84

کرونا سے ارتکاز ِدولت کی ناہمواریاں

پوری دنیا میں سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھی ہیں اور بعض ممالک میں یہ اضافہ دوگنا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے ۔ایک تو کرونا کی وجہ سے عام آدمی کے ذرائع آمدن کم ہوئے دوسرے مہنگائی کی وجہ سے اس کی جیب پر اضافی بوجھ پڑا ۔کہتے ہیں کہ ہر آفت اپنے ساتھ مواقع لاتی ہے مگر یہ مواقع ہمیشہ امیر کے لئے ہوتے ہیں جبکہ غریب افراد کے مصائب میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ کرونا کا حالیہ بحران جو اب تیسرے سال میں داخل ہو گیا ہے ا س نے پوری دنیا کو ایک ایسے معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے جہاں غریب افراد مزید غریب ہو گئے اور امیر افراد کی امارت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے ۔ برظانیہ کے ممتاز ادارے آکسفام نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی ٰ کیا ہے کہ کورونا وبا کے ابتدائی دو سال کے دوران دنیا کے دس امیر ترین افراد کی دولت میں دو گنا اضافہ ہوا جبکہ ساتھ ہی دنیا بھر میں غربت اور عدم مساوات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ا عداد و شمار کے مطابق امیر ترین افراد کی دولت 700 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 1.5 ٹریلین ڈالر ہوگئی ہے اور اس میں اوسطاً روزانہ 1.3 ارب ڈالرز کا اضافہ ر یکارڈ کیا گیاہے ۔ دنیا کے دس امیر ترین افراد میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کمپنی کے مالک ایلون مسک، فیس بُک کے مارک زکربرگ اور امیزون کے مالک جیف بیزوس ہیں۔ آکسفام کا کہنا ہے کہ ارب پتی افراد کی دولت میں گزشتہ 14 سال کے مقابلے میں وبا کے دنوں میں زیادہ اضافہ ہواجب عالمی معیشت بدترین کساد بازاری کی وجہ سے متاثر تھی۔ تنظیم نے اس عدم مساوات کو معاشی تشدد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ عدم مساوات کی وجہ سے روزانہ ہیلتھ کیئر، صنفی تشدد، بھوک و افلاس اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں روزانہ 21 ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ ایسے قدرتی بحران جن کا شکار پوری دنیا بنتی ہے انہیں دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ دار اپنی ذاتی تجوریاں بھرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ شاید دنیا کا معاشی نظام ہی ایسا ہے اور پیسہ پیسے کو کھنچتا ہے ۔ایسے میں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ کوئی ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت دولت کا ارتکاز اس طرح نہ ہو کہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو جائے بلکہ ریاستیں ایسے ضابطے بنا دیں کہ جن جن کمپنیوں کا منافع کسی خاص قدرتی آفت میں بڑھے گا اس میں سے ایک بڑا حصہ غریب لوگوں کی فلاح پر خرچ کیا جائے گا ۔ کیونکہ بحرانوںمیں جب کچھ کمپنیوں کا منافع بڑھتا ہے تو وہ مستقل طور پر بحرانوں کی افادیت میں حصے دار بن جاتی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات یہ مصنوعی بحران بھی پیدا کر دیتی ہیں ۔ جیسے کہ غریب ممالک میں اور بالخصوص وہ ممالک جہاں ریگولیشنز سخت نہیں ہیں وہاں کبھی مارکیٹ سے ادویات غائب کر دی جاتی ہیں اور کبھی اشیائے خوردو نوش تاکہ ان اشیاء کے منہ مانگے دام وصول کئے جا سکیں ۔ یہ ایک بہت ہی ناگفتہ بہ صورتحال بن جاتی ہے ۔جس میں غریب پستہ رہتا ہے ۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ جہاں بھی انسانی بحران جنم لیتا ہے وہاں وہی خیراتی ادارے مدد کو پہنچتے ہیں جن کو ایک ایک پینی ملک کے عام آدمی خیرات کے طور پر دیتے ہیں جبکہ امیر ادارے اور اشخاص مدد کو نہیں آتے ۔اس لئے اب ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے ضابطے بنائیں جن کے تحت قدرتی آفات کے نتیجے میں مخصوص ادارے یا کمپنیاں دن دوگنا اور رات چوگنا منافع نہ کما سکیں ۔کیونکہ اس کا براہ راست اثر غریب پر پڑتا ہے جس کی زندگی پہلے ہی کئی مصائب کا شکار ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں