبی ؐ یہ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم اپنی کمائی میں سے کس قدر دسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے دیں کہہ دیجئے کہ ”جو تمہاری ضروریات سے زائد ہو سب کا سب اللہ کی راہ میں خرچ کر دو ) اور پھر وہ ذات گرامی خود اپنے عمل سے صراحت کر دیتی ہے کہ ضرویات کا تعین کیونکر کیا جاتا ہے حضرت عائشہ فرماتی ہین ۔
” حضور ؐ کا کوئی کپڑا تہ کر کے نہیں رکھا گیا صرف ایک جوڑا ہوتا تھا دوسرا نہیں ہوتا تھا کہ تہ کر کے رکھا جاتا ۔ جن کپڑوں میں آپ ؐنے وفات پائی ان میں اوپر تلے پیوند لگے ہوئے تھے ”
اسی صادق و مصدوق کا اعلان ہے کہ ” بنی آدم کیلئے سوائے تین چیزوں کے اور کوئی حق نہیں ۔ ایک گھر جس میں رہ سکے ۔ کپڑا جس سے ستر چھپ جائے اور ایک وقت کا کھانا پانی ” ( جامع ترندی )
یہ سنتِ مقدسہ یہیں رک نہیں جاتی بلکہ خلفا ، بھی اپنی ضروریات کا تعین انہی خطوط پر کرتے ہیں ۔ جناب فاروق کے زمانہ میں اسلامی مملکت کی وسعتیں بہت آگے نکل جا تی ہیں اور مال و دولت کی فراوانیاں حیرت انگیز حد تک بڑھ جاتی ہیں مگر جب آپ سے آپ کی ضروریات کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ۔ ” کپڑوں کے دو جوڑے ایک سردی کا ایک گرمی کا ، حج وعمرہ کیلئے احرام ، میرے اور میرے اہل وعیال کیلئے فی کس اتنا کھانا جتنا ایک عام آدمی کی خوراک ہے نہ اس سے زیادہ نہ اس سے کم اس کے بعد میں مسلمانوں کا ہی ایک فر دہوں جو حال ان کا سنو وہ میرا حال ”
( عمر فاروق اعظم از محمد حسین ہیکل مر حوم )
اس طرح اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد باقی سب کچھ تمام افراد معاشرہ کی پرورش کیلئے کھلا چھوڑ دیا جائے کیونکہ انہی کا حق ہے ۔
وَ فیِ اموالھم حق للسائل و لمحروم
(اور ان کے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہے )
حضرت ابو سعید حزری سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سفر کے دوران سرور کا ئنات ؐ نے صحابہ کو حکم دیا ” تم میں سے جس کے پاس ضروریات سے زائد کپڑا ہو وہ اس شخص کو لوٹا دو جسے اس کی ضرورت ہے اور جس کے پاس ضرورت سے زایدکھانا ہو وہ اس شخص کو لوٹا دو جسے اس کی ضرورت ہے ۔ ابو سعید کہتے ہیں حتیٰ کہ ہم نے یہ سمجھ لیا کہ زائد از ضرورت کسی چیز میں بھی ہمارا کوئی حق نہیں ”
اسطرح سرمایہ پر ست ذہنوں کی وسیہ کاریوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا جاتا ہے ۔ اور آپ ؐ فرماتے ہیں ۔
” بندہ میرا مال میرا مال کہتا رہتا ہے ۔ حالانکہ مال میں اسکا حصہ صرف تین چیزیں ہوتی ہیں
١۔ کھانا جسے کھا کر وہ ہضم کرلیتا ہے ۔
٢۔ کپڑا جسے پہن کر پرانا کر دیتا ہے
٣۔ جو کچھ دوسروں کی پرورش کے لیے ذخیرہ آخرت کر لیتا ہے ۔ ان تین چیزوں کے علاوہ جو کچھ ہوتا ہے یا تو چلا جاتا ہے وہ دوسروں کیلئے چھوڑ کر مر جاتا ہے ” (مسلم )
کیا کبھی زمین کی پیٹھ پر کوئی ایسا شہنشا ہ بھی گزرا ہے کہ جسے مال سے اس قدر نفر ت ہو کہ
” مر ض الموت کے وقت حضور ؐکے ہاں چند دینار کہیں سے آئے تھے ۔ حضورؐ نے فرمایا اور انہیں صد قہ کردو ۔ یعنی بیت المال میں بھیج دو تاکہ ان سے حاجتمندوں کی ضروریات پوری ہوں ۔ لیکن اس کے بعد آپ ؐ پر غشی طاری ہو گئی ۔ اور سب لوگ آپ ؐ کی تیمارداری میں مصروف ہو گئے ۔ آپ ہوش میں آئے تو فرمایا وہ دینار لائو ۔ دینار لائے گئے آپ ؐ نے انہیں ہاتھ میں رکھا اور فرمایا ۔ محمد پر اس کے رب کا کیا گمان ہو گا کہ وہ جب اپنے رب سے ملے اور اس کے پاس یہ ہوں پھر آپ ؐ نے انہیں صدقہ کر دیا ۔ یعنی بیت المال میں بھیج دیا ۔
یا در کھئے کہ یہ کوئی فقیرِبے نوا نہیں ایک بہت بڑی اسلامی حکومت کا شہنشاہ ہے جو یہ اعلان کر رہا ہے ۔
” میرے ورثہ میں ایک دینار بھی بطور ترکہ تقسیم نہیں ہوگا میری بیویوں اور منتظم کی ضروریات کے بعد جو کچھ بچے گا ۔ وہ صدقہ ہوگا ” ۔ ( بخاری شریف)
یہ کوئی زبانی اعلان نہیں تھا کہ ہونٹوں سے نکالا اور فضا میںتحلیل ہو گیا بلکہ دنیا نے اس کی عملی صورت بھی دیکھ لی ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں ۔
” رسول اللہ ؐ نے درہم چھوڑا نہ دینار ، بکری نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی ( کہ کچھ چھوڑتے تو وصیت کرتے ) ( مسلم شریف )
یہ ہے وہ حیات ِ نور افشاں جس کی بوقلموں نورانیت زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے دھنک رنگوں کی شوخیاں بکھیرتی چلی گئی ۔ اس نے اعلان صدق کر نے والوں کو حق گوئی و بے باکی کا درس دیا ۔ انسانی ہمدردی کو نصب العین بنایا ۔ مساوات انسانی کے تصور سے دنیا کو روشناس کرایا۔ ملوکیت کو انسانیت کے لیے لعنت قرار دیتے ہوئے مثالی جمہوریت کا ایسا زرین نظام قائم کیا کہ عام بڑھیا کے لر زتے ہوئے ہاتھ خلیفہ وقت کے گریبان تک پہنچ جاتے ہیں ۔ پاپائیت اور کریسی کی چیرہ دستیوں کا قلع قمع کرتے ہوئے حکمت سائنس کی بنیاد رکھی ۔ جاگیر داری ، زمینداری اور سرمایہ داری کے ان عفریتوں کو موت سے ہمکنار کیا جو صدیوں سے انسانی گردنوں سے لپٹے ہوئے شہ رگ پر اپنے دانت تیز کر رہے تھے ۔ انسان کو بحیثیت انسان واجب التکریم قرار دیا ۔ اس کے بنیاد حقوق سے اسے متعارف کرایا اور ایک نئی تہذیب اور نئے تمدن کی بنیا د رکھی حقیقت یہ ہے کہ اگر آج کہیں کوئی شعاع ِ نور دکھائی دیتی ہے تو اسی خورشید ضیاتاب کی نور پاشیوں کا صدقہ ہے ۔ اور اگر کہیں کوئی پھول مسکراتا نظر آتا ہے ۔تو وہ اسی جان بہار کی نگہت ارزانیوں کا فیض ہے۔
ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو آنکہ از خاکش بر دید آرزو
یا ز نور مصطفی او راہبااست یا ہنوز اندر تلاش مصطفی اَست

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں