
رنگون (نیا نام ینگون) برما یا میانمار کا ایک بڑا تجارتی اور سابق دارالحکومت بھی ہے، گزرے ہفتے “المصطفی ویلفئیر ٹرسٹ” کے زیر اہتمام گزشتہ 13 سال سے روہنگیا کے بے بس و بے سہارا مسلمانوں کے لئے جاری ریلیف پراجیکٹ کے سلسلہ میں ایک اور مرحلہ مکمل کیا گیا ہے، کوئی دس روز تک “المصطفی” کی امدادی ٹیم رنگون میں تھی جس نے کئی ایک مختف علاقوں میں ضرورتمندوں اور بے سہارا افراد تک نقد رقوم، فوڈ پیک، پکایا ہو کھانا اور میڈیکل ایڈ پہنچائی، تاریخی طور پر یاد رہے کہ روہنگیا مسلمان برما کی سب سے زیادہ مظلوم اقلیتوں میں سے ہیں، برما کی حکومت انہیں اپنا “شہری” تسلیم نہیں کرتی بلکہ “غیر قانونی بنگلہ دیشی” کہتی ہے، حالانکہ وہ صدیوں سے برما میں آباد ہیں لیکن 2012 خاص طور پر 2017 میں بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کے دوران لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، خواتین کی عصمت دری،لوگوں کو زندہ جلائے جانے،گھروں ومساجد کو جلانےاور اجتماعی ہجرت پر مجبور کرنے جیسے مظالم ڈھائے گئے، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کو نسل کشی (Genocide) قرار دیا ہے اس وقت اندازاً بارہ لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان اپنے ہی وطن میانمار سے بے دخل ہوکر زیادہ تر بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ گزین ہیں، جبکہ کچھ تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر ممالک بھی پہنچے ہیں “المصطفی ویلفئر ٹرسٹ” کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد کے مطابق 2016 سے اب تک “المصطفی” کی ٹیم نے بنگلہ دیش کے اُن علاقوں کے بھی کئی وزٹ کئے ہیں جہاں روہنگیا سے بے دخل ہونے والے مسلمان مشکل ترین اور مخدوش حالات میں خیمہ بستیوں میں زندگی گُزارنے پر مجبور ہیں، “المصطفی” کی ٹیم کو حالیہ دورہ میں بتایا گیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے لئے فنڈنگ کی شدید کمی ہے لاکھوں روہنگیا مہاجر ین کو کیمپوں میں بنیادی ضروریات کے ضمن میں مشکلات کا سامنا ہے خوراک، رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات محدود ہیں، امدادی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر مالی تعاون کم ہوا تو یہ صورتِ حال مزید بگڑ جائے گی، حال ہی میں لاجِستک منصوبہ برائے 2025–26 بنگلہ دیش اور اقوامِ متحدہ نے شروع کیا ہے جس کا مقصد 2025 میں تقریباً ڈیڑھ ملین افراد کو امداد پہنچانا ہے، جس کے لیے کوئی 1000 ملین ڈالر درکار ہیں اس کے تحت نئے آنے والوں کی شناخت، خوراک، پانی، صحت، پناہ گاہ، اور تعلیمی خدمات شامل ہیں، بنگلہ دیش وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ روہنگیا مہاجر پناہ گزیں ہیں تقریباً 1.1 ملین سے زائد افراد وہاں مقیم ہیں، زیادہ تر کوکس بازار ضلع کے کیمپوں میں موجود ہیں جہاں 2016 سے آج تک “المصطفی” کئی بار ریلیف مشن بھیج چکی ہے، دیگر ممالک جیسے ملائیشیا، انڈیا، تھائی لینڈ میں بھی پناہ گزین موجودہیں، اس سلسلہ میں میانمار نے اس سال اپریل 2025 میں اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش کی طرف سے پیش کی گئی فہرست کے مطابق تقریباً 180,000 روہنگیا پناہ گزین “واپسی کے اہل” قرار دیے گئے ہیں، اگرچہ بقیہ افراد کی تصدیق ابھی باقی ہے مگر واپسی کا عمل عملی میدان میں رکاوٹوں کا شکار ہے ایک تو میانمار کے اندر سلامتی، جغرافیائی کنٹرول اور سیاسی استحکام کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے دوسرا یہ کہ روہنگیا خود بھی اپنی حفاظت، شہریت و حقوق کی ضمانت چاہتے ہیں، دوسری طرف میانمار میں بھی راخین ریاست میں جنگ بندی نہیں ہو رہی اور عسکری جھڑپیں جاری ہیں اور ایک عسکری تنظیم نے ریاستِ راخین کے کئی اضلاع پر کنٹرول حاصل کیا ہے، جن میں بارڈر ٹاؤن شپ (ماونگ داو) شامل ہیں، اس پریشانی کی بنا پرحتیٰ کہ وہ علاقے جہاں واپسی ممکن سمجھی جاتی تھی اب تنازع کی زد میں ہیں، جس سے واپسی کے منصوبوں کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے،مہاجر کیمپوں سے یا میانمار ساحل سے روہنگیا افراد خطرناک سمندری راستے اختیار کرتے ہیں اسی سال کے دوران دو الگ کشتی حادثات میں ممکنہ طور پر 400 سے زائد افراد جاں بحق یا لاپتا ہوئے، بے روزگاری،خوراک کی قلت، اور غیر یقینی مستقبل انہیں مزید خطرناک راستے اپنانے پر مجبور کرتی ہے، بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں سیکورٹی کی صورتِ حال بھی پیچیدہ ہے روزانہ کی بنیاد پر تشدد، جرائم، انسداد دہشت گردی کے الزامات، اور انسانی حقوق کی پامالی کے کیسز سامنے آتے ہیں جس پر بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں بار بار خبردار کرتی ہیں کہ اگر عالمی معاونت کم ہوئی تو یہ مہاجر کمیونٹیز شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں، “المصطفی ویلفئر ٹرسٹ” نے اپنے حالیہ ریلیف ایفرٹ وزٹ میں نا صرف روہنگیا مسلمانوں بلکہ دیگر ایسی کمیونٹیز جن کے حالات غربت کی وجہ سے ناگفتہ بہ ہیں اور جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اُن کی بھی بلا امتیاز ہر ممکن مدد کی ہے “المصطفی” ٹیم نے رنگون میں موجود ایک ہسپتال کا دورہ بھی کیا اور مختلف وارڈز کے دورے کے دوران زیر علاج مستحق مریضوں کی مالی مدد کے علاوہ ہسپتال کی انتظامیہ کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ “ایم او یو” بھی سائن کئے جن کے تحت اُنہیں ادویات اور جدید مشینری کے صورت امداد فراہم کی جائے گی۔ “المصطفی” کے اس ریلیف پراجیکٹ کے بین بین ہم نے اپنی صحافتی دلچسپی اور ذمہ داری کے تحت ہندوستان کی مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار ابوظفر محمد سراج الدین بہادر شاہ ظفر کے مزار کا وزٹ بھی کیا، تاریخی طور پر بہادر شاہ ظفر کا ایک مختصر تعارف اور اُن کی غیر معمولی شہرت کی وجہ 1857 کا انقلاب یا جنگ آزادی ہے، تاہم ان کی ہمہ گیر شخصیت میں اس بات کا بڑا دخل ہے کہ وہ اودھ کے ایک اہم شاعر بھی تھی، بہادر شاہ ظفر جس طرح بادشاہ کی حیثیت سے انگریزوں کی چالوں کا شکار ہوئے اسی طرح ایک شاعر کی حیثیت سے بھی ان کے سر سے سخن وری کا تاج چھیننے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ ظفر کی شاعری میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کے استاد ذوقؔ کی دین ہیں، سرسید احمد خان کے سامنے جب اس خیال کا اظہار کیا گیا تووہ بھڑک اٹھے تھے اور کہا تھا کہ، ’’ذوق ان کو لکھ کر کیا دیتے اس نے تو خود زبان قلعہ معلیٰ سے سیکھی تھی۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ ظفر ان شاعروں میں ہیں جنہوں نے شعری اظہار میں اُردو پن کو فروغ دیا اور یہی اُردو پن ظفر کے ساتھ ذو قؔ اور داغؔ کے وسیلے سے بیسویں صدی کے عام شاعروں تک پہنچا، مولانا حالیؔ نے کہا کہ ’’ظفر کا تمام دیوان زبان کی صفائی اور روزمرہ کی خوبی ہیں، اول تا آخر یکساں ہے‘‘۔ ظفر بطور شاعر اپنے زمانہ میں مشہور اور مقبول تھے۔ اُسی وقت کے ایک معروف شاعر و مصنف ‘‘ منشی کریم الدین’’طبقات شعرائے ہند‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ظفر ’’شعر ایسا کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ان کے برابر کوئی نہیں کہہ سکتا، تمام ہندوستان میں اکثر قوالی اور رنڈیاں ان کی غزلیں، گیت اور ٹھمریاں گاتے ہیں۔‘‘
بہر کیف، بہادر شاہ ظفر کے مزار کا محل و وقوع کچھ یوں ہے کہ یہ مزار شہر کے ایک اہم مقام، شووِداگون پاگوڈا (Shwedagon Pagoda) کے قریب واقع ہے۔ میرے اپنے ایک اندازے کے مطابق اس مزار اور اس سے ملحقہ مسجد، خواتین و مردوں کے علیحدہ عبادت خانے اور لنگر خانے کا کُل رقبہ تقریباً اڑھائی تین کنال سے زیادہ نہیں ہے، مزار کی انتظامیہ کے چیئرمین محمد شریف کے مطابق بہادر شاہ ظفر کی اصل قبر کوئی پینتیس سال قبل اسی جگہ ایک کُھدائی کے دوران دریافت ہوئی جسے انگریز دور میں ہی جان بوجھ کر چُھپا دیا تھا پھر مزار کی تعمیر نو اور سرکاری شکل 1994 میں کی گئی تھی جب یہ قبر دریافت ہوئی قبل ازیں ایک علامتی قبر کا تعویذ اوپر پہلے سے ہے جہاں بہادر شاہ ظفر کی بیگم اور نواسی کی قبر بھی موجود ہے اُنہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے وزرأ اعظم، صدور اور پاکستان سے بھی جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری، میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو اور آصفہ زرداری اور شوکت عزیز بھی اس مزار کا دورہ کرچکے ہیں مزار برما کی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہے، مزار کی انتظامیہ کے پانچ ارکان ہیں جن میں سے چار مسلمان ہیں لیکن مزار کو مکمل طور پر پبلک فنڈنگ سے چلایا جاتا ہے۔ محمد شریف نے بتایا کہ بہادر شاہ ظفر کی کوئی اولاد برما میں تو نہیں ہے لیکن کلکتہ میں سُنا ہے کہ اُن کی اولاد میں سے ایک تقریبا ۷۴ سالہ سلطانہ بیگم زندہ ہیں لیکن انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہیں کچھ سال پہلے اُنہوں نے دلی کے تاریخی لال قلعہ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ انڈین حکومت نے ان کی پراپرٹی (لال قلعہ) پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور یہ کہ عدالت انھیں اس پراپرٹی کا قبضہ دلوائے یا پھر اس کا معاوضہ دلوائے۔ سلطانہ بیگم کا دعویٰ ہے کہ وہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ کے پڑپوتے مرزا محمد بیدار بخت کی بیوہ اور لال قلعہ کی قانونی وارث ہیں۔لیکن ہائیکورٹ نے اُن کی درخواست یہ کہہ کرمسترد کر دی تھی کہ اگر 1857 میں آپ کے ساتھ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے ناانصافی کی تھی تو 170 برس بعد آپ نے عدالت سے رجوع کیا ہے، آپ اس تاخیر کی وضاحت کیجیے ! سلطانہ بیگم نے بہت پہلے حکومت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ بہادر شاہ ظفر کی باقیات کو رنگون سے لا کر مہرولی میں واقع ظفر محل میں دفن کیا جائے۔ سلطانہ بیگم ان دنوں کولکتہ کے نواحی علاقے ہوڑہ کی ایک افلاس زدہ بستی میں رہتی ہیں۔ سلطانہ بیگم کا مذکورہ دعویٰ اس لئے درست معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی مرکزی حکومت نے سلطانہ بیگم کی چھ ہزار روپے ماہانہ پنشن مقرر کر رکھی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ’چھ ہزار روپے میں آج کیا ملتا ہے، حکومت کو سوچنا چاہیے۔ سلطانہ بیگم بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے مرزا محمد بیدار بخت کی بیوہ ہیں اور حکومت ہند نے 1960 میں بیدار بخت کو بہادر شاہ ظفر کا وارث تسلیم کیا تھا اور اسی لئے بیدار بخت کی موت کے بعد اُن کی پنشن سلطانہ بیگم کو ملنے لگی۔چنانچہ اب معاملہ یہ ہے کہ آخری شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر کی تِل تِل غربت و افلاس میں دم توڑتی اولاد سلطانہ بیگم کی اس درخواست کو کہ مغلیہ خاندان کے آخری شہنشاہ کی باقیات کو رنگون سے لا کے مہرولی میں واقع ظفر محل میں دفن کیا جائے یہ تو ناممکنات میں لگتا ہے اور لگتا یہ بھی ہے کہ آنے والے سینکڑوں ہزاروں سال تک بہادر شاہ ظفر کی غزل کا مقطع اسی طرح امر رہے گا کہ
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
99
