ربیع الاول اسلامی کیلنڈر کا تیسرا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ آئین ساز مجلس عالم نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ولادت با سعادت کا مہینہ ہے۔ ایک حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ “اے محبوب‘‘ اگر آپ کے وجود کو ہستی کی خلعت پہنانا مقصود نہ ہوتا تو بزم انفس و آفاق کا دامن زندگی، جمال، کمال اور اقبال کے نگینوں کی چمک سے معریٰ رہتا۔ سچ کہا تھا گر یہاں چاک درویش ساغر صدیقی نے بزم کونین سجانے کیلئے آپؐ آئے حضور ؐ حتمی مرتبت، جان کا ئنات، حسن کائنات کی ولادت با سعادت جن بہار پروز گلاب آفرین آفتاب خیز مہتاب ریز نورانی پا کیز اصلی محترم محتشم مکرم مصفی ٰ، منزہ معطر منور اور مقدس ساعتوں میں ہوئی۔ وہ ساعتیں سرمایہ کائنات اور حاصل موجودات ہیں ۔ عقید ے، عرفان، ایقان اور محسوسات سے سرشار خوش بخت اور خوش عقیدہ ہر صاحب ایمان کا اس امر پر حق الیقین ہے کہ اگر خالق کا ئنات نے آپؐ کو اس کائنات کی برات کا دولہا نہ بنانا ہوتا تو یہ کائنات حیات کی دلر بائیوں، رعنائیوں اور زیبائیوں سے یکسر محروم رہتی۔ آپ ؐہی کے نعلین پاکی گرد سے پھوٹنے اور جھڑنے والے ذروں کے صدقے رب کائنات نے آبشاروں کو ترنم ،لالہ زاروں کو تبسم ،پہاڑوں کو جلال ،ستاروں کو جمال، پھولوں کو رعنائی، قوس قزح کو رنگینی، چٹانوں کو سنگینی ،دھوپ کو وقار، چاندنی کونکھار شفق کو لائی ،کھیتوں کو ہریالی، شبنم کونرماہٹ، ریشم کو سرسراہٹ، کلیوں کو مسکراہٹ، کرنوں کو جگمگاہٹ، بیابانوں کو بیکرانی ،آسمانوں کو درخشانی بجلیوں کو بے باکی، شمشیروں کو براقی ،سمندروں کو طغیانی، بلبلوں کو زمزمے ،ولولوں کو ساز، دھڑکنوں کو گداز اور عشق کو تازگی عطا کی ۔
داستان حسن جب پھیلی تو لامحدود تھی
اور جب سمٹی تو تیرؐا نام ہو کر رہ گئی
قارئین کرام ! سیرت النبیؐ ایک ایسا قلزم ذخار ہے جو بے حدود بیکراں ہے۔ اگر آسماں کی ہر کہکشاں ،کہکشاں کے ہر ستارے ،ستارے کی ہر لو، سمندر کی ہر موج ،دریا کی ہر لہر ،بادل کے ہر ٹکڑئے، بارش کے ہر قطرے، جنگل کے ہر شجر، شجر کی ہر ٹہنی، ٹہنی کے ہر پتے ،پتے کے ہر ریشے ،پھولوں کی ہر پنکھڑی ،صحرا کے ہر ذرے اور ہوا کے ہر جھونکے کے منہ میں زباں رکھ کر اسے مدحت آقائے کائنات پر مامور کر دیا جائے اور وہ صبح ازل سے شام ابد تک یہ فریضہ ادا کرتے رہیں تو بھی آپ صلى الله عليه وسلم کی حیات پاک کے کسی ایک پہلو کا بھی اجمالی سا احاطہ کرنے سے قاصر رہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر کوئی اعلان عجز اور اظہار بے بسی کرتے ہوئے بے ساختہ پکار اٹھتا ہے:
بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر
پیارے پڑھنے والے ! ہم ایمز انٹر نیشنل کا رحمتہ للعالمین نمبر بصد بجز و نیاز اپنے پیارے آقا صلى الله عليه وسلم کی بارگاہ اقدس و اطہر میں پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے آقا صلى الله عليه وسلم جو سرا پائے رحمت ہیں، جن کا کردار بھی رحمت جن کی گفتار بھی رحمت ،جن کا جمال بھی رحمت ،جن کا جلال بھی رحمت ،جو عرش والوں کیلئے بھی رحمت، جو فرش والوں کیلئے بھی رحمت ،جو دنیا میں بھی رحمت، جو عقبی میں بھی رحمت ،جو ازل تا ابد رحمت اور جو ہیں رحمتہ للعالمین ۔ جی ہاںوہی ہیں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ جن کا پیارا ،رسیلا اور میٹھا نام ہے محمد ؐ۔۔یہ نام بہت ہی ارفع اور بلند ہے۔ اس نام کی دھو میں مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک ہیں۔ اس نام کےنغمے فرش سے لے کر عرش تک گونج رہے ہیں۔ اس نام کے زمرے بظاہر پانچ وقت اذانوں میں لیکن در حقیقت پورے چوبیس گھنٹے دنیا میں بلند ہورہے ہیں۔ یہ بابرکت نام ہے جس نے نسلی امتیاز اور قبائلی تفاخر کے مارے ہوئے متعصب عربوں کو اتحاد کی ایسی لڑی میں پرو دیا تھا کہ وہ ایک غلام کی قیادت میں جنگ لڑنے کو سعادت سمجھنے لگے۔ یہ وہ بابرکت نام ہے جس نے بعد کے زمانے میں پورے عالم اسلام میں بسنے والے باشندوں کو ایک کر دیا۔ بلکہ عالم کفر کی گود میں رہنے والے مسلمانوں کا رخ بھی ایک ہی مرکز کی طرف کر دیا۔ خطہ عرب کے خوش رو مسلمان ہوں یا افریقہ کے سیاہ فام، وہ یورپ کے کلمہ گو گورے ہوں یا امریکہ کے سفید نام ،ایران و ترکی کے سرخ رو مسلمان ہوں یا پاک و ہند کے گندم گوں مسلمان، وہ چین و جاپان کے زرد چہرہ مسلم ہوں یا انڈونیشا کے خوش شکل مسلمان، اس بابرکت نام نے سب کو یک جان کر دیا ہے۔ اس ایک نام اسم محمد صلى الله عليه وسلم نے ان کے رنگ ونسل، قوم وقبائل اور زبان ولسان کے تمام اختلافات کے باوجود انہیں ایک مرکز پر متحد ومتفق کر دیا ہے۔ بلا شبہ یہی نام مسلمانوں کے اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کی علامت ہے۔ جب تک ہمارا رشتہ اسم محمد ؐسے مربوط اور گہرارہا۔ ہماری نگاہوں کا مرکز مدینہ اوردلوں کا مرکز تاجدار مدینہؐ ر ہے تو ہم مضبوط رہے اور گردش دوراں کی زمام کار ہمارے ہاتھ میں رہی لیکن بد قسمتی سے جب یہ اطاعت رسولؐ کا فریضہ اور امت محمدیہ کا مقدس رشتہ ہاتھوں سے چھوٹنے لگا تو تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے۔ ہمارا شیرازہ ٹوٹ گیا اور پھر زمانے کی ٹھوکروں نے ہمیں اپنا غبارِ راہ بنالیا۔
صاحبو:محمد مصطفی ؐ یہی نام عظیم قوت ہے۔ اسی نام کی برکت سے ہم امت کہلائے۔ یہ نام روشنی ہے۔ اگر جہالت اور بے سکونی کے اندھیروں کو ختم کرنا ہے تو اسی نام کا پر چار کرنا ہوگا اور محمد ؐکا اطاعت گزار بن کر رہنا ہو گا۔ پھر اندھیرے خود بخود چھٹ جائیں گے اور روشنی کا دور دورہ ہوگا۔
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے
جی ہاں اگر دنیا کو روشنی بخشنی ہے اگر دنیا میں ظلم استحصال جبر نا انصافی اور عداوتوں کا خاتمہ کرتا ہے تو در مصطفیؐ پر آنا پڑے گا۔ اس دور کے علاوہ جہاں بھی جاؤ کےظلالت گمراہی اور تاریکی تمہارا مقدر ہوگی۔ میںا پنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے حرف آخر کے طور پر اپنے آقاؐکے حضور ہاتھ پھیلائے دست بستہ عرض گزار ہوں کہ اے خدائے تعظیم و قدیم کے سب سے عظیم شاہ کا ر،اے نوع بشر کو امن اور عافیت کا نظام رحمت دینے والے صحاب کرم ،اے انسان کو انسان کی خدائی سے رہائی دینے والے نجات دہندہ ،اے جہالت کے اندھیروں میں ایمان کی شمع روشن کرنے والے معلم اعظم، اے عدل و مساوات کے چہرے کو اجالنے والے منصف و عادل، اے شعور و آگہی کو انسانی سوچوں کا مرکز و محور بنانے والے انسان کامل، اسے سماج کو اعتدال کے حسن سے ہمکنار کرنے والے معلم اعظم، اے انسان کو بے توقیری کے جہنم سے نکال کر مسجود ملائکہ کے شرف کا باعث بننے والے پیغمبر آخر، اے زندگی کے ہر گوشے کو انقلاب آفریں تبدیلیوں سے آشنا کرنے والے داعی انقلاب آج آپ کی امت عبرت کا نشان بنی ہے۔ عظمت و وقار کی کہانیوں کو سینے سے لگانے والی امت سفاک ہواؤں کے رحم و کرم پر، جور و استبداد کی چکی میں پس رہی ہے ،ناقدری کے جہنم میں جل رہی ہے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے ،جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے اپنی گم شدہ میراث کے سراغ کیلئے آرزو اور جستجو کے جوہر سے محروم ہو چکی ہے۔ پورے عالم اسلام پر ایک سکتہ طاری ہے۔ کشمیر کے زخموں سے خون رس رہا ہے، بوسنیا میں آپؐ کے غلاموں کا خون بہہ رہا ہے، چیچنیا کے غیور مسلمانوں کی تحریک آزادی بے حسی کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ فلسطین میں برسوں کی عملی جدوجہد اور قربانیوں کا سودا کر کے ہم اپنے آباء کے کفن فروشوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ امتِ مسلمہ عالمی سطح پر یہودیوں کی سازشوں کا ہدف بنی ہوئی ہے لیکن ہم خطرے کو سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لینے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ہم خود اسلام کو مسجدوں ،مدرسوں اور خانقاہوں میں محدود کر کے اس کے انقلابی کردار کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ کس قدر بد قسمتی کی بات ہے کہ قدرتی وسائل، سٹریجک علاقائی پوزیشن اور ایک ارب تیس کروڑ افرادی قوت سے مالا مال پانچ درجن کے قریب اسلامی ممالک اس وقت اس قابل بھی نہیں کہ وہ ہل جل کر کھجور کی گٹھلی کے برابر اسرائیل کو فلسطینیوں پر ظلم سے روک سکیں، اپنے افغان و عراق بھائیوں کی کھل کر حمایت کر سکیں یا کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی جدوجہد کے حق میں کلمہ حق کہہ سکیں۔ جمود اور تعطل، بے حمیتی اور بے غیرتی اور بے عملی اور جہالت کی زنجیریں پہن کر ہم اکیسویں صدی کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ اے ہمارے آقا ؐبے بسی کے آنسو پلکوں کی دہلیز پر چراغ بن کر جلنے لگے ہیں۔ وقت نے بھی زخموں پر مرہم رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ حضور چشم کرم، نظر عنایت کہ ہمارا کوئی بھی پرسان حال نہیں۔ ہماری حیثیت اس سوکھے پتے جیسی بھی نہیں جسے بے رحم ہوا ئیں اپنے دوش پر اڑائے پھرتی ہے۔ لجپال آقا تشنہ زمینیں اور بنجر ساعتیں گنبد خضر اسے گھنگھور گھٹاؤں کی تمنائی ہیں۔ حضور ؐخنک موسموں کو اب تو ازن سفر ملے ۔
عبد الرزاق ساجد
(چیف ایڈیٹر)
4
