195

AIHL کار ایکسیڈنٹ کلیم کیلئے برطانیہ میں ایک قابلِ اعتماد ادارہ

ایکسیڈنٹ ہونے کی صورت میں ہم اپنے کلائنٹ کیلئے فوری طور پر متبادل گاڑی کا بندوبست اور دیگر سروسز مہیا کرتے ہیں
ادارے کا ہیڈ آفس لندن کے قریبی علاقہ ہائی ویکمب میں ہے لیکن ہم انگلینڈ بھر میں سروسز فراہم کرتے ہیں
لوگ جعلی انشورنش کمپنیز یا ’’ گھوسٹ انشورنس بروکرز‘‘ کے فراڈ سے بھی ہوشیار رہیں جو بظاہر تو انتہائی سستی دکھائی دیتی ہیں
حالیہ سال جون کو ہونے والی حکومتی قوانین میں تبدیلی کے بعد کلائنٹ کو معاوضے میں کم از کم 50%کٹوتی کا سامنا کرنا پڑے گا

’’ ایکسیڈنٹ انجری ہیلپ لائن‘‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر ایم نعیم طاہر سے ’’ ایمز انٹرنیشنل ‘‘ کا خصوصی انٹرویو


انٹرویو : وجاہت علی خان
تصاویر: فیض سلطان
برطانیہ میں ہم قسم کی گاڑیاں انشورڈ ہوتی ہیں چنانچہ کسی قسم کے ایکسیڈنٹ کی صورت میں گاڑی کے ہونے والے نقصان کے ساتھ ساتھ مسافروں کی انجری کی صورت میں بھی وہ انشورنس کمپنیز ذمہ دار ہوتی ہیں جن کے ساتھ متعلقہ گاڑیاں انشورڈ ہوتی ہیں ، چنانچہ ایکسیڈنٹ ہونے کے بعد دونوں ملوث گاڑیوں کے ڈرائیور اپنی اپنی ڈیٹیل کا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کرتے ہیں اور پھر انشورنس کمپنیز کو تفصیل سے آگاہ کر دیتے ہیں ۔اس کے بعد ’’ اے آئی ایچ ایل‘‘ یا ایسی ہی دیگر کمپنیز کا کام شروع ہوتا ہے۔ نعیم طاہر انہی کمپنیز میں سے سرفہرست کمپنی ’’ ایکسیڈنٹ کلیم ہیلپ لائن ‘‘ کے اونر اور منیجنگ ڈائر یکٹر ہیں۔ ’’ ایمز انٹرنیشنل ‘‘ نے اپنے قارئین اور عوام کے سہولت کیلئے جناب نعیم طاہر سے ایک خصوصی انٹرویو کیا ۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ حتی الامکان ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کلائنٹ کو ہرممکن سہولت بہم پہنچائیں او ر اس کے زیادہ سے زیادہ معاوضے کیلئے اپنی ٹیم کے ساتھ مکمل مہارت کیساتھ انشورنش کمپنیز کے ساتھ مذاکرات کریں ۔ نعیم طاہر نے بتایا کہ رواں سال جون کے بعد انشورنس کمپنیز کے شدید دبائو پر حکومت نے اس ضمن میں ایک نیا قانون متعارف کروایا ہے ۔ جس کے بعد کلائنٹ کے معاوضے میں% 50سے 75% کٹوتی ہو گی جو یقینا انصاف پر مبنی نہیں ہے حالانکہ قبل ازیں کم ازکم معاوضہ 1500پائونڈ یا اس سے زیادہ بھی ہوتا تھا جو اب کم رہ کر صرف 260پائونڈ تک قانونی طور پر کردیا گیا ہے۔ لیکن ہماری کمپنی کی پھر بھی پالیسی ہے کہ اپنے کلائنٹس کو قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ معاوضہ دلواسکیں کیونکہ AIHLپر لوگوں کا اعتماد برس ہا برس سے بن چکا ہے چانچہ ہم ان کے اس اعتماد کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

نعیم طاہر نے بتایا کہ عمومی طورپر ایکسیڈنٹ ہونے کی صورت میں کئی ایک کمپنیز اپنے کلائنٹس کو کلیم کی رقم یا بروقت سہولیات دینے میں پس و پیش سے کام لیتی ہیں لیکن ہماری کمپنی ’’ ایکسیڈنٹ انجری ہیلپ لائن ‘‘ کلائنٹ کیلئے فوری طور پر متبادل گاڑی کا بندوبست اور دیگر سروسز مہیا کرتے ہیں ہمارا ہیڈ آفس لندن کے قریبی علاقہ ہائی و یکمب میں ہے لیکن ہم انگلینڈ بھر میں اپنی سروسز گذشتہ دس سال سے مہیا کر رہے ہیں، انہوں نے کہا میرا لوگوں کو مشورہ ہے کہ وہ مارکیٹ میں موجود جعلی کلیم کمپنیز اورجعلی انشورنس کمپنیز کے فراڈ سے بھی ہوشیار رہیں کیونکہ یہ کمپنیز بظاہر تو اصلی یا سستی دیکھائی دیتی ہیں لیکن اس قسم کے ’’ گھوسٹ انشورنس بروکر ‘‘ لوگوں کو لوٹنے کیلئے ہر وقت مارکیٹ میں موجود ہوتے ہیں۔ نعیم طاہر کا کہنا ہے کہ مختلف انشورنس کمپنیز کے ہمارے ساتھ معاہدے ہیں لہٰذا بہت سے کلانٹس تو براہ براست ہمارے پاس بجھوا دیتی ہیں اور پھر ہم ان کے کلیم کی تمام ضروریات کی ذمہ داری لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہ ہم ’’ فنانشل کنڈکٹ اٹھارٹی ‘‘ کے رولز اینڈ ریگولیشنز کے تحت کام کرتے ہیں اور ہم ان کے بنائے ہوئے قوانین سے باہر نہیں جا سکتے مذکورہ اتھارٹی برطانیہ کے تقریبا ً 52ہزار بزنسز کو چیک کرتا ہے ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کنفریومر رائٹس بزنسز کو مستحکم رکھنے اور بزنسز کے درمیان صحت مند مقابلہ رکھنے کی زمہ داری ہے اسی اتھارٹی کے تحت حکومت کو سالانہ 65بلین پائونڈ ٹیکس کی صورت میں ملتا ہے۔
ایمز کو انٹرویو دیتے ہوئے نعیم طاہر نے کہا کہ ہمارے کلائنٹس میں ایشیائی لوگوں کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں سفید فام افراد بھی شامل ہیں جو ہمارے با اعتماد کمپنی ہونے کی واضح دلیل ہے انہوں نے کہا اگرچہ گذشتہ دس پندرہ سال کی نسبت آج کل ایکسیڈنٹ کلیم کے بزنس میں واضح کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود جس کا ایکسیڈنٹ ہوتا ہے وہ ڈائریکٹ انشورنس کمپنیز کے پاس جانے کی بجائے پاس آنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ اس طرح ان کے اس ضمن میں تمام قسم کی مشکلات ہمارے ذمہ ہوتی ہیں ، انہوں نے کہا بسا اوقات انشورنس کمپنیز جائز کلیم کو بھی ریجیکیٹ کر دیتی ہیں چنانچہ ایسی صورت میں ہم اپنے وکلاء کی مدد سے ان کیسز کو عدالت میں لے جاتے ہیں کیونکہ ہم ہمیشہ ایسے ہی کیس لیتے ہیں جو حقیقی ہوتے ہیں ۔ ہمارے پاس جیسے ہی کوئی کسٹمر آتا ہے ہم اس کے کلیم کی پوری جانچ کرتے ہیں کہ آیا یہ درست ہے اسی لئے ہم مطمئن بھی ہیں کہ آج تک کسی ریگولیٹر اتھارٹی کی طرف سے ہمیں تفتیش یا شکایت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں