76

حالیہ سیلاب میں المصطفیٰ نے خدمت کا نیا باب لکھا ہے ، پیر سید عمران ولی شاہ وفاقی وزیر تخفیف غربت

عبد الرزاق ساجد کا دور طالب علمی سے ساتھ ہے تب ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی معرکہ سر انجام دیں گے
28 اضلاع میں پھیلے المصطفیٰ کے ریلیف آپریشن میں حصہ لینے والے سات ہزار کے قریب رضا کاروں کی خدمات کے اعتراف میں ہونے والی تقریب میں وفاقی وزیر سید عمران ولی شاہ ، چیئرمین المصطفیٰ عبد الرزاق ساجد ، سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں خالد حبیب ، ایم ڈی المصطفیٰ نصرت سلیم ، معروف تجزیہ نگار سید ارشاد احمد عارف ، معروف صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ ، عامر ہاشم خاکوانی سمیت متعدد سماجی ، سیاسی ، علمی ، ادبی اور رفاہی شخصیات کی شرکت

رپورٹ : محمد نواز کھرل
پنجاب ، خیبر پختونخواہ اور سندھ کےسیلاب سے متاثرہ 28 اضلاع کے 200 سے زائد دیہات اور موضع جات ایسے تھے جہاں المصطفی ٰ ویلفئر ٹرسٹ نے امدادی سرگرمیاں شروع کیں ۔جس سے 10 لاکھ سے زائد متاثرین مستفید ہوئے ۔ المصطفیٰ کی امدادی سرگرمیوں کا وسیع تر ریسکیو آپریشن صرف اس لیے ممکن ہو سکا ہے کہ اسے 7000 کے قریب رضا کاروں کی خدمات میسر رہی ہیں جنہوں نے دن رات ایک کر کے متاثرین کی اشک شوئی کی ۔ ان رضا کاروں کی خدمات کے اعتراف میں المصطفیٰ نے اپنے لاہور آفس میں ایک تقریب منعقد کی جس میں وزیر تخفیف غربت پیر سید عمران ولی شاہ نے خصوسی طور پر شرکت کر کے ن رضا کاروں کی تحسین کی ۔ اس تقریب میں جھنگ ، چنیوٹ ، کنگن پور قصور ، وزیر آباد ، گجرات ،سیالکوٹ ، منڈی بہاؤ الدین ، اوکاڑہ ، پسرور ، لاہوراور میاں چنوں کے اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے رضاکاروں کو اعزازی شیلڈز دی گئیں جبکہ اگلے مرحلے میں باقی اضلاع کے رضاکاروں کو شیلڈز دی جائیں گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تخفیفِ غربت سید عمران ولی شاہ نے کہا کہ وہ عبد الرزاق ساجد کو دوران ِ طالب علمی سے جاتے ہیں ۔اسی وقت انہوں نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی کام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام وہی کر سکتے ہیں جن کے دل میں خلق ِ خدا کی محبت جاگتی ہے جو خدا تک پہنچنے کو یہی سیڑھی استعمال کرتے ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ یہ لوگ آج کے ولی ہیں جنہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا خدمت کورکھا ہے۔ عمران ولی شاہ نے کہا کہ وہ ملک میں غربت میں کمی لانے کے وزیر ہیں لیکن حکومت اکیلے یہ کام نہیں کر سکتی جب تک کہ اسے المصطفیٰ جیسے فلاحی اداروں کی خدمات حاصل نہیں ہوتیں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں خالد حبیب نے کہا کہ المصطفیٰ نے صحت کی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی ریلیف میں جو نام کمایا ہے اس کے پیچھے اس کی ٹیم کا جوش وجذبہ اور لگن کارفرما ہے ۔ سید ارشاد احمد عارف نے کہا کہ جو چیز المصطفی ٰ کو دیگر خیراتی اداروں سے ممتاز بناتی ہے وہ اس کا بلا لحاظِ رنگ و نسل ، فرقہ اورمذہب سے بالا تر ہو کر خدمت ِ انسانیت کرنا ہے ۔ عامر ہاشم خاکوانی نے کہا کہ المصطفیٰ در اصل محمد ِ مصطفیٰ کے روشن راستے کی مسافر ہے اسلام جن کاموں کے فروغ سے پھیلا تھا المصطفیٰ وہی مشن آگے بڑھا رہی ہے ۔ سہیل وڑائچ نے تقریب میں آنے والے رضا کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو آپ نے خدمات سرانجام دی ہیں اس کا صلہ دنیا و آخرت دونوں میں ملے گا ۔ عبد الرزاق ساجد خود ایک رضا کار ہیں میں ان کو زمانہ طالب علمی سے جانتا ہوں آج یہ جو کچھ بھی ہیں وہ مخلوقِ خدا کی خدمت کی بدولت ہیں ۔

المصطفیٰ (ٹرسٹ) کے رضاکار حقیقی ہیروز ، خواجہ جمشید امام
رضاکار: انسانی تاریخ کے وہ عظیم کردار جو جنگوں ، سیلابوں ،زلزلوں ، قحطوں ، وبائی بیماریوں میں جانیں بچانے والے انسان ہوتے ہیں۔ رضاکار ہمیشہ اپنی خدمات وہاں سر انجام دیتے ہیں جہاں آفت ریاستی مشینریوں کے بس سے باہر ہو جاتی ھے ۔ ریاستی وسائل آفات کے کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رھتے ۔ ایسے میں یہی جوان حوصلہ مخلوق اپنے انجام کو جانتے ہوئے اس مقتل میں پہنچ جاتی ھے جہاں انسان یا تو انسانوں کی پھیلائی جنگوں کا شکار ہو رھے ہوتے ہیں یا پھر قدرت ھی انسانوں پر غضب ناک ہو رھی ہوتی ھے۔ دنیا بھر میں رضاکاروں کے کارنامے یونان کی ابتدائی ریاستوں سے لے کر یوکرائن اور بدر کے عظیم معرکے سے لے کر غزہ تک پھیلے ہیں ۔ المیہ یہ ھے کہ مورخین نے ان جانبازوں کے ذکر میں بخل سے کام لیا ھے ۔ ان شہیدوں اور غازیوں کی تاریخ بھی لکھی جانی چاھیے ، انہیں بھی اعزازات سے نوازا جانا چاھیے ، انہیں سماج میں اہم ترین مقام پر فائز کیا جانا چاھیے تاکہ آنے والی نسلوں کے ہیروز انسانوں کو قتل کرنے والوں کے بجائے انسانیت کو بچانے والے ہوں ۔ بدقسمت ریاست وہی ہوتی ھے جس میں لوگ رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات ہیش نہ کریں ۔ المصطفیٰ ٹرسٹ زندگی کے اتنے شعبوں میں کام کر رھی ھے کہ گنتی کروں تو شمار مشکل ھے ۔ حالیہ سیلاب میں ان کی خدمات کو دنیا نے دیکھا ھے ۔ المصطفیٰ کا کردار “خدمات کے سمندر” جیسا رہا ھے جس میں لاتعداد چھوٹے چھوٹے دریا بھی گرتے رھے ہیں ۔ کل مورخہ 29 نومبر 2025ء کو المصطفیٰ ٹرسٹ کے زیر اہتمام بدترین سیلاب میں خدمات دینے والے رضاکاروں کی خدمات کو سراہنے اور خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ برادرم عبدالرزاق ساجد ہمیشہ میری پسندیدہ شخصیت رہی ھے ،اور یہ آج یا کل کی بات نہیں “نصف صدی کا قصہ ھے” اللہ نے اس مردِ مجاہد میں ماں جیسا دل اور باپ جیسا دماغ رکھا ھے ۔ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی آنکھیں دوسرے کے دکھوں پر بھیگ جاتی ہیں۔ہنسی بے سبب آ جاتی ھے لیکن آنسووں کے پیچھے بڑا مضبوط سبب ہوتا ھے ، انسان کسب نہیں عطا ھے ،جسے وہ عطا کر دے۔ میں نے کل کے پروگرام میں بھی ، جب وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ان کی خدمات کا ذکر کر رھے تھے تو یہ بندہء پیکر و انکساری اپنی انکھوں میں آنسو لئے ہاتھ باندھے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اللہ اس شہزادے ویر کی خدمات قبول و منظور فرمائے۔میں امید نہیں یقین۔کامل ھے کہ پاکستان کا یہ ہیرا عنقریب برطانوی “ہاؤس آف لارڈز” میں پاکستان کا نام فخر سے بلند کر رہا ہو گا اور یہ ہرگز میرا گمان ، خواب ، خواہش یا محبت نہیں میرا تجزیہ ھے۔ ایم ڈی المصطفیٰ ٹرسٹ پاکستان ، میری بہت پیاری چھوٹی بہن نصرت سلیم صاحب بلاشبہ ایک بہترین منتظم ہیں اور یہ الفاظ کی حد تک نہیں وہ اقبال کے مصرعہ ” دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے ” کی عملی تصویر ہیں۔ پاکستان جیسا معاشرہ جس میں عورتوں کیلئے ابھی وہ تمام سہولتیں میسر نہیں جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن اس کے باوجود نصرت سلیم صاحبہ کا طالبات سیاست سے اے ٹی آئی ( انجمن طالبات اسلام ) کی مرکزی صدر سے شروع ہونے والا سفر اب المصطفیٰ ٹرسٹ میں اپنے عروج کی مزید منازل طے کر رہا ھے ۔ میری خواہش ھے کہ میری بیٹیاں بھی اپنی اس بہادر ، تعلیم یافتہ اور درد دل رکھنے والی پھوپھو جیسی ہوں۔ ایم ڈی صاحب ہمیں آپ پر فخر ھے کہ اپ ہماری بیٹیوں کا رول ماڈل ہیں ۔ برادرم نواز کھرل جیسا مخنتی اور گرم مزاج دوست اللہ نے شاید ہی کسی کو عطا کیا ہوں ۔وہ دوستوں میں بریشم اور آفات کے مقابل ایک فولادی دیوار ھے ۔ اس کے ساتھ وقت نہیں زندگی گزری ھے اور میں آج بھی دوستوں کو کہا کرتا ہوں کہ اپ نے جنون کو مجسمہ حالت میں دیکھنا ہو تو میرے جان جگر نواز کھرل کو دیکھ لیں ۔ ایسا لوگ سماج میں آنی والی نسلوں کو اپنے ابا واجداد کے اس جنون سے متعارف کرواتے ہیں جس نے دنیا پر حکمرانی کی تھی ۔ نواز کھرل لاہور یا پنجاب نہیں پاکستان بھر میں بلا مبالغہ پہلے پانچ بہترین پروگرام ارینجرز میں ہو گا ۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکریٹری کی حیثیت میں اس نے جیسے پروگرام کروا دیئے ہیں وہ بھی حلقے کا ریکارڈ رھے گا۔چنیوٹ سے شروع ہونے والا عزم و یقین کا یہ سفر عروج و زوال کی منازل طے کرتا ہوا اب پاکستان بھر میں حقیقی خدمات کا عملی نمونہ پیش کر رہا ھے ۔ طلباء سیاست میں بھی اے ٹی آئی پنجاب کے جنرل سیکرٹیری کی حثیت سے ان کی تحریری ،انقلابی ، صحافتی اور خطیبانہ خدمات بے مثال ہیں۔ یقینا بڑا کام چند بڑے لوگوں کے مل بیٹھے سے ھی پایہ تکمیل تک پہنچتا ھے جس کی زندہ مثال المصطفی ٹرسٹ ہمارے سامنے ھے ۔ پروگرام میں رضاکاروں کی کثیر تعداد کے علاوہ برادرم جناب ارشاد عارف ، برادرم عامر خاکوانی ، برادرم ناصر بشیر ، جان من محترم منشاء قاضی ، ماموں کانجن تحصیل بناؤ تحریک کے روح رواں برادرم رضوان کاہلوں ، معزز خواتین جو عرصہ دراز سے اپنے شعبوں میں اعلی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ،کی کثیر تعداد کی شمولیت یقینا باعث رحمت تھی ۔ہمارے نوجوان ،شاعر ، مصنف ، قانون دان ،موٹیویشنل اسپیکر حذیفہ ہاشمی اور نوجوان کی بڑی تعداد نے چار چاند نہیں اس پروگرام کو لاتعداد چاندوں کی گلکیسی بنا دیا تھا ۔میں اس بہترین پروگرام کے شرکاء اور اس طوفانِ نوح جیسے سیلاب کے سامنےںسیسہ پلائی دیوار بننے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ ہر وہ شخص جس نے اس عظیم کارِ خیر کیلئے ایک لفظ بھی لکھا ، بولا یا مالی معاونت فرمائی یا دو قدم ساتھ چلا وہ سب باکمال ہیں لازوال ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں