81

قرون ِ وسطیٰ میں یورپ کی اخلاقی و معاشی حالت (قسط 6)


ڈاکٹر غلام جیلانی برق
آج یورپ تہذیب و تمدن کی راہوں پہ بہت آگے نکل گیا ہے۔ برطانیہ جیسے چھوٹے سے ملک میں چالیس سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں۔ ہر یونیورسٹی کے تحت بیسیوں کالج ہیں۔ تعلیم و تدریس پر بڑے بڑے ماہرین متعین ہیں جن سے فیض پانے کے لیے دنیا کے ہر گوشے سے طلبہ آتے ہیں۔ تالیف و تصنیف کے سینکڑوں ادارے ہیں۔ جو ہرفن پر کتابوں کے انبار لگا رہے ہیں۔ صرف طبیعیات (کیمیا ۔ فزکس ۔ حیوانات ۔ نباتات ۔ جمادات ۔ طبقات الارض وغیرہ )پر تیس ہزار سے زاہد کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ یہی حال فرانس ، جرمنی اور روس کا ہے ۔ سوال یہ ہے ۔ کہ کیا پورپ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا ؟ ملطقاً نہیں۔ یورپ صدیوں تک وحشت ۔ بربریت اور تہ بہ تہ جہالت میں گرفتار رہا۔ وہاں تہذیب و اخلاق کا کوئی تصور نہیں تھا۔ آٹھویں صدی عیسوی میں مسلمان سپین میں پہنچے اور سو سال بعد سسلی میں وارد ہوئے۔ یہ اپنے ساتھ تاریخ ۔ فلسفہ ۔ طبیعیات ۔ طب ۔ ریاضی ۔ شعر و ادب ۔ تاریخ ، علم الکلام اور دیگر درجنوں علوم لے گئے تھے ۔ رفتہ رفتہ یہ علوم ۔ اٹلی ۔ جرمنی ۔ فرانس اور دیگر ممالک میں پہنچے۔ اور بارہویں صدی میں یورپ مائل بہ علم ہو گیا ۔ یہ شوق بڑھتا ہی گیا۔ یہاں تک کہ سولہویں صدی میں ایک عام بیداری پیدا ہو گئی ۔ جسے یورپ کے حیات ثانیہ کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ڈریپر (1882ء) لکھتا ہے کہ قرون ِ وسطیٰ میں یورپ کا بیشتر حصہ لق ودق بیابان یا بے راہ جنگل تھا۔ کہیں کہیں راہبوں کی خانقاہیں اور چھوٹی چھوٹی بستیاں آباد تھیں۔ جا بجا دلدلیں اور غلیظ جوہڑ تھے۔ لندن او ر پیرس جیسے شہروں میں لکڑی کے ایسے مکانات تھے۔ جن کی چھتیں گھاس کی تھیں۔ چمنیاں ۔ روشندان اورکھڑکیاں مفقود ۔ آسودہ حال امراء فرش پر گھاس بچھاتے اور بھینس کے سینگ میںشراب ڈال کر پیتے تھے۔ صفائی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ نہ گندے پانی کو نکالنے کے لیے نالیوں اور بدروئوں کا رواج تھا۔ گلیوں میں فضلے کے ڈھیر لگے رہتے تھے چونکہ سڑکوں پہ بے اندازہ کیچڑ ہوتا تھا اور روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔اس لئے رات کے وقت جو شخص گھر سے نکلتا وہ کیچڑ میں لت پت ہو جاتا ۔ تنگیء رہائش کا یہ عالم کہ گھر کے تمام آدمی اپنے مویشیوں سمیت ایک ہی کمرے میں سوتے تھے ۔ عوام ایک ہی لباس سالہا سال تک پہنتے تھے ۔ جسے دھوتے نہیں تھے۔ نتیجتاً وہ چرکین ۔ میلا اور بدبودار ہو جاتا تھا۔ نہانا اتنا بڑا گناہ تھا کہ جب پاپائے روم نے سسلی اور جرمنی کے بادشاہ فریڈرک ثانی (1250-1616ء) پہ کفر کا فتویٰ لگایا ۔ تو فہرست الزامات میں یہ بھی درج تھا کہ وہ ہر روز مسلمانوں کے طرح غسل کرتا ہے۔
جب سپین میں اسلامی سلطنت کو زوال آیا تو فلپ دوم (1598-1556 ء)نے تمام حمام حکماً بند کر دیئے۔ کیونکہ ان سے اسلام کی یادتازہ ہوتی تھی۔ اسی بادشاہ نے اشبیلیہ کے گورنر کو محض اس لیے معزول کر دیا تھا کہ وہ روزانہ ہاتھ منہ دھوتا تھا۔
غلیظ جسم اور میلے لباس کی وجہ سے جوئوں کی یہ کثرت تھی کہ جب کینٹر بری (برطانیہ ) کا لاٹ پادری باہر نکلتا تھا۔ تو اس کی قبا پر سینکڑوں جوئیں چلتی پھرتی نظر آتی تھیں۔ فقروفاقہ کا یہ عالم کہ لوگ سبزیاں پتے اور درختوں کی چھال ابال کر کھاتے تھے۔ متوسط طبقہ کے ہاں ہفتے میں ایک مرتبہ گوشت عیاشی سمجھا جاتا تھا۔ 1030ء کے قحط میں لنڈن کے بازاروں میں انسانی گوشت بھی پکتا تھا۔ اور فرانس کے ایک دریا سائون کے کنارے انسانی گوشت کی کتنی ہی دکانیں تھیں اُمراء معدودے چند تھے۔ جن کا کام زنا ۔ شراب نوشی اور جُو ا تھا ۔ جاگیرداروں کے قلعے ڈاکوئوں کے اڈے تھے جو مسافروں پر چھاپے مارتے اور زرِ فدیہ وصول کرنے کے لیے انہیں پکڑ لاتے تھے ۔ حصول ِ زر کے لیے وہ مختلف طریقے استعمال کرتے تھے ۔ مثلاً پائوں کے انگوٹھوں کورسی ً سے باندھ کر الٹا لٹکا دیتے ۔ یا گرم سلاخوں سے جسم کو داغتے یا گرہ دار رسی ً کو سر کے گرد لپیٹ کر پوری طاقت سے مروڑتے تھے۔
یورپ میں سٹرکیں نہ تھیں۔ ذرائع حمل و نقل بیل گاڑیوں ، خچر اور گدھے تھے۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں ایسے ڈاکو رہتے تھے، جو آدم خور بھی تھے۔ وبائیں عام تھیں۔ صرف دسویں صدی میں دس تباہ کن قحط اور تیرہ وبائیں پھوٹیں اور لوگ مکھیوں کی طرح ہلاک ہوئے۔ شہر سنڈ اس سے بدتر تھے ۔ سوزاک اور آتشک جیسے امراض عام تھے ۔ یہاں تک روم کا ایک تقدس مآب پوپ لیود ہم بھی آتشک کا شکار تھا۔
ان کے پادری فریب اور جعلسازی سے کام لیتے تھے۔ پوپ جنت کی راہداریاں اور گناہ کرنے کے پرمٹ (اجازت نامے ) فروخت کیا کرتا تھا۔ لُوتھر (1546ء )اسی لیے تو باغی ہوا تھا۔ کہ جرمنی میں پرمٹ اور راہداریاں فروخت کرنے کا ٹھیکہ کسی اور کومل گیا تھا ۔ اور لُوتھر کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ حضرت مسیحؑ کو سولی دینے سے پہلے کانٹوں کا تاج پہنایا گیا تھا۔ اور وہ صرف ایک تھا۔ لیکن ایسے کئی تاج متعدد گرجوں میں رکھے ہوئے تھے ۔ وہ برچھا جس سے مسیح علیہ السلام کی پسلی کو چھیدا گیا تھا۔ ایک تھا۔ لیکن گرجوں میں ان کی تعداد گیارہ تھی۔ عوام کے لیے سود لینا حرام تھا ۔ لیکن پوپ کا بینک لوگوں کو بھاری شرح سود پر قرض دیتا تھا۔ عوام گور پرست و مجسمہ ساز تھے او ر علماء عشائے ربانی ۔ کرامات ِ اولیا ء ، رہبانیت اور تصرفات روح کی بحثوں میں الجھے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر ڈرپیر لکھتا ہے کہ وہ 1877ء میں رومہ گیا ۔ وہاں جا بجا غلاظت کے ڈھیر اور گندے پانی کے جوہڑ دیکھتے ۔
سترہویں صدی میں برلن کی یہ حالت تھی۔ کہ بازاروں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پڑے رہتے تھے ۔ وہاں ایک عجیب قانون نافذ تھا کہ جو دیہاتی چھکڑا لے کر کسی غرض کے لیے برلن میں آئے ۔ وہ کوڑے سے چھکڑا بھر کر ساتھ لیتا جائے۔
رابرٹ بریفالت لکھتا ہے کہ رومیوں نے دریائے رائن کے کنارے جتنے شہر آباد کیے تھے ۔ وہ رفتہ رفتہ سب اجڑ گئے۔ نویں صدی میں ان میں سے ایک بھی باقی نہیں تھا۔ ان کے کھنڈروں میں بھیڑیوں ، ریچھوں اور خنزیروں کے ریوڑ گھومتے نظر آتے تھے۔ لوگوں کی بے حیائی کا یہ عالم تھا۔ کہ ڈٹ کر کھاتے ، تیز شراب پی کر بنکارتے ، غل مچاتے ، فساد کرتے اور ہر روز حرام کاری کے نئے ریکارڈ قائم کرتے تھے۔ان وحشیوں کی عدالتوں میں عموماً باپ۔ بیٹے کے قتل ، زہر خورانی ، جعلسازی ، اغوا ، فحش کاری اور راہزنی کے مقدمات آتے تھے۔ گبن لکھتا ہے۔
’’اتنے طویل تاریخی زمانے میں بدی کی یہ کثرت اور نیکی کی یہ قلت کہیں اور نظر نہیں آتی ۔‘‘
گاتھ قوم کا ایک مئورخ ، پروکوپیس (560ء ) لکھتا ہے :
’’ میں ان وحشیوں کے ہولناک افعال کے ذکر سے صفحات تاریخ کو آلودہ نہیں کرنا چاہتا ۔ تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے خلاف ِ انسانیت افعال کی مثال زندہ رکھنے کی ذمہ داری مجھ پہ عائد نہ ہو ۔ ‘‘
صلیبیوں نے 1099ء میں بیت المقدس پہ قبضہ کیا تھا جو 1187ء تک جاری رہا ۔ یہ حکومت کس قسم کی تھی ۔ بریفالٹ سے سنیئے :
’’ صرف بیس سال کے عرصے میں ان عیسائیوں نے سارے ملک کو برباد کر دیا ۔ یہاں جاگیر دارانہ نظام جاری کر دیا ۔ ملک کو ٹکڑوں میں بانٹ کر مختلف یورپی سرداروں کے حوالے کر دیا جو ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ ان ظالموں کا مقصد دولت سمیٹنا تھا ۔ انہو ں نے ایک ایسے ملک کو جو عربوں کی مدبرانہ حکومت کی وجہ سے شاداب و آباد تھا۔ بالکل تباہ کر دیا ۔ ‘‘
موسیو ژاک ڈی وِتری ، جو اسی زمامے میں فلسطین کے ایک شہر عکہ کا پادری تھا، اپنی کتاب ’’ تاریخ بیت المقدس ‘‘ میں لکھتا ہے۔
’’ پہلے صلیبیوں سے جو باخدا لوگ تھے ۔ شریر ۔ بد وضع اور ذلیل انسان یوں نکلے۔ جیسے شراب سے دُرد ، زیتون سے چھال ، گیہوں سے بھو سہ یا پیتل سے زنگ ۔۔۔۔اب اس ارض مُقدس میں بد چلن ، لا مذہب چوروں ، زانیوں ، باب کے قاتلوں ، جھو ٹوں ، مسخروں ، عیاشوں اور بے حیا پادریوں کے سوا اور کوئی موجود نہیں ۔۔۔۔ یہ صلیبی فی الحقیقت شیطان کے بچے ہیں۔ ‘‘
کیا پہلے صلیبی با خدا اور نیک تھے ؟ اس کا جواب موسیولیبان سے سنیئے :
’’ جب صلیبیوں کی پہلی مہم بلغاریہ سے گزری تو تمام دیہات و قصبات میں قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا ۔ یہاں تک کہ جو انسان نظر آتا ۔ اسے مار ڈالتے ۔ ان کا ایک شغل یہ بھی تھاکہ جو بچہ ہاتھ آتا اس کی تکا بوٹی کر کے آگ میں پھینک دیتے ۔ چنانچہ راہ میں ترک سرداروں نے ان پر جا بجا حملے کیے اور ہزاروں کو ہلاک کر ڈالا ۔ اب صلیبیوں نے بھاگنا شروع کیا۔ جب ان مفروروں میں سے کوئی پکڑا جاتا۔ تو صلیبی سپہ سالار اسے ذبح کر کے اس کا گوشت فوج کو کھلا دیتا۔ یہ لوگ مردوزن ، طِفل و پیر ، یہود ، عیسائی اور مسلم سب کو مارتے اور لوٹتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔ یہ بار ہا کئی آدمیوں کو ایک ہی رسی میں باندھ کر پھانسی دیتے ۔ یہ جہاں جہاں سے گزرتے بستیاں قبرستان بن جاتیں ۔ جب یہ فوج ، جو دس لاکھ صلیبییوں پہ مشتمل تھی ۔ فلسطین میں پہنچی ۔ تو صرف بیس ہزار رہ گئی تھی۔ باقی یا تو راہ میں وبا وفاقہ سے مر گئے تھے۔ اور یاترک سردارووں نے مار ڈالے تھے۔
ان کا برتائو اس شہر مقدس کے مسلم باشندوں کے ساتھ اس سلوک سے قطعاً مختلف تھا۔ جو ساڑھے چار سو سال بیشتر حضرت عمر ؓ نے یہاں کے عیسائی باشندوں سے کیا تھا۔ صلیبییوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کی یہ حالت تھی۔ کہ ہر طرف ان کے ہاتھوں اور پائوں کے انبار لگ گئے کچھ آگ میں زندہ پھینکے جا رہے تھے۔ کچھ فیصل سے کود کر ہلاک ہو رہے تھے اور گلیوں میں ہر طرف سر ہی سر نظر آتے تھے۔ حضرت سلیمان کے ہیکل میں دس ہزار مسلمانوں نے پناہ لی تھی۔ عیسائیوں نے اس مقام کے تقدس کا کوئی خیال نہ کیا ۔ اور سب کو قتل کر ڈالا ۔ (ملخص )
یہی حال ’’ مہذب ‘‘ رومیوں کا تھا۔ آنکھیں نکالنا ، زبان کانٹا ، خصی کرنا، جسم میں میخیں ٹھوکنا ، کھال کھینچنا اور زندہ جلا دینا۔ رومیوں کی عام سزائیں تھیں ۔ ایک مرتبہ سب رومیوں نے روسیوں کو شکست دی ۔ تو قیدیوں کے ہاتھ کاٹ کر ان کے ہار بنائے اور ان ہاروں سے قسطنطنیہ کی فیصل کو سجایا۔ ایک اور موقع پر ، جب اسلامی فوج کو شکست ہوئی۔ تو رومیوں نے مسلم اسیران جنگ کو سمندر کے کنارے لٹا کر ان کے پیٹ میں لوہے کے بڑے بڑے کیل ٹھونک دیئے تاکہ بچے کچھے مسلمان جب جہاز وںپہ واپس جائیں۔ تو اس منظر کو دیکھیں ۔ اسی طرح جب قیصر باسل دوم (1025-963ء) نے بلغاریہ پہ فتح حاصل کی ۔ تو پندرہ ہزار اسیران جنگ کی آنکھیں نکال ڈالیں۔ اور ہر سو قید یوں کے بعد ایک کی ایک آنکھ رہنے دی۔ تاکہ وہ ان اندھوں کو گھروں تک پہنچا سکیں۔
تیسری صلیبی جنگ میں برطانیہ کے ’’ شیر دل ‘‘ رچرڈ ۔ اوّل (1199-1189ء ) نے اسلامی فوج کے ایک دستے کو جو تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ وعدہ معافی دے کر اس سے ہتھیار رکھوا لیے۔ لیکن فوراً بعد اسلامی لشکر گاہ کے سامنے انہیں قتل کر ڈالا ۔ دوسری طرف جب ایک دفعہ یہی رچرڈ بیمار ہوا تو صلاح الدین ایوبی (1193-1169ء ) جو رچرڈ کے خلاف لڑ رہا تھا۔ ایاّم علالت میں اسے کھانا۔ پھل اور دیگر مفرحات بھیجتا رہا۔ جب 1187ء میں صلاح الدین نے بیت المقدس کو فتح کیا۔ تو کسی عیسائی کو کوئی تکلیف نہ دی ۔ اور ہلکا سا ٹیکس لگانے کے بعد سب کو مذہبی آزادی دے دی۔ مسلمانوں نے ہر ملک میں غیر مسلم رعایا کے ساتھ اسی طرح کا عادلانہ اور فیاضانہ سلوک روا رکھا۔ لیکن جب ہم پر کسی قوم نے غلبہ پایا۔ تو وہاں سے ہمارا نشان تک مٹا دیا ۔ ہم سسلی پہ دو سو چونسٹھ اور سپین پہ سات سواکاسی برس تک حکمران رہے لیکن آج وہاں ایک بھی مسلمان باقی نہیں ہے۔ ہندوستان پر ہمارا علم ایک ہزار برس تک لہراتا رہا ۔ لیکن اب وہاں نسل کشی کی ایک خوفناک مہم کئی برس سے جاری ہے ۔
چوتھی صلیبی جنگ(1203) میں یورپی فوج کا سپہ سالار بلجیم کا ایک کائونٹ بُڈ وائن تھا۔ یہ جب صلیبیوں کو لے کر قسطنطنیہ میں پہنچا ۔ (صلیبی اسی راہ سے فلسطین آیا کرتے تھے ) تو ا س نے سوچا کہ جنگ کا مقصد تو لوٹ ہی ہے۔ کیوں نہ قسطنطنیہ جیسے آباد و خوشحال شہر ہی کو لوٹا جائے۔ چنانچہ اس نے شہر کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک لوٹ لیا اور کتابیں جلا دیں۔
جب گیارہویں صدی میں نارمن سسلی کے بڑے حصے پہ قابض ہو گئے۔ تو پوپ لیونہم (1054-1049) نے ایک خط میں قیصر روم کو لکھا:
’’نارمنوں کی خود سری ، شرارت اور فسق وفجور کو جو کفار سے بھی بدتر ہے۔ دیکھ کر میں نے ارادہ کر لیا ہے۔ کہ اٹلی کو ان کے ظلم سے نجات دلائوں ، نارمن کسی چیز کو نہیں مانتے ۔ یہ عیسائیوں کو قتل کرتے اور طرح طرح کے ظلم کرتے ہیں۔ انہیں نہ عمر کا پاس ہے ۔ نہ مردوزن کا ۔ یہ اولیا کے کلیسوں کو اجاڑتے ، لوٹتے اور آگ لگاتے ہیں۔ میں ان نا قابل برداشت غیر ملکیوں کے خلاف لڑنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔ یہ لڑائی جائز اور مقدس ہے ۔ کیونکہ اس کا مقصد عوام و مذہب کی حفاظت ہے۔ ‘‘
نارمنوں کی یہ عادت تھی ۔ کہ جب وہ کسی خانقاہ میں داخل ہوتے۔ تو اسے لوٹ لیتے اور راہبوں کے پیٹ چیر ڈالتے ۔ ایک دن نارمنوں کا ایک سردار پندرہ ساتھیوں کے ساتھ گرجے میں عبادت کے لیے گیا۔ جب وہ سب رکوع میں گئے۔ تو ان پر راہبوں نے حملہ کر دیا۔ اور سردار کے سوا باقی سب کو مار ڈالا ۔
سترہویں صدی کے یورپ کے متعلق بریفالٹ لکھتا ہے۔ کہ وہ لوگ اپنی ہر بدی کو نیکی کارنگ دیتے تھے۔ سفیروں کا کام یہ تھا کہ وہ اپنے وحشی سرداروں کی نفس پرستیوں اور بدمعاشیوں کو ایسے حسین انداز میں پیش کریں۔ کہ وہ خوبیاں بن جائیں ۔ منافقت ۔ جھوٹ۔ دھوکہ اور ریاکاری ایک فن لطیف بن گیا تھا۔ جس میں ہر شخص ماہر تھا اور میکاولی (1567ء ) اس فن کا امام سمجھا جاتا تھا۔ معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تھا۔ کہ بعض ہشیار لوگ دھوکہ دینے کے لیے مسیج سے بھی کام لیتے تھے۔ زرخدا تھا ۔ اور یورپ اس کا پجاری ۔ اسے حاصل کرنے کے لیے فریب ۔ دھوکہ ۔ جھوٹ ۔ کمینہ پن۔ جبروتشدد ۔ چوری ۔ قزاقی اور قتل کو نیکی سمجھا جاتا تھا۔
اٹھارویں صدی میں برطانیہ کی حالت
برطانیہ کی حالت بالکل وہی تھی ۔ جو باقی یورپ کی ۔ غلاموں کی تجارت زوروں پہ تھی۔ غلاموں سے بھرے ہوئے جہاز برطانیہ میں آتے اور وہاں سے پورپ میں جاتے تھے۔ یہ غلام عموماً پانچ شلنگ فی کس کے حساب سے فروخت کیے جاتے تھے۔ جو اہل قلم ایسی کتابیں لکھتے ۔ جو ارباب کلیسا کو ناپسند ہوتی تھیں تو انہیں چیئرنگ کراس اور ٹمپل بار پر کاٹھ مارکر سنگسار کر دیا جاتا تھا۔ بیگار میں پکڑنے والے ہر جگہ گھومتے پھرتے تھے۔ اور لوگوں کو گلیوں۔گھروں اور غم و شادی کی مجالس تک پکڑ لے جاتے تھے۔ برطانیہ کے مشہور وزیر اعظم ولیم پٹ (1806-1759ء ) نے برطانوی ملاحوں کو اجازت دے دی تھی ۔ کہ وہ ہالینڈ کے جہازوں کو جہاں پائیں لوٹ لیں۔
فرانس کی حالت
فرانس میں لوئیس چہار دہم (1715-1643ء ) کے بعد پرلے درجے کی ابتری پھیل گئی۔ ایک طرف قحط اور دوسری طرف بھاری ٹیکس ۔ سارا ملک دکھ میں مبتلا ہو گیا۔ عوام کو غلاموں سے بھی ذلیل تر سمجھا جاتاتھا۔ جب کوئی ٹیکس لینے والا کسی بستی میں داخل ہوتا۔ تو ساری آبادی بھاگ جاتی۔ اور سرکاری ملازم ان کا سارا سامان اٹھالے جاتے ۔ بھوکوں کے مسلح انبوہ نابنائیوں پہ ہلہّ بولتے اور ان کی روٹیاں اٹھاکر بھاگ جاتے۔
الغرض یورپ کے عوام نے اپنے ظالم سرداروں اور بادشاہوں کے ہاتھوں وہ دکھ اٹھائے ہیں۔ کہ اگر آج وہی سلوک کتوں سے کیا جائے۔ تو دنیا میں غیض و غضب کا طوفان بپا ہو جائے ۔ اس زمانے میں ہزار ہا انسانوں کی کھال کھینچی جاتی ۔ ان کے ہاتھ پائوں میں میخیں ٹھوکی جاتیں اور انہیں کھولتے ہوئے پانی میں ابالا جاتا تھا۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ لنڈن پھانسیوں کا شہر کہلاتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں