
لیبر پارٹی کی حکومت نے رواں سال مئی میں برطانیہ میں تعلیم اور ملازمت کے لئے آنے والے غیرملکی شہریوں کے لئے ویزہ شرائط کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا جس کاباقاعدہ اعلان وزیر اعظم کیئر سٹارمرنے کیا تھا۔محکمہ داخلہ جو برطانیہ میں “ہوم آفس” کہلاتا ہے اس نےاس سلسلہ میں وائٹ پیپر بھی جاری کیا جس کا مقصد قانون سازی کے بارے میں عوام کی رائے لینی ہوتی ہے۔ہم نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ وائٹ پیپر اکتوبر میں پارلیمنٹ میں پیش ہوگا اور عین توقع کے مطابق اکتوبر کے وسط میں ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں غیر ملکی تارکین وطن کے متعلق بل منظوری کے لئے پیش کردیا جس میں برطانیہ آنے والے طالبعلموں اور ملازمت اختیار کرنے والے افراد کے لئے سخت شرائط کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئے امیگریشن قوانیں کے متعلق سب سے پہلے ہم ورک ویزہ کے حوالے سے بات کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق برطانوی حکومت کے نئے امیگریشن قانون کے تحت ورک پرمٹ روٹ پر آنے والے تمام تارکین وطن کیلئے انگریزی ٹیسٹ کی سخت شرائط لازمی عائد کر دی گئی ہیں۔ نئے قانون کے مطابق قانونی راستوں سے ویزا حاصل کرنے والے افراد کو انگریزی بولنے، سننے، پڑھنے اور لکھنے کے لئے اے لیول کے برابر انگریزی ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔ورک پرمٹ روٹ کے لئے پہلے ہی انٹرنیشل انگلش ٹیسٹنگ سسٹم (IELTS)عائد ہے لیکن آئندہ ورک پرمٹ کے ذریعے برطانیہ آنے والے تمام افراد بشمول ورک پرمٹ ہولڈر کے بیوی اور بچوں کے لئے کے لئے بھی انگریزی ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے ہوم آفسSecure English Language )Test)نیا ٹیسٹ لینا شروع کرے گا۔یہ ٹیسٹ اے لیول کے برابر ہو گا جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ویزہ کی درخواست دینے والے کو انگریزی بولنے، سننے، لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت ہے؟ یہ ٹیسٹ صرف ہوم آفس سے منظور شدہ ادارے کے ذریعے لیا جائے گااور ویزا درخواست کے ساتھ اس کاسرٹیفکیٹ لگے گا اور اس کے نتائج کی تصدیق کی جائے گی۔ یہ نئی شرط امیگریشن وائٹ پیپر کا حصہ ہے ، جن کے ذریعے حکومت ان افراد کو ترجیح دینا چاہتی ہے جنھیں برطانیہ میں انگریزی زبان کی رکاوٹ نہ ہو اور برطانیہ کی معیشت اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ برطانوی حکومت کے اعلان کے مطابق اس ٹیسٹ کا نفاذ 8 جنوری 2026 سے ہو گا۔یہ شرط ورک ویزہ ہولڈر کی بیوی اور اٹھارہ برس سے زائد تمام بچوں پر عائد ہوگی جو برطانیہ آنا چاہتے ہیں۔اس قانون کا مطلب ہے کہ اگر آپ کےاہل خانہ 8 جنوری 2026 کے بعدآپ کے ساتھ برطانیہ آںا چاہتے ہیں تو انھیں ورک ویزہ کے لئے انگلش ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ ورک ویزہ ہولڈر کے لئے بی ٹو کے بجائے بی ون انگلش لیول ثابت کرنا ہو گا۔!یعنی ورک پرمٹ ہولڈر کو IELTSکے لئے کم از کم چھ بینڈ لینا ہوگے۔ اس سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ آٹھ جنوری سے پہلے جو درخواستیں دی گئی ہیں ان پر اس قانون کا نفاذ نہیں ہوگا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ افراد جو ورک پرمٹ کے ذریعے پہلے ہی برطانیہ میں موجود ہیں ان کے اہل خانہ پر اس قانون کا نفاذ نہیں ہوگا اور انھیں پرانے اصول کے تحت رہنے کی اجازت ہو گی۔ ورک ویزہ کے لئے دوسری سخت ترین شرط کم از کم تعلیم کے حوالے سے عائد کی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئنده پاکستان سے ورک ویزہ (ہائی سکلڈ ورکر) کیٹگری میں آنے والے افراد کے لئے تعلیم کی حد بڑھ کر کم از کم گریجوایٹ ہوگی، اسی طرح ورک ویزہ کے لئے ریگولیٹیڈ کوالفیکشن فریم ورک چھ (RQF6)کی شرط ہوگی۔برطانیہ میں ہر ملازمت کا جاب کوڈ ہوتا ہے۔اس جاب کیٹگری کے تحت صرف مخصوص پیشہ اور ہنر سے وابستہ افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت ہوگی جس میں انجنیئرنگ، ٹیچنگ، اکائونٹس، آئی ٹی، ڈاکٹر اورنرس شامل ہیں۔ورک ویزہ کے لئے گریجویٹ اور آر کیو ایف چھ کی حد مقرر کرنے کے بعد 180 پیشے اس ویزا کے لیے اہل نہیں رہیں گے۔ تیسرا ورک پرمٹ کے لئے تنخواہ کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تنخواہ کی حد 38700 پونڈ سے بڑھا کر 41700 پونڈ کردی گئ ہے۔یعنی ورک پرمٹ کے لئے سالانہ تنخواہ میں 32فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔یہ تنخواہ ان افراد کے لئے ہوگی جو پاکستان سے پہلی مرتبہ کسی کمپنی کے ذریعے برطانیہ ورک ویزہ پر آئیں گے،برطانیہ میں یہ تنخواہ منیجر اور اعلی افسران لے رہے ہیں، مثال کے طور پر برطانیہ میں اس وقت کم از کم اجرت 12 پونڈ گھنٹہ ہے لیکن ورک پرمٹ پر آنے والے افراد کی تنخواہ 22 پونڈ گھنٹہ ہو گی۔یہ ماہانہ تنخواہ 3500پونڈ بنتی ہے جس میں 700پونڈ انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔پاکستان سے ورک پرمٹ پر برطانیہ آنے والے افراد اضافی کام کرنا چاہتے ہیں تو انھیں تب اجازت ہوگی جب ان کا پیشہ امیگریشن سیلری لسٹ میں اوپر کی سطح پر ہوگا۔اب ہم نئے قانون میں انٹرنیشنل سٹوڈنٹ کے بارےمیں بات کرتے ہیں حکومت نے غیر ملکی طلبا کے لئے بھی شرائط کو مزید سخت کردیا ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے وہ طلبا جو برطانیہ آنے کی تیاری کررہے ہیں ان کے لئے حکومتِ برطانیہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے رہائشی اخراجات کی حد بڑھا دی ہے،مالی ضروریات کے لئے لندن کی یونیورسٹی میں داخلہ کے لئے ماہا نہ اخراجات 1529زیادہ سے زیادہ نو ماہ تک ظاہر کرنا ہوگے۔ اس کا مطلب ہے کہ طالبعلم ویزہ درخواست کے ساتھ جو بنک سٹیٹمنٹ لگاتے ہیں وہ 14 ہزار پونڈ یعنی پاکستانی 55لاکھ روپے ہوگی، لندن سے باہر یونیورسٹی اور رہائش کی صورت میں یہ حد 1171 پونڈ نو ماہ تک، یعنی ساڑھے دس ہزار پونڈ پاکستانی کرنسی کے مطابق 42لاکھ روپے کی بنک سٹیٹمنٹ ظاہر کرنی ہوگی۔یہ شرائط اس لئے عائد کی گئی ہیں تاکہ غیر ملکی طلبہ یہ ثابت کرسکیں کہ ان کے پاس قیام و تعلیم کے دوران اپنے اخراجات کے لیے مناسب وسائل موجود ہیں۔ویزہ فیسوں میں نئی اضافی شرح کا اطلاق رواں ماہ نومبر میں ان طلبا پر ہو گا جو اگلے سال تعلیم کے لئے یہاں آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔لیکن دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ پاکستان سے آنے والے طلبا کی اکثریت تعلیم سے زیادہ روزگار حاصل کرنے برطانیہ آتی ہے اور آئندہ سٹوڈنٹ ویزہ کے لئے یہ گراں قدر بوجھ پاکستانی والدین اور طلبا دونوں کے لئے اٹھانا مشکل ہوگا۔ حکومت نے دوسری شرط یہ عائد کی ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کیلئے پوسٹ سٹڈی ورک ویزہ(PSW) جو پہلے دو سال کا جاری ہوتا تھا اسے ڈیڑھ سال کردیا ہے یعنی گریجویشن کے بعد نوکری تلاش کرنے کا وقت دو سال سے کم کرکے 18 ماہ کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگی، کیونکہ اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ بہت سے طلبہ گریجویٹ لیول کی نوکری حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔سوشل کیئر ورکر ویزا کی نئی درخواستوں کے لیے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے جو درخواستیں دی گئی ہیں، وہ 2028 تک زیر غور رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے دنیا بھر سے باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے کیلئے بھی کئی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان میں شامل ہیں ہائی پوٹینشل انفرادی (High Potential Individual – HPI) ویزا میں توسیع، جس کے تحت دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیوں کے گریجویٹس کو ہر سال 8,000 درخواستوں کی حد کے ساتھ برطانیہ آنے کی اجازت دی جائے گی۔برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے باصلاحیت غیر ملکی طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انوویٹر فاؤنڈر روٹ کے ذریعے کاروبار شروع کرنے کی اجازت ہوگی۔ گلوبل ٹیلنٹ ویزا میں مزید سہولیات، جن میں نمایاں عالمی ایوارڈز کی توسیع اور آرکیٹیکٹس کے لیے اہلیت کے نئے معیار شامل ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے برطانیہ میں اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد، محققین، ڈیزائنرز اور تخلیقی شعبوں سے وابستہ پیشہ ور افراد کی تعداد دگنی کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ویزہ قوانین میں ایک اہم ترمیم کے تحت افغان ریلوکیشن پالیسی (ARAP) کی بندش ہو گئی ہے۔افغان ریلوکیشن اور اسسٹنس پالیسی (ARAP) کے تحت نئی بنیادی درخواستیں یکم جولائی 2025 سے بند کر دی گئی ہیں۔ جو درخواستیں اس سے پہلے کی گئی ہیں، وہ زیر غور رہیں گی۔ برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ یہ ملک ہمیشہ ان لوگوں کو خوش آمدید کہتا رہا ہے جو یہاں آ کر مثبت کردار ادا کرتے ہیں، لیکن یہ ناقابل قبول ہے کہ کوئی مہاجر یہاں آ کر ہماری زبان نہ سیکھے اور قومی زندگی میں اپنا حصہ نہ ڈالے۔ اگر آپ اس ملک میں آتے ہیں، تو آپ کو ہماری زبان سیکھنی ہوگی اور اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ہوم آفس کے مطابق یہ اقدامات حکومت کے اس منصوبے کا حصہ ہیں جن کے ذریعے وہ ملک کے موجودہ ناکام امیگریشن نظام کو ایک منصفانہ، منظم اور قابلِ اعتماد نظام سے تبدیل کرنا چاہتی ہے۔موجودہ اصلاحات حکومت کے امیگریشن وائٹ پیپر اور “پلان فار چینج” کا حصہ ہیں، جن کا مقصد امیگریشن پر سخت کنٹرول کے ساتھ اعلیٰ عالمی صلاحیتوں کو برطانیہ کی جانب راغب کرنا ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق یہ اقدام ملک کے امیگریشن نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا حصہ ہے۔ نئے قوانین کا مقصد زبان کی مہارت کو بہتر بنانا، غیر ملکیوں کے معاشرتی انضمام کو فروغ دینا، اور امیگریشن پر مؤثر کنٹرول قائم کرنا ہے۔یہاں اہم بات یہ ہے کہ حکومت کی سخت ویزہ پالیسی پر لیبر پارٹی کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ برطانیہ میں ایشیائی باشندوں بشمول پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، افریقی نژاد شہری لیبر پارٹی کا مضبوط ووٹ بنک ہیں۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود خود پاکستانی نژاد ہیں، ان کے والدین میر پور آزاد کشمیر سے ہجرت کرکے یہاں آئے تھے۔ ان کے تارکین وطن کے بارے میں سخت روئیے نے سب کو حیران کردیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یورپ سے چھوٹی کشتیوں میں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے میں حکومت ناکام ہو گئی جن پر حکومت ٹیکس کی رقم خرچ کرتی ہے لیکن ویزوں کے ذریعے قانونی طور پر آنے والوں اور ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے دشورایاں پیدا کردی گئی ہیں۔
154
