740

عبدالرزاق ساجد:جہد مسلسل کا نا م تین عشروں پر پھیلی عزم و ہمت کی داستان

تحریر : محمد نواز کھرل


ہمدم دیرینہ ، دلیر ، دلبر اور دانا عبدالرزاق ساجد کے ساتھ کم و بیش 30 سال پرانی تصویر

83 سے 93 تک ۔۔۔ جذبوں ، ولولوں ، امنگوں اور جوش و جنون سے بھرے یادگار اور شاندار عہد کی ایک جگمگاتی یاد ۔۔ وہ زمانہ جب ہم اے ٹی آئی کے انقلابی پلیٹ فارم پر کی گئی تاریخ ساز جدوجہد کا حصہ تھے ۔۔۔ لمحہ موجود میں دنیا کے 22 ممالک میں لاچار ، بیمار اور مفلوک الحال انسانیت کے درد بانٹنے کے لئے سرگرم عمل عالمی رفاہی و فلاحی تنظیم “ المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ “ کی قیادت کرنے والے عبدالرزاق ساجد اے ٹی آئی میں ناظم ضلع خانیوال سے لے کر مرکزی صدر تک مختلف ذمہ داریوں پر فائز رہے ، لیکن 90 میں بطور ناظم پنجاب اور 92 میں بطور مرکزی صدر ان کا دور اور ان کا کردار و عمل ناقابل فراموش ہے ۔۔ پنجاب میں ان کی نظامت اور مرکز میں ان کی صدارت کے دوران معروف اور تاریخی جلسہ گاہ موچی دروازہ گراؤنڈ لاہور میں ہونے والا “ سلور جوبلی طلباء کنونشن ۔۔۔۔۔،گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان کے کشادہ سبزہ زار میں ہونے والا “ پنجاب طلباء کنونشن “ ۔۔۔ ، ڈی گراؤنڈ فیصل آباد میں ہونے والا “ پاکستان زندہ باد طلباء کنونشن “ ۔۔۔ اور آبپارہ کمیونٹی سنٹر اسلام آباد میں ہونے والی تاریخی “ کشمیر و بوسنیا کانفرنس “ نہ صرف اے ٹی آئی کی تاریخ بلکہ طلباء سیاست کے چند بڑے اور تاریخی اجتماعات میں شمار کئے جاتے ہیں ۔۔۔ جوش عمل اور حُسن عمل سے مالامال عبدالرزاق ساجد کے دور صدارت میں مجھے ان کے ساتھ جنرل سیکریٹری پنجاب کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا ۔۔ 89 میں پنجاب میں ہونے والے طلباء یونینز کے الیکشن میں جب اے ٹی آئی نے تمام طلباء تنظیموں کو شکست دے کر پہلی پوزیشن حاصل کی تو اس اہم سیشن میں عبدالرزاق ساجد پنجاب کے جنرل سیکریٹری ، صاحبزادہ فضل الرحمن اوکاڑوی ناظم پنجاب اور ڈاکٹر محمد ظفراقبال نوری مرکزی صدر تھے جبکہ بندہ فقیر ( نواز کھرل ) بھی طلبا یونینز الیکشن لڑنے والی اس سیشن کی پنجاب کابینہ میں بطور سیکریٹری اطلاعات شامل تھا ۔۔۔ 93 میں رفیق بن کر انجمن طلباء اسلام سے فراغت کے بعد عبدالرزاق ساجد اور ان کے ساتھیوں صاحبزادہ سید محمد صفدر شاہ گیلانی ، صاحبزادہ فضل الرحمن اوکاڑوی ، بندہ فقیر ( محمد نواز کھرل ) اور میاں افتخار احمد رضا نے 26 سال بعد جماعت اہل سنت کے تمام دھڑوں کو متحد کر کے ایسا معرکہ سرانجام دیا جو اہل حق کی تاریخ میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا ۔۔۔

قائدانہ صلاحیتوں اور اعلی اوصاف و کمالات سے جگمگاتی شخصیت کے مالک عبدالرزاق ساجد نے جماعت اہل سنت پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی حیثیت سے مینار پاکستان گراؤنڈ ، موچی دروازہ لاہور اور قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں ہونے والی ملک گیر “ سنی کانفرنسوں “ کے انعقاد میں اہم ، بنیادی اور فعال کردار ادا کیا ۔۔ دھیمے مزاج کے بلند عزم اور بلند حوصلہ عبدالرزاق ساجد 2001 میں برطانیہ جا بسے اور 2006 میں اپنے شیخ طریقت ، مربّی و مرشد ، مفکر اسلام ، مفسر قرآن حضرت علامہ پیر سید ریاض حسین شاہ جی کی اجازت و تاہید اور سماجی خدمت کے عظیم مشن کے مخلص علمبردار الحاج محمد حنیف طیب کی زیر سرپرستی برطانیہ میں “ المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ “ کی بنیاد رکھی ۔ اس وقت پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش ، برما ، غزہ ، گیمبیا ، نائیجیریا سمیت دنیا کے 22 ممالک میں “ المصطفے “ کا فعال ، متحرک اور موثر نیٹ ورک قائم ہو چکا ہے ۔۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ المصطفے نے پچھلے کئی برس سے اندھے پن کے خلاف “ روشنی سب کے لئے “ کے سلوگن سے جاری مہم کے دوران دنیا کے مختلف خطوں اور ملکوں میں لگائے جانے والے فری آئی کیمپوں میں آنکھوں کے ایک لاکھ مفت آپریشن مکمل کر لئے ہیں ۔۔ جبکہ لاہور میں “ المصطفے آئی ہسپتال “ فنگشنل ہو چکا ہے اور ان شاءاللہ 12 نومبر 2020 کو اس ہسپتال کی افتتاحی تقریب منعقد کی جائے گی ۔۔ جناب عبدالرزاق ساجد کی دعوت پر پچھلے برس نومبر 2019 میں قبلہ اوّل مسجد اقصی ( فلسطین ) کے خطیب شیخ عمر فہمی عوض اللہ الکسوانی نے پہلی بار پاکستان کا دورہ کیا ۔۔۔

اکتوبر 2019 میں عبدالرزاق ساجد نے المصطفے کے پلیٹ فارم سے تاریخ کے طویل ترین کرفیو سے متاثرہ کشمیری بچوں کے لئے عالمی سطح پر “ سیو آور چلڈرن ان کشمیر مہم “ چلائی اور برطانیہ سے ممبران پارلیمنٹ ، انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے مبصرین کو لے کر کشمیر پہنچے اور مظفرآباد سے کشمیری بچوں کے لئے اشیائے خورد و نوش اور ادویات پر مشتمل ٹرکوں کے بڑے کاروان کی صورت میں کنٹرول لائن کے قریب چکوٹھی کے مقام پر پہنچ کر عالمی نمائندوں کے ہمراہ بھارت سے اپیل کی کہ وہ المصطفے کا امدادی سامان بھارتی ریڈ کریسنٹ کے ذریعے وصول کر کے سری نگر پہنچائے لیکن بدقسمتی سے بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور تین گھنٹے انتظار کے بعد امدادی سامان وزیراعظم آذاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور ریڈ کریسنٹ آذاد کشمیر کے سربراہ کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے یہ سامان بھارتی گولہ باری سے متاثرہ کنٹرول لائن کے نواحی علاقوں میں تقسیم کر دیا ۔۔۔ عبدالرزاق ساجد نے “ المصطفے “ کی طرف سے برما کے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے لئے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں ۔۔ عبدالرزاق ساجد سات بار برطانیہ سے امدادی سامان لے کر بنگلہ دیش پہنچے اور بنگلہ دیش میں پناہ گزیں لاکھوں روہنگیا مسلمانوں تک کھانے پینے کی اشیاء ، لباس ، خیمے اور ادویات پہنچائیں ۔۔ المصطفے نے شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے مختلف ملکوں میں پناہ لینے والے شامی مسلمانوں کی داد رسی کے لئے بھی بے پناہ کام کیا ہے ۔۔۔ عبدالرزاق ساجد خود امدادی سامان لے کر ترکی پہنچے اور وہاں پر بطور مہاجر مقیم شامی مسلمانوں کا درد بانٹا ۔۔۔ دو سال پہلے انڈونیشیا میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے متاثرہ انسانوں کی امداد اور بحالی کے لئے طویل سفر طے کر کے عبدالرزاق ساجد اپنی ٹیم کے ہمراہ انڈونیشا پہنچے اور اخوت کی عظیم مثال قائم کی ۔۔۔دوستو ! کرونا وائرس کی تباہ کن اور اذیت ناک وبا کے دوران جب پوری دنیا میں کروڑوں بندگان خدا سخت ترین مشکلات ، آزمائش اور اذیت سے دوچار تھے اور لاتعداد غریب لوگ بے روزگاری کا شکار ہو کر دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے تھے ۔ ان المناک اور دردناک حالات میں المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ نے بھوک اور افلاس سے تڑپتی ، بلکتی خلق خدا کی عزت نفس مجروح کئے بغیر گھر گھر راشن پہنچانے کی خصوصی مہم شروع کی ۔۔۔ المصطفے کی یہ مہم پاکستان ، غزہ ، بنگلہ دیش ، برما ، گیمبیا سمیت 22 ممالک میں جوش و جذبے کے ساتھ کئی ماہ جاری رہی ۔۔ المصطفے کے رضاکار بے روزگار اور غریب خاندانوں کی فہرستیں تیار کر کے انتہائی منظم اور موثر طریقے سے غربت کی آگ میں جلتے گھروں تک پہنچ کر ان کی داد رسی کے مشن میں مصروف رہے ۔۔ اب تک ہزاروں خاندانوں تک راشن پہنچایا جا چکا ہے ۔۔ المصطفے کے کارکنان اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انتہائی اخلاص کے ساتھ کرونا وائرس کے آغاز سے لے کر اب تک مسلسل فیلڈ میں عملی کردار کر رہے ہیں ۔۔ درد دل رکھنے والے قارئین کرام ! سب سے بڑی نیکی خلق خدا کی خدمت ہے ۔۔ سب سے بڑی عبادت مفلوک الحال خاک نشینوں کا درد بانٹنا ہے ۔۔۔ اپنے اللہ کو راضی کرنے کا بہترین طریقہ اللہ کی بدحال مخلوق کا ہاتھ تھامنا ہے ۔۔ یاد رکھیں اللہ تک پہنچنے کا راستہ اللہ کی دُکھی مخلوق کے دلوں سے ہو کر گزرتا ہے ۔ مخلوق سے بھلائی ہی خالق تک رسائی کا بہترین اور آسان ذریعہ ہے ۔۔۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ عبادت کی قضا ہے لیکن خدمت کی قضا نہیں ہے ۔۔ کسی دانشور کا قول ہے کہ اگر دانے کم ہونے لگیں تو دانوں کو بیج بنا لیں اور دانوں کو بیج بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ دانے تقسیم کرنا شروع کر دیں میں انتہائی دردمندی اور تڑپتے دل کے ساتھ آپ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ “ المصطفے “ کو دل کھول کر عطیات دیں تاکہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری “ المصطفے “ کے فلاحی منصوبہ جات کامیابی کے ساتھ جاری رہیں اور دُکھی انسانیت کا درد بانٹنے کا مشن رواں دواں رہے ۔۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدامہرباں ہو گا عرش بریں پر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں