70

پاکستان اور بھارت سائبر سیکورٹی مضبوط کریں

۲۰۱۹ –کونڈکلم میں واقع بھارت کے سب سے بڑے جوہری ری ایکٹرز میں سے ایک کو میل ویئر حملے کا میں سامنا ہوا جو نا صرف پلانٹ کی فائروال کو عبور کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ مبینہ طور پر ڈیٹا اور انفارمیشن بھی چوری ہوئی۔ گو کہ یہ نقب پلانٹ کے ایڈمنسٹریٹو نیٹ ورک میں لگائی گئی تھی اور یہ اتنی مہلک نہیں تھی جتنا کہ دیگر میل ویئر حملے ہوتے ہیں، مثلاً اسٹکس نیٹ جو انتہائی حساس کمپیوٹر وائرس ہے اور ایران کے نتناز میں واقع جوہری سینٹری فیوجز پر حملے کے سبب معروف ہے، تاہم اس حملے نے دنیا بھر میں جوہری تنصیبات کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں سنجیدہ نوعیت کے خدشات پیدا کیے۔ حملے کا الزام گوکہ شمالی کوریا کے ایک گروہ پر عائد ہوا تاہم اس بارے میں افواہیں اور غیر یقینی صورتحال سائبرحملہ آوروں کی نشاندہی سے جڑے چیلنجز نیز خطے میں پہلے سے موجود تناؤ
کی کییفیت کو مزید ابتر بنانے میں سائبر حملوں کے ممکنہ کردار کو نمایاں کرتی ہے
سائبر سیکیورٹی کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ حکومت کے قومی سلامتی مفادات اور نجی شعبے کے کاروباری مفادات ڈیٹا، معلومات اور مالی وسائل کی چوری کے خوف کی شکل میں یہاں یکجا ہوجاتے ہیں۔ حساس تنصیبات اور ان سے متعلقہ سسٹمز کے لیے موثر سائبر سیکیورٹی کاروباری و قومی سلامتی مفادات کو ایک دوسرے کے ساتھ نہایت باریکی سے یکجا کردے گی۔ سائبر مداخلت اپنے اندر بوکھلاہٹ کی فضا پیدا کرنے اور حساس معلومات کی چوری اور نتیجتاً ان کی فروخت یا ان کے پھیل جانے کا خدشہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستوں کو اپنی تنصیبات کی مادی حفاظت اور سائبر حملوں کیخلاف تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ بھارت اور پاکستان جوہری توانائی کے منصوبوں پر آگے بڑھتے ہوئے معاہدوں پر دستخط اور اپنے شراکت داروں کے ہمراہ تعاون کو آگے بڑھا رہے ہیں، ایسے میں ان مقامات کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کیلئے دونوں ریاستوں کو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی۔
سائبر خطرات ممکنہ اشتعال انگیزی کے نئے خدشات کے ساتھ ساتھ اندازے کی غلطیوں اور غلط تاثر اخذ کرنے کیلئے بھی دروازے کھول دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر میدان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسا کسی قسم کا تعاون جو اعتماد سازی کے اقدام (سی بی ایم) کے طور پر کام کر سکے، مستقبل میں سائبر حملے کی صورت میں خطرات میں کمی یا ذمہ داروں کے تعین میں مددگار ہوسکتا ہے۔ جوہری تنصیبات پر ہونے والے متعدد سائبر حملے اور ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی کے واقعات اس حد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جہاں جوہری تنصیبات پر حادثاتی یا دانستہ سائبر رسائی، جوہری تحفظ کے شعبے میں ایک نئی جہت کی شکل اختیارکرچکی ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایسوسی ایشن (آئی اے ای اے) جیسے ادارے جوہری تنصیبات پر سائبر سیکیورٹی میں اضافے کیلئے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کر چکے ہیں تاہم پاکستان اور بھارت کو بھی اپنے اپنے داخلی سلامتی لائحہ عمل کے تحت جوہری توانائی کے منصوبوں کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
گزشتہ پچاس برسوں میں بارہا ایک دوسرے کے سامنے آنے کے سب پاکستان اور بھارت کے پاس ایک دوسرے سے روابط کے لیے محدود جواز ہیں تاہم چونکہ سائبر شعبہ تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے، ایسے میں ایک دوسرے پر یقین یا اعتماد سازی کے لیے کسی قسم کے اقدامات مستقبل کے خطرات میں کمی میں مدد دے سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی غیرملکی تکنیکی معاونت اور شراکت داری کے ذریعے زیادہ مضبوط جوہری توانائی کے منصوبوں کیلئے بنیاد رکھ چکے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں کچھ مشترکہ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں۔ نمایاں بہتری کے باوجود دونوں ریاست اب بھی اندرونی خطرات اور سائبرسیکیورٹی کو لاحق خدشات سے دوچار ہیں۔ غیر ریاستی عناصر کی غیرقانونی سرگرمیاں، اندرونی سطح پر خطرات سے بچاؤ کا کمزور نظام اور سائبر سیکیورٹی کو لاحق خطرات کا فہم ان چند شعبہ جات میں شامل ہیں جہاں پاکستان اور بھارت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ کونڈکلم واقعے سے ظاہر ہوا کہ ان کمزوریوں کا بھارت پاکستان کی روایتی دشمنی کے اثرات سے کہیں زیادہ بڑھ کے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو چاہیئے کہ وہ آئی اے ای اے کے تربیتی منصوبوں کی معاونت سے ایک مشترکہ تربیتی طریقہ کار وضع کریں تاکہ اپنے سیکیورٹی لائحہ عمل میں سائبر سیکیورٹی میں سقم کے فوری نقصانات کو سمجھا جا سکے۔ ذمہ داروں کا تعین سائبر حملوں سے وابستہ ایک بنیادی چیلنج ہوتا ہے اور اعتماد کی کمی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت دونوں کی جانب سے سائبر حملے کی صورت میں دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کا زیادہ امکان ہے، ایسے میں یہ تربیتی منصوبے ناقابل نشاندہی یا کسی تیسرے گروہ کی ایسی سرگرمیاں جو کامیابی کی صورت میں دونوں
ریاستوں کے مفادات کے خلاف ہوں، ان کے بارے میں باہمی افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔
پاکستان اور بھارت روایتی سلامتی چیلنجز میں کمی کے لیے سی بی ایمز پر عمل پیرا ہونے کی تاریخ رکھتے ہیں۔ تاہم ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے ذریعے معلومات کے تبادلے کا باہمی اہتمام جو دونوں جانب معلومات کے تبادلے کا بنیادی اور مستقل ذریعہ ہے، اس کے علاوہ سی بی ایمز کا یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ پاکستان اور بھارت کا ٹریک ٹو یا تیسرے فریق کی معاونت سے سفارت کاری پر انحصار روایتی دوطرفہ تعلقات کی نسبت زیادہ بامعنی ثابت ہوا ہے۔ تاہم روایتی سیکیورٹی کے شعبوں کےبرعکس سائبر سیکیورٹی ، خاص کر غیرعسکری تنصیبات میں پائی جانے والی کمزوریاں ایک ایسے حملے کا خطرہ ہیں جہاں ذمہ داران کا تعین کرنا ممکن نہیں۔ سائبر سیکیورٹی خطرات کے خلاف روایتی دوطرفہ تعلقات شائد اتنے موثر ثابت نہ ہوں کیونکہ ایسی دراندازیاں، حملے اور چوریاں تاوقتیکہ بھرپور تحقیقات کسی نتیجے تک پہنچ جائیں، اس کے ذمہ دارانہ نامعلوم ہی رہتے ہیں۔
یہ امر کہ دونوں ریاستوں کی جانب سے ان کمزوریوں سے ناکافی طرز پر نمٹا جاتا ہے، بذات خود بھارت اور پاکستان کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ مسائل سے دوطرفہ طور پر نمٹنے کیلئے طریقہ کار کا جائزہ لیں۔ ماضی کے زیادہ تر روابط میں تزویراتی مسائل سے نمٹنے کی ہی کوشش کی گئی اور جنہیں دونوں فریقوں کے قومی خدشات کی وجہ سے سختی اور لچک سے عاری صورتحال درپیش رہی۔ تاہم سائبر سیکیورٹی اور نامعلوم کرداروں کے ہاتھوں ہونے والے واقعات، غیر روایتی سلامتی طریقہ کاروں کے لیے ایک کاروباری اور صنعتی نقطہ نگاہ فراہم کرتے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی ، خطرات میں کمی اور انہیں دور کرنے کے ساتھ ساتھ سویلین تنصیبات کی ورچوئل سلامتی پر توجہ دیتی ہے جسے ایک دوسرے کے قومی سلامتی طریقہ کاروں پر اثرانداز ہوئے بغیر اور فقط مشترکہ خطرات یا کمزوریوں پر توجہ مبذول کرتے ہوئے مشترکہ طور پر برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک دوطرفہ تعاون کا حامل لائحہ عمل نا صرف کاروباری وصنعتی سلامتی کا ذمہ اٹھاتا ہے بلکہ یہ سلامتی کو غیر روایتی، نامعلوم ذمہ داران کے ہاتھوں پہنچ سکنے والی ٹھیس کو روکنے کیلئے بھی کارآمد ہوتا ہے۔
پاکستان اور بھارت ایسی جوہری تباہی کا بوجھ نہیں برداشت کرسکتے ہیں جو انسانی سلامتی، معاشی بوجھ اور جو اشتعال انگیزی کا ذریعہ بن جائے۔ دونوں ہی ممالک حساس معلومات پر تاوان کی خاطر حملوں، ہیکنگ، تلاشی اور جاسوسی کا شکار نیزحساس تنصیبات کے کاروباری و بنیادی نوعیت کے ڈیٹا کی چوری کے خطرات کی لپیٹ میں ہیں ایسے میں اس معاملے پر باہمی تعاون کا حامل فہم اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ دونوں ریاستوں میں حفاظت کے بین الاقوامی معیار سے مطابقت میں بہتری آئی ہے تاہم سائبر سیکیورٹی اور اندرونی خطرات پر فہم کے حوالے سے پیش رفت اب بھی سستی کا شکار ہے جبکہ یہ وہ مشترکہ میدان ہے کہ جسے اس خطرے کے حوالے سے باہمی فہم (جو اگرچہ معاونت کے ساتھ ہو) حاصل کرنے کیلئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ سائبر سیکیورٹی اور قومی سلامتی پر اس کے اثرات اہمیت کے حامل ہیں اور یہ روایتی رقابتوں کے مقابلے میں خود کو زیادہ طاقتور کے طور پر پیش کرنے کیلئے تیار دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کو ایسے کارآمد حل کی ضرورت ہے کہ جہاں وہ اپنی ان کمزوریوں کو سمجھ سکیں اور آخر کار انہیں دور کرنے کیلئے جدوجہد کرسکیں جو کہ مستقبل میں جوہری توانائی کی پیداوار کے ان کے منصوبوں کی راہ میں حائل چیلنجز کو مزید ابتر بنا سکتی ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں