1

میلاد شریف کے بارے میں شیخ محمد رضا مصری کی تحقیق

پیشکش: مصطفائی مرکز تحقیق
عظیم سیرت نگار و مورخ شیخ محمد رضا مصری نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “محمد رسول الله ” میں تمام عالم اسلام کے تناظر میں انعقاد میلاد کے بارے میں تاریخی جائزہ لیا ہے اور دنیا بھر میں وقوع پذیر ہونے والی تقریبات میلاد کے احوال تین صفحات پر رقم کیے ہیں۔ ان صفحات کا ترجمہ درج ذیل ہے:
امام نوویؒ (۶۳۱ ۔۶۷۷ ھ / ۱۲۳۳۔۱۲۷۸ ء) کے شیخ امام ابو شامہؒ (۵۹۹۔۶۶۵ ھ/ ۱۲۰۱۔۱۲۶۷ ء) فرماتے ہیں کہ ہمارے دور کا نیا مگر بہترین عمل حضور نبی اکرم ﷺ کے یوم ولادت کا جشن منانے کا عمل ہے جس میں اس مبارک خوشی کی مناسبت سے صدقہ و خیرات، محفلوں کی زیبائش و آرائش اور اظہار مسرت کیا جاتا ہے۔ یہ مبارک تقریبات فقراء سے حسن سلوک کے علاوہ امتیوں کی حضور ﷺ سے والہانہ عقیدت و محبت اور اہل محفل کے دل میں آپ ﷺ کی فضیلت و عظمت کی پختگی اور آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجنے والے کے قلبی شکر و امتنان کا احساس دلاتی ہیں۔
امام سخاویؒ ( ۸۳۱۔۹۰۲ھ/ ۱۴۲۸۔ ۱۴۹۷ء) فرماتے ہیں: میلاد شریف کا رواج تین صدی بعد ہوا ہے۔ اس کے بعد سے تمام ممالک و امصار میں مسلمانان عالم عید میلاد النبی ﷺ مناتے چلے آرہے ہیں، وہ ان دنوں میں خیرات و صدقات کرتے اور میلاد النبی ﷺ کی مجالس منعقد کرتے ہیں جن کی برکتوں سے ان پر حق تعالی کا عام فضل و کرم ہوتا ہے۔
علامہ ابن جوزیؒ (۵۱۰۔۵۷۹ھ/ ۱۱۱۶۔۱۲۰۱ء) فرماتے ہیں کہ میلاد شریف کے فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے سال بھر امن و عافیت رہتی ہے اور یہ مبارک عمل ہر نیک مقصد میں جلد کامیابی کی بشارت کا سبب بنتا ہے۔
سلاطین اسلام میں اس طریقہ کو رائج کرنے والے سب سے پہلے شاہ اربل سلطان مظفر ابوسعید تھے جن کی فرمائش پر حافظ ابن دحیہ نے اس موضوع پر ایک کتاب “التنوير في مولد البشير والنذير” تالیف کی تھی۔ اس پر شاہ نے خوش ہو کر مؤلف کو ایک ہزار دینار انعام عطا فرمایا تھا۔ اس سلطان نے سب سے پہلے جشن میلاد النبی ﷺ منعقد فرمایا تھا، وہ ہر سال ماہ ربیع الاول میں یہ جشن انتہائی اہتمام کے ساتھ بہت اعلیٰ پیمانے پر منایا کرتے تھے۔ وہ طبعاً نہایت سخی، جواں مرد، شیر دل، فیاض طبع ، نہایت زیرک و دانا اور منصف مزاج تھے۔ کہا گیا ہے کہ وہ ہر سال جشن میلاد پر تین لاکھ (۳۰۰،۰۰۰) دینار خرچ کیا کرتے تھے۔
شاه تلمسان سلطان ابو حمو موسیٰ (۷۲۳۔۷۹۱ھ/۱۳۲۳۔۱۳۸۹ء) بھی عید میلاد النبی کا عظیم الشان جشن منایا کرتے تھے جیسا کہ ان کے زمانہ میں اور ان سے قبل مغرب اقصی و اندلس کے سلاطین بھی منایا کرتے تھے ۔ سلطان ابو حمو کے جشن کی تفصیل حافظ سید ابو عبد اللہ تونسی تلمسانیؒ نے اپنی کتاب ”راح الأرواح فيما قاله مولى أبو حمو من الشعر وقيل فيه من الأمداح“ (سلطان ابو حمو اور دوسروں کے فرمودہ منقبتی اشعار میں ارواح انسانی کے لیے راحت وسکون ہے ) میں بیان کی ہے۔ مؤلف نے بیان کیا ہے کہ سلطان تلمسان صاحب رائے معززین کے مشورہ سے شب میلاد النبی ﷺ ایک عام دعوت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے جس میں بلا استثناء ہر خاص و عام کو شرکت کی اجازت ہوتی تھی۔ اس محفل میں اعلیٰ قسم کے قالینوں کا فرش اور منقش پھول دار چادریں بچھائی جاتیں۔ سنہرے کارچوبی غلافوں والے گاؤ تکیے لگائے جاتے تھے ۔ ستونوں کے برابر بڑے بڑے شمع دان روشن کیے جاتے تھے۔ بڑےبڑے دستر خوان بچھائے جاتے تھے۔ بڑے بڑے گول اور خوش نما نصب شده بخوردانوں میں بخور سلگایا جاتا تھا، جو دیکھنے والوں کو پگھلایا ہوا سونا معلوم ہوتا تھا۔ پھر تمام حاضرین کے سامنے انواع و اقسام کے کھانے چنے جاتے تھے، معلوم ہوتا تھا کہ موسم بہار میں رنگا رنگ پھول کھلے ہوئے ہیں، ایسے کھانے جن کی طرف دل کو رغبت ہو اور جنہیں دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں۔ ان محفلوں میں اعلیٰ قسم کی خوشبوئیں بسائی جاتی تھیں جن کی مہک سے فضاء معطر ہو جاتی تھی ۔ مہمانوں کو حسب مراتب ترتیب وار بٹھایا جاتا تھا، یہ ترتیب جشن کی مناسبت سے دی جاتی تھی۔ حاضرین پر عظمت نبوت کا جلال و وقار چھایا رہتا تھا۔ انعقاد محفل کے بعد سامعین حضور ﷺ کے مناقب و فضائل اور ایسے پاکیزہ خیالات و نصائح سنتے جو انہیں گناہوں سے توبہ کی طرف راغب کرتے ۔ خطباء اسلوب بیان کے مد و جزر اور خطاب کے تنوعات سے سامعین کے قلوب کو گرماتے اور سامعین کو لذت اندوز کرتے تھے۔
ہمارے زمانہ میں بھی مسلماناٖن عالم اپنے اپنے شہروں میں میلاد کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ مصر کے علاقوں میں یہ محفلیں مسلسل منعقد کی جاتی ہیں اور ان میں برابر میلا د نبوی ﷺ سے متعلق واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ فقراء و مساکین کو خیرات تقسیم کی جاتی ہے۔ خاص طور پر قاہرہ میں اس روز ظہر کے بعد ایک پیادہ جلوس کمشنر آفس کے سامنے سے گزرتا ہوا عباسیہ میدان کی طرف روانہ ہوتا ہے جو پولیس کے حفاظتی دستوں کے ساتھ سڑکوں سے گزرتا ہے۔ یہ جلوس مقامات غوریہ، اشراقیہ، کوئلہ بازار اور حسینیہ سے گزرتا ہوا عباسیہ میدان پر ختم ہوتا ہے۔ ان راستوں پر ہجوم بڑھتا جاتا ہے، جلوس کے آگے پولیس کے سوار دستے ہوتے ہیں اور دونوں طرف فوج کے کچھ افسر ہوتے ہیں۔ مصر میں مبارک دن حکومت کی طرف سے منایا جاتا ہے۔ چنانچہ عباسیہ میں وزراء و حکا م کے لیے شامیانے نصب کیے جاتے ہیں اور خود شاہ وقت یا ان کے نائب جلسہ گاہ میں حاضر ہوتے ہیں۔ شاہ کے پہنچنے پر فوج سلامی دیتی ہے، پھر وہ شامیانے میں داخل ہوتے ہیں اور پھر صوفیاء اور مشائخ طریقت اپنے اپنے جھنڈے لیے وہاں حاضر ہو کر ذکر میلاد النبی ﷺ سماعت فرماتے ہیں۔ ختم محفل پر حاکم مصر میلاد کا بیان کرنے والے کو شاہانہ خلعت عطا فرماتے ہیں، پھر حاضرین میں شیرینی تقسیم کی جاتی ہے اور شربت پلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد توپوں کی گونج میں شاہانہ سواری مراجعت فرما ہوتی ہے، پھر شام کے وقت خیموں پر نصب شدہ قمقمے روشن کیے جاتے ہیں۔ بہترین آتش بازی چھوڑی جاتی ہے۔ اس دن تمام دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے۔ نیز بمقام مشہد حسینی کمشنر مصر کی موجودگی میں سیرت النبی ﷺ کا بیان ہوتا ہے۔ آج کل مذہبی علماء اور بیدار مغز حکام کی توجہات و مساعی جمیلہ سے بیشتر مروجہ بدعتوں کو دور کیا جا رہا ہے۔
یہ جشن میلاد النبی ﷺ کے اہتمام کا بیان کیا گیا ہے، ساتھ ہی ہم حکام وقت سے مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہر برائی جو دین کے خلاف ہے اور وہ تمام غیر ضروری باتیں جو ان مبارک مجالس کے موقعوں پر رواج پاگئی ہیں انہیں سختی سے روک دیا جائے کیوں کہ یہ باتیں اسلام کی خوبیوں کو داغ دار بنا دیتی ہیں اور مجالس میلاد کے انعقاد کے پاکیزہ مقاصد کو مفاسد سے آلودہ کر دیتی ہیں ۔ ( شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری : میلاد النبی ﷺ) ص:۳۹۶ تا ۳۹۹

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں