218

پاکستان جلد گرین لسٹ میں آجائے گا اور فلائیٹس بحال ہو جائیں گی

’’پی آئی اے‘‘اپنے مسافروں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے ، کسٹمر ٹچ پوائنٹس کو امپروو کرنے کی ضرورت ہے ۔
قومی ائر لائن ہارڈ ورک سے سمارٹ ورک کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے
آجکل سسٹم کام کرتا ہے، ہمیں پیپر ورک چھوڑ کر ڈیجیٹل ورک کی طرف آنا ہو گا
PIAکے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد محمود ملک نے ادارے کا خسارہ ختم کرنے کیلئے بہترین اصلاحات متعارف کروائیں ۔
کنٹری منیجر ’’پی آئی اے ‘‘ فار یوکے اینڈ آئر لینڈ تیمور ملک سے ’’ ایمز انٹرنیشنل ‘‘ کا خصوصی انٹرویو

انٹرویو : وجاہت علی خان
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز ‘‘ (پی آئی اے ) 29اکتوبر 1946ء کو ’’ اورینٹ ائر ویز ‘‘ کے نام سے قائم ہوئی لیکن پاکستان بننے سے کوئی سات سال بعد 1955ء میں پی آئی اے نے 13جہازوں کے ساتھ بین الاقوامی سفر کا آغاز کر دیا تھا اس کی پہلی پرواز لندن کے براستہ قاہرہ اور روم روانہ ہوئی ۔ ’’ پی آئی اے ‘‘ ایشیا کی وہ پہلی ہوائی کمپنی تھی جس نے مارچ 1960ء میں بوئنگ 707طیارے کمرشل سروسز کیلئے استعمال کئے پھر 1964ء میں ’’ پی آئی اے ‘‘ ہی وہ پہلی ائر لائن تھی جو کسی کیمونسٹ ملک سے تعلق نہیں رکھتی تھی لیکن اس نے چین میں اپنی پرواز یں چلائیں ۔

’’ پی آئی اے ‘‘ نے ’’ ایمریٹس ائر لائنز ‘‘ کو بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ’’ ایمریٹس ‘‘ 1985ء میں قائم ہوئی اور آج دنیا کی بہترین ہوائی کمپنیز میں شمار ہوتی ہے ۔ ’’ پی آئی اے ‘‘ پاکستان کی سب سے بڑی کمپنی ہے جو 30سے زیادہ ائر کرافٹ استعمال کرتی ہے جس کی کوروناوائرس کے بحران سے پہلے 100کے قریب فلائٹس روزانہ دنیا کے مختلف ممالک کو جاتی تھیں ، ’’ پی آئی اے ‘‘ کے بیرون ملک اثاثوں میں The Roosevelt Hotel جو نیو یارک سٹی میں ہے اور Sofitel Paris Scribe Hotel شامل ہے ۔ جو پیرس میں ہے ۔ چند دہائیاں قبل ’’ پی آئی اے ‘‘ کا شمار دنیا کی بہترین ائر لائنز میں ہوتا تھا ، معیار اور سہولیات کے ساتھ ساتھ اس زمانے میں ’’ پی آئی اے ‘‘ کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ اس کی 90%سے زیادہ پرو ازیں اپنے وقت پر پرواز کیا کرتی تھیں اس سنہری دور میں ’’ پی آئی اے ‘‘ ایشیا کی پہلی ائر لائن تھی جس نے ’’ جیٹ ‘‘ ہوائی جہاز خریدا تھا اس کے بعد ’’ پی آئی اے ‘‘ نے کئی برسوں تک ایشیا بھر کی ہوائی کمپنیز میں نمبرون کا اعزاز اپنے نام رکھا تھا لیکن 90ء کی دہائی سے ہماری قومی ائر لائنز کا انحطاط شروع ہوا اور گذشتہ 20برس سے اس میں کمی نہیں ہوئی لیکن اب کووڈ 19سے پیدا ہونے والی صورتحال اور وزیر ہوا بازی کے اپنے پائلٹس کے بارے میں بیان سے یورپ و برطانیہ میں پی آئی اے کے پائلٹس پر عائد پابندی کے معاملات سے قطع نظر اگر پی آئی اے کی ویب سائٹ ، فیس بک وغیرہ وزٹ کریں تو لگتا ہے کہ ’’ پی آئی اے ‘‘ کی مینجمنٹ کسی عقلمندکے ہاتھ میں ہے ، یہ عقلمند کون ہے ؟ پی آئی اے پر عائد مذکورہ پابندیاں کب ہٹیں گی یہ سب کچھ جاننے کیلئے ’’ ایمز انٹرنیشنل ‘‘ نےکنٹری منیجر ’’پی آئی اے ‘‘ فار یوکے اینڈ آئر لینڈ تیمور ملک سے خصوصی لیکن مختصر انٹرویو کیا جس کی تفصیل نذر قارئین ہے ۔


تیمور ملک کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے MBAاور ACCA کے بعد FCCAاور بعد ازاں چارٹرڈ اکائونٹینسی کی ڈگری انگلینڈ اینڈ ویلز سے حاصل کی ہے انہوں نے کریسنٹ ماڈل لاہور سے میڑک ، ایف ایس سی کی۔ اپنے کیرئیر کے آغاز میں انہوں نے بنک ، ٹیکسٹائل اور پھر صرف 29سال کی انتہائی کم عمر میں 2007ء کو بطور ٹرینی آفیسر ’’ پی آئی اے ‘‘ کو جوائن کیا ۔ تیمور ملک نے ’’ ایمز ‘‘ کو بتایا یہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا میرٹ پر بھرتیاں ہو رہی تھیں میں نے اپنے والد صاحب سے مشورہ کیا اور ’’ پی آئی اے ‘‘ کو درخواست بجھوا دی ، میں کیونکہ ابتدائی سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک سکالر شب پر پڑھا ہوں اس لئے میں سفارش کا قائل نہیں ہوں میں سمجھتاہوں کہ اگر قابلیت ہے تو کوئی روکاوٹ آڑے نہیں آ سکتی ۔ انہوں نے کہا اگر چہ عام تاثر یہی ہے کہ پاکستان میں ملازمت ہو یا کوئی دوسرا کام یہ دبائو یا سفارش کے بغیر نہیں ہوتا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ مجھے آج تک کبھی سفارش کی ضرورت نہیں پڑی مجھے اپنے کام اور مہارت پر پورا بھروسا ہے اس لئے محکمانہ سطح پر بھی میری تقرری ، تبادے اور ترقی خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ہی ہوتی رہی ہے ۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تیمور ملک نے بتایا کہ ’’ پی آئی اے ‘‘ میں وہ عقلمند آدمی جس کی وجہ سے ادارے میں بہت سی قابل قدر تبدیلیاں آ رہی ہے اور جس نے برسوں سے جاری اُس ’’سٹیٹس کو ‘‘ کو توڑا ہے جس کی وجہ سے پی آئی اے مسلسل خسارے میں جا رہی تھی ان قبیح روایات کو توڑنے میں سب سے کلیدی کردار ’’ پی آئی اے ‘‘ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد محمود ملک کا ہے۔ ارشد ملک صاحب ’’ پی آئی اے ‘‘ میں آنے سے پہلے پاکستان ائر فورس کے وائس چیف آف ایئر سٹاف تھے وہ گریجوائٹ کومیٹ کمانڈر ائر وار کالج اور امریکہ کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے فارغ التحصیل ہیں ان کی خدمات کے صلہ میں حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز ، ہلال امتیاز اور تمغہ ء امتیاز سے بھی نوازا ہے ۔ اب گذشتہ دو اڑھائی سال سے جب سے انہوں نے ’’ پی آئی اے ‘‘ کے سی ای او کا چارج سنبھالا ہے انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر کئی ایک کلیدی اور قابل قدر تبدیلیاں کی ہیں انہوں نے اخراجات کنٹرول کرنے کی طرف زیادہ توجہ دی جس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا آئے ہیں۔ جناب ارشد ملک نے صاف کہہ دیا ہے کہ ’’ پی آئی اے ‘‘ میں یونین بازی بالکل نہیں ہو گی کیونکہ اس سے بے وجہ کا دبائو اور وقت کا ضیاع ہوتا ہے لہٰذا اب PALPAیا ائر کرافٹ کی یونینز کا کردار صفر ہو چکا ہے ، انہوں نے وہ فلائٹس ختم کر دیں جس روٹس پر فائدے کی بجائے صرف نقصان ہو رہا تھا ۔ اوور سٹاف کم کیا گیا ، جس نے ادارے میں کسی قسم کی جعل سازی کی تھی اسے فارغ کیا گیا جس نے ’’ پی آئی اے ‘‘ پر کیسز کر رکھے تھے انہیں مناسب طریقے سے فوری طور پر نمٹایا ، جعلی ڈگری والوں کا فارغ کیا ، سینکڑوں ملازموں کو گولڈن ہینڈ شیک سکیم دی گئی چنانچہ پاکستان بھر کے ’’ پی آئی اے ‘‘ دفاتر سے چار ہزار کے قریب لوگ نکالے گئے اسی طرح یہاں یوکے آفسز سے بھی لوگوں کو فارغ کیا گیا لندن کے ہیڈ آفس سے بھی دس افراد کو قانونی طریقے سے فارغ کیا گیا ہے ۔

تیمور ملک نے بتایا کہ ان دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ’’ پی آئی اے ‘‘ میں تقرریوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے، کووڈ سے پہلے یوکے آفسسز میں بھی پچاس کے قریب ملازمین تھے جن کی تعداد اب 25ہے۔ ’’ پی آئی اے ‘‘ چھٹیوں میں اپنے کرائے کیوں بڑھا دیتی ہے ، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تیمور ملک نے کہا دوسری ائر لائنز کی طرح ’’ پی آئی اے ‘‘ بھی سال کے کئی مہینے منافع نہیں کما رہی ہوتی اس لئے اپنا خسارہ پورا کرنے کیلئے ہم بھی اپنا کرایہ بچوں کی چھٹیوں میں بڑھا دیتے ہیں مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا فرض کریں اگر لندن سے پاکستان جانے کیلئے ’’ پی آئی اے ‘‘ 450پائونڈ کا ٹکٹ بیچے تو اس میں سے 180پائونڈ تو ٹیکس میں نکل جاتے ہیں پھر مسافر کا دونوں طرف کا کھانا وغیرہ نکال کر تو ’’ پی آئی اے ‘‘ کو 200پاونڈ سے بھی کم فی مسافر بچت ہوتی ہے اور اسی بچت میں سے فیول اوردیگر اخراجات پورے کیئے جاتے ہیں ۔ دوسری طرف دیکھیں تو تمام عرب ممالک اور وہ ملک بھی جہاں تیل نکلتا ہے وہ بھی ’’ پی آئی اے ‘‘ جتنا کرایہ ہی لیتے ہیں حالانکہ ہم تیل باہر سے لیتے ہیں اس کے باوجود ہمارا کرایہ ان سے زیادہ نہیں ہوتا ۔ ’’ پی آئی اے ‘‘ نے بنکوں سے بڑے بڑے قرض لے رکھے ہیں تاکہ خسارہ پورا کیا جاسکے لیکن اب امید کی جا رہی ہے کہ نئی مینجمنٹ ادارے کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو سکے گی ،کیونکہ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو ساری بات بہتر اور مہارت رکھنے والی مینجمنٹ پر ختم ہوتی ہے ۔
’’ پی آئی اے ‘‘ کے مسافروں کو سہولتوں کی بات کرتے ہوئے تیمور ملک نے واضح کیا کہ ہم پوری دنیا میں جہاں جہاں پی آئی اے جاتی ہے وہاں رہنے والے پاکستانیوں میں سے کسی کی موت ہو جائے تو اس کی باڈی بالکل مفت پاکستان بجھوائی جاتی ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جہازوں میں ہر سہولت ہونی چاہیے تمام چیزیں ورکنگ حالت میں ہونی چاہئیں کسٹمر ٹچ پوائنٹ کو بہتر کرنا چاہیئے ، ہمیں نئے جہاز خریدنے چاہئیں تاکہ ہم دنیا کی اچھی ہوائی کمپنیز کے مقابلہ پر آ سکیں ۔ تیمور ملک نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا بڑے ہی نامساعد حالات کے باوجود ’’ پی آئی اے ‘‘ نے کووڈ کے باوجود فلائٹس آپریشن بالکل بند نہیں کیا جب بھی ممکن ہوا اضافی اور خصوصی فلائٹس بھی چلائیں ۔ تیور ملک نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد پاکستان برطانیہ کی کووڈ ریڈ لسٹ سے امبر اور پھر گرین لسٹ میں آئیگا اور ’’ پاکستان انٹرنیشنل ائر لائنز ‘‘ پر لگائی گئی پابندی بھی ختم ہو گی جس کیلئے حکومت پاکستان کی طرف سے بھی مثبت کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ سول ایو ی ایشن یو کے ‘‘ آئندہ اکتوبر میں پاکستان اپنا وفد بھیجے گا تاکہ پاکستان سول ایوی ایشن کی کارکردگی پر اپنی سفارشات و رپورٹ برطانوی حکومت کو دے سکیں تاکہ ہماری فلائٹس شروع ہوسکیں۔ تیمور ملک نے کہا قوی امید ہے کہ آئندہ سال جنوری فروری میں ’’ پی آئی اے ‘‘ کی فلائٹس مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی ، انہوں نے بتایا ہم نے برطانیہ سے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے پائلٹس کا آپ ٹیسٹ لے لیں اگر وہ یہ ٹیسٹ پاس کر لیں تو پھر ان پر سے پابندی ہٹا لی جائے،ہم نے انہیں یہ بھی بتایا ہے کہ ’’ ائرٹرانسپورٹ آف کینیڈا نے ہمیں کلیئر کردیا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔
تیمور ملک نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ہیتھرو ائر پورٹ سمیت یوکے ، کے تمام ائر پورٹس پر ’’ پی آئی اے ‘‘ نے گرائونڈ سٹاف کیلئے تمام ذمہ داریاں DNATAکمپنی کو آوٹ سورس کررکھی ہیں ۔ کیونکہ مستقل سٹاف رکھنا ہمیں خاصا مہنگا پڑتا تھا ،تیمور ملک نے کہا کہ میں اپنے والد صاحب کی نصیحت کے مطابق اپنی قابلیت اور محنت پر یقین رکھتا ہوں اسی لئے میں نے جہاں بھی ملازمت کی صرف اور صرف میرٹ پر کی ۔ ’’ پی آئی اے ‘‘ میں جب میں نے درخواست دی تو وہاں کل 900درخواستیں تھیں جن میں سے صرف 17افراد انٹرویو کیلئے سلیکٹ ہوئے ان میں سے بھی 7یا 8ہی رہ گئے جنہیں ملازمت ملی ان میں سے میں بھی ایک تھا اور میرا انٹرویو لینے والوں میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز وکٹ کیپر وسیم باری تھے جو کرکٹ سے ریٹائرڈ منٹ کے بعد ’’ پی آئی اے ‘‘ میں ایچ آر کے عہدہ پر تھے ۔ تیمور ملک نے کہا نئی کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر عبور ہونا از بس ضروری اور اہم ہے جس کے بغیر آجکل کے دور میں اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے چنانچہ ’’ پی آئی اے ‘‘ کو بھی جدید ٹیکنالوجی جاننے والوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اب ہماری قومی ائر لائن نئی مینجمنٹ کی گائیڈ لائنز کے مطابق ہارڈ ورک سے سمارٹ ورک کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ تیمور ملک نے کہا 2008ء میں ’’ پی آئی اے ‘‘ کے بجٹ بنانے میں میری بڑی کانٹری بیویشن تھیں ، لہٰذا نئی ٹیکنالوجی پر عبور ہونا بھی میری ترقی کی وجہ بنا کیونکہ اس وقت ’’ پی آئی اے ‘‘ کا سارا سسٹم پرانے سٹائل پرکام کرتا تھا ۔ انہوں نے کہا میں اپنا تمام کام پیپر پر لکھنے کی بجائے کمپیوٹر پر کرتا ہوں کیونکہ آجکل سسٹم کام کرتا ہے ہمیں پیپر ورک چھوڑ کر ڈیجیٹل ورک کی طرف آنا ہو گا کیونکہ یہی وہ اقدام ہیں جنہیں اٹھا کر ہم ترقی یافتہ دنیا کی ائر لائنز میں شامل ہو سکتے ہیں اور اپنے درخشاں ماضی کی طرح اپنا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں