
عبدالرزاق ساجد
چیئرمین المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ
جب مجھے مفکرِ اسلام پیر سیدعبدالقادر شاہ جیلانی کے وصال کی خبر ملی تو لمحہ بھر کے لیے وقت ٹھہر گیا، جیسے زمین نے سانس روک لی ہو۔ میری آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا، مگر وہ اندھیرا دراصل میری روح کا سایہ تھا جو اپنے چراغ سے محروم ہوگئی۔ مجھے یوں لگا جیسے میرا کوئی آسمانی ہاتھ، جو ہمیشہ مجھے زمین کے طوفانوں سے بچاتا تھا، اچانک واپس آسمان پر چلا گیا ہو۔ ان کی محبت ایسی تھی جس کا اندازہ لفظ نہیں لگا سکتے، ایسی روشنی جو لمس میں نہیں مگر زندگی کے ہر موڑ پر ساتھ رہتی ہے۔ وہ چلے گئے، مگر میرے وجود کے اندر وہی روشنی اب تک بولتی ہے۔خاموش، مگر لافانی روشنی ۔
ان پر لکھتے ہوئے میرا قلم لرزتا ہے، جیسے الفاظ خود سوگوار ہوں۔ حروف بکھر گئے ہیں، کچھ زمین پر آنسو بن کر گرے، کچھ فضا میں دعا بن کر ٹھہر گئے۔ لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے، شاید وہ بھی جانتے ہیں کہ محبت کو ناپا نہیں جا سکتا۔ میں ان کی روشنی کو قید کرنا چاہتا ہوں، مگر سورج کی کرنیں ہاتھوں میں کب سماتی ہیں۔ وہ علم کے سمندر تھے، اور میں محض ایک پیاسا ساحل۔ ان کی قربت نے جو اجالا دیا، وہ اب میری تنہائی کی آنکھ میں جلتا ہوا چراغ ہے۔ ان کی یاد حرفوں سے نہیں لکھی جاتی، دل کی دھڑکنوں سے لکھی جاتی ہے۔اور وہ دھڑکن اب ان کے نام کی گونج ہے۔
سچ یہ ہے کہ برطانیہ کی فضا میں علم و روحانیت کی سانسیں مدھم پڑ چکی تھیں۔ منبر روشن تھے مگر دل بجھے ہوئے، وعظ گونجتے تھے مگر یقین خاموش تھا۔ ایسے میں اہلِ سنت کو کسی ایسے مردِ جری کی ضرورت تھی جو وقت کے دھوئیں میں روشنی بن کر ابھرے، جو لفظوں سے نہیں، وجود سے تبلیغ کرے۔ ایک ایسا دل درکار تھا جو بے قرار ہو کر بھی مطمئن ہو، جو علم میں آتش ہو مگر عمل میں آب۔ پیر عبدالقادر شاہ وہ طوفان تھے جو سکون بن کر آیا، وہ صدا جو خاموشی میں گونجی، وہ دلیل جو محبت میں ڈھل گئی۔ انہوں نے عقیدے کو صرف بچایا نہیں، بلکہ اسے دھڑکنوں میں زندہ کر دیا۔ برطانیہ پہنچتے ہی انہوں نے خاموش فضا میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ شہر شہر، بستی بستی، ان کے قدم جہاں پڑے، وہاں عقیدت کے چراغ جل اٹھے۔ وہ منبر سے نہیں، دلوں سے خطاب کرتے تھے۔ علمائے اہلِ سنت اور عوام اہلِ سنت کو ایک ہی روح میں پرو دیا۔ایسا لگا جیسے بکھرا ہوا کارواں اپنی منزل پہ لوٹ آیا ہو۔ ان کے جلسے صرف اجتماعات نہیں تھے، ایمان کی دھڑکنوں کے اجتماع تھے۔ فضا بدلتی گئی، ہوا میں درود کی خوشبو رچتی گئی، اور پھر ایک دن پورا برطانیہ “یا رسول اللہ ﷺ” کی صداؤں سے گونج اٹھا۔ انہوں نے عقیدے کو آواز دی، اور آواز کو وحدت۔ یہی جذبہ پہلی سنی کانفرنس ڈیوزبری میں روشنی بن کر ابھرا، اور دوسری سنی کانفرنس ایسٹ ہیم لندن میں عزم کی آگ بن کر دہک اٹھا۔ ان کے قدم جہاں رکے، وہاں تاریخ نے سر جھکا کر سلام کیا۔


ان کی سیادت و قیادت میں لندن کی گلیوں نے پہلی بار عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی کو یوں دیکھا جیسے آفتاب زمین پر اتر آیا ہو۔ میلاد النبی ﷺ کا پہلا جلوس نکلا تو فضا میں درود کے نغمے بکھر گئے، گلیاں گلزار بن گئیں، اور ہزاروں غلامانِ رسول ﷺ عشق کے سمندر کی موجیں بن کر امنڈ آئے۔ وہ جلوس صرف ایک اجتماع نہیں تھا، یہ ایمان کا قافلہ تھا جو دلوں کی دھڑکنوں سے رواں ہوا۔ وقت گزرتا گیا مگر یہ قافلہ رکا نہیں۔یہ محبت کی مسلسل روانی بن گیا۔ آج وہی جلوس برطانیہ کے ہر شہر، ہر دل، ہر گلی کی زینت ہے؛ عشق کا وہ کارواں جو رکا نہیں، بلکہ ہر سال نئی روح کے ساتھ پھر سے جاگ اٹھتا ہے
وہ اپنے عہد کے عظیم سکالر تھے، معقول و منقول کے جامع، علم و عرفان کے اُس مینار کی مانند جن کی روشنی سے دل و دماغ منور ہوتے تھے۔ ان کا وجود نعمتِ خداوندی تھا۔ایک ایسی متبرک ہستی جس نے فہم و دانش کو عبادت کا درجہ دیا۔ وہ حمد کی بہتی کرن تھے اور نعت کی اجلی شعاع؛ ان کے الفاظ میں روح کی حرارت تھی اور ان کی خاموشی میں علم کی تجلی۔ وہ علم کے بحرِ عمیق میں موتی چننے والے تھے، اور ان کی شخصیت عقائدِ صحیحہ کے دفاع میں ایک آہنی حصار کی صورت تھی۔ جس عہد میں فتنوں کی گرد نے افکار کے آسمان کو دھندلا دیا تھا، وہاں انہوں نے علم و عقیدہ کے چراغ ایسے جلائے کہ اندھیرا خود روشنی سے شرما گیا۔
ان کی ذات فیض کا سرچشمہ تھی، صدق و صفا کا منبع، اور عشقِ رسول ﷺ کا وہ دریا جس کی روانی نے انہیں زندہ و جاوید بنا دیا۔ وہ صاحبِ علم الکلام بھی تھے اور حاملِ شعورِ فلسفہ بھی؛ منطق کے اسرار ان کے لئے کھلی کتاب تھے، اور ریاضی کے اعداد ان کے آگے گویا زبان کھول دیتے تھے۔ فقہِ اربعہ پر ان کی گرفت ایسی کہ گویا علم اپنی انتہا ان کے قدموں پر رکھ دیتا۔ وہ روایت و درایت دونوں کے شناور، اور حدیث کے اسرار میں ایسے محرم کہ ہر لفظ سے روشنی پھوٹتی تھی۔ تصوف ان کے سینے کی سانس تھا، اور سلوک و کشف ان کے دل کا مکاشفہ۔
وہ روح کے معمار اور عقل کے معلم تھے، علمِ نجوم سے لے کر علمِ جاں تک ان کی نگاہ رسائی رکھتی تھی۔ بروجِ فلکیہ میں جب سورج منتقل ہوتا تو ان کے دل کے افق پر علم کا نیا طلوع جنم لیتا۔ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ گویا صبحِ عرفان کی کرن تھی، اور ان کی خاموشی میں شبِ عبادت کی تسبیح۔ ان کا فیضان آج بھی جاری ہے۔کہ وہ صرف پڑھانے والے نہیں تھے، بلکہ جگانے والے تھے۔ وہ روشنی جو ان سے نکلی، آج بھی عقائدِ اہلِ سنت کے آسمان پر بدرالدجیٰ کی طرح روشن ہے؛ اور یہ روشنائی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔
جب پاکستان کی تاریخ کے صفحات پلٹے جائیں تو جہاں بھی ایمان و عمل کی تحریک دکھائی دیتی ہے، وہاں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا ہوا ملتا ہے۔ چاہے وہ تحریکِ ختمِ نبوت ہو یا تحریکِ نظامِ مصطفیٰ ﷺ ۔ ہر میدان میں وہ اور ان کے شاگرد صفِ اوّل میں دکھائی دیتے ہیں، گویا صداقت کے لشکر کے سالار ہوں۔ وہ محض مبلغ نہیں تھے، علم و عمل کے مجاہد تھے جنہوں نے منبر کو محرابِ جہاد بنایا اور زبان کو شمشیرِ حق۔ ان کے وجود سے ایک عہدِ بیداری نے جنم لیا، اور ان کی قیادت میں علم و ایمان نے نئی روح پائی۔
جب ظلم کے سائے گہرے ہوئے اور جیلوں کے در کھلنے لگے تو وہ اُن قیدخانوں میں بھی روشنی بن کر اترے۔ پابندِ سلاسل ہونے کے باوجود ان کے ایمان کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں، بلکہ اور مضبوط ہو گئیں۔ قلعوں کے عقوبت خانے ان کے صبر کے چراغوں سے روشن ہو گئے۔ ان کی پیشانیوں کے نشان گواہی دیتے ہیں کہ یہ مردانِ حق زمانے کے خوف سے نہیں لرزے، بلکہ باطل کے طوفان کے سامنے کوہِ گراں بن کر کھڑے رہے۔ وہ خریدارِ جاہ و مال نہیں، خریداریِ رضا و جمال کے عاشق تھے۔
زندگی کے ہر موڑ پر انہوں نے عقائدِ باطلہ کے خلاف شمشیرِ بیان اٹھائی اور حق کی صدا بلند رکھی۔ ان کے لہجے میں وہی جلال تھا جو حق گوئی کا امتیاز ہوتا ہے، اور ان کی نرم مسکراہٹ میں وہی سکون جو صداقت کی دلیل۔ انہوں نے ہر مخالفت کو شوقِ قربانی میں بدلا، ہر دشواری کو عزیمت کا درجہ دیا۔ ان کی زندگی ایک استعارہ تھی۔سچ بولنے کی قیمت ادا کرنے کا، ایمان پر قائم رہنے کی حلاوت چکھنے کا۔ اور آج بھی ان کی گونج اہلِ حق کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے، جو بتاتی ہے کہ جو سچ پر ڈٹ جائے، وہ قید میں بھی آزاد رہتا ہے۔
وہ ایسے مناظرے کرتے جن میں علم کی گہرائی اور ایمان کی حرارت ایک ساتھ بولتی تھی۔ وقت کے چوٹی کے علمائے سو جب دلیل کے میدان میں اترتے تو ان کا وقار اور استدلال باطل کے سارے پردے چاک کر دیتا۔ وہ فقط علم کی تلوار کے دھنی نہیں تھے حق و صداقت کے ترجمان بھی تھے۔ ان کے الفاظ میں یقین کی بجلیاں کوندتی تھیں۔ شفیلڈ، مانچسٹر اور لیسٹر کے شہروں نے وہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے جب ان کے سامنے فصاحت بھی جھک گئی اور بلاغت بھی خاموش ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مناظرے میں انہیں فتحِ مبین عطا فرمائی، کیونکہ وہ زبان سے نہیں، دل کی سچائی سے بولتے تھے۔اور سچ جب دلیل بن جائے، تو شکست کا تصور مٹ جاتا ہے۔
جب سلمان رشدی کا فتنہ سر اٹھانے لگا تو انہوں نے بدعقیدگی کی اس سیاہ آندھی کے مقابل وہ چراغ جلایا جس کی لو نے کفر و ضلالت کے تمام سائے نگل لیے۔ مرکزی جماعتِ اہلِ سنت کے پلیٹ فارم سے وہ تاریخ ساز احتجاجی جلوس نکلا جو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا زندہ معجزہ بن گیا۔ لاکھوں عشاقِ رسول ﷺ گلیوں میں امنڈ آئے۔آنکھوں میں عشق، لبوں پر درود، اور دلوں میں غیرتِ ایمان موجزن تھی۔ فضا لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی صداؤں سے گونج رہی تھی، اور یوں لگا جیسے لندن کی زمین نے پہلی بار جنت کی ہوا محسوس کی ہو۔ وہ لمحہ، جب محبت نے مزاحمت کا روپ لیا اور ایمان نے راستوں کو محرابوں میں بدل دیا، تاریخ کے صفحات پر ابدی ہوگیا۔ اسی روح پرور اجتماع کی قیادت بھی آپ نے فرمائی۔ لاکھوں کے مجمع میں، مختلف مکاتبِ فکر کے علما کے جلو میں، آپ نے ظہر کی نماز کی امامت کی۔ایک ایسا منظر جو وحدتِ امت، عشقِ رسول ﷺ اور علمِ دین کے امتزاج کی نادر مثال بن گیا۔ اس جلوس نے نہ صرف فتنے کی جڑ کاٹ دی بلکہ دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی وہ آگ بھڑکا دی جو وقت کی گرد سے نہیں بجھتی، بلکہ ہر صدی میں نئی روشنی کے ساتھ دہکتی ہے۔ آپ کی قیادت نے ثابت کیا کہ جب علم عشق کے ہاتھ میں پرچم بن جائے، تو فتنہ نہیں، تاریخ شکست کھاتی ہے۔
سخاوت ان کے وجود میں اس طرح رچی بسی تھی جیسے دریا میں روانی۔ وہ دینے کو عبادت اور خدمت کو ایمان سمجھتے تھے۔ جب پاکستان کو تباہ کن زلزلے نے اپنی لپیٹ میں لیا اور زمین لرز کر رہائشی بستیاں ملبے میں بدل گئیں، تو انہوں نے تماشائی بننے کے بجائے مجاہدِ خدمت کا کردار ادا کیا۔ اپنی جیب سے ایک بڑی رقم متاثرین میں تقسیم کی ۔ نہ شہرت کے لیے، نہ صلہ کے لیے، بلکہ اس یقین کے ساتھ کہ زخم پر مرہم رکھنا ہی ایمان کی سب سے حسین صورت ہے۔ ان کے ہاتھوں سے دی جانے والی ہر رقم میں دعا کی حرارت اور دل کی نرمی شامل تھی۔
ان کی سخاوت محض وقتی نہیں تھی، بلکہ ایک مسلسل بہاؤ تھی۔ زلزلے کے بعد جب سنی مساجد کی معاملات گرد آلود ہوئے، تو انہوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی خطیر رقم مساجد کی کمیٹیوں اور علمائے کرام کے حوالے کی۔ ان کا یہ عمل کسی دولت مند کا عطیہ نہیں بلکہ ایک ولیِ دلدار کی تسبیح تھی، جو پتھروں سے بھی روشنی نکال دیتا ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ ایمان کا اصل رنگ وہی ہے جو زخم دیکھ کر خاموش نہیں رہتا، اور سخاوت وہ جو ہاتھ سے نکل کر دلوں میں اتر جائے۔
جب پوپ بینی ڈکٹ نے جرمنی میں اسلام اور بانیِ اسلام ﷺ کے بارے میں دل آزاری پر مبنی کلمات کہے، تو دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، مگر حیرت انگیز طور پر کوئی مؤثر علمی و دینی ردعمل سامنے نہ آیا۔ ایسے نازک وقت میں، مفکرِ اسلام نے اس فتنے کا ایسا مدلل اور تاریخی جواب دیا جو علمی دنیا میں ایک مثال بن گیا۔ انہوں نے اپنے قلم کی روشنی سے کتاب “زبدۃ التحقیق” تصنیف فرمائی، جس میں نہایت تحقیقی انداز میں ثابت کیا کہ افضلیت کے مسئلے پر اجماعِ امت کبھی واقع نہیں ہوا، بلکہ یہ جمہور اہلِ سنت کا مذہب ہے۔ ان کے اس مؤقف کو بعد ازاں مزید تقویت اس وقت ملی جب دربارِ عالیہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین، پیر سید شاہ عبدالحق شاہ گیلانی مدظلہ العالیٰ کے حکم پر بھی یہی فتویٰ جاری کیا گیا، جو مفکرِ اسلام کے علم و بصیرت کی حقانیت پر مہرِ تصدیق بن گیا۔ وہ معرفت کے اسرار کے امین اور باطن کی روشنی کے ترجمان تھے۔ ان کی محفل میں بیٹھنا گویا دل کے در وا کر دینا تھا۔جہاں نفس نرم پڑتا، نیت سنورتی اور روح کو اپنی اصل پہچان ملتی۔ وہ دلوں میں حسنِ عمل کا بیج بوتے، اصلاحِ احوال کا چراغ جلاتے، اور خدا پرستی کو محض عقیدہ نہیں بلکہ زندگی کا ذوق بنا دیتے۔ ان کی گفتگو میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو رچی ہوتی، ان کے انداز میں اہلِ بیت کی محبت کی حرارت اور صحابہ کرامؓ کے ادب کا وقار جھلکتا۔ وہ نسبتِ اولیاء کے ایسے مبلغ تھے جو لفظوں سے زیادہ خاموشی سے اثر کرتے تھے۔ ان کی باتیں فقط سنی نہیں جاتیں تھیں ۔ محسوس کی جاتی تھیں، کیونکہ وہ دلوں کو نہیں، دلوں میں اترنے والے انسان تھے۔
ان کا چہرہ روشنی کا پیکر تھا۔ایسا نور جسے دیکھ کر دل میں خدا کی یاد خودبخود جاگ اٹھتی۔ ان کی موجودگی میں خاموشی بھی عبادت بن جاتی، اور ان کی صحبت زہد و تقویٰ کی خوشبو سے روح کو معطر کر دیتی۔ وہ بولتے تو دل دھڑکنے لگتے، لفظ ان کے نہیں ہوتے تھے، تاثیر آسمان کی ہوتی تھی۔ ان کی تقریر دلوں میں وہ ارتعاش پیدا کرتی جو گناہوں سے نفرت اور نیکی سے محبت کا سبق دیتی۔ ان کی مجلس سے اٹھنے والا ہر شخص کچھ نہ کچھ بہتر بن جاتا۔کسی کی نیت صاف ہو جاتی، کسی کا دل نرم، کسی کی آنکھ نم۔ ان کی شخصیت میں فقیر کی سادگی، قلندر کی آزادی، اور عارف کی گہرائی یکجا تھی۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے اوپر نظر آتے۔ ان کی نگاہ میں مقناطیسی کشش تھی، جو روح کو اپنی طرف کھینچ لیتی۔ ان کے قریب آ کر یوں لگتا جیسے زندگی نے اچانک معنی پا لیے ہوں۔ ایسے لوگ جن سے مل کر آدمی کو اپنے ہونے سے محبت ہو جائے، جن سے ملاقات دعا بن جائے ۔ وہ انہی میں سے تھے۔
حکمت وعرفاں کا سورج وہ دور افق میں ڈوب گیا
نجانے کتنی صدیوں تک اب لوگ سحر کو ترسیں گے
