136

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے چند گوشے


تلخیص: رضوانہ لطیف / دینی عالمہ
موجودہ دور میں سب سے زیادہ جو چیز پھیلائی گئی ہے ، وہ ہے نفرت ، حالانکہ اسلام ہی دنیا میں واحد ایسا دین ہے ، جو نفرت نہیں احترام انسانیت سکھاتا ہے ۔
اسلام کے معنی امن و سلامتی کے ہیں ، اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے سب سے بڑی صفت ” رحمة للعالمين ” سے نوازا ہے ، یعنی آپ کو سارے جہانوں کے لئے سراپا رحمت بنا کر مبعوث کیا گیا ہے ، جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔
وَمَآ اَرْسَلْنَاكَ اِلَّا رَحْـمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ۔
( الانبیاء : 107)
اور ( اے نبی مکرم ) ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لے ( خالصتاً) رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔
اس دین اسلام کو بھیجنے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرنے والا ایک اللہ رب العالمین ہے ، یعنی سارے جہانوں کا پالہار ، پرودگار اور ہر چیز کو نشو ونما دینے والا ہے ، اور وہ الرحمٰن ، الرحیم بھی ہے ، جو سب پر بڑا رحم کرنے والا اور اپنے کسی بندے کے لئے ظالم نہیں بلکہ مہربانی کرنے والا ہے ۔ چنانچہ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ ہمیں دینٕ اسلام کی نعمت سے کس عظیم و لافانی و لازوال ذات نے نوازا ہے ؟ اور یہی وہ دین ہے ، جس میں مکمل نظام حیات موجود ہے ، اور اس دین کے بنیادی لٹریچر کو غیر جانبدارانہ طریقہ سے مطالعہ کرنے والا اسے قبول کئے بنا نہیں رہ پاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے اپنی بد اعمالیوں اور اپنی گروہ بندیوں کی وجہ سے اس دین کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی ہے ، اور امت مسلمہ کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا ہے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جس دین کو لیکر آئے ، اس میں ہر انسان ، خواہ وہ کسی بھی مذہب اور عقیدہ کا حامل ہو ، سے حسن سلوک اور اس کا احترام کرنے کی تعلیم دی ہے ، اور آپ خود ہمیشہ ہر انسان کے ساتھ عزت سے پیش آتے تھے ، آپ کسی شخص کو اس وجہ سے کبھی نفرت نہیں کرتے تھے کہ وہ یہودی ہے یا عیسائی ، بلکہ آپ ہر انسان سے بحیثیت انسان احترام کرتے تھے ، اور اس کی ایک مثال صحیح بخاری کی ایک روایت میں آئی ہے کہ ایک تابعی عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں ۔
كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ، فَقَامَا فَقِيلَ لَهُمَا : إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، أَيْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ، فَقَالَا : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ. فَقَالَ : أَلَيْسَتْ نَفْسًا ؟
( البخارى ، كِتَابٌ الْجَنَائِزُ بَابُ مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ. رقم الحديث 1312 )
سہل بن حنیف اور قیس‌ بن سعد قادسیہ میں کسی مقام پر بیٹھے ہوئے تھے ، اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لیکر گزرے تو یہ دونوں بزرگ کھڑے ہو گئے ، کسی نے ان سے یہ کہا کہ یہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے ، (جو کافر ہیں) اس پر انہوں نے کہا ، بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے سے اسی طرح ایک جنازہ گزرا تھا ، تو اس کے لئے آپ کھڑے ہوگئے ، پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا ، آپ نے فرمایا: (یہودی ہوا تو کیا ہوا ) کیا یہودی کی جان نہیں ہوتی ؟
امام بخاری نے اس حدیث پر ان الفاظ میں باب ترتیب دیا ہے ۔
بَابُ مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ
” باب اس شخص کے بارے میں جو
یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہوگیا ”
کسی انسان ، خواہ وہ یہودی ہو ، عیسائی ہو ، سکھ ہو ، ہندو ہو یا بدھسٹ ہو ، کی میت کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا یا نہ ہونا ، یہ مسئلہ تو اپنی جگہ ہے ؟ لیکن اس حدیث میں جو بنیادی پیغام ملتا ہے ، وہ زیادہ اہمیت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ چونکہ اس حدیث کے مطابق جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک میت کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے ، اور وہاں موجود صحابہ حیران رہ جاتے ہیں ، اور عرض کرنے لگتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! یہ کوئی مسلمان نہیں ہے ، یہ تو ایک یہودی کی میت ہے ، لیکن اس پر آپ نے جن الفاظ میں جواب فرمایا ہے ، وہ ایک تاریخ ساز اور سنہرے حروف سے لکھنے والا جملہ ہے ۔ جیساکہ آپ نے جواب میں فرمایا ہے ۔
أَلَيْسَتْ نَفْسًا ؟
کیا اس کی جان نہیں تھی ؟
( یعنی کیا وہ انسان نہیں تھا ؟)
ایک سنجیدہ قاری جتنا بھی اس دو لفظ کے فقرہ پر غور کرے گا ، تو اس کے دل و دماغ سے ساری کدورتیں اپنے آپ دور اور کافور ہوتی جائیں گی ، اور اس کے دل میں جگت پیار پیدا ہوگا ، اور آج عالم انسانیت کی جو صورت حال ہے ، ہر طرف سے جنگ کا ماحول بنا ہوا ہے ، اور نشانہ پر عالم اسلام ہے ، اس لئے آج کے دور میں جنگ کی نہیں اسلام کے آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے ، بلکہ سوشل میڈیا ایک ایسا آلہ ہے ، جس کا صحیح استعمال کرکے اس کے ذریعہ ہم دین اسلام کا آفاقی اور امن و آشتی کا پیغام گھر گھر تک پہنچا سکتے ہیں ، چونکہ جنگ و جدل سے آج تک کوئی نہیں جیتا ہے ، بلکہ صرف تباہی پھیر گئی ہے ، جو ہم آج کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اور جان گئے کہ جنگ و جدل کے کیا بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں ؟ اور کس طرح کی نفرتیں اور تباہیاں دکھائی دیتی ہیں ؟
لیکن بدقسمتی سے آج کل ہم ایسی نظمیں اور ایسے نغمے بچوں کو پڑھاتے ہیں ، جن سے بچوں کا مزاج داعیانہ و مصلحانہ کے بجائے جنگجوانہ و تخریب کارانہ بن جاتا ہے ، جس سے ان کے ہاتھ سے قلم ، کتاب ، انسانیت اور اسلام کے آفاقی پیغام عام کرنے کا جذبہ چھینا جاتا ہے۔
ابھی چند سال پہلے کی بات کی ہے کہ جب 2019ء اور 2020ء میں پوری دنیا پر کورونا وائرس کا قہر برپا تھا ، جس سے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں چلی گئیں ، لیکن اس جان لیوا معتدی بیماری نے پوری انسانیت کو ایک صفحے پر لاکھڑا کر دیا تھا ، اور اس کورونا وائرس کے پھیلنے سے پہلے جو ممالک ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی یا پابندی لگانے کی باتیں کرتے تھے ، اس دوران وہ ایک معمولی اور نہ دکھنے والے کورونا وائرس سے ایٹم بم سے بھی زیادہ خوف زدہ ہوگئے تھے ، اور خدا نے اس ایک چھوٹے سے کیڑے ، جو خرد بین سے بڑی مشکل سے نظر آتا تھا ، کے ذریعہ ایک آن میں سب کی بولتی بند اور سب کی اکڑ خاک میں ملا دی تھی ، اور سب کا سرجھک گیا تھا ، اور پوری دنیا پر گویا قیامت جیسی صورت حال پیدا ہوگئی تھی ، اور قرآن کی اس آیت کی پریکٹکل تصویر نظر آنے لگی تھی ۔
وَ اِذَا الۡوُحُوۡشُ حُشِرَتۡ ۪
( التكوير : 5)
اور جب ( ایک دوسرے کو کاٹنےوالے ) وحشی جانور اکھٹے ہو جائیں گے ۔
اس آیت میں اسرافیل کے صور پھونکنے کے وقت کا ذکر ہے ، لیکن اس وقت عالم انسانیت کی جو صورت حال ہے ، وہ اس آیت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے ۔ نیز اس ضمن میں اس وقت اس خدائی جلال و کبریائی کا بھی اظہار ہو رہا ہے ۔
لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ، لِلّٰه الۡوَاحِدِ الۡقَهارِ
( المؤمن : 16)
مولانا ابوالکلام آزاد نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح لکھا ہے ۔
” آج کے دن کس کی بادشاہی ہے؟ کسی کی نہیں صرف خدائے واحد و قہار کی”
اس طرح سے ان تمام آیات اور حدیث نبوی سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا جو پیغام ہے ، وہ آفاقی نوعیت کا ہے ، اور ہر دور کے حالات و واقعات نے اس کے حق ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ لہذا اس وقت محسن انسانیت پیغمبر اعظم و آخر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپ کے خلق عظیم کو عام کرنے کی ضرورت ہے ، اور آج ہر مسلمان کو انسانیت کی بقا کی لڑائی مل جل کر لڑنی ہے ۔ لیکن ان کے عمل و کردار میں ہر صورت میں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی جھلک دکھائی دینی چاہئے ۔
مولانا الطاف حسین حالی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ کے بارے میں ایک بہت ہی خوبصورت نعت لکھی ہے ، جس کے یہ چند اشعار بھی ہمیں دعوت فکر دیتے ہیں ؛

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں