132

کوہِ صبر و استقامت ،سیدہ زینب سلام اللہ علیھا


روزِ عاشورکو امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعدآپکی اہل بیت کو دوسرےباز ماندگان کے ساتھ اسیر کر لیا گیا۔ اسیرانِ کربلا کے اس قافلے کو کوفہ میں دربارِ ابن زیاداور کوفہ و شام کےبازاروں سےلےکر یزید کےدربار تک لیجایا گیا۔جب شام کےسرکردگان،جنہیں یزیدنےجنگ میں اپنی کامیابی پر جشن منانےکیلئےدعوت دی تھی،یزید کےمحل میں پہنچےتو اس نےاسیرانِ کربلا کو شہدائےکربلا کےکٹےہوئےسروں کےساتھ اپنی محفل میں لانےکاحکم دیا۔جب یزید کےدربارمیںسیدہ زینب کبریٰ سلام اللہ علیھاکی نظراپنےبھائی امام حسین علیہ السلام کےکٹےہوئےسرپر پڑی تو آپ سلام اللہ علیھانےایک نہایت افسردہ آواز میں فریادبلندکی:’’اےحسین،اےمحبوب رسول خداؐ،اے فرزند مکہ و منیٰ، اے فرزند فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا، اے فرزند بنت مصطفیؐ۔‘‘
اس واقعے کے راوی نقل کرتے ہیں: خدا کی قسم حضرت زینب اسلام اللہ علیھا کی اس فریاد کے ساتھ یزید کے دربار میں موجود تمام لوگوں نے رونا شروع کر دیا اس موقع پر یزید بھی خاموش بیٹھا تھا!! پھر اس ناہنجار نےایک چھڑی لانے کا حکم دیا پھر اس کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کے مبارک ہونٹوں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔ ابو برزہ اسلمی،’’جو پیغمبر اکرم ؐکے صحابہ میں سے تھا، وہ بھی یزید کے دربار میں حاضر تھا، اس نے یزید سے مخاطب ہو کر کہا:اے یزید! آیا اس چھڑی کے ساتھ فاطمہ اسلام اللہ علیھا کے نور نظر، حسین علیہ السلام کے ہونٹوں سے کھیلتے ہو؟! میں نے اپنی آنکھوں سے پیغمبر اکرمؐ کو دیکھا جو حسین علیہ السلام اور اس کے بھائی حسن علیہ السلام کے ہونٹوں کا بوسہ لیتے ہوئے فرما رہے تھے: ’’آپ دونوں جنت کے حوانوں کے سردار ہیں خدا تمہیں شہید کرنے والے کو ہلاک کرے اور اس پر لعنت بھیجے اور اس کا ٹھکانہ جہنم قرار دے جو بہت بری جگہ ہے۔اس موقع پر یزید کو بہت غصہ آیا اور اس نے اس شخص کو اپنی محفل سے نکال باہر کرنے کا حکم دیا پھر اس نے کچھ شعر گنگنانا شروع کیا ۔
لَیتَ أَشْیاخی بِبَدْر شَہدُوا جَزِعَ الْخَزْرَجُ مِنْ وَقْعِ الاَْسَلْ
فَأَہلُّوا وَ اسْتَہلُّوا فَرَحاً ثُمَّ قالُوا یایزیدُ لاتَشَلْ
ترجمہ : کاش بدر میں میرے بھائیوں نے عصر کے زوال کے وقت الخزرج کے خوف کا مشاہدہ کیا ہوتا تو وہ خوشی سے بھر جاتے اور پھر یزید ،یزید کہتے۔
یزید کے اس شعر کے بعد حضرت زینب(س) نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔
’’ ………….اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے
سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے ۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم ؐپر اور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت علیھم السلام پر۔ اما بعد ! بالآخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامنِ حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا ۔
اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارےتنگ کر دئیے ہیں اور آلِ رسول ؐکو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفرازاور ہم رسوا ہوئے ہیں؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے ، مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اِترا رہا ہے ۔ اور زمامداری(خلافت) کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے ۔ اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور هہوش کی سانس لے ۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے ۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین کیا جا چکا ہے ۔
اے طلقاءکے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں بٹھا رکھاہے جبکہ رسولؐزادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے ۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا ۔ تیرے حکم پر اشقیاءنے رسولؐ زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا ۔ تیرے حکم پر دشمنانِ خدا، اہل بیت رسولؐ کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے ۔ اورلوگ رسول ؐ زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں ۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بیبیوںکے ننگے سروں پر جمی ہیں ۔آج رسولؐ زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ۔ آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں ۔ آج آلِ محمدؐکا مددگار کوئی نہیں ہے ۔لیکن اس شخص سے بھلائی کی کیا توقع ہو سکتی ہے جس کی ماں (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر کو چبایا ه ۔ اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس نے شہیدوں کا خون پی رکھا ہو۔ وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت علیھم السلام پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے ۔
اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں ۔ اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی علیہ السلام کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے ۔ اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے فرزند رسول خدا اور عبدالمطلب کے خاندانی ستاروں کا خون بہا کر ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناونے جرم کا مرتکب ہوا ہے ۔تو نے اولاد رسول ؐکے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں ۔ تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں ۔ آج تو آلِ رسول ؐکو قتل کر کے اپنے بد نہاد اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے ۔ تو سمجھتا ہے کہ وہ تیری آواز سن رہےہیں؟ ! جلدی نہ کر، عنقریب تو بھی اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے باز رہتا ۔
اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے آسمان کی طرف منہ کر کے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا ! اے ہمارے پروردگار، تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے ۔ اے پردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے ۔ اور اے خدا تو ہی اس پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا ۔ اے یزید !خدا کی قسم تو نے جو ظلم کیا ہے یہ اپنے ساتھ ظلم کیا ہے ۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے ۔ تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے ۔ تو رسولِ خدا ؐکے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناونے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول ؐکا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول ؐ زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا ۔ نیز رسول اللہؐ کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا ۔ اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول ؐکا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا ۔ خدا کا فرمان ہے کہ ’’تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر چکے ہیں بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں‘‘ ۔ اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد ؐپر ڈھائے ہیں اس پر رسول خداؐ، عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے ۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول ؐکی گواہی دیں گے ۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعے تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے ۔ عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا ۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں ۔
اس کے بعد فرمایا :’’ اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں ۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں تو ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے ۔ میری اس جرات ِسخن پر تو مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بدسلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنوا اور بدنام لوگوں نے رحما ن عزوجل کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کرڈالا ہے اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑیئے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں ۔ اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کو برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا ۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے ۔ اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحیِ الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے ۔تو یہ خیالِ خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا ۔تو نے جس گھناونے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا ۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے ۔تری حکومت کے گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے ۔ تیرے پاس اس دن کی حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے ۔ ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفیؐ کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور امام حسین علیہ السلام کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا ۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنائتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے ۔ خدا کی عنائتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے‘‘
تاریخ شاہد ہے کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیھاکے اس بیباک خطاب کےبعد یزید کے دربار میں ہی چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور اور اہل بیت اطہار کی مدینہ طیبہ روانگی کے بعد من وعن وہی ہوا جو سیدہ زینب سلام اللہ علیھانے اپنے خطاب میں فرمایا تھا گویا یہ خطاب اللہ عزوجل نے سیدہ زینب سلام اللہ علیھاکی زبان اقدس سے جاری فرمایا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں