18

عمران خان ….. سب کی جان سب کامان


عمران خان کا نام ہمیشہ سے منفرد اور ممتاز رہا ہے ۔ انہوں نے کرکٹ کے کھلاڑی کی حیثیت سے شہرت حاصل کی، کپتان کی حیثیت سے پاکستان کیلئے ورلڈ کپ جیتا ۔’’ انسان دوستی‘‘ اور فلاحی کاموں کے حوالے سے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا جس کی دوسری شاخ پشاور میں زیر تکمیل ہے۔ سیاست میں حصہ لیا تو تحر یک انصاف قائم کی جسے برسوں تک کامیابی نہ ملی لیکن کپتان عمران خان اس وکٹ پر مستقل مزاجی سے ڈٹے رہے، آج وہ صف اول کے سیاستدان ہیں ۔ پاکستان میں گزشتہ الیکشن میں ان کی طرف سے دھاندلی کے الزامات کے باوجود مسلم لیگ ن پہلے نمبر پر اور تحریک انصاف دوسرے نمبر پر ووٹ لے کر کامیاب ہوئی۔ انہوں نے پہلے دھاندلی کے خلاف اور گزشتہ کئی ماہ سے پانامہ لیکس کے حوالے سے کرپشن کے خلاف بالخصوص نواز ششریف کے حوالے سے بھر پور تحریک چلائی، بڑے بڑے جلسے، جلوس اور مظاہرے کیے ۔طاہر القادری صاحب کی عوامی تحریک سے مل کر اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا اور گزشتہ ہفتے سے پانامہ لیکس کی تحقیق نہ کروانے پر وز یر اعظم نواز شریف کے خلاف احتجاجی مہم چلائی جو یکم نومبر کو سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کمیشن کے قیام کے فیصلے پرختم ہوئی اور 2 نومبر کو عمران خان نے اس کامیابی کا جشن منانے کا اعلان کیا۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں اپنی ملاقاتوں اور یادوں کا سلسلہ قلمبند کروں خاص طور پر اس لیے کہ گزشتہ دنوں لاہور میں رائیوائیونڈ مظاہرے سے قبل اخباری ایڈیٹروں کو تحر یک انصاف کی طرف سے دو پہر کے کھانے پر بلایا گیا اور بہت سے کیمرے آن تھے،، ریکارڈنگ ہورہی تھی کہ عمران خان نے میری طرف دیکھتے ہوئے ک کہا کہ ضیا شاہد تو تحریک انصاف کے فاؤ نڈ رممبر ہیں اور انہوں نے میرے ساتھ مل کر تحر یک انصاف قائم کی تھی۔ میں نے فورا ًوضاحت کی کہ تحر یک انصاف آپ نے بعد میں بنائی البتہ میری آپ سے دوستی اور تعلق اس وقت سے ہے جب آپ کرکٹ کے کھلاڑی تھے ،شوکت خانم کے پراجیکٹ میں میں نے آپ کی بھر پور مددکی اور بعدازاں چند دوستوں کے ساتھ مل کر آپ کو مجبور کیا کہ قومی سیاست میں حصہ لیں ۔ چنانچہ سیاست میں آمد کا اعلان آپ نے جس پر یس کا نفرنس میں کیا اس کے لیے بیان ایک رات قبل میں نے لکھا تھا۔ اس لحاظ سے آپ کو سیاست میں لانے کے ذمہ دار کچھ دوستوں میں میں بہت سرگرم تھا آج جبکہ ان سے اختلاف کیا جائے یا اتفاق وہ مسلم لیگ ن کے سربراہ جناب نواز شریف کے بعد دوسرے نمبر کے معروف ترین سیاستدان بن چکے ہیں کہ آصف زرداری سابق صدر ہونے کے باوجود تیسرے نمبر پر جا چکے ہیں۔ کچھ یاد میں جو ذہن میںہیں انہیں تحریر کی شکل دے رہا ہوں لیکن پہلے عمران خان کی زندگی کا مختصر جائزہ ہو جائے ۔ ملاحظہ کیجئے کچھ تاریخیں کچھ ریکارڈ کی باتیں اور کچھ ان کی اب تک کی زندگی کا خلاصہ۔
پیدائش 25 نومبر 1952 ،
بیوی کا نام جمائمہ، شادی 1995 ء/2004 ء۔
ریحام خاں سے شادی2015ء۔
بچے سلیمان اور قاسم خاں ۔
کیریر سوشل ورکر اور سیاستدان ۔
کھیل میں نام باؤلنگ تیز رائٹ آرم ۔
بال پھینکنے کا انداز دائیں ہاتھ سے ۔
بین الاقوامی کرکٹ پہلاٹیسٹ 3 جون 71 ء بمقابلہ برطانیہ۔
آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1992ء بمقابلہ سری لنکا۔
پہلا ایک روز میچ 31اگست1974ء بمقابلہ برطانیہ۔
آخری ایک روزہ میچ 1992 ء بمقابلہ برطانیہ۔
سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی،تحریک انصاف کے سر براہ ۔
والد کا نام ، اکرام اللہ خاں۔
کرکٹ کا زمانہ 1971ء سے 1992 ءتک ۔
پیدائش لا ہور میں پختونوں کے مشہور قبیلہ نیازی سے تعلق ۔
والد و شوکت خانم زیادہ تر میانوالی میں رہیں ۔
عمران خاں کی ابتدائی تعلیم کیتھڈرل سکول اور ایچی سن کالج لاہور ۔
اعلی تعلیم کیلئے برطانیہ چلے گئے وہاں رائل گرائمر سکول میں پڑھتے رہے ۔
آ کسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیاست کیا۔
1974 ء میں اسی یو نیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے۔
بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کے حوالے سے سیاست سے بھی کہیں زیادہ مشہور ہیں ۔
1992 ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا۔
1971ء میں برطانیہ کیخلاف پہلا کرکٹ میچ کھیلا۔
88 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 362 وکٹیں حاصل کیں ۔
1981ء اور 1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کرآؤٹ کیے۔
23 مرتبہ ایک اننگ میں پانچ دوئیں سے اصل کیں۔
پاکستان کے پہلے کپتان جن کی قیادت میں بھارت کو بھارت میں اور انگریزوں کو ان کی سر زمین پر ہرایا۔
بطور کپتان 48 کرکٹ میچ کھیلے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992 ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا۔
یہ اعزاز پاکستان نے صرف ایک ہی مرتبہ عمران خان کی قیادت میں حاصل کیا ہے۔ مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو 1975 ،1979 ]1983 ، 1987ء اور 1992 ء میں منعقد ہوئے ۔
92کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر منٹ لے لی اور سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔
کینسر کے مریضوں کیلئے ایشیا کا سب سے بڑا ہسپتال شوکت خانم میمور میں قائم کیا۔
حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ ہلال امتیاز ملا ۔ انسانی حقوق کے ایشیا ایوارڈ کے مستحق بھی قرار پائے۔
1995ء میں برطانوی اور یہودی ارب پتی گولڈ سمتھ کی بیٹی جمائمہ سے شادی کی جو شادی سے پہلے اسلام قبول کر کے جمائمہ خان کے نام سے مشہور ہوئیں ۔
عالمی میڈیا نے اس شادی کو خصوصی اہمیت دی ۔
22 جون 2004 ءکو اس جوڑے نے طلاق کا اعلان کیا جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ عمران مصروف زندگی میں بیوی بچوں کو وقت نہیں دیتے ۔
دوسری شادی 8 جنوری 2015 ءکو برطانوی اور پاکستانی صحافی ریحام خاں سے ہوئی ۔
ملاقات کنٹینر پر دھر نے کے دوران ۔
30اکتوبر کوطلاق کی کارروائی شروع ہوگئی ۔
سیاسی زندگی کا آغاز 25 اپریل 1996 ء میں تحریک انصاف کے قیام سے ہوا۔
ابتدائی دور میں زیادہ کامیابی نہ مل سکی ۔
موجودہ دور میں مسلسل جد و جہد کے نتیجے میں کامیاب ہوئے ۔
2002ء میں الیکشن لڑا اور صرف ایک سیٹ پر کامیاب ہوئے اور قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر کام کیا۔ انتظامیہ نے دعوی کیا کہ ان پر دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔
جواب میں عمران کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی اور کراچی میں ان کے لوگوں کو الطاف حسین قائد ایم کیو ایم سے خطرہ لاحق ہے ۔
عمران نے متحدہ قومی موومنٹ پر الزام لگائے اور دعویٰ کیا کہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لے کر لندن ججائیں گے ۔
وہ لندن گئے اور ثبوت بھی فراہم کئے، لیکن برطانوی حکومت نے کوئی خاص توجہ نے دی۔
بعد ازاں تحر یک انصاف نے احتجاجی سیاست کا آغاز کیا جو یکم نومبر 2016 ءکو سپریم کورٹ کے فیصلے سسے کامیاب ہوئی ۔ تحریک انصاف کی سیاست جاری ہے ۔قومی اسمبلی مؤثر اپوزیشن ہے اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت ان کے پاس ہے ۔
ابتدائی ملاقاتیں اور والدہ شوکت خانم
عمران خان سے میری پہلی ملاقات ان دنوں ہوئی جب وہ ورلڈ کپ جیت کر واپس پاکستان آئے تھے ۔ بعد ازاں جب وہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کا اعلان کر چکے تھے اور وہی حقیقت مجھے ان کے قریب لائی کہ اپنی عالمگیر شہرت کی بنیاد پر انہوں نے ایک اچھے فلاحی پرا جیکٹ کا آغاز کیا تھا۔ یہ ہماری پہلی تفصیلی ملاقات تھی، لیکن ایک صحافی اور ایک کھلاڑی کی حیثیت سے میں بے شمار مرتبہ ان سے رسمی علیک سلیک کر چکا تھا اور وہ مجھے نام سے اور روز نامہ جنگ جس کے ساتھ میں منسلک تھا اس کے حوالے سے بخوبی جانتے تھے ۔ ٹیکن پہلے ان کی والدہ سے ملاقات کا ذکر ہو جائے ۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک باران کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئ تھی اور کہا جا تا تھا کہ اب وہ کرکٹ نہیں کھیل سکیں گے۔ میں روز نامہ جنگ میں ڈپٹی ایڈیٹر تھا کہ ہمارے سپورٹٹس رپورٹر شاہد شیخ جن کا عمران خان کے ہاں بہت آنا جانا تھا نے مجھ سے کہا ’’ کیا آپ عمران کی خیریت معلوم کر نے میرے ساتھ ان کے گھر چلیں گے؟ میں نے کہا لیکن وہ تو علاج کے سلسلے میں ملک سےسے باہر ہیں۔ وہ بولے میں ان کی والدہ سے ملنے جارہا ہوں ان سے تازہ ترین پوزیشن کا پتا چلے گا اور میری کوشش ہے کہ ان کی والدہ ٹیلی فون پر عمران سے ہماری بات بھی کروادیں ۔ میں نے ححامی بھر لی اور زمان پارک میں عمران خان کے گھر پہلی مرتبہ شاہد شیخ کے ساتھ ان کی غیر موجودگی میں ہی سہی مگر عیادت کیلئے پ پہنچا۔ عمران کے والد اکرام اللہ نیازی مین بلیوارڈ پر موجود مد میکڈونلڈ سے متصل ایک کوٹھی میں بنے ہوئے انجینئرز کے ایک دفتر میں بیٹھا کرتے تھے اور میری وہاں کئی مرتبہ ان سے ملاقات بھی ہو چکی تھی تاہم وہ گھر پر موجود نہ تھے، عمران کے خاندان ککے مالی حالات کبھی خراب نہیں رہے اس کے باوجود ان کا گھرانا روایتی طور پر خالصتاً مشرقی انداز و اطوار کا حامل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی زندگی میں بے اندازہ دولت کمانے کے بباوجود بھی شان وشوکت کا سٹائل نہیں اپنایا۔ زمان پارک ہو یا بنی گالہ، ان کے گھر کے فرنیچر اور ساز وسامان سے ہمیشہ ساددگی اوتعیشکی زندگی سے دوری واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ پرانی وضع کی درمیانے سائز کی کوٹھی میں سادہ سے ڈرائنگ روم میں میری عمران کی والدہ شوکت خانم سے پہلی ملاقات ہوئی۔ خالصتاً مشرقی سوچچ کی مالک ایک سادہ اور وضع دار خاتون کے طور پر انہوں نے بڑی محبت اور شفقت سے ہمیں بٹھایا۔ شاہد شیخ کا ان کے ہاں پہلے سے بہت آنا جانا تھا گھر کے فرنیچر سے لے کر پردوں تک رسمی آرائش اور شان وشوکت کا کوئی منظر مجھے دکھائی نہ دیا۔ چائے اور کچھ کھانے پینے کی چیز یں لے کر ملازم اندر آیا تو انہوں نے ہمارے منع کرنے کے باوجود کہ ہم خود بنالیں گے بڑے اصرار سے ہمارے لیے چائے بنائی پھر دونوں سے باری باری چینی کے بارے میں پوچھا کہ کتنے چمچ ؟ اس کے بعد بسکٹ کی پلیٹ لے کر وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور ہمارے ایک بار پھر منع کرنے کے باوجود بڑی محبت سے ہمیں کھانے کی چیز میں پیش کیں ۔ ہم آدھ پون گھنٹہ ان کے پاس بیٹھے رہے، مجھے ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ میں اس گھر میں پہلی بار آیا ہوں ۔ وہ عمران کی باتیں کرتی رہیں پھر بتایا کہ ڈاکٹری طور پر تفصیل پوچھنی ہے تو عمران کے کزن جاوید زمان سے تازہ ترین رپورٹوں کی کاپی مل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے آرٹسٹ سے نقشہ بنوا کر روز نامہ جنگ میں چھا پا تھا کہ عمران کی ہڈی کہاں سے ٹوٹی ہے فریکچر کی نوعیت کیا ہے اور وہ کتنے عرصے میں ہو سکتی ہے ۔ جب تفصیلی خبر شائع ہوئی تو یقیناً عمران کی والدہ نے اخبار پڑھا ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نں نے شاہد شیخ کوفون کیا اور پھر یہ خواہش ظاہر کی کہ آپ کے ساتھ آپ کے ایڈیٹر ضیا صاحب آئے تھے میری ان سے بات کر داؤ۔ میں لائن پر آ یا تو انہوں نے ہماری تحریر کرد و خبر اور نقشے کی بہت تعریف کی اور مجھے کہا ’’شاہد شیخ تو اکثر آ تا ہے آپ بھی شاہد ہو ،جب وقت ملے، ہماری طرف چکر لگانا۔
یہ میری محترمہ شوکت خانم صاحبہ سے پہلی ملاقات تھی اور بعد میں متعدد بار مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوا وہ ہمیشہ مجھ سے بیوی بچوں کی خیریت دریافت کرتیں اور یہ بھی کہتیں کہ آپ اپنی بیگم اور بچوں کو لے کر کسی دن ہمارے پاس شام کی چائے کیلئے ضرور آنا۔

عمران کے بارے میں سنی سنائی باتوں کے علاوہ روایتی قسم کی رسمی ملاقاتوں کے ذریعے مجھے وہ معلومات کبھی نہ مل سکتیں جو ان کی والدہ نے پہلی ملاقات سے بعد ازاں ہونے والی کئی ملاقاتوں میں مجھے بتائیں۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد میں دو تین وفاقی وزراء جن سے ذاتی سطح پر برسوں سے میرے بہت اچھے دوستانہ تعلقات ہیں سے بحث میں ،میں نے صرف یہ کہا کہ میں مدت سے عمران کو جانتا ہوں اور سیاست میں تو انہیں کھینچ کر لانے میں شاید میرا شماران چند افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے مہینوں مسلسل کوشش کے بعد انہیں قائل کیا تھا۔ میں اخبارنو لیس ہوں اور ان کی پارٹی کا ممبر ہوں نہ آپ کی پارٹی کا مخالف لیکن میں اتنا ضرور بتا دوں کہ جتنی ہمت ،جرات حوصلہ ،مستقل مزاجی عمران میں ہے وہ بھی مخالفت سے نہیں گھبرائے گا نہ کسی دباؤ میں آئے گا اورر مجھے پورا یقین ہے کہ وہ واقعی اکیلا رہ گیا اور سب اس کا ساتھ چھوڑ گئے تو بھی وہ زندگی کی آخری سانس تک جس بات پر ڈٹا ہوا ہے اس پر ڈٹا ر ہے گا ۔ جب یہ بحث ذرا لمبی ہوئی تو متعد د سوالوں کے جواب میں میں نے کہا ’’یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے جتنی زیادہ اس کی مخالفت ہو گی وہ اتنا ہی زیادہ اپنے ارادے پر مضبوطی سے قدم جما کر کھڑا ہو جائے گا لہٰذا اس سے نمٹنے کیلئے کوئی ثالثی چاہئے ج جس کے بارے میں عمران کو اطمینان ہو کہ وہ اس کا دشمن نہیں دوست ہے ۔
میرے ایک بہت عزیز دوست جو اہم وفاقی وزیر بھی ہیں انہوں نے مجھ سے پوچھا ’’ کیا آپ یہ کام کر سکتے ہو؟‘‘ میں نے کہا آج کل میرا عمران سے کچھ زیادہ رابط نہیں لیکن م مجھے خوش فہمی ہے کہ میں کھل کر ان سے بات بھی کر سکتا ہوں اور اسے کسی معقول بات پر آمادہ بھی کر سکتا ہوں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگ بھی اپنے اندر گنجائش پیدا کر یں۔ عمران سے بات کی جائے تو اس بات چیت کی کوئی بنیاد ہونی چاہئے، اگر آپ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی پیچھے جانے کو تیارنہیں تو ہم جیسے لوگ جو آپ کے بھی خیر خواہ ہیں اسکے بھی اپناوقت بیکارر میں کیوں ضائع کریں، اس پر ہم سب ہنسنے لگے ۔ قارئین ،میرا یہ تاثر اگر چہ زندگی بھر کی ملاقاتوں کے نتیجے میں قائم ہوا، تاہم اس کی ابتدا عمران خان کی والدہ کی اس بات سے ہوئی تھی کہ انہوں نے میری پہلی ملاقات میں ہی بڑے اعتماد سے کہا تھا کہ عمران نہ صرف ٹھیک ہو جائے گا بلکہ دوبارہ سے کھیلنے کی ہمت بھی پیدا کر لے گا۔میرے سوال کے جواب میں انہوں نے جو الفاظ کہے تھے مجھے آج تک یاد ہیں ۔ ’’میں اپنے بیٹے سے بہت اچھی طرح واقف ہوں، وہ اپنی دھن کا پکا ہے ،جو ٹھان لے اسے کر گزرتا ہے، وہ حیرت انگیز قوت ارادی کا مالک ہے اور کھلاڑی کی حیثیت سے ووہ آخری گیند تک ہمت نہیں ہارتا اور اس کا ایمان حیرت انگیز حد تک ہے ۔‘‘
عمران کی والدہ نے اپنی گفتگو کی تفصیل یوں بتائی کہ ڈاکٹر کہتے ہیں اگر وہ جم کر علاج کروائے پھر فزیوتھراپی کروائے پھر رفتہ رفتہ ٹانگ پر بوجھ ڈالنا شروع کرے تو بالآ خر وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جب وہ ٹھیک ہو جائے گا تو نہ تو وہ کرکٹ کے بغیر رہ سکتا ہے اور نہ ا پنی ناکامی مان سکتا ہے ۔ پھر وہ ہمت کرے گا بھاگ نہیں سکتا تو بھاگنے کیلئے مسلسل ورزش کرتا رہے گا، وقت ضرور لگے گالیکن آج تک اس کی پنڈلی کا فریکچر سب کے سامنے ہے اور پنڈلی کا فریکچر ٹھیک ہونا بھی مشکل ہوتا ہے اور اس فریکچر کے بعد تو ٹانگ پر بوجھ ڈالنا تو انتہائیئی مشکل سمجھا جا تا ہے پھر محترمہ نے اپنا دایاں ہاتھ بلند کیا اور بولیں ’’اللہ کی ذات رحم کرنے والی ہے، عمران نہ صرف ٹھیک ہوگا بلکہ پھر کرکٹ کھیلے گا ۔‘‘
قارئین میں نہ کرکٹ کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں اور نہ مجھے کھیل دیکھنے کا زیادہ شوق ہے، ٹیسٹ کرکٹ سے تو میں ویسے بھی بیزار ہو جا تا ہوں اور مجھے ہٹلر کا وہ وواقعہ یادآ تا ہے کہ جب اس نے میدان میں نو جوانوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھا تو وہ اپنی گاڑی میں کہیں جا رہا تھا شام کو واپس آیا تو ببھی کرکٹ کا کھیل جاری تھا اس کے پوچھنے پر بتایا گیا کہ ابھی چار دن ا اور کھیل ہوتا رہے گا۔ کہتے ہیں اسے بہت غصہ آیا اس نے پوچھا پھر کیا ہوگا جواب ملا، کوئی ٹیم جیت بھی سکتی ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ میچ ڈرا ہو جائے یعنی ہار جیت کا فیصلہ ہی نہ ہو سکے ۔ بیان کیا جا تا ہے کہ ہٹلر کوشدید غصہ آیا اور اس نے کہا اس بکو اس کھیل کو بند کیا جائے جس میں پانچ دن کھیلنے کے بعد بھی ہار جیت کا فیصلہ ضروری نہیں ۔ ٹیسٹ کرکٹ سے زیادہ مجھے ون ڈے پسند ہے لیکن پورا دن دن میچ دیکھنا مجھے آج بھی اچھا نہیں لگتا۔ دفتر ہو یا گھر میں آخری اوورز میں دلچسپی رکھتا ہوں اور مجھےٹک ٹک کی بجائے ٹھاہ ٹھاہ اچھی لگتی ہے یعنی تیز باؤلنگ اور تیز بیٹنگ ۔اس کے بباوجود جو مجھے تھوڑی بہت معلومات ہیں عمران خان نے اپنی حیرت انگیز قوت ارادی کی بنا پر پنڈلی کا فریکچر صحیح ہونے کے بعد آہستہ آہستہ ٹانگ پروزن ڈالنا شروع کیا پھر تیز قدموں سے چلنے کی مشق کی، آخر میں اگر چہ وہ دوبارہ فاسٹ باؤلر نہ بن سکالیکن باؤلنگ میں اپنی ہنر مندی کے باعث میڈیم پیس باؤلر کے طور پر بھی اس نے اپنی سابقہ شہرت کو نہ صرف دوبارہ حاصل کیا بلکہ شاندار بیٹنگ کے سبب وہ پھر صف اول کا کھلاڑی بن گیا اور بالآ خر اس نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو ورلڈ کپ جیت کر دیا۔ یہی نہیں نی کامیابی کے بعد اس نے فورا ہی یہ کہا کہ میری زندگی کا خواب ہے کہ میں اپنی والدہ کے نام پر پاکستان کا پہلا کینسرہسپتال قائم کروں ،بہت لوگوں نے اس اعلان پر اعتراض بھی کیا کہ وہ قومی کرکٹ ٹیم کی اجتماعی کامیابی کو اپنے ذاتی منصوبے کیلئے بنیاد بنانا چاہتا ہے اس بات پر بحث بھی ہوئی لیکن میں نے پہلے کہا تھا کہ آپ مخالفت کی بنیاد پر عمران خان سے اپنی بات نہیں منوا سکتے ۔ اس نے کہا میں کینسر ہسپتال بناؤں گا تو اس نے شروع کر دیا مجھے فلاحی منصوبوں سے ہمیشہ بہت دلچسپی رہی ہے میں نے شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ میں بھی بہت بھاگ دوڑ کی، شوکت خانم کی مین بلڈ نگ ابھی تعمیر نہیں ہوئی تھی اور عمران داخلی گیٹ کے دائیں طرف ایک چھوٹے ٹے سے دفتر میں بیٹھتا تھا کہ اس نے ایک روز لاہور کے اخبارات کے ایڈیٹروں کو مدعو کیا میرے دوست اور بھائی مجیب الرحمن شامی نے ان کے پراجیکٹ کی تفصیلات سن کر’’ گڈول‘‘ کے طور پپر یہ تجویز دی کہ ہم میں سے ہر ایڈیٹر اور صحافی اپنی جیب سے کچھ نہ کچھ کیش نکال کر عمران کے سامنے رکھ دیں اور وعدہ کر میں کہ ہم اپنے اخبارات کے ذریعے اس فلاحی منصوبے کی بھر پپور تشہیر کر میں گے ۔ سب نے کچھ نہ کچھ عمران کے سامنے میز پر رکھ دیا۔ عمران کو پرانی باتیں نہیں بھولتیں، کتنی مرتبہ گپ شپ میں وہ مجھے یاد کروا چکا ہے کہ ضیا سب نے کچھ نہ کچھ میز پپر ضرور رکھا تھا لیکن تم نے سب کے سامنے اپنا پرس خالی کر دیا تھا اور بارہ ہزار روپے جو تمہارے پرس میں تھے میز پر آ گئے تھے۔ شوکت خانم کی تعمیر کے زمانے میں مجھے اپنی کاوشوں کا ذکر کر نا ااچھا نہیں لگتا، لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہر میدان میں جہاں بھی میں کچھ کر سکتا تھا میں نے کیا۔
میرے قریبی دوست اور عزیز محمد علی درانی، عمران خان کے زبردست حامیوں میں شامل تھے، پھر ٹرک پر سواار ہو کر نقد رقوم جمع کرنے کا خیال اس زمانے کی نو جوانوں کی تنظیم’’ پاسبان‘‘ نے ہی دیا جس کے سربراہ درانی صاحب تھے اور ان کے ساتھی عزیزم منظور صدیقی جو پیشے کے اعتبار سے الیکٹریکل انجینئر ہیں، شہر بہ شہر چندہ مہم کو آرگنا ئز کر نے والی کمیٹی میں سرفہرست تھے ۔ عمران کو زیادہ قانون اور ضابطوں کا علم نہ تھا لوگ اس پر اعتمادکرتے تھے اور بغیر کوئی رسید طلب کیسے نقد رقوم اس ٹرک میں ڈال دیتے تھے جس میں عمران خان پچھلے حصے میں کھکھڑے ہوتے تھے ۔عورتوں نے اپنے زیور تک بغیر اپنا نام بتائے اور بغیر رسید حاصل کیے ٹرک میں پھینک دیئے۔ ہمارے ایک اور دوست ڈاکٹر باسط جو آج کل معروف وکیل ہیں نے نہ صرف ہائیکورٹ میں عمران کے خلاف کیس کر دیا کہ چیریٹی حاصل کر نے کے بھی قانون ہیں، عمران نے نہ اجازت لی اور نہ عطیات دینے والوں کو کوئی رسید جاری کی گئی ۔ ڈاکٹر باسط نے عمران کے خ خلاف ایک کتا بچہ بھی لکھا تھا جس کا عنوان تھا’ چندہ چور‘ ایک سے ایک بڑا الزام عمران پر عائد کیا گیا وہ عدالت میں اس مقدمے کا سامنا بھی کرتا رہا لیکن میری ذاتی معلومات کے مطابق عمران خان ہرگز ہرگز بد دیانت نہیں ہے، وہ بنیادی طور پر کرپشن کا سخت مخالف ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی سیاسی جماعت کابنیادی موٹو بھی کرپشن ،بے قاعد گی، دھاندلی اور لاقانونیت کے خلاف جنگ ہہے ۔
قارئین میں مخالفین کی ان شکایات کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کہ عمران خان کی جوانی کیسی تھی، پلے بوائے کے طور پر ان کا امیج کیسے بنا ،سیتا وائٹ سے شادی کے بغیر ان کی بچی کے معاملات کیسے سامنے آئے ۔ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کے میڈیا انچارج خلیل ملک جنہوں نے کویت میں ہنگاموں کے بعد پاکستان واپسی اختیار کی تھی اور خبر یں کی کالم نو یسی سے اپنی محنت اور قابلیت کے باعث مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل میں پہنچے تھے ۔ میں ان تفصیلات میں بھی نہیں جاؤں گا کہ مسلم لیگ کے میڈیا سیل ہی سے پہلی بار سیتاوائٹ کا سکینڈل کس طرح پاکسکستانی اخبارات میں چھپوایا گیا تھا۔ میں اس بحث میں بھی نہیں پڑوں گا کہ دوسرے اخبارات کے ساتھیہ داستان خبر یں می میں چھپی تو عمران نے کس طرح غصے اور رنج کا اظہار کیا تھا کہ ساری دنیا چھا پتی مگر تم نے میرے خلاف خبر کیوں شائع کی ۔ میں برادرم یوسف علی سے عمران کی دوستی کے قصے بھی بیان نہیں کروں گا اور میں الزامات کا ذکر بھی نہیں چھیڑوں گا ،جو یوسف صلی کی دوسری بیوی انبساط خان نے اخباروں میں چھپوائے اور اپنے شوہر کے ساتھ صلی کی معروف حویلی میں جو ٹیکسالی گیٹ میں واقع ہے، رنگین مجلسوں کے انکشافات کیئے ،وہ سچتھے یا جھوٹ کہکہ انبساط کی جب تک یوسف علی سے صلح رہی شاید اسےنہ صلی سے کوئی شکایت تھی اور نہ ’’چاچو‘‘ عمران سے مگر جونہی لڑائی ہوہوئی انبساط خان نے شوہر پر بدمعاشی اور عمران خان پر ہیومینیٹٹی کے الزامات کی بارش کر دی ۔ میں عمران کے حوالے سے بیشمار اچھے، برے واقعات کا واقف بھی ہوں اور ناقد بھی، لیکن یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ عمران نے جس کا امیج ایک پلے بوئے سے زیادہ کچھ نہیں تھا اور کرکٹ کے حوالے سے اس کی عشق ومحبت کی داستانیں انگلستان ہی نہیں بھارت تک پھیلی ہوئی تھیں جہاں معروف فلمی اداکاراؤں زینت امان اور ریکھا سے اسے منسوب ب کیا جا تا رہا۔ میں صرف ایک بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ خود عمران نے کبھی اپنے آپ کو پارسا قرارنہیں دیا۔ اس نے نے تسلیم کیا کہ زندگی کا ایک بڑا حصہ ایسے واقعات سے بھرا ہوا ہے جو شاید اخلاقیات کی نظر میں پسند یدہ نہیں تھے لیکن یہی عمران جب اللہ سے تو بہ کرتا ہے دین اسلام کی طرف راغب ہوتا ہے قرآن وحدیث اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے کچھ بزرگوں سے روحانیت کے حوالے سے مسلسل رابطہ رکھتا ہے جو جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا ،وہ اپنی زبردست قوت ارادی سے اپنی زندگی کا رخ تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جا تا ہے ۔ اس مسئلے پر اس کی خودنوشت کتاب کا اردوترجمہ بھی ہو چکا ہے ۔ ’’پلے بوائے کر کٹر‘‘ سے سچا اور کھر امسلمان بنے کی روداد اس س میں شامل ہے جو آپ خود پڑھ سکتے ہیں اور اگر قارئین چاہیں تو میں اس کتاب کے متعلقہ حصے بھی اپنے اخبار میں چھاپ سکتا ہوں ۔
عمران ہمیشہ سے انتہا پسند رہا ہے چنانچہ یہ زندگی چھوڑ کر جب اس نے اپنا گھر آباد کرنا چاہا تو سب سے پہلے لندن کے دولت مند یہودی گولڈ سمتھ کی بیٹی جمیما یا جمائما کا ذکر آ تا ہے۔ یہ بہت متمول، معروف اور مالدار خاندان ہے ۔عمران نے جب شادی کا فیصلہ کیا تو اپنی ہونے والی بیوی کو قائل کہ وہ اسلام قبول کرے جو اس نے کیا۔ گولڈ سمتھ کی بیٹی کا نام جمائما خان رکھا گیا۔ یہ خبر سب سے پہلے مجھے ہمارے مشتر کہ دوست محمد علی درانی نے دی بہت سے پاکستانیوں کی طرح مجھے بھی یہ سن کر کوئی خوشی نہ ہوئی۔ میں نے درانی سے کہا، لوگ پہلے ہی اس کے دشمن ہیں جن میں حاسدین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جمائما کے والد کے یہودی ہونے کے باعث مخالفین کو موقع مل جائے گا کہ عمراان پر چڑھائی کرسکیں ۔ دُرانی نے کہا سب کچھ طے ہو چکا ہے اور عمران کے خاندان کے لوگ بھی وہاں جا کر جمائما سے مل چکے ہیں۔شادی کی تاریخ سر پر ہے البتہ ولیمہ لاہور میں ہوگا۔درانی ہی سے میں نے عمران خان کا لندن کا نمبر لیا اور خود بھی اسے فون کیا مگر اس نے بتایا کہ سب کچھ طے ہو چکا تھا اور سوائے مبارکباددینے کے میں کوئی اعتراض نہ کر سکا۔
لاہور کینٹ میں گیریژن کلب کے سامنے جہاں آج کل ملک ریاض کا ’’ مال آف لاہور‘‘ واقع ہے جمائما کی شادی میں مہمانوں کا استقبال کرنے والوں میں اپنے دوست درانی کے ساتھ میں بھی شامل تھا اور ہم سب کی دعا تھی کہ یہ شادی کامیاب رہے ۔
میں ان دنوں کی یادوں کو تازہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ داستان طویل ہو جائے گی تا ہم صرف چند باتوں کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے جن سے آج کے عمران خان کو سمجھنےمیں مدد ملے گی ۔
میں نے اپنی یادداشتوںکو تاریخ اورسن وار نہیں لکھا اس لئے آپ کو کوئی پرانی بات پہلے اور کوئی نئی بات بعد میں نظر آئے گی ، میں نے صرف ان واقعات کا ذکر کیا ہے جن س سے آج کے باغی سیاستدان عمران کی شخصیت کو سمجھنے میں مد دل سکتی ہے ۔
عمران کے زمان پارک والے گھر میں کمبائن فیملی سٹم ہوتا تھا ان کی ایک بہن اور بہنوئی بھی ساتھ رہتے تھے اندر داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ جو سیٹرھیاں ہیں وہ ایک چھوٹے سےسے لاؤنج اور ملحقہ بیڈ روم میں کھلتی ہیں ۔ ایک دن ہم پہلے فلور پر لاؤنج میں بیٹھے تھے جس کے سامنے وہ بیڈ روم ہے جہاں جمائما خان کا قیام تھا سچی بات ہے کہ لوگ کچھ بھی کہیں، میں جمائما خانن کا آج بھی احترام کرتا ہوں اور میرے خیال میں نازونعم میں پلی ہوئی اس برطانوی لڑکی نے اپنے شوہر کی خوشی کیلئے زندگی کی ساری راحتیں قربان کر دیں ۔ برطانیہ میں شاید کوئی سوچ بھی نہ سکتا ہو کہ گولڈ سمتھ کی بیٹی لاہور کے ایک سادہ سے گھر میں ایک بیڈ روم میں رہتی ہے جس کے سامنے چھوٹا سا لا ؤ رنج ہے میں نے عمران سے پوچھا ’’ ہماری بھابی پاکستانی کھانوں سے گھبراتی تو نہیں‘‘‘‘ ظاہر ہے ہم سرخ مرچ کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔ عمران کی شخصیت کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ یقینا وہ لندن یا دنیا کے کسی بھی بڑے شہر میں مغربی انداز زندگی اپنا تا ہو مغربی کھانے کھا ت تا ہو رہن سہن یورپین ہولیکن پاکستان میں ہمیشہ میں نے اسے میانوالی کا ایک اکھڑ پٹھان پایا جو قدرتی طور پر بولتا ہے تو بالعموم ڈپلومیسی بناوٹ اور مصنوعی اخلاقیات سے کوسوں دور ہوتا ہے اور جس ط طرح اکثر پنجابی اپنے دیہات میں جٹ ٹوٹ گھر درے اور مصنوعی اخلاقیات سے کوسوں دور ہوتے ہیں بالکل اسی طرح عمران بھی اول و آخر پٹھان ہے زیادہ تر کر تا شلوار میض شلوار پہنتا ہے بڑی ہیوی قسم کی پڑھانی چپل استعمال کرتا ہے جس روز کا میں ذکر کر رہا ہوں اس نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا ’’ ضیا کھا نا کھا کر جانا‘ کھا نا آیا تو تندور کی روٹیاں تھیں اور آلو گوشت تھتھا جس میں شاید کوئی سبزی بھی تھی، میں نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا بھابی کو بھی یہی کھلا تے ہو عمران نے اثبات میں جواب دیا اور کہا اسے پاکستانی کھانے بہت پسند ہیں ۔ میں نے کہا خدا کا خوف کرو ہوسکتا ہے وہ تکلف میں شکایت نہ کرتی ہولیکن ان کے لیے کوئی کک رکھو جوان کی پسند کی ویسٹرن ڈشز بنا سکے لیکن عمران نے جواب دیا وہ پاکستانی کھانے پسند کرتی ہے اور اب اسے یہیں رہنا ہے ۔ میرا عمر بھر کا تجربہ یہی ہے کہ عمران سے بحث کرنا بیکار ہے جو بات ایک مرتبہ اس کے دل میں آ جائے اسے نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک اور موقع پر بڑی بحث ہو رہی تھی اور جب سارے دوستوں نے دلائل دے کر ایک مسئلے پر اتفاق کا اظہار کیا تو عمران نے اچانکجج کی طرح اپنی رولنگ دیتے ہوئے کہا رات میں نے اس مسئلے پر پوچھا اور اچانک اوپر سے یہ آواز آئی ۔عمران نے تو جو بھی کہا لیکن میں نے اس اوپر سے آنے والی بات پر بڑی تنقید کی ۔ میں نے کہا بھائی جی میں ایک واقعہ سنا تا ہوں جو تاریخ کا حصہ ہے۔ ایک مرتبہ گاندھی جی اور قائد اعظم کے درمیان کسی مسئلے پر بحث ہو رہی تھی گاندھی جی نے قائداعظم کے دلائل سننے کے بعد جب کوئی جواب بن نہ پڑا تو اچاننک یہی جملہ کہا تھا جو تم کہہ رہے ہو یعنی میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ مجھے اوپر سے یہ آواز آتی ہے ۔ بندہہ خدا تم بی تو کہہ سکتے ہو کہ میرے دل سے یہ آواز آئی ہے جس کا م مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے دل نے گواہی دی لیکن اوپر سے آواز تو صرف پیغمبروں کو آتی ہے اور اسے وحی کہتے ہیں ۔ اس پر سب ہنس پڑے عمران نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا’ معاف کرنا یار میرا مطلب یہی تھا کہ دل سے آئی ہے ابھی میری اردو اتنی اچھی نہیں ہوئی اور کئی بار میں غلط بول جا تا ہوں ۔
عمران کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دوستوں کی بات سن کر اگر یقین ہو جائے کہ وہ غلطی پر ہے تو اپنے موقف میں تبدیلی پر غور کرنے کا وعدہ ضرور کرتا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں اس نے بہت سے فیصلے دوستوں اور ساتھیوں کے اصرار پر بدلے ہیں تاہم بالعموم وہ سنگل ٹر یک آدمی ہے اور اسے موقف تبدیل کرنے پر منا نا کافی مشکل ہوتا ہے ۔
عمران کی شادی کا ذکر چلا ہے تو میں ایک بار پھر جمائما خان کی قوت برداشت کو سلام پیش کروں گا۔ عمرانان کے طرز رہائش اور خاص طور پر سیاست میں فل ٹائم دلچسپی کے باعثعث میں نے کئی بار بے تکلفی میں اسے کہا’’ عمران لگتا ہے تمہاری شادی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ اس نے ہمیشہ میری بات سنی ان سنی کر دی ۔ ایک بار تو میں صرف اس مقصد کیلئے زمان پارک گیا۔ ۔ ہم نیچے ڈرائنگ روم میں دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور کوئی تیسرا پاس نہ تھا کہ میں نے اکیلے میں بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ صرف ایک خوفناککتاہمارے سامنے تھا جس سے میں حسب عادت ڈر کے مارے صوفے کی پشت میں گھساجارہا تھا، کیونکہ میں کتوں سے بہت ڈرتا ہوں ۔عمران کتےکے سر اور کمر پر بار بار ر پیار سے ہاتھ پھیر رہا تھا میں نے کہا بھائی میرا مشورہ ہے کہ تم لا ہور کی بجائے اسلام آ بادشفٹ ہو جاؤ اسلام آبادمغربی سٹائل کا کھلا کھلا خوبصورت شہر ہے فی الحال کوئی ڈھنگ کی کوٹھی کرائے پر لے لو اور بھابی کو اپنا گھر خودسیٹ کر نے دو وہ اپنی م مرضی سے کُک، ڈرائیور اور دوسرے ملازم منتخب کر میں۔ دوسرا میرا مشورہ یہ ہے کہ سیاست میں ضرور حصہ لولیکن کم از کم صبح اور شام اپنے گھر کو پورا وقت دو۔ پھر میں نے بڑی محبت سے کہا ’’یار ذرا سوچو تو سہی وہ لندن کے پر رونق ماحول سے یہاں آئی ہے اور تم نے اسے کوٹھی کے ایک بیڈ روم میں بند کر رکھا ہے۔ عمران نے میرے ریمارکس پر احتجاج کیا اور کہا کہ میری بیوی کی میری بہنوں سے بہت دوستی ہے اور ان کا وقت بہت اچھا گزر رہا ہے میں نے کہا میں بحث نہیں کرنا چاہتا بس دوستوں بھائیوں کا کوئی مشورہ مان بھی لیا کرتے ہیں ۔ اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے کئی دوستوں ننے کہا ہے میں عنقریب اسلام آباد چلا جاؤں گا ۔اسلام آباد میں مجھے عمران کے گھر کئی مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا میں نے وہاں بھی مصنوعی شان و شوکت کا کوئی منظر نہیں دیکھا۔ میرا خیال ہے جمائما خان بہت اچھی بیوی ثابت ہوئیں تاہم بیوی سے زیادہ وہ اچھی ماں ہیں، کئی بارگیٹ سے اندر ڈرائنگ روم میں جاتے وقت میں نے بالخصوص سردیوں میں سنہری دھوپ میں انہیں لان کی کرسیوں پر ددیکھا جہاں بچے ان کے گر کھیل رہے ہوتے تھے۔ ہم اندر جاتے ہوئے اور باہر آتے ہوئے ہمیشہ انہیں سلام کرتے ۔ عمران کی مصروفیات بڑھتی گئیں اور بالآخر وہی ہوا جس کا دوسرے دوستوںں کی طرح خاص طور پر مجھے ڈر تھا۔ جمائما بچوں کو ساتھ لے کر بار بارلندن جاتیں اور لیے وقفوں کیلئے وہاں رہنے لگیں ۔ پرویز مشرف کا دور تھا اورالیکشن سے قبل کوشش ہورہی تھی کہ اپاپوزیشن پارٹیوں کا گرینڈ الائنس بنایا جائے میرے دوست محمد علی درانی جنہوں نے ذاتی دوستی کے باوجود پہلے ہی دن انکار کر دیا تھا کہ میں عمران خان کی پارٹی میں شامل نہیں ہوں گا۔ میرےے مشورے پر فاروق احمد کی سیاسی پارٹی میں شامل ہو چکے تھے۔ لغاری صاحب سے ذاتی سطح پر میری بہت دوستی تھی میں بیسیوئوں باران کی طرف اور وہ متعدد بار میرے گھر آ چکے تھے۔ میں دومرتبہ ان کی رہائش گاہ واقع چوٹی زیر میں ( ڈیرہ غازی خان ) بھی گیا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب میں لیڈر آف جناب نواز شریف صاحب کی زبردست حمایت کر رہا تھا اور ان کے ساتھ یونس حبیب کو بیچی جانے والی زرعی زمین کے سکینڈل میں میاں صاحب شیخ رشید اعجاز الحق، چودھری شجاعت حسین، پرویز رشید اور مشاہد حسین کے ساتھ ایک ہی دین میں جس کے پیچھے بے شمار گاڑیوں نے دوسروسرے اخبارنویس ، ارکان اسمبلی اور سرگرم کارکن سوار تھے۔ چوٹی زیر میں کی طرف روانہ ہوا۔ اس دورے سے لاہور واپسی پر مجھے ایوان صدر سے فاروق لغاری صاحب کا فون آیا اور انہوں نے گلہ کیا کہ آپ میرے ساتھ لشکر میں شامل تھے اور میرے گھر کا محاصرہ کرنے پہنچے ،میں نے کہا جی میں سیاسی طور پر نواز شریف کے ساتھ ہوں البتہ آپ سے ذاتی دوستی کا رشتہ قائم ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
اقتدار سے الگ ہونے کے بعد میرے اصرار پر بعد ازاں فاروق لغاری صاحب نے محمدعلی درانی کوملت پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنایا اور بڑی محبت اور اصرار کے ساتھ مجھے کہا کہ الیکشن کے بعد پنجاب اسمبلی میں ہمیں خواتین کی پانچ نشستیں ملی ہیں ۔ میری خواہش ہے کہ آپ اپنی بیٹی سے کہیں کہ پنجابب اسمبلی کی رکنیت کے لئے ہماری پارٹی کے ٹکٹ پر اپلائی کرد میں میری بیٹی ڈاکٹر نوشین عمران نے جو آ جکل خبر یں کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں سختی سے انکار کیا کہ میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس پر درانی صاحب کی تجویز کے مطابق میرے بیٹے عدنان شاہد مرححوم کی اہلیہحمیرااویسکے کاغذات جمع کروادیئے گئے اور وہ ملت پارٹی کے ٹکٹ پر پانچ سال پنجاب اسمبلی کی رکن رہیں لیکن جن دنوں کی میں بات کر رہا ہوں ان دنوں پرویز مشرف بالخصوصص آئی ایس آئی اس کوشش میں تھے کہ ملت پارٹی دیگر جماعتوں سے مل کر گرینڈ الائنس بنائے اور اگر چہ عمران خان کے پاس ایک ہی سیٹ تھی لیکن بہر حال وہ نوجوانوں کی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ تھے اور پرویز مشرف انہیں بہت پسند بھی کرتے تھے۔
عمران خان بہت خوددار بلکہ انا پرست انسان ہے ۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احسان تھے البتہ جزل احتاحتشام ضمیر سیاسی شعبے کے انچارج تھے ۔ مارشل لا کا دور تھا اس لئے آئی ایس آئی ہی حکومت چلا رہی تھی ۔ وہ باری باری سب ہی سیاستدانوں سے ملاقات کر رہے تھے ۔ بیان کیا جا تا ہے کہ ایک دن انہوں نے آئی ایس آئی کے دفتر میں عمران خان کو بھی چائے کی دعوت دی جنرل احسان کا کمرہ سیڑھیاں چڑھ کر پہلے فلور پر تھا۔ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک کمرے میں مہمانوں کو بٹھا یا جا تا تھا۔ آئی ایس آئی والے دعوی کرتے ہیں کہ عمران کو صرف پندرہ منٹ انتظار کرنا پڑا تو وہ شدید غصے میں آ گئے اور ناراض ہوکر چلے گئے ۔ یہ واقعہ جنرل احتشام ضمیرنے مجھے خود سنایا تھا۔ وہ ہمارے اخبار کے ب بڑے سخت ناقد تھے اورعمر بھر اپنے والد اور معروف مزاحیہ شاعر سیدضضمیر جعفری پر دباؤ ڈالتے رہے کہ خبر یں میں کالم لکھنے کے بجائے فلاں اخبار میں کالم لکھنا شروع کر میں وہ بڑا معقول معاوضہ دیں
گے کیونکہ میں نے ان سے بات کر لی ہے یہ واقعہ بھی مجھے سید ضمیر جعفری کی وفات کے بعد احتشام ہی نےنے سنایا تھا کہ ضمیر جعفری مرحوم ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں نے پہلا مضمون اردو ڈائجسٹ میں لکھا جو ضیا شاہد مجھ سے لکھوا کر لے گئے تھے جو ان دنوں اردو ڈائجسٹ میں تھے اور پہلا اخباری کالم خبر یں میں لکھا جب 1992 ء میں اس اخبار کا آغاز ہوا۔ وہ نوجوان تھا جب سے میرے پاس گھر اور دفتر آتا رہا ہے میں نے خبر یں میں لکھنا چھوڑ دیا تو اسے دکھ ہوا۔ سید ضمیر جعفری اپنی علالت کے باعث امریکہ چلے گئے تو وہاں سے بھی خبر یں کے لئے آخرخری دنوں تک کالم بھیجتے رہے۔ ان کے کالم کا نام’ ضمیر حاضر ضمیر غائب ‘ہوتا تھا۔ اللہ جنت نصیب کرے بہت ہی شفیق اور مہربان انسان تھے اور کسی معاوضے کے بغیر عمر بھر انہوں نے میرے لئے کالم نگاری کی ۔
میں ذکر کر رہا تھا احتشام ضمیر کا جس سے لڑ کر عمران آئی ایس آئی کے ڈی جی سے ملے بغیر دفتر سے چلے گئے تھے۔ اتفاق سے میں ایک دن کے لئے اسلام آ باد گیا تو مجھ سے کئی سرکاری دوستوں کے علاوہ خود فاروق لغاری نے جو سابق ہو چکے تھے اور ملت پارٹی چلا رہے تھے خواہش ظاہر کی کہمحمدعلی درانی کو ساتھ لے کر عمران کے گھر جاؤ اور اسے منانے کی کوشش کرو میمیں نے کہا کہ عمران اپنی مرضی کا مالک ہے اس کی سوئی جہاں اٹک جائے وہاں سے ہٹانا بڑا مشکل ہوتا ہے وہ ایک بار انکار کر چکا ہے اور ناراض بھی ہو چکا ہے تو شاید نہ مانے۔ لیکن ان کے ااصرار پر میں درانی صاحب کو لے کر عمران کے گھر گیا۔ جمائما بھابی سے صرف سلام دعا ہوئی البتہ ہماری خواہش پر عمران نے الگ کمرے میں بیٹھ کر درانی صاحب کی بات سنی میں نے بتایا ہے کہ عمرانان خود دار، انا پرست اور کسی قیمت پر اپنی توہین برداشت نہ کر نے والا انسان ہے ۔ وہ سیاست پر گفتگو کے لئے تیار ہی نہ تھا بلکہ بار بار یہ کہ ہاتھا کہ پرویز مشرف صاحب کیا سمجھتے ہیں کیا میں ان کا نوکر ہوں میں سمجھا کوئی ضروری بات ہوگی اور جنرل احسان کی درخواست پر ملنے گیا لیکن وہ تو سیاستدانوں کو اپنانو کر سمجھتے ہیں ۔
قارئین میرے تعلقات کبھی احتشام ضمیر سے اچھے نہیں رہے کیونکہ وہ ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ آپ نے میرے باپ پر جادو کر رکھا ہے اور ہنس کر یہ کہتے تھے کہ تمہارا اخبار پڑھنے کے لائق ہے جس میں میراباپ کالم لکھتا ہے مجھ سے بھی جتنا ہوسکتا تھا میں اس کی مذاق ہی مذاق حجامت کرتا رہالیکن یہ بات بھی احتشام ہی نے مجھے بتائی تھی کہ عمران کا دماغ خراب ہے اس لئے ہمارا ادارہ اس پر اعتبار نہیں کرتا وہ کسی بھی وقت غصے میں آ کر کچھ بھی کر سکتا ہے اور کبھی ہمارے ڈسپلن میں نہیں رہا۔
احتشام ہی کی زبانی یہ واقعہ سن کر عمران کے گھر میں، میں نے اس سے کہا کہ احتشام کہتا ہے کیا عمران اتنابڑ الیڈ ر ہے کہ پندرہ منٹ سے زیادہ انتظارنہیں کر سکا۔ حالانکہ اس واقعہ سے چند دن پہلے مولانافضل الرحمان کو چائے پر بلایا گیا تھا اور اوپر میٹنگ ہورہی تھی اس لئے ہماری معذرت پر وہ دو گھنٹے تک انتظار کرتے رہے ۔ عمران یہ واقعہ سن کر اور غصے میں آ گیا۔ااس نے کہا’’ ضیا میں تمہارے اخبار میں کوئی دخل دیتا ہوں تم سیاست میں مجھے ان لوگوں سے ملنے پر کیوں آمادہ کر رہے ہو ‘میں نے کہا میں نے پہلے ہی لغاری صاحب سے کہ دیا تھا کہ تم موڈی آدمی ہو میں تمہاراذمہ نہیں لے سکتا البتہ درانی کے ساتھ ضرور جاسکتا ہوں، تم مناسب نہیں سمجھتے تو نہ کر دو۔ درانی صاحب کی درخواست پر عمران نے وعدہ کیا کہ وہ پشاور جارہا ہے کل شام کو واپس آئیگا اور فاروق لغاری صاحب سے ملاقات میں فیصلے کرے گا آگے کیا کرنا ہے ۔ڈرانی صاحب کی تجویز پر عمران نے اتفاق کیا کہ وہ پشاور میں کسی رپورٹر کے سوال میں نہیں کہے گا کہ میں نے گرینڈ الائنس میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور یہ مؤقف اختیار کرے گا کہ ہم سوچ رہے ہیں اور فیصلہ نہیں کیا۔
مجھے معلوم نہیں اور نہ میں نے کھوج لگانے کی کوشش کی کہ مجھے اس ضمن میں کوئی دلچسپی نہ تھی، عمران نے تو پشاور میں رپورٹروں سے واقعی کوئی بات نہیں کی اور گرینڈ الائنس کےسوال پر وہی کہا جو اس نے وعدہ کیا تھا کہ ایسا کوئی فیصلہ فی الحال نہیں کیا لیکن اسلام آباد میں میلوڈی سینما کے پاس اور اسلام آ با د ہوٹل کے عقب میں واقع تحر یک انصاف کے دفتر سے میڈیا سیل کے حوالے سے اگلے روز کے متعدد اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ تحریک انصاف نے گرینڈ الائنس میں شمولیت سے انکارر کر دیا ہے ۔ میرے توجہ دلانے پر کہ میں لاہور واپس آ گیا تھا عمران نے کہا کہ میں نے اسلام آ با د آ فس کو ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی تھی مجھے کم از کم اسکی بات پر یقین آ گیا کیونکہ مجھے دوسروں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ۔ برس ہا برس سے میں نے اس کی سیاست میں تو دل نہیں دیا لیکن سیاسی ہو یا غیر سیاسی مجھے ایسا کوئی واقعہ یادنہیں کہ عمران نے مجھ سے کوئی غلط بیانی کی ہو سیاسی مخالفین کا کام ہے کہ وہ اس پر کیچڑ اچھالیں یا اسے ببد دیانت کہیں لیکن میرے تجربے کے مطابق وہ نہ جھوٹا ہے نہ بددیانت ۔
قارئین مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس واقع کا اس قدر تفصیل سے ذکر کیا اور آپ کا اتنا وقت اسے پڑھنے پر صرف کیالیکن میرے نزدیک یہ چھوٹا سا واقعہ اس لئے بہت اہم ہے کہ میں ان سارے واقعات میں چشم دید رہا ہوں اور عمران کے بارے میں اور اس کی شخصیت کو سمجھنے کے لئے ان چیزوں کو ساممنے لانا ضروری تھا ورنہ عمران کے حوالے سے تو میں بیسوؤں ااور ہزاروں نہیں سینکڑوں واقعات کا امین ہوں لیکن میں صرف وہی بات لکھ رہا ہوں جن سے حامیوں یا مخالف پڑھنے والوں کو اس کے اندر جھانکنے کا موقع ملے ۔
عمران خان اور جمائما خان میں بالآ خر طلاق ہوگئی لیکن مجھے معلوم ہے کہ عمران آج تک جمائما کو بڑے اچھے لفظوں میں یاد کرتا ہے ۔ مخالفین لاکھ الزام لگائیں لیکن میں نے عمران کو بھی گھٹیا انداز میں کسی کے سامنے سو چتےیا بولتے نہیں پایا۔ دونوں نے متنازعہ امور طے کئے اورقانونی طور پر علیحدگی اختیار کرلی۔مجھے شادی کے ٹوٹنے کا دلی طور پر رنج پہنچا۔مجھے کوئی دعوی نہیں کہ میرا براہ راست یا بالواسطہ جمائما خان سے کوئی زیادہ واسطہ رہا ہے ۔
لیکن میں اس کی عزت کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں ۔ جب تک وہ عمران کی بیوی رہیں ان کی عزت کرتا ہوہوں اور انہوں نے ہمیشہ ہی ثابت کیا کہ وہ باعزت ،عصمت شعار اور مشرققی اقتدار کوقبول کرنے والی وفادار شریک حیات رہی ہیں ۔سیاست سے بھی زیادہ شوکت خانم کے ہر کام میں جمائما خان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ فنڈ ریزنگ کے لئے شاہی خاندان کی بہوڈ یا نا کو بھی انہوں نے مدعو کیا اور فنڈ ریزنگ ڈنر میں میں اپنی بیوی یا سیمن کے ساتھ سنٹرل ٹیبل کے بالکل قریب والی میز پر بیٹھا ہوا دیکھ رہا تھا اور خود یاسمین نے میرے ریمارکس کی تصدیق کی کہ کہ ساری دنیا میں ڈیانا کی خوبصورتی اور دلکشی کی شہرت پھیلی ہوئی تھی لیکن ہم دونوں میاں بیوی کی رائے میں جمائما خان ڈیانا سے کہیں زیادہ خوبصورت دلکش اوردلفریب نظر آتی تھیں ۔
عمران سے علیحدگی کے بعد برطانوی اداکار سے نہانے کے لباس میں جمائما کی تصاویر کونمایاں انداز میں پاکستانی اخبارات نے چھاپا کیونکہ ہم سب ایسے سکینڈلز شوق سے پڑھتےہہیں۔ مجھے انتظار ہی رہا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ عمران ایک بار پھر مجھ سے شکایت کرے گا کہ باقی اخبارات شوق سے چھاپیں تم نے یہ تصویر اورخبر کیوں شائع کی لیکن مجھے کوئی فون موصو ل ننہیں ہوا۔ چند ماہ بعد ایک کھانے پر ان سے ملاقات ہوئی ،ہم دونوں ایک ہی میز پر ساتھ ساتھ کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ کسی نے عمران سے شادی اور بچوں کے بارے میں سوال کیا تو عمرا ن کچھ دیر خاموشش رہا، پھر اس نے کہا ” جو کچھ ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے لیکن جمائما آج بھیمیرے بچوں کی ماں ہے میں اس کی خوشی کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ میں نے عمران کو بہت ر نجیدہ پایا تو ایک ددوست کی حیثیت سے تسلی دینے کے لئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ چند منٹ کے لئے خاموشی چھا گئی۔ تب میں نے بطور خاص کوشش کر کے گفتگو کا موضوع سیاست کیطرف موڑ دیا کیونکہ میں نہیں چاہہتا تھا کہ عمران پر ڈپریشن کےلمحات طول پکڑ جائیں۔
اتفاق سے اس کی دوسری شادی کے وقت نہ میں موجود تھا اور نہ میری ریحام سے کوئی ملاقات ہوئی ۔ البتہ جنرل حمید گل مرحوم نے مجھے فون پر یہ بتایا کہ ریحام خان کی شہرتت اچھی نہیں، پھر وہ بولے ” ضیاء میں ذاتیات کی بات نہیں کر رہا ہوں، میری معلومات کے مطابق وہ کسی ایجنسی کی پلانٹ کی ہوئی عورت ہے ۔ میں نے عمران کو پیغام بھی بھیجا ہے ۔ مجھے پتہ ہے تم بھی کھل کر بات کر سکتے ہو اور تمہاری بات بری لگے تو بھی وہ سن لے گا۔ میں نے کہا جنرل صاحب میرا کئی ماہ سے عمران سے کوئی رابطہ نہیں، میں اسلام آباد میں اس کے دھرنے کا بھی کوئی پر جوش حامی نہیں رہا۔ میری رائے تھی کہ دھاندلی کے خلاف جوڈیشل کمیشن بنوا لو اور ڈاکٹر طاہر القادری سے مل کر ایک دن میں انقلاب لانے کے لوٹو چین مطالبے نہ کرو، میں نے یہ پیغام بھی ددیا تھا کہ کوئی تمہارے کہنے پر اپنے گھر کی بجلی نہیں کٹوائے گا۔ میرے خیال میں شاید اس کے سیاسی یا ذاتی دوستوں میں سے کوئی بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ اسے منع کر سکے ۔ واضح رہے کہ گفتگو تک ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔ صرف شادی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ مرحوم حمید گل سے میرے پرانے تعلقات تھے، جو کام تحر یک انصاف نے کیا یعنی محاسبے کا مطالبہ، وہی برسوں پہلے عام الیکشن میں ہماری احتساب موومنٹ کر چکی تھی ، میںسیاسی جماعت نہیں غیر سیاسی اور غیر جماعتی تحریک تھی جس کے حمید گل صدر تھے، محمد علی درانی نائب صد ر اور میں جنرل سیکرٹری، ہم نے اخباروں میں صرف ایک اشتہار دیا تھا کہ الیکشن سے پہلے احتساب ہونا چاہیے اور ہمیں ایک ہفتے کے اندر دس ہزار سے زیادہ نام موصول ہوئے تھے ۔ ہم نے لاہور، اسلام آباد، مملتان ، پشاور میں احتساب موومنٹ کے جلسے بھی کیے تھے اور میرے ذمے یہ کام بھی لگا تھا کہ میں عمران سے اس سلسلے میں بات کروں لیکن میرا اصرار تھا کہ عمران ایک سیاسی جماعت چلا رہا ہے، وہ اگر چہ ہمارے مطالبے سے متفق ہے، لیکن اسے ساتھ ملانے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمارا پلیٹ فارم سیاسی جماعت کی طرح ہے جبکہ ہمارے با قاعدہ ممبران ہیں جنہوں نے دستخط شدہ فارم پر کیے ہیں ۔ زیادہ تعداد طالب علموں ، سرکاری ملازموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان کی ہے، تاہم ملک معراج خالد ہوںں یا عمران خان وہ بھر پورانداز میں ہماری حمایت کر رہے ہیں ۔
میں نے یہ واقعہ صرف اس لیے سنایا کہ حمید گل خود بھی زندگی بھر میری طرح عمران خان کے بہت دوست رہے۔ ان کی اہلیہ اور عبداللہ کی والدہ کی بیماری کے سلسلے میں حمید گل کافی پریشان تھے ۔ دوبار انہوں نے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپ اسلام آباد آ ؤ اور عمران روزانہ ایک بارکنٹینر سے اتر کر بنی گالہ اپنے گھر جا تا ہے آپ ان سے ملواور سمجھاؤ کہ ہرگز ہرگز اس عورت کے چکر میں نہ پڑے، مجھے نہیں معلوم حمید گل کی معلومات کا سورس ( ذریعہ ) کیا تھا۔ کیونکہ فون پر انہوں نے مجھے نہیں بتایالیکن ان کے بیٹے عبداللہ نے باپ کی وفات کے بعد لاہور آ کر م میرے دفتر میں مجھے تفصیل بیان کی کہ ریحام خان شادی سے پہلے میرے والد حمید گل سے ملنے ہمارے گھر آئی تھیں ۔ میرے والد نے مجھ سمیت لوگوں کو کمرے سے نکال کر علیحدگی میں ریحام سے باتت کی تھی۔ ملاقات ختم ہوئی اور ریحام جانے لگیں تو وہ بہت پر ایشان تھیں اور میرے پوچھنے پر میرے والد نے بتایا تھا کہ میں نے ریحام سے کہا ’’ میں آپ کو نہیں جانتا لیکن کیا آپپ فلاں فلاں شخص کو جانتی ہو اور کیا فلاں ادارے سے آپ کا تعلق نہیں رہا اور کیا آپ کو پاکستان بھجوانے اور عمران سے ملانے میں فلاں فلاں اشخاص سرگرم نہیں رہے۔
عزیزم عبداللہ گل کے بقول ریحام خان اس پر اپ سیٹ ہوگئیں اور جلد ہی وہ اٹھ کر چلی گئیں۔عبداللہ گل کو یقین تھا کہ ریحام خان کو پتہ چل گیا ہے کہ میرے والد ان کی حقیقت کو پہچان گئے ہیں لہٰذا انہوں نے فرار ہی میں عافیت جانی ۔عبداللہ گل اسلام آباد میں موجود ہیں اور اپنے گھر میں مل سکتے ہیں ۔ میں نے جو کچھ کہا اس سے زیادہ تفصیل وہ آپ کو بتا سکتے ہی ہیں۔ بہر حال میں نے جنرل حمید گل سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم عمران کے گردکون لوگ جمع ہو چکے ہیں ۔ میں نے انہیں دو تین پیغام بھیجے تھے کہ آپ دھرنے میں اپنا مطالبہ صرف انتخابی ہے قاعدگی جسے آپ دھاندلی کہتے ہیں اس کیلئے انکوائری کمیشن تک محدود رکھو ،وزیراعظم، وزیراعلی، استعفیٰ دے ۔ میں نے عمران سے کہا تھا کہ حکومتیں یا تو خونی انقلاب کے ذریعے تبدیل ہوتی ہیہیں یا مارشل لاء کے ذریعے لیکن بہتر راستہ یہ ہے کہ اگلے الیکشن کا انتظار کیا جائے یا پھر مڈٹرم الیکشن کروائے جائیں یوں دار الحکومت گھیر کر حکمرانوں کوتبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
جزل حمید گل نے مجھ سے ٹیلیفون پر پوچھا کہ آپ کو اپنے پیغام کا جواب ملا۔ میں نے کہا ’’کوئی جواب ب نہیں ملا، شاید وہ مصروف ہولیکن میرے خیال میں اس وقت عمران پرعشق کا بھوت سوار ہے لہٰذا اس سے بات کرنا یا شادی سے روکنا مشکل ہے یہ پھل بھی وہ چکھ لے اگر آپ کے شکوک حقیقت پر مبنی ہیں تو جلد ہی اسے اندازہ ہو جائے گا اور یوں بھی ریحام خان کی جو شہرت برطانوی حلقوں کے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے یہ شادی زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتی ۔‘‘
ریحام خان کے حوالے سے میری معلومات کا بہت بڑا ذریعہ لندن میں خبر یں اور چینل ۵ کی سپیشل کارسپانڈنٹ شمع جونیجو ہیں جوانٹرنیشنل لا ء کی اعلی ڈگری کیلئے مقالہ لکھ رہی ہیں پاکستان ٹی وی کراچی کی سابق اداکارہ آج دو بچوں کی ماں اور ایک اعلی پولیس افسر کی بیوی میں جو ڈیپوٹیشن پر یواین او کے مختلف ممالک میں خصوصی اسائنمنٹ پر کام کرتے ہیں شمع جونیجو نےاساس شادی سے پہلے ہی جو کچھ مجھے بتایا اس کی تفصیل یوں ہے۔
میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ریحام خان سے شادی ابھی نہیں ہوئی تھی یا بقول ریحام خان ابھی فوٹوسیشن کا انعقاد عمل میں نہیں آیا تھا کہ مرحوم جنرل حمید گل نے مجھ سے ککہا کہ آپ عمران کو سمجھائیں کہ وہ اس مشکوک خاتون سے شادی نہ کر میں ، میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے معذرت کی تھی اور کہا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اور یوں بھی وہ دل کے ہاتھوں مجمجبور نظر آتے ہیں اس لئے انہیں کچھ کہنا سننا بیکار ہے ۔اس سے قبل شمع مجھے لندن سے آگاہ کر چکی تھیں کہ بی بی سی پر موسم کا حال سنانے والی اس نام نہاد جرنلسٹ خاتون کا پس منظر کیا ہے ، للندن آفس سے وجاہت علی خان بھی مجھے تفصیل بھجوا چکے تھے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ریحام خان کے پہلے شوہر سے اس کا تنازع چلاتو یہ بات عدالت تک پہنچ گئی تھی اور لندن کے سماجی حلقوں میں یہ سکینڈل بہت مشہور ہوا تھا کہ ریحام کے شوہر نے اس پر الزام لگایا تھا کہ ان کی بچی کا ’’ڈی این اے‘‘ ٹیسٹ کروائیں تو ثابت ہوگا کہ وہ میری بیٹی نہیں ، ہمارے لندن آفس کا کہنا تھا کہ اگر خبر یںکوضرورت ہوتو ہم اس مقدمے کی تفصیلات اور شوہر کے الزامات بھجوا سکتے ہیں ،لندن آفس نے مجھے کچھ تصویر یں بھی بھجوائی تھیں ج جن میں ریحام مختلف لوگوں کے ساتھ ڈانس کر رہی تھیں ۔ میں نے نے کہا لندن میں کسی خاتون کا جو شوہر سے الگ ہو چکی ہو کسی بھی مرد کے ساتھ ڈانس کرنا کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی ، دوسرے مجھے اچھا نہیں لگتا کہ عمران جس خاتون سے شادی کر رہہا ہے یا ( کر چکا ہے ) ہم اس کے سکینڈل چھاپیں ، وہ جھوٹے ہیں یا سچے اب ایک خاتون شادی کر چکی ہے لہٰذا اس کے خلاف پروپیگنڈہ زیب نہیں دیتا۔ تا ہم یہ سچ ہے کہ میں اس شادی سے کچھ خوش نش نہیں تھا لہٰذا نہ میں نے شادی میں شمولیت کی نہ بعد ازاں کسی بھی ایسی تقریب میں شامل ہوا جہاں دونوں میاں بیوی موجود ہوہوں ۔ریحام لا ہور آئی تو سمن آباد میں تحریک انصاف کے جلسے میں جہاں عمران خان کو تقریر کر نا تھی خواتین کے ایک جلوس کے ساتھ شامل ہوئی ، وہ پشاور اور کئی دوسرے مقامات پر بھی اپنے شوہر کے شانہ بشانہ سیاسی تقریبات میں حصہ لیتی رہیں ۔ تاہم خبر یں کی فائل گواہ ہے کہ ہم نے کبھی عمران کی دوسری بیوی کے بارے میں کوئی منفی خبر نہیں چھاپی ۔
گزشتہ روز کے اخبارات میں ریحام خان کا ایک انٹرویو چھپا ہے کہ میری شادی تو پہلے ہو چکی تھی جسے خفیہ رکھا گیا اور بعد میں تاریخ مقرر کر کے فوٹوسیشن کروایا گیا اور دوبارہ نکاح کی رسوم ادا کر دی گئیں ۔ یہ دعوی سچ ہے یا غلط ، مجھے اس سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ۔انہی دنوں ایک بار فون پر عمران سے بات ہوئی تو بھی میں نے رسماً بھی شادی کی مباد کہا نہیں دی ، میں اس بارے میں ہمیشہ خاموش رہا، تا ہم نجانے کیوں میرے دل میں یہ خیال موجود تھا کہ میشادی زیادہ دیر چل نہیں سکتی ۔ شادی کے فوٹوسیشن سے ڈیڑھ دو ماہ بعد ہی مجھےلندن سے شمع جونیجو کا فون آیا اور نے خبر چھاپنے سے منع کرتے ہوئے یہ کہا کہ آپ کی اطلاع کے لئے بتا رہی ہوں کہ میں چونکہ میرج کونسلنگ کا کام بھی ک کرتی ہوں اور کئی جوڑوں کی شادی ٹوٹنے سے بچا چکی ہوں ۔ ریحام م سے ایس ایم ایس پر میری مسلسل بات ہوئی ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ بہت مسائل میں الجھی ہوئی ہے اور شاید تعلق زیادہ دیر نہ چل سکے ،شمع جونیجو نے مجھے بہت تفصیلات بتائیں جن میں ببہت سی ذاتی معلومات بھی شامل تھیں لیکن میں نے کبھی ان معلومات کے حوالے سے ایک لفظ بھی اخبار میں شائع نہ کیا ، ایک تو شمع کا اصرار تھا کہ وہ صرف معلومات کے لئے مجھے بتارہی ہے اور ان باتوں کو عام نہ کیا جائے ، دوسرے مجھے اچھا نہیں لگتا تھا کہ عمران کے بارے میں میاں بیوی کے مابین ذاتی الزامات یا شکایات ساسامنے لاؤں، ہاں جب کبھی دوسرے اخبارات خبر میں چھاپتے تو میں ششمع کے حوالے سے کسی خبر کی تردید یا تصدیق ضرور شائع کر دیتا۔ ریحام کے خلاف افواہیں عام ہونے لگیں اور بالآخر وہ اپنا سامان اٹھا کر بنی گالہ سے اسلام آباد کسی دوسری جگہ منتقل ہوگگئیں بنی گالہ کے قیام کے بارے میں اس کی چھوٹی سے چھوٹی شکایت یا چھوٹے سے چھوٹا گلہ مجھے شمع کے ذریعے ملتارہاحتیٰ کہ اس کا یہ شکوہ بھی مجھے بذریعہ شمع ہی موصول ہوا کہ اس کے پاس عمران خان کاکا بیڈ روم بھی کئی بار نہیں ہوتا کیونکہ عمران کے کتے اس کے آنے سے پہلے ہی بیڈ پر لیٹ جاتے ہیں ۔ ریحام یہ شکایت کرتی تھی کہ وہ کتوں کی موجودگی میں بستر پر آرام بھی نہیں کرسکتی اور یہی بے شمار شکایات تھیں جن کے سچ یا جھوٹ ہونے کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہیں اور نہ میں نے ایک اخبار نویس ہونے کی حیثیت سے اور سنسنی خیزی کی خاطر اس سے بھی کہیں زیادہ نجی قسم کی باتتوں کو اچھالا اور نہ اخبار کی سرکولیشن بڑھانے کی کوشش میں بنی گالہ کے خلاف کوئی مواد چھاپا، میرے خیال میں ایسا کرنا ایک پرانے دوست سے زیادتی بھی ہوتا اور ملکی سیاست میں بھی کر پشن اور دھاندلی کے خلاف عمران کی جد و جہد جس میں بہر حال وزن تھا، متاثر ہوتی ۔
میری ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی کہ تحر یک انصاف اور حکومتی پارٹی کے مابین متنازع معاملات پر کم از کم کچھ مفاہمت ہو جائے تا کہ حکومت ،عوام اور خود عمرانن مزاحمت کی سیاست میں نقصان نہ اٹھائیں لیکن شب وروز جو کچھ ہورہا تھا اس کا ایک ایک واقعہ قارئین کے علم میں ہے لہٰذا اسے د دہرانا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا ، تاہم ذاتی طور پر مجھے تتشویش لاحق ہوئی کہ عمران پہلے ہی ذہنی دباؤ میں ہے میری دعا تھی کہ چلیں جیسی بھی خاتون ملی آب عمران کی شادی چلتی رہے اورلڑائی جھگڑے علیحدگی تک نوبت نہ پہنچے، میں نے کبھی عمران سے بات نہیں کی اور ریحام سے تو مجھے زندگی بھر نہ آمنے سامنے ملاقات کا موقع ملا اور نہ بھی فون پر بات ہوئی حالانکہ میں چاہتا تو کسی بھی وقت مل سکتا تھا اور خاص طور پر شمع کے حوالے سے ججب چاہتا ایس ایم ایس پر رابط کر لیتا یا کال پر گفتگو کرسکتا، میں نے بڑی کوشش کر کے اپنے آپ کو اس تنازع سے الگ رکھا، البتہ جب معاملہ بہت بڑھ گیا ریحام لندن پہنچی اور عمران نے اسے طلاق بھیج دی اور وہ غصے میں پڑھ رہی تھی تو بھی دوسری مرتبہ شمع نے مجھے ایس ایم ایس کیا کہ میں فلاں جگہ پر موجود ہوں اور ریحام سامنے بیٹھی ہوئی ہے اور بہت اشتعال میں عمران پر سنگین الزامات لگا رہی ہے تو بھی میں ہمیشہ شمع کو پیغام بھیجتا رہا کہ آپ اسے ٹھنڈا کرو اور جولوگ اس کے ذریعے عمران کی ذاتی زندگی پر کیچڑاچھالنا چاہتے ہیں ان سے ریحام کو بچاؤ۔
ایک بار ریحام وقتی طور پر جس ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی (اور بقول شمع و معمولی سا ہوٹل تھا )جس سے اندازہ ہوتا تھا کہیہ خبریں اس نے عمران کے مخالفین سے کوئی بھاری رقم وصول کی ہے یا عمران کے دوستوں نے اسے زبان بند رکھنے کے سلسلے میں ڈیل کے طور پر کچھ نقدی پیش کی ہے شاید یہ درست نہیں کیونکہ شمع کا کہنا کہ ریحام پر یشان ہے اور مالی طور پر بھی اس کی حالت اچھی نہیں ۔ ایک بار شمع نے اس کی موجودگی میں مجھے ایس ایم ایس کیا کہ میں نے آپ کا ذکر کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ خبر یں آپ کے خلاف نہیں ہے ۔ حالانکہ ضیا صاحب کے عمران سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور مجھے کہا کہ وہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں تو میں نے مصلحتا ً یہ کہا کہ فی الحال رک جاؤ اور میں نے فون پر بھی ریحام سے بات نہیں کی ،عمران اپنے ذاتی مسائل میں الجھا ہوا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ریحام سے بات کر کے یا کچھ چاپ کر یاٹی وی پر اسے کوریج دے کر عمران کے لئے مزید پریشانی کا باعث بنوں ، یہی وجہ ہے کہ میں نے لندن میں کبھی ریحامم سے بات کی نہ میسج پرکوئی پیغام بھیجا وہ پاکستان واپس آئی اور ایک ٹی وی چینل سے وابستہ ہوگئی، پھر اس چینل سے متعلقہ کچھ لوگوں پر بقول شمع جونیجو الزامات لگا کر واپس لندن چلی گئی ، میری چینل کے مالک سے اچھی سلام دعا تھی اور ہے لیکن میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ میں نے خود کو اس معاملے سے ہمیشہ یکسر الگ رکھا، شادی ہوئی تو عمران ریحام کی شادی پر مبنی اخبار کا رنگین صفحہ بھی چھاپا اور ان کی شادی کی کامیابی کے لئے دعا بھی کی اگر چہ مجھے اندر سےیہ علم تھا کہ شاید می شادی چند ماہ بھی نہ چل پائے ۔ ریحام کو کسی نے پلانٹ کیا تھا یا عمران جذباتی طور پر پھنس گیا تھا، میں اس بارے میں بھی بہت کچھ جانتا ہوں لیکن میں کبھی نہ کچھ شائع کروں گا اور نہ ٹی وی پر بات کروں گا ، میری دانست میں یہ عمران کی زندگی کا ایک ایسا باب تھا جو اب ختم ہو چکا اور اسے خوامخواہ سکینڈل بنا نا مجھے اچھا نہیں لگتا۔
میں چاہوں تو عمران ریحام کے حوالے سے تین چار سو صفحے کی کتاب لکھ سکتا ہوں اور شاید وہ کاروباری طور پر خاصی منافع بخش بھی رہے ۔ اگر شمع میرا ساتھ دے تو شاید بنی گالہ سے شمع کو موصول ہونے والے بڑے خوفناک ایس ایم ایس بھی بہت سنسنی پھیلا سکتے ہیں، لیکن شمع اچھی خاتون ہیں ، میں نے اسے بھی کسی کے بارے میں بھی کوئی گھٹیا بات کرتے یا لکھتے نہیں دیکھا اس کے سیاسی تجزیئے بہت تیز ہوتے ہیں مگر ذاتی سطح پر دوستوں کی دوست ہے، وہ بے نظیر بھٹو کی عاشق ہے ، پپیدائشی طور پر سندھی ہے لیکن شہید بی بی کے بعد سامنے آنے والیلی پیپلز پارٹی کی کرپشن اور بے اصولی سے بیزار ہے، اس کے باوجود میرے اصرار پر وہ اپنے بچوں کے ساتھ آصف علی زرداری سے ملنے گئی اور ان کا پہلا تفصیلی انٹرویو کیا جس کی لیڈ سٹوری خخبریں میں شائع ہوئی۔
آج ریحام کہاں ہے، کیا کر رہی ہے، کون اسے کیا کہہ رہا ہے اور کون اسے کہاں استعمال کرنا چاہتا ہے، مجھے اس بارے میں بھی تازہ ترین معلومات شمع ہی سے ملتی ہیں، لیکن سچی بات ہے کہ ایک اچھی اور نیک دل خاتون ہونے کے ناطے شمع نے ریحام کا گھر اجڑ نے سے بچانے کے لیے بڑی کوشش کی ، یہی وجہ ہہے کہ پاکستان سے واپس لندن پہنچنے کے بعد بھی ریحام مسلسل ہمارری کارسپونڈر سے ملتی رہی اور آج کل بھی ان دونوں میں مسلسل رابطہ ہے لیکن شمع خاندانی خاتون ہیں اور میں نےکبھی نہیں دیکھا کہ اس نے کسی کا سیکرٹ (راز ) اچھال کر وقتی ففائدہ یا شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہو، وہ آج بھی ریحام کی بات سنتی ہے اور اپنی طرف سے اچھا مشورہ دیتی ہے۔
میں نے عمران اور ریحام کی شادی کے حوالے سے بہت محتاط انداز میں وقت گزارا ہے، عام طور پر الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اتنے صبر اور تحمل کا مظاہر نہیں کرتا لیکن میں نے شروع میں چھاپا تھا کہ تحر یک انصاف سے مجھے اختلاف بھی ہوسکتا ہے اور اتفاق بھی لیکن جوانی کے دنوں سے اب تک عمران سے میرا دوستا نہ تعلق رہا ہے اور ہم دونوں ایک دوسرے کا جو احترام کرتے ہیں اس کے پیش نظر میں نے عمران ریحام تعلق ، پھر شادی بعد ازاں طلاق ،کسی بھی مرحلے کو بہت کچھ جاننے کے باوجود سکینڈ لائز نہیں کیا) میں نے عمران کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی کبھی اس سے بات نہیں کی ہاں اگر کبھی ضروری سمجھا تو بڑے خلوص سے کوئی مشور ہ ضرورر دیا ،عمران 62 برس کا ہونے کے باوجود ( اب شاید 63 کا ہونے والا ہو ) خواتین تو کیا نو جوان لڑکیوں کے لیے بھی اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنی پارٹی کی کسی خوبصورت سے خوبصورت لڑکی سے اپنی خواہش کا اظہار کرے تو وہ خوشی سے پاگل ہو جائے لیکن مغرب میں ایک طویل عمر گزارنے کے باوجود کم از کم آج کل وہ مشرقی انداز و
اطوار پرعمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہے، ہو سکتا ہے کسی کو یہ بات بری لگے لیکن حقیقت یہی ہے کہ شادی ہو یا نہ ہو عمران کے لیے زندگی بھر گلیمر کے باعث کسی بھی خوبصورت لڑکی کو حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ،مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی خواتین ہوں یا شوکت خانم کے لاہور اور پشاور پراجیکٹ سے منسلک لڑکیاں، وہ انتہائی وضع داری اور شرم وحیا کا پاس رکھتا ہے اور اگر چہ اس کے بعض سیاسی مخالفین اس پر آج بھی راتوں کو رنگین بنانے کا الزام لگاتے ہیں لیکن میں اپنے ضمیر کے مطابق سچی بات کروں گا ۔ عمران خواتین کے بارے میں بہت ش شائستہ ،محتاط اور وضع دار انسان ہے اور اس پر بے ہودہ الزامات انتہائی لغو اور لایعنی ہیں، وہ زندگی کی ان ساری دنیاوی آسائشوں کو دیکھ چکا ہے ۔ وہ گلیمر کی دنیا لوٹ چکا ہے لیکن برسوں سے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کے اندر مسلسل سوچ بچار ،مطالعے ،مشاہدے اور بعض روحانی شخصیات کے افکار کی روشنی میں لندن میں رہائش پذیر کھلاڑی یا اس زمانے کے لاہور میں اس کے مشاغغل اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں ۔
آج میں جس عمران کو جانتا ہوں اسے اپنے او پر بے پناہ اعتماد ہے اور مجھے یقین ہے کہ جب اس نے فواحش زندگی کو چھوڑ نے کا فیصلہ کیا ہوگا تو بڑی سے بڑی ترغیب یا خواہش اسے ہرگز ہرگز صحیح راستے سے بہلا یا پھسلا نہیں سکتی اور اگر وہ مخالفوں اور دشمنوں کے بقول ایسا ہی عیاش ہوتا تو پیپلز پارٹی کے بعد تحریک انصاف پاکستان کی دوسری جماعت ہے جس میں نو جوان لڑکیوں سے معمر خواتین تک ہزاروں نہیں لاکھوں عورتوں نے اسے اپنالیڈ ر مانا ،لیکن عمران نے ریحام سے بھی با قاعدہ شادی کی ( جبکہ وہ تین بچوں کی ماں تھی) اور کوئی گناہ نہیں کیا۔
میں پاکستان کے بہت سے سیاستدانوں کو جانتا ہوں جنہیں میں نے ایوب خان سے لے کر آج تک قریب سے دیکھا۔ ۔ عام لوگوں کو تو چھوڑ میں میں ایسے بزعم خود علماء سے بھی وا واقف ہوں جن کی شکلوں پر نہ جائیں ان کے اعمال تک آپ کی رسائی ہو جائے تو کانوں کو ہاتھ لگانے کو جی چاہتا ہے ۔ سیاسستدانوں کی اکثریت بقول شخصے سب کچھ کرتی ہے لیکن ذرا چپ کر ،رفع شر کے خیال سے لوگ نہ اس موضوع پر بولتے ہیں نا لکھتے ہیں لہٰذا پنجابی محاورے کے مطابق ۔
ایسبگول تے، کجھ نہ پھول
قارئین یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ میں کبھی تحریک انصاف کا رکن یا عہد یدارنہیں رہا۔ یوں بھی عملی سیاست میں ایک بار حصہ لینے پر مجھے جو تلخ تجربات ہوئےئے تھے ان کے پیش نظر مجھے اپنا صحافتی کر دار زیادہ پسند ہے۔ سب ہی جماعتوں میں میرے دوست بھی ہیں مخالف بھی ہیں ۔ ہر جماعت ہر حکومت کی کوئی بات اچھی لگے تو تعریف کرتا ہوں اور بری لگے تو تنقید عمران خان اکثر دوستوں کی مجلس میں یہ کہتا ہے کہ ضیا شاہد تحر یک انصاف بنانے والوں میں شامل تھا تو اس کے پس منظر سے پڑھنے والوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے یہ اس کی دیانتداری اور محبت ہے کہ وہ بہت اچھے انداز میں میرا ذکر کرتا ہے ۔ وگرنہ وہ سرے سے انکار بھی کر دے تو نہ مجھے اسکی تردید کی ضرورت ہے اور نہ مجھے اس بحث میں پڑنا ہے۔
زندگی میں میری بہت بار اس سے بحث ہوئی شاید کبھی اختلاف بھی ہوا ہولیکن کھلاڑی سے لیکر سوشل ورکر تک میں ہمیشہ اس کا مداح رہا ہوں اور وہ ٹھیک کہتا ہے کہ سیاست میں تو اسے لانے میں شاید میں گنتی کے ان چند لوگوں میں شمار ہوتا ہوں جنہوں نے شوکت خانم کی تکمیل کے بعد مہینوں اس پر دباؤ ڈالا کہ اسے قومی سیاست میں آنا چا ہئے جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ میرے اس سے ہمیشہ برادرانہ تعلقات رہے لیکن عمر میں چند سال چھوٹا ہونے کے باعث اس نے ہمیشہ میرا بہت احترام کیا جس کے لئے میں آج بھی اس کا شکر گزار ہوں ۔
عمران کچھ اور دوستوں کی طرح میری بھی یہی رائےتھی کہ پاکستانی سیاست کو پڑھے لکھے، فعال اورمحنتی اور عوام دوست لیڈروں کی ضرورت ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کرکٹ سے جو نیک نامی اس نے کمائی تھی ہم سمجھتے تھے کہ شوکت خانم کی تعمیر سے اسے جو عوامی پذیرائی ملی ہے اس کی بنیاد پر اسے سیاست میں آنا چاہئے یہ بحثیں مہینوں تک جاری ر ہیں، زمان پارک میں شوکت خانم کے کسی کمرے میں اس کے ذاتی دوستوں کے گھروں کے ڈرائنگ رومز میں، اس کے علاوہ فوج کے بعض ریٹائرڈ جرنیلوں کی تجاویز کے حوالے سے بعض سینئر سیاست دانوں بالخصوص دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین مسلسل محاذ آرائی سے تنگ آئے ہوئے سیاسی دانشوروں میں اور سب سے بڑھ کر عمران کو قومی کرکٹ ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے پرستش کی حد تک پہنچے ہوئے کرکٹ کے شوقین نوجوانوں میں دانشوروں ،صحافیوں قلم کاروں میں، غرض مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان مستقل کھچاؤ اور طویل لڑائی کے سبب تیسری فوررس کے حق میں دیئے جانے والے بیانات میں یہ سوچ ابھری اور بالآخر ہم لوگوں نے عمران کو رضامند کر لیا۔ وہ ملکی سیاست کے بارے میں بڑی دیانتداری سے کرپشن فری اور مغربی جمہوریت کے حوالے سے اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں ایک واضح تصور رکھتا تھا لیکن اسے سیاسی شکل میں نہیں ڈھالا گیا تھا۔ ہفتے دس دن میں رات کو اسے کوئی نیا خیال آیا تو وہ صبح کی سیر جوان دنوں نہر کے کنارے ہوتی تھی اور جسے وہ جاگنگ قرار دیتا تھا وہ زمان پارک سے ماڈل ٹاؤن میرے گھر تک ٹریک سوٹ میں گھر پہنچ جاتا اور ہم مہینے میں دو تین بار دو دو تین تین گھنٹے بحث مباحثہ کرتے سیاستدانوں میں ملک معراج خالد دونوں پارٹیوں سے بیزار تھے اور عمران کو بہت پسند کرتے تھے۔ جنرل حمید گل کی بھی یہی خواہش تھی، جنرل ضیاء الحق کے سیکرٹری اطلاعات جزل مجیب الرحمان تو بعد ازاں تحر یک انصاف میں شامل ہوئے اور صحافیوں میں سب سے زیادہ حصہ میرے دوست اور ایک زمانے میں خبر میں کے کالم نویس اور آج کے دانشورحسن نثارر نے ڈالا بلکہ مجھے یاد ہے کہ تحریک انصاف کا نام بھی حسن نثار کا تجویز کردہ ہے بعد میں یہ قافلہ بڑھتا گیا میرے ایک اور دوست ہارون الرشید جو ایک زمانے میں خبر یں کے بھی ساتھی قلم کار ہے نے عمران خان کے حق میں بہت لکھا، بہر حال میں ذکر کروں گا پہلے دن کا جب ہم سب نے خوشی خوشی عمران خان کو سیاست میں اتارنے کی تاریخ مقرر کی ۔
لاہور میں ایوان اقبال کے سامنے نیا بنا ہوا ہوٹل’’ ہالیڈے ان‘ پہلی پر یس کا نفرنس کے لئے چنا گیا کیونکہ بحث میں طے پایا تھا کہ ہم پی سی یا آواری جیسے فائیوسٹار ہوٹلوں سے ہٹ کر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس تک پہنچنے کے لئے شروع سے بین بین چلنے کی کوشش کر یں گے ۔ زمان پارک میں رات بارہ بجے تک زور وشور سے بحث جاری رہی۔ شرکاء میں سے کوئی بھی عملی سیاسست سے آگاہ نہ تھا محمد علی درانی نے تھوڑی بہت سیاست کی تھی یا پھر صحافی ہونے کے ناطے میں نے سیاست کو قریب سے دیکھا تھا۔ دیگر شرکاء میں عمران کے ذاتی دوست پیش پیش تھے۔ ان میں شوکت خانم ہسپتال کے ایگزیکٹو انچارج برقی صاحب بڑھ چڑھ کر مشورے دے رہے تھے جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے ایک بجے فیصلہ ہوا کہ میٹنگ میں جو گفتگو ہوئی ہے اب اسے کاغذ پر منتقل کرنے کیلئے خبریں آفس کا رخ کیا جائے جہاں اخبار کی کمپوزنگ کرنے والا پورا کمپیوٹر سیکشن رات بھر کام کرتا تھا۔ ڈیڑھ بجے میرے کمرے میں اسی میز پر جہاں میں بیٹھا ہوں میز کی دوسری طرف دو کرسیاں ہیں ان میں سے دائیں کرسی پر عمران خان براجمان تھے کچھ دوست دیواروں کے ساتھ لگے ہوئے انہی صوفوں پر بیٹھے تھے اور یہ محض اتفاق ہے کہ کم وبیش اٹھارہ میں برس گزرنے کے باوجود اس کمرے کا نقشہ وہی ہے جو اس رات تھا، دونوں ٹیلی ویژن کی بھی جگہ وہی ہے البتہ صوفے اور میز تبدیل ہو چکے ہیں ،جونوٹس ہم زمان پارک سے بنا کر لائے تھے ان کی بنیاد پر میں نے پریس کا نفرنس کیلئے عمران خان کا بیان تیار کیا اسے پڑھ کر سنایا کچھ تبدیلیاں عمران خان کے دوستوں نے کروائیں کچھ عمران نے اپنی مردانہ اور تحکمانہ آواز کے باوجود عمران اپنے اندر بہت مہربان اور دوستوں سے محبت کرنے والا انسان ہے ان دنوں بالخصوص اسےسیاسی اصطلاحوں سے کچھ زیادہ واقفیت نہیں تھی البتہ آج وہ برسوں اس دشت کی سیاحی کے بعد بہت تیز طرار اور تقریر کے میدان کا شہسوار بن چکا ہے ایک ایک پیراگراف پر بحث ہوئی ایک ایک سطر پر نکتہ چینی کی گئی اور بالآ خر بیان کا پہلا مسودہ کمپوزنگ کے لئے دیا گگیا۔ رات کے اڑھائی بج چکے تھے اور اخبار کی کاپیاں تیاری کے آخری مراحل میں تھیں ۔ تاہم کمپوزنگ کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ ہہر اخبار میں رات کی شفٹ میں چالیس سے پچاس تک کمپیوٹر آپر یٹر کامم کرتے ہیں پہلا بیان مکمل ہو کر آیا تو پھر بحث شروع ہوگئی ۔
عمران میں اب کافی پختگی آ گئی ہے لیکن شروع میں وہ بچوں کی طرح کوئی بات پسند نہ ہو تو شدید رد عمل کا اظہار کرتا تھا، ایک مرحلے پر اس نے بحث مباحثے سے تنگ آ کر ک کمپوز شدہ صفحے پھاڑ دیئے اور کہا’’ ضیا، یارسارا کچھ مس ہو گیا ، ضیا، میرے خیال میں صبح کی پریس کانفرنس ملتوی کر وا دیتے ہیں ابھی میرا ذہن مطمئن نہیں ہے، کمرے میں ویسے بھی کافی گرمی تھی کیونکہ ہمیشہ کی طرح مجھے بہت گرمی لگتی ہے اور میں اپنا کمرہ بہت ٹھنڈا رکھتا ہوں لیکن اس دور میں عمران خان بالعموم میرے گھر آتا تو سب سے پہلے ڈرائنگ روم کا اے کی بند کرواتا اور میرے د دفتر آتا تو خود اٹھ کر دیوار پر لگے ہوئے سپلٹ یونٹ کا سویچ آف کر دیا پھر وہ ہمیشہ کی طرح مجھے لیکچر دیتا کہ کمر واتنا ٹھنڈا نہ رکھا کرو ، آدمی کوخوب پسینہ آنا چاہیے ۔ تا کہ اس کے جسم کے مسام کھل جائیں چنانچہ دن بھر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھتے ہورات کو ٹھنڈے کمرے میں سوتے ہو، جا گنگ تم نہیں کر تے ورزش تم سے نہیں ہوتی دیکھ لینا تمہیں کوئی نہ کوئی پیاری لگ جائے گی ۔
بہر حال میں ذکر کر رہا تھا اس رات کا میں نے بھی مصنوعی غصے میں اسے ڈانٹا اور کہا ہم رات سے بحث کر رہے ہیں اور اب صبح ہونے والی ہے، آخر تمہارا پرابلم کیا ہے؟ عمران کی بات سن کر میں ہنسنے لگا۔ میں نے کہا ’’بندہ خدا، جس طرح تم کرکٹ کے میدان میں اپنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں