44

سیاست میں رواداری کی ضرورت

کوئی بھی تحریک، ادارہ یا تعلیم گاہ اسی وقت زندہ رہ پاتی ہے جب کہ وہ اپنے اندر توسع اور رواداری کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ فکر و نظر کے زاویے آزاد ہوں، ان پر کسی بھی طرح کی پابندی عائد نہ کی جائے۔ البتہ اس بات کا خیال رہے کہ کسی کی توہین و تنقیص یا جذبات کو مشتعل کرنا آزادی رائے کے خلاف ہے۔ اس تناظر میں یہ عرض کیا جانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے جن خطوط و خیالات کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے اور جن کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، ان کے اندر انسانیت کی فلاح وبہبود اور وسعت فکرو نظر کا پورا نظام موجود ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات کی روح اور اس کے نظام کے توازن و اعتدال کی پوری رعایت ملتی ہے۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم خصوصاً مسلمانوں نے یا ان کے تعلیمی اداروں میں جس طرح تنگ نظری یا جمود پایا جاتا ہے، وہ اسلامی تاریخ کے کسی بھی دور میں نہیں ملتا ہے۔ اسی محدود فکر نے جہاں معاشرتی سطح پر باہم عدم اتفاق اور کشیدگی پیدا کی ہے وہیں جہالت ونادانی کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔ اب جس نظریہ یا فکر و عمل کی ترویج و اشاعت ہورہی ہے، وہ اسلام اور مسلمانوں کے مسلمہ اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ چنانچہ ذرا سنجیدگی سے سوچئے کہ آ خر ہمارا یہ رویہ اور کردار ہمیں وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کررہا ہے یا ابھی تک ہم نے ان کی جانب سوچا ہی نہیں ہے۔وہی قومیں ہر میدان میں سرخ رو اور فتحیاب ہوتی ہیں جو اپنے آ پ کو اس طور پر تیار کرتی ہیں کہ وہ ہر وقت، ہر طرح کے تحدیات کا علمی و تحقیقی طور پر مقابلہ کرسکیں۔ آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اس جانب بالکل سوچنا ہی نہیں چاہتے ہیں یا سوچتے بھی ہیں تو جذبات غالب آ جاتے ہیں۔ حقیقت پسندی اور چیزوں کا نظریاتی یا علمی پہلو عموماً مفقود ہوجاتا ہے۔ بالغ نظری اور معروضی انداز میں غور و خوض اور تدبر و تفکر کرنے کی عادت تقریباً نابود ہوتی جارہی ہے۔ اسی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں بہت سارے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ وقت اور حالات جس تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں اور جس طرح چیزیں بدل رہی ہیں اس پر بھی گہری نظر بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہم ایسے دین کے علمبردار ہیں جسے اسلام کہا جاتا ہے۔ ایک حدیث میں مروی ہے کہ ’’اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے دین کی گہری سمجھ عطا فرماتا ہے‘‘۔ اس حدیث پر ذرا سنجیدگی سے غور وفکر کیجیے اور پھر فیصلہ کریں کہ واقعی دین کی سمجھ بوجھ کے جملہ تقاضوں کو ہم پورا کررہے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اسلام نوع انسانیت کے تئیں سراپا رہنما ہے،یہ رہنما ئی کسی مخصوص شعبہ حیات یا زندگی کے چند پہلوؤں کی جانب نہیں کرتا ہے بلکہ اسلام نام ہے مکمل نظام حیات کا۔ اسی طرح اسلام کی تعلیمات کسی زمانہ اور خاص وقت کے ساتھ محدود نہیں ہیں۔ اب ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی قوم اور معاشرے میں کس حد تک اسلام کے اس آ فاقی اور عالمگیر تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دین میں گہری بصیرت وفقاہت پیدا کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ دینی علوم و معارف پر گرفت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عصری علوم و فنون اور حالات واقعات سے بھی پوری طرح واقف ہوا جائے۔ دنیا میں رائج عصری سیاسی نظام اور موجودہ سیاست و سیادت کے ضابطوں کا بھی عرق ریزی سے مطالعہ کیا جائے تاکہ ان سے آ گاہی حاصل کرکے ایک اچھی سوسائٹی اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل عمل میں لائی جاسکے۔ مگر جب ہم موجودہ منظر نامہ پر نظر ڈالتے ہیں اور مسلم کمیونٹی کے فکری اور نظریاتی افق کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے آ ج بھی بہت ساری چیزوں کو شجر ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے اداروں میں آ ج بھی وہی محدودیت، فکری پستی اور غیر منطقی پالیسیاں پائی جاتی ہیں۔ یقینا یہ ہمارا کردار اور رویہ بہت حد تک نقصان کا باعث بنتا ہے، آ ئے دن ہم اس کا نظارہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس دین کی اتباع کرکے اور جس نظام پر عمل کرکے دنیا امن و امان ، عدل وانصاف اور مساوات کے حقیقی مفہوم سے آ شنا ہوئی تھی نیز اصول جہاں بانی اور قیادت و سیادت کے متوازن وہمدرد رویوں سے آ گاہی حاصل کی تھی اور جو نظام پوری دنیا کے لیے نمونہ عمل تھا، آ ج اسی نظام پر چہار جانب سے اعتراضات وشبہات کی یورش کی جارہی ہے، آخر کیوں؟ جب تمام اعتراضات کے پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیمات اور اس کے آ فاقی نظام کو بہت حدتک محدود کرڈالا ہے۔ حتیٰ کہ مسلکی نظریہ کی قید میں رہ کر تعبیر و تشریح پیش کی جارہی ہے، اس لیے اس وقت جو صورت حال ہے اس پر یقینا نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس فکری اور نظریاتی دور میں ہماری اولین ترجیح حصول علم ہونا چاہیے، تبھی جاکر ہم چیزوں کا سنجیدگی سے تجزیہ کر سکتے ہیں کیوں کہ دولت علم نوع انسانی کے اندر پختہ شعور اور فکری استحکام عطا کرتی ہے۔ آ ج دنیا میں انہیں قوموں اور معاشروں کا دبدبہ ہے جو اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائی کو علم کے حصول میں صرف کرتے ہیں۔ ہمارا ماضی کس قدر روشن تھا یہ بتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے نیز اسی طرح ہمیں مستقبل کو بھی تابناک بنانا ہوگا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ آ ج ہم نے اسلامی تعلیمات اور اس کے وسیع وعریض دائرہ کو صرف اور صرف اس لیے محدود کردیا کہ کہیں ہمارے معاشی اور اقتصادی پروجیکٹ متاثر نہ ہوجائیں۔ ذرا سوچئے اور غور کیجیے کہ جو نظام پوری کائنات کے لیے سامان ہدایت اور رحمت ہے، اسے ہم مسلکوں اور جماعتوں میں محدود کیوں کریں؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ آ ج ملکی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر جو ماحول اور فضا تیار کی جارہی ہے، اس نے خود ہمارے رویہ، فکر اور کردار پر حرف لگائے ہیں؟ ان اعتراضات اور شکایتوں کو اب ہمیں اپنے صالح کردار اور وسعت فکر ونظر سے رفع کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کچھ لوگ نفرت اور بیزاری کا مظاہرہ کررہے ہیں تو پھر اس بابت یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا جا مع منصوبہ یا نظام نہیں ہے جو دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنا سکیں۔ لیکن یاد رکھئے ہمارے پاس امن و امان، عدل وانصاف ، انسانیت نوازی، فلاح وبہبود، اخوت و بھائی چارگی، انسان دوستی اور رواداری کا جامع نظام موجود ہے،اس لیے نفرت اور بیزاری یا تشدد وبربریت کے خاتمے کے لیے ہمیں سنجیدگی اور متانت سے کام لینا ہوگا اور ثابت کرنا ہوگا کہ ہم جس نظام کے علمبردار ہیں، اس نے ہر موڑ پر سسکتی ہوئی انسانیت کو سکون عطا کیا ہے، ہم جہاں بھی ہیں جس پوزیشن میں بھی ہوں، ہمیں وہیں سے ایسے رویوں اور کردار و عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا جس سے مسلمانوں کے خلاف پنپنے والی نفرت کا خاتمہ خود بخود ہو جائے۔ آ خر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سوسائٹی نے آ ج جن مادی نظریات یا وقتی چیزوں کی اتباع کرلی ہے، اس کے اثرات محدود ہیں چنانچہ آج ایک بار پھر اس نظام اور طریق کار کی ضرورت ہے جس سے انسانیت دائمی طور پر فوائد سے ہمکنار ہوسکے اور اپنے نظریات کو وسعت فکر سے معمور کرسکے تبھی جاکر ایک صحتمند معاشرہ کا وجود عمل میں آ سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ لوگ بغیر کسی تامل کے تنقید پر غلیظ گالیوں پر اتر آتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ جب آپ کسی کو گالی دیں گے تو خواہ اگلا شخص چاہے کتنا ہی غیر جانبدار کیوں نہ ہو اس کے دل میں ایک خلیج تو اس وجہ سے پیدا ہو ہی جائے گی۔ اگر آپ تنقید برداشت نہیں کر سکتے تو مقابل صحافی تضحیک کیسے برداشت کرے گا۔ یہ انسانی نفسیات کی حقیقت ہے۔ ان کارکنان کو سمجھنا ہو گا کہ عمران خان ابھی تو اپوزیشن میں رہے ہیں، تو ان پر اس قسم کی تنقید نہیں ہوئی۔ جب حکومت میں آئیں گے تو اس تنقید میں بےبہا اضافہ ہو گا۔ اس تنقید کو کس طرح ہینڈل کریں گے؟ اس نوجوان طبقے کی صحیح یوٹیلائزیشن سیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان ایک وقت میں آگ بھی اور پانی بھی۔ اس کو آپ کیا بنانا چاہتے ہیں اس کا فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ رہنما اپنے پیروکاروں کے لئے باپ کی سی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کون سا باپ ہو گا جو اولاد کو اس کے حقوق تو بتاتا ہے لیکن اسے اس کے فرائض نہیں بتاتا۔ حقوق کا مطالبہ تب ہی کیا جا سکتا ہے جب فرائض پورے کئے ہوں۔ ان کارکنان کی تربیت سیاسی قائدین کے ذمہ ہوتی ہے، وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سیاسی قائدین یہ سمجھ لیں۔ ورنہ مخالفین تو جو نقصان پہنچائیں گے پہنچائیں گے ہی یہ کارکن ہی انہیں لے ڈوبیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں