246

اسلامو فوبیا کا خاتمہ اور دین و دُنیا اکٹھی چلانا چاہتے ہیں

بطور سرجن ڈاکٹر 1000پائونڈ تک روزانہ کما سکتا ہوں لیکن انسانیت کی خدمت اولین ترجیح ہے ، اجر اللہ تعالیٰ آخرت میں دے گا
دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، رب کی رضا اہم ترین ہے ۔ٹرسٹی و خزانچی سنٹرل مسجد آف برینٹ ڈاکٹر راجہ امجد ریاض سے خصوصی انٹرویو

انٹرویو : وجاہت علی خان

پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک برطانیہ میں بیشمار پاکستانیوں نے اپنی محنت شاقہ اور ایمانداری سے اپنا نام اور مقام پیدا کیا ہے ، برطانیہ کی سیاست ہو یا معیشت ، پاکستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں نے انتہائی سخت ترین حالات اور موسموں کا جبر برداشت کرتے ہوئے اس ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے یہ لوگ اپنے آبائی وطن کی تہذیبی روایات ، ثقافت اور دینی فرائض سے بھی جڑے رہے ، یہی وجہ ہے کہ آج برطانیہ بھر میں 1800سے زیادہ مساجد ہیں جہاں دیگر مذہبی معاملات کیساتھ ساتھ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو دینی تعلیم سے بھی روشناس کروایا جاتا ہے ۔ اس دیار غیر میں آج سے کوئی ساٹھ یا اس سے بھی زیادہ سال پہلے آکر بسنے والے پاکستانیوں کو آج کے دور سے بے انتہا مسائل کا سامنا تھا لیکن ہمارے لوگوں نے تمام طرح کے مسائل کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور اپنے اہل خانہ خواہ وہ برطانیہ میں تھے یا پاکستان و آزاد کشمیر میں انہیں مالی طور پر آسودہ کیا تاہم برطانیہ مقیم ہونے والے بہت کم لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے روز مرہ کے خانگی و معاشی مسائل کو تو حل کیا ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے دین کی محبت میں یہاں ایسے ادارے اور مساجد بنانے کی طرف بھی توجہ دی جہاں ہماری یہاںپیدا ہونے والی نوجوان نسل کیلئے دینی تعلیم کے ساتھ ذہنی نشوونما کی طرف راغب ہونے کے اسباب مہیا ہیں ۔ ایسے ہی اداروں میں ایک ادارہ ’’ سینٹرل ماسک آف برینٹ‘‘ بھی ہے جسے آج سے تقریبا پچاس سال قبل قائم کیا گیا تھا جس کی بنیاد رکھنے کا سہرا حاجی راجہ محمد ریاض کے سر ہے جن کے بیٹے راجہ ڈاکٹر امجد ریاض ہیں جو ایک پروفیشنل ہیں اور پیشے کے لحاظ سے ایک سرجن ڈاکٹر ہیں ۔ لیکن اپنے والد کی وفات کے بعد انہوں نے اس پودے کی آبیاری میں اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے وہ اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات میں سے زیادہ سے زیادہ وقت نکال کر برینٹ مسجد کی تعمیر و ترقی میں صرف کرتے ہیں۔ وہ مسجد کے خزانچی و ٹرسٹی بھی ہیں اور مسجد کے دیگر ٹرسٹیز کے بھرپور تعاون و محنت سے تمام معاملات سے بخیرو خوبی نبرد آزما رہے ہیں ۔ہماری کمیونٹی کے یہ دُرنایاب ڈاکٹر امجد ریاض مسجد میں دینی فرائض کی ادائیگی کے علاوہ بھی اپنی کمیونٹی کی بہتری کیلئے مزید کیا کیا اصلاحات لا رہے ہیں ’’ ایمز انٹرنیشنل ‘‘ نے یہ جاننے کیلئے ڈاکٹر امجد ریاض سے ایک خصوصی نشست کی جس کی تفصیل نذر قارئین ہے ۔

برطانیہ بھر میں مساجد کی تعداد تقریباً 1800ہے ان میں بہت سی مسجدوں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے ایسی ہی مساجد میںلندن کے علاقہ برینٹ کی ’’ سینٹرل ماسک آف برینٹ ‘‘ بھی ہے جہاں مذہبی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں اور ان کی نوجوان نسل کی دیگر ضروریات کو بھی انتہائی اہمیت حاصل ہے ۔ ان دنوں اس کے روح رواں ڈاکٹر راجہ ریاض ہیں جو پیشے کے اعتبار سے برطانیہ کے ممتاز سرجن ڈاکٹر ہیں اور ’’ پی ایچ ڈی ‘‘ بھی کر چکے ہیں اور ’ ’ رائل کالج آف سرجنز ‘‘ نے انہیں پروفیسر کی ڈگری بھی دی ہے آجکل وہ BROOMFIELED HOSPITAL ESSEX میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ کووڈ 19کی شروعات سے لے کر آج تک ڈاکٹر امجد ریاض اور مسجد کی انتظامیہ نے کس طرح بلا امتیاز رنگ و نسل و قومیت انسانی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے یہ ہم ڈاکٹر راجہ امجد ریاض کی زبانی سنتے ہیں۔

سنٹرل ماسک آف برینٹ ایک لمیٹڈ کمپنی بھی ہے مسجد کے ٹرسٹیز اور میں خود بھی اس بات کا حامی ہوں کہ کو صرف اور صرف عبادت کیلئے ہی مختص نہیں کر دینا چاہیے بلکہ یہ کمیونٹی کو اکٹھا کرنے اور ان کے دکھ سکھ بانٹنے کا ایک زریعہ بھی ہونا چاہئے چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ میوزک وغیرہ کو چھوڑ کر یہاں انسانی فلاح و بہبود کا ہر کام کرنا چا ہیے کیونکہ مسجد ہارٹ آف دی کمیونٹی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر امجد ریاض نے کہا کہ ہم منصوبہ بندی کر رہے کہ یہاں بچوں کے لئے ایجوکیشن کلاسز اور دیگر تقر یبات بھی شروع کی جائیں لہٰذا میرا وژن ہے کہ 12سے 14گھنٹے مسجد مصروف رہے جیسا کہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں بھی ہوتا ہے ،ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا افسوس کی بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل اپنی زبان سے دور ہو کر اسے بھُلا بیٹھی ہے آج حالت یہ ہے کہ بہت سے ہمارے نوجوان اپنی مادری زبان کھو چکے ہیں ، میرے والد حاجی راجہ محمد ریاض نے مسجد کی تعمیر کا آغاز 1973ء میں کیا تھا پہلے ایک مکان لیا وہاں مسجد بنائی پھر موجودہ جگہ جہاں آج یہ عظیم الشان مسجد موجود ہے یہ جگہ برنیٹ کونسل سے خریدی۔ شایدیہ 1987ء تھا اس جگہ کونسل کا کارپارک ہوا کرتا تھا میرے والد نے اپنے ساتھیوں حاجی بدر الدین ، راجہ یعقوب خان اورراجہ عجائب خان کیسا تھ مل کر بڑی محنت کی پھر کچھ ہماری اپنی فیملی بھی بہت بڑی ہے ہماری مقامی پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے بھی پیسے دیئے چنانچہ آج جو مسجد آپ دیکھ رہے ہیں اسے بننے میں تقریباً 20سال کا عرصہ لگا اگرچہ 2007ء میں مسجد کی بنیاد تعمیر ہوچکی تھی لیکن حالیہ صورت بننے میں خاصا عرصہ لگا ۔


ڈاکٹر امجد ریاض نے کہا ہم دین اور دُنیا اکھٹی چلانا چاہتے ہیں کیونکہ خدمت انسانی میں ہی اصل خوشی و اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا جون 2017ء کو جب میرے والدکا انتقال ہوا تو اس سے پہلے وہ اکثر ہم بھائیوں سے کہا کرتے تھے کہ خدمت خلق کے میرے اس کام کو جاری رکھنا چنانچہ میں ان کے حُکم کے مطابق بھی اورکچھ خود بھی میرا رجحان ان کاموں کی طرف زیادہ تھا اس لئے میں جب تک زندگی و صحت رہی یہ کام جاری رکھوں گا ۔ بس ہمیں مقامی سوسائیٹی میں Integrateکرنا ہو گا ۔ ڈاکٹر امجد ریاض نے بتایا کہ برطانیہ میں جب کووڈ کی وبا بہت زیادہ بڑھی تو میرے زمین میں خیال آیا کہ ہمیں بھی کسی طرح حکومت کی مدد کرنی چاہیے جس سے انسانیت کا بھی بھلا ہو ۔چنانچہ میں نے یہ تجویز اپنے ساتھیوں اور ٹرسٹیز کے سامنے رکھی کہ ہمیں مسجد میں لوگوں کو ویکسین لگانے کا انتظام کرنا چاہیے۔ پھر ہم نے اپنی یہ تجویز برینٹ کونسل کے سامنے بھی رکھی اس سلسلہ میں برینٹ کے سابق میئر اور موجودہ کونسلر احمد شہزاد نے بھی ہماری خاصی حوصلہ افزائی کی اور ہم نے 21دسمبر 2020ء سے ابھی تک ویکسین کی دس ہزار ڈوزز لگا چکے ہیں ہم یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔انسانی حوالوں سے کی گئی ہماری اس کوشش میں صرف پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے ہی نہیں بلکہ دیگر کمیونٹیز نے بھی بلا امتیاز کام کیا ہے ۔ڈاکٹر امجد کے مطابق ان کی پالیسی ہے کہ مسجد چونکہ اللہ کا گھر ہے لہٰذااللہ کے سب بندوں کیلئے ہر وقت کھلا ہے اور ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے !!
’’ایمز انٹرنیشنل ‘‘ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر امجد نے کہا کہ انتہائی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اپنی زبان سے دور ہو رہی ہے ہماری آنے والی نسل اپنی مادری زبان بھولتی جا رہی ہے بہت سے ہمارے بچے قومی زبان اردو بول اور پڑھ سمجھ نہیں سکتے انہوں نے کہا میرے والد مرحوم ہمیشہ سمجھایا کرتے تھے کہ اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت سے جُڑا رہنا بہت ضروری اور اہم ہے ۔ ڈاکٹر امجد ریاض آسٹریلیا ، سویڈن ، آسٹریا اور دیگر کئی ممالک میں بطور ماہر ڈاکٹر خدمات انجام دے چکے ہیں ان کا کہنا ہے علم و تعلیم کا کوئی مذہب علاقہ یا رنگ و نسل نہیں ہوتا ، تعلیم ہر بشر کیلئے انتہائی اہم و ضروری ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہم اسلامو فوبیا جو ایک غلط تاثر ہے اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ہم دینی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سپورٹس کی سہولتیں فراہم کریں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت بھی ازضروری ہے۔ انہو ںنے کہا اس ضمن میں ہم سب کچھ اپنے وسائل کو بروئے کار لاکر کریں گے جس طرح کورونا ویکسین لگانے کیلئے ہم نے کونسل یا کمیونٹی سے کوئی رقم نہیں لی اسی طرح اس قسم کی ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کیلئے بھی ہم اللہ کی رضا کیلئے اپنے وسائل سے یہ سرگرمیاں شروع کریں گے ۔

ڈاکٹر امجد ریاض نے کہا آئندہ چند سال میں ہم مسجد سے ملحقہ کار پارک کی جگہ ملٹی سٹوری کار پارک اور فلیٹس کی تعمیر کا منصوبہ رکھتے ہیں جس پر 10سے 15ملین پائونڈ کے اخراجات ہوں گے مجھے امید ہے کہ ہم یہ خطیر رقم اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوں گے کچھ بنک سے قرض بھی لیں گے ۔ یہ منصوبہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس طرح مسجد اپنے اخراجات خود اٹھانے کے قابل ہو سکے گی۔ اس مقصد کیلئے ہمارے 10ٹرسٹیز کی کمیٹی تند ہی سے کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا ہم فلسطینی مسلمانوں ، کشمیری مسلمانوں اور افغانستان کے ضرورت مند افراد کیلئے بھی مدد فراہم کرتے ہیں ہر قسم کے انسانی بحران میںان کی مدد کو پہنچتے ہیں ۔

سابق میئر کونسلر احمد شہزاد
’’ اوبی ای ‘‘ کا پیغام


شمالی لندن کے علاقہ ’’ برینٹ ‘‘ کے سابق میئر اور حالیہ کونسلر احمد شہزاد ’’اوبی ای‘‘ نے سنٹرل مسجد آف برینٹ کی طرف سے مقامی کمیونٹی کیلئے کی جانے والی بے پایاں خدمات کو سراہتے ہوئے مسجد کے دس ٹرسٹیز اور اس کے خزانچی و ٹرسٹی ڈاکٹر راجہ امجد ریاض کی شبانہ روز محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور ایک سیاستدان اور کمیونٹی کا حصہ ہونے کی حیثیت سے میں دل سے اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ ڈاکٹر امجد ریاض اپنے والد جو میرے دیرینہ دوست بھی تھے کے نقش قد م پر چلتے ہوئے اپنی محنتی اور انتھک ٹرسٹیز کی ٹیم کے ساتھ مقامی کمیونٹی کی بلا امتیاز کسی رنگ و نسل اور قومیت خدمت کر رہے ہیں ۔ حال ہی میں کورونا وائرس کے مشکل دور میں جس طرح برینٹ مسجد کے ذمہ داروں نے کمیونٹی کی خدمت کی لوگوں کا حوصلہ بڑھایا اور حکومت کا ہاتھ بٹایا کونسلر ہوتے ہوئے مجھے علم ہے کہ برینٹ کونسل کے انتہائی سرکردہ افراد اور ڈسکریشن پاور رکھنے والے دیگر ادارے ڈاکٹر امجد داور دیگر ٹرسٹیز جو فقط اللہ کی خوشنودی کیلئے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ان سے انتہائی مطمئن اور خوش ہیں ۔ ’’ ایمز انٹرنیشنل ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کونسلر احمد شہزاد ’’اوبی ای‘‘ نے کہا ماضی کی طرح مستقبل میں بھی میرا مکمل تعاون برینٹ مسجد کے منتظمین کے ساتھ رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں