30

لندن میں عبد الرشید ترابی کے اعزاز میں عشائیہ

اشتیاق گھمن:
جب مجھے یہ خبر ملی کہ جماعتِ اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امیر اور قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن عبد الرشید ترابی صاحب برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے ہیں، تو پرانے تعلق نے ایک دم انگڑائی لی اور ان سے ملاقات کی خواہش مچل اٹھی۔ ترابی صاحب سے میرا تعلق خاطر تیس سال سے ہے، زمانہِ طفلِ مکتب سے۔ بچپن کی وہ محبت ختم ہوئی نہ کم، وہ قائم ہے اور جوان ہے، بالکل آتش کی طرح، دو آتشہ۔ مودت و عقیدت میں کمی صرف ترجیحات بدلنے سے آتی ہے، لیکن حالات کے مطابق یا فائدے کے لئے خود کو بدل لینا اپنی تقدیر میں لکھا ہی نہیں۔ ترابی صاحب کے دورہِ برطانیہ کا علم ہونے پر میں نے انہیں گذارش کی کہ میں لندن کے چند اہم دوستوں کے ساتھ کھانے کی میز پر آپ کی ملاقات کرانا چاہتا ہوں۔ ان کی کمال محبت کہ انہوں نے میری درخواست کا مثبت جواب اس طرح دیا کہ اگلے ہی دن ہم دوست جنوب مغربی لندن کے علاقے ٹُوٹنگ کے ایک مقامی ہوٹل میں مل بیٹھے۔


عبد الرشید ترابی صاحب کو آزاد جموں و کشمیر میں وہی مقام حاصل ہے کہ جو مرشد سید علی گیلانی مرحوم کو مقبوضہ کشمیر میں حاصل تھا۔ ترابی صاحب تحریکِ کشمیر کی بہت توانا آواز ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں مسئلہِ کشمیر کے حل کے لیے بے پناہ کام کیا ہے۔ آپ اخلاص و وفا کا ایسا مجسمہ ہیں کہ جنہوں نے ساری زندگی کشمیر کی تحریک کے لیے قربان کر دی۔ آپ کے پائے استقلال کبھی دنیاوی مال و اسباب کی وجہ سے ڈگمگا نہیں پائے۔ کشمیر کے مسئلے کو زندہ رکھنے میں آپ کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔آپ کی وادی کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات پر گہری نظر ہے۔ آپ انتہائی باخبر سیاسی رہنما ہیں کہ جن کے پاس کشمیر، وجہِ نزاع اور اس کے حل کے لیے مکمل لائحہ عمل موجود ہے۔ آپ نے لندن کے دانشور دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں پنپنے والی درجنوں علیحدگی کی تحریکوں میں تحریکِ کشمیر سب سے زیادہ موثر اس لیے ہے کہ یہ مقامی کشمیریوں کی تحریک ہے۔ آپ نے کئی بھارتی اہم شخصیات کے نام لے کر شرکائے محفل کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا کہ جو ہندو ہونے کے باوجود کشمیر کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ اس عشائیے میں آپ نے بھارتی آئین میں تبدیلی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد کی صورت حال، مسئلہ کشمیر اور اس کے حل، ریاستِ پاکستان اور اوورسیز پاکستانیوں کے کردار، غرض یہ کہ ہر پہلو پر کھل کر بات کی۔ آپ نے یاسین ملک کے ساتھ کیے جانے والے عدالتی ظلم پر بہت تشویش کا اظہار بھی کیا۔ کھانے کی میز پر ہونے والی یہ غیر روایتی، مگر ہلکی پھلکی اور معلومات آفرین بات چیت بہت سے پہلووں کا احاطہ کئے رہی۔
اس عشائیے میں مشتاق لاشاری (سی بی ای)، مقصود احمد (او بی ای)، ممتاز ریسٹورنٹ کے مالک منور حیات، ٹریول ایجنسی کے کاروبار سے منسلک شاہنواز رؤف، روزنامہ جنگ کے نامور کالم نگار وجاہت علی خاں، مشہور سماجی کارکن اور شاعر چودھری احسان شاہد، مشہور صحافی ودود مشتاق اور وقاص احمد کے علاوہ تحریکِ کشمیر لندن کے سربراہ نذیر احمد خاں اور داؤد شاہ نے شرکت کی۔
اس مجلس میں برادرم مقصود احمد (او بی ای)نے اپنی دو تصانیف جنابِ عبد الرشید ترابی کو پیش کیں۔
مجھے یقین ہے کہ دوستوں کو اس مجلس کی چاشنی بہت دیر تک محسوس ہوتی رہے گی، انشا اللہ۔ یہاں ہر کسی کو پیٹ کی غذا کے علاوہ ذہن کی غذا بھی بہت ملی۔ بلاشبہ ایسی نجی محافل فضا سازگار بنانے میں زیادہ موثر اور کارگر رہتی ہیں، یار زندہ رہیں، تو صحبتیں یقیناً قائم رہتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں