300

سلسلہ ملامتیہ کے بادشاہ ،شاہ حسین کیسے مادھولال حسین کہلائے ؟،عشق ، فقر اور فقیری میں ڈوبی ایک لازوال داستان جس کا ورق ورق حیرت انگیز ہے

میگزین رپورٹ

شاہ حسین کے جدّاعلیٰ کلیس رائے یا کلس رائے لاہور کے ایک کھتری بزرگ تھے ۔ ذات ان کی ڈاہڈا تھی ۔ فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں مسلمان ہو گئے تھے ۔ وہ ہندو رہنے کی حالت اور مسلمان ہونے کے بعد کیا کاروبار کرتے تھے ؟ اس کے متعلق سب خاموش ہیں۔ البتہ ان کے فرزند شیخ عثمان کے متعلق سب تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ ان کا پیشہ بافندگی تھا ۔ اسی بنا پر شیخ عثمان کے بیٹے شیخ حسین بھی ’’ حسین جولاہا‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔
شیخ حسین 945ھ ، 1538ء میں پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے والد شیخ عثمان ِ تل بگھ نام کے ایک محلے میں رہتے تھے جو ٹکسالی دروازہ کے باہر دریا کے قریب واقع تھا۔ تلِ یا تلہ ٹیلے کا بگڑا ہوا نام ہے۔ تِل بگھہ کی مسجد میں حافظ ابوبکر بزرگ امامت بھی کرتے تھے اور بچوں کو پڑھایا بھی کرتے تھے ۔ وہ بگھہ کے مردم خیز قصبہ کے رہنے والے تھے جو تحصیل پنڈدادا نخان ضلع جہلم میں واقع ہے اور جہاں آج بھی عالم اور فاضل موجود ہیں۔ شاید انہی بزرگوں کے نام پر محلہ تِل بگھہ کے نام سے مشہور ہو گیا ہو۔ حسین کو اسی محلے کی مسجد میں حافظ ابوبکر کے پاس بٹھایا گیا اور انہوں نے چھوٹی سے عمرمیں چھ پارے حفظ کر لیے۔
اسی اثنا ء میں شیخ بہلول دریائی اس مسجد میں تشریف لائے ۔ اس وقت شیخ حسین ساتواں پارہ حفظ کر رہے تھے۔ شیخ بہلول نے ان سے وضو کے لیے پانی طلب کیا اور کہا کہ دریا نزدیک ہے ، وہیں سے لے آئو۔ آپ دریا پر گئے ۔ وہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی ۔ جنہوں نے ایک نظر ڈال کر سارا قرآن حفظ کر ا دیا ۔ شیخ حسین پانی لے کر واپس آئے ۔ شیخ بہلول نے وضو کیا اور نماز پڑھائی ۔ تھوڑے دنوں بعد ماہ رمضان آ گیا۔ شیخ حسین نے نماز تراویح پڑھائی اور سارا قرآن ستائیس راتوں میں سنا دیا ۔ اسے شیخ بہلول کی کرامت پر محمول کیا گیا ۔ اس سے شیخ حسین کی بھی شہرت ہو گئی ۔
شیخ بہلول موضع چند یوٹ کے رہنے والے تھے جو لاہور سے سات میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ شیخ حسین نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ یہ واقعہ 988ھ ، 1544ء کا ہے ۔
رسالہ بہاریہ اور حقیقت الفقراء چونکہ اعتقادی رنگ کی کتابیں ہیں، اس لیے ان میں صد ہا کرامتیں آپ کے متعلق درج ہیں۔ لکھا ہے کہ شیخ حسین نے چھبیس سال زہد و ریاضت میں گزارے ۔ قرآن و حدیث پر انہیں پورا عبور تھا۔ نماز گزار کیا تہّجدگزار تھے ۔ دن رات کے چوبیس گھنٹو ں میں پورا قرآن مجید ختم کر دیتے تھے ۔ بارہ سال متواتر پابندی کے ساتھ مزار حضرت علی ہجویری عرف داتا گنج بخش پرحاضری دیتے رہے ۔رسالہ بہاریہ میں لکھا ہے اس وقت آپ کی عمر چھتیس سال تھی ، آپ ناچتے کودتے مسجد سے باہر نکلے اور تفسیر کی کتاب کنویں میں پھینک دی ، جب دوسرے ہم سبق طلبہ نے بُرا مانا تو کتاب کو کنویں سے باہر آنے کا حکم دیا ۔ کتاب اچھل کر باہر آ گئی دیکھا تو وہ بالکل خشک تھی ۔
دارا شکوہ لکھتا ہے کہ شیخ حسین ڈاہڈا ایک مجلس میں موجود تھے ۔ وہاں ایک کتاب پڑی تھی ، پوچھا کونسی کتاب ہے ؟ جوا ب میں دیوان حافظ کا نام لیا گیا ، آپ نے دیوان اٹھا کر کھولا تو یہ شعر نکالا۔
چشمہ ء چشم مرا اے گل خنداں دریاب
کہ یہ امید تو خوش آب ردا نے دارد
آپ نے یہ شعر پڑھ کر کتاب زمین پر دے ماری اور کہا کہ حافظ بھی بوڑھی عورتوں کی طرح روتا ہی مر گیا ۔ اس واقعہ کا ذکر داراشکوہ نے اس موقع پر کیا ہے جہاں واسطی اور بایزید بسطامی جیسے بزرگوں کے یہ اقوال درج کئے ہیں کہ سب لوگ وہم اور امید کا سہارا لیتے رہے ہیں ۔ یہی بات شیخ حسین نے حافظہ شیرازی کا یہ شعر پڑھ کر کہی ۔
داراشکوہ نے شیخ حسین کو ملامتیوں کے گرو ہ کا سردار لکھا ہے لیکن جہاں تک مشائخ طریقت کے اس گروہ کا تعلق ہے ، تصوف کی مشہور کتاب کشف المھجوب میں اس کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں ۔
پہلی صورت یہ ہے کہ ایک شخص سیدھی راہ چلتا ہے ، نیک نیتی سے اپنا کام کرتا ہے ، خود احکام خداوندی بجا لاتا اور دینی معاملات میں دین پروری کی رعایت کرتا ہے۔ اس پر لوگ اس کو ملامت کرتے ہیں مگر وہ اس کی کچھ پروا نہیں کرتا ۔ ایسے مومنوں کی صفت قرآن کریم میں یہ بیان فرمائی گئی ہے ۔
ولا یخافون لومتہ لائم ۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ واسع علیم
ترجمہ : یعنی خاصان خدا ملامت سے نہیں ڈرتے یہ صفت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے ۔ جس کوچاہتاہے دیتا ہے اور اللہ کا علم بڑا وسیع ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص لوگوں میں ہر دلعزیز اور صاحب عزت ہو اس کی طبیعت اس میں لگ جائے مگر وہ اپنا دل اس طرف سے موڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور تکلف سے ایسا طریق اختیار کرے جس سے لوگ متنفر ہو کر اس سے الگ ہو جائیں اور اسے بُرا بھلا کہنے لگیں ۔ لیکن شریعت کو اس سے کچھ نقصان نہ ہو ۔
تیسری صورت یہ ہے کہ کسی کو طبعی کفر اور گمراہی دامن گیر ہو ۔ اس سبب سے وہ شریعت کی متابعت ترک کرے اور کہے کہ یہ ملامتی طریقہ ہے جو میں نے اختیار کیا ہے ۔ وہ ہر حال میں اپنی رائے پر عمل کرے اور لوگ خواہ اسے کچھ کہیں ، کسی نام سے پکاریں ، وہ پروا نہ کرے۔ اس قسم کی ملامت ریاکاری ہے اور تارک فرض دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
شیخ حسین عالم و فاضل تھے ایک آیت قرانی کی تفسیر کے الٹ پھیرنے ان کی کایا پلٹ دی ۔انہو ں نے ملامتیہ طریق اختیار کیا اور ڈنکے کی چوٹ پراس کا اظہار کیا ۔ وہ اعلانیہ شراب پیتے تھے ۔ گانا سنتے تھے ۔ طوائفیں ان کی مجلس میں آتی تھیں اور رقص و سرود سے ان کی محفل گرماتی تھیں ۔ وہ داڑھی مونچھ منڈواتے تھے اور ان کے حلقہ نشیں بھی سب اسی رنگ میں رنگے ہوتے تھے ۔ نماز روزہ سے انہیں کوئی سروکار نہ تھا ۔ جب تک کوئی شحض داڑھی مونچھ کا صفایا نہ کرا دیتا ۔ اس وقت تک ان کا مرید نہ ہو سکتا تھا ۔ وہ اپنے مرید کو داڑھی مونچھ صاف کرانے کے بعد اپنے ہاتھ سے شراب کا پیالہ دیتے تھے ۔ اگر وہ پی لیتا تو مریدوں میں شامل سمجھا جاتا ۔ نہیں تو مجلس سے باہر نکال دیا جاتا۔
کہتے میں ایک مرتبہ علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی ان کے پاس گئے اور کہا مجھے بھی اپنے مریدوں میں داخل کر لیجئے ۔ شیخ حسین نے جواب میں جو کچھ کہا ، اس کا مطلب یہ تھا کہ ملاّ!کیوں مجھے رسوائے عالم کرنا چاہتے ہو ۔ تم میرے کام کے آدمی نہیں ہو ۔ اس لیے میں تمہیں اپنا مرید نہیں کر سکتا ، نہ تم ڈاڑھی منڈواتے ہو نہ شراب پیتے ہو ۔ ملاّ عبدالحکیم نے کہا ۔ اگر دلیل سے قائل کرو گے تو جو کہو گے مانوں گا ۔ شیخ نے کہا ۔ نہیں تم خشک ملاّ ہو ۔ تم کبھی نہ مانو گے ۔ جائو اپنا کام کرو اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو ۔
ان ظاہری بدعتوں اور خلاف شرع باتوں کے باوجود شہزاد ہ دارا شکوہ نے حسنات العارفین میں ملا عبدالحکیم سیالکوٹی کی زبانی شیخ حسین کی دو چشم دید کرامتیں بیان کی ہیں جن کا ذکر یہاں ضروری معلوم نہیں ہوتا ۔
شیخ حسین کے مرشد شیخ بہلول کو جب آپ کی ان حرکات کا علم ہوا تو وہ فوراً لاہور تشریف لائے اور شیخ حسین سے فرمایا کہ آج میرے ساتھ نماز پڑھو اور نمازہی میں سارا قرآن ختم کر دو چنانچہ آپ نے نماز شروع کی ۔ جب سورہء الم نشرح لک صدرک ‘‘ پر پہنچے تو بے اختیار ہنس پڑے اور نماز ختم کر دی ۔ داراشکوہ کا خیال ہے کہ شاہ حسین نے شاید اس سورئہ پاک کا مفہوم یہ سمجھا تھا کرآیا ہم نے تیرے سینے کو توحید اور معرفت سے نہیں کھولا اور تجھ پر وہم اور انانیت کا بار نہیں ڈالا جو تیری پشت کو پست کرتا ہے اور کیا ہم نے تجھ کو ذکر سے مذکور تک نہیں پہنچایا ۔ اس لیے کہ ہر فنا کے بعد بقا ہے اور بے شک جس کو ہم نے فنابخشی ، اسے بقا دے کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ۔ پس جب تو نے انانیت اور ہستی موہوم سے فراغت حاصل کر لی ہے تو ہماری ہستی پر قائم ہو جا اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہو جو ظاہر اور باطن کارب ہے۔
اس واقعہ کے بعد وہ کبھی اپنے مرشد سے نہ ملے ۔
اکبر کے زمانے میں مخدوم الملک مولانا عبداللہ سلطان پوری شیخ الاسلام تھے ۔ وہ اکبر کے مذہبی خیالات کے مخالف اور ابو الفضل کے دشمن تھے اور اس کو تمام فتنوں کا بانی سمجھتے تھے ۔ وہ 990ھ (1582ء) میں مکہ معظمہ سے حج کر کے واپس آئے اور گجرات پہنچ کر انتقال کر گئے ۔ بہت مالدار تھے مگر اتنے کنجوس کہ مرنے کے بعد ان کے خزانے سے تین کروڑ روپیہ نکلا۔
اکبر کے قیام لاہور کے ایام میں یہ بھی لاہور میں تھے ۔ خزینۃ الا صفیار میں بحوالہ معارج الولایت لکھا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے شیخ حسین کو سازو نواز کے ساتھ بازار میں جاتے دیکھا ۔ جس دھوم دھڑکے سے وہ جا رہے تھے ۔ اس کو شیخ الا سلام نے شریعت کے خلاف سمجھا ۔ انہوں نے شیخ حسین کو سزا دینا چاہی اور شاید کچھ سوال جو اب بھی کئے۔ شیخ الاسلام گھوڑے پر سوار تھے ۔ شیخ حسین نے آگے بڑھ کر ان کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی او ر کہا ۔ اسلام کے پانچ رکن ہیں ۔ کلمہ ء توحید اور اقرار رسالت میں ہم تم برابر کے شریک ہیں۔ لیکن حج اور زکوٰۃ سے تو فارغ ہے اور نماز روزہ میں نے ترک کر رکھا ہے ۔ پھر مجھ میں اور تجھ میں فرق کیا ہے۔ میں سزا کا کیوں مستحق ہوں اورتم کیوں نہیں ؟
شیخ الاسلام نے اس وقت تک فی الواقع حج نہ کیا تھا اور اس قدر دولت مند ہو کر کبھی زکوٰۃ و خیرات بھی نہ دی تھی ۔ اس لیے اپنا سا منہّ لے کر رہ گئے اور حسین کو ان کے حال پر چھوڑ کر آگے چلے گئے ۔
شیخ حسین کا مشرب یہ تھا کہ صبح سے شام تک گانے بجانے والے ان کے ہمراہ رہتے تھے ۔ ان کے حواری و مرید سب داڑھی مونچھ منڈا کر مست الست پھرا کرتے تھے ۔وہ قرآن کے حافظ ، حدیثوں کے شیخ اور علم میں صاحب کمال تھے ۔ لیکن اُن کا عمل قرآن و حدیث کے سراسر خلاف تھا ۔ اس پر کئی لوگ انھیں صاحب کرامت جانتے تھے۔ داراشکوہ لکھتا ہے کہ شہزادہ سلیم اور حرم سرائے اکبری کی اکثر بیگمات شیخ حسین کی عقیدت مند تھیں ۔
صاحب حقیقت الفقراء نے آپ کے خادموں کے تعداد نو ہزار اور مریدں کی ایک لاکھ پچیس ہزار بتائی ہے جن میں سولہ خلیفے بہت نامور ہوئے ہیں۔ ان میں چار تو غریب کے خطاب سے مخاطب کئے جاتے تھے ، چار کا خطاب دیوان ، چار کا خاکی اور چار کا بلا ول تھا۔ دیوانوں میں پہلے دیوان حضرت کے محبوب شیخ مادھو، دوسرے گورکھ ،تیسرے الہ دیوان تھے ۔ یہ سب لاہور میں دفن ہیں۔ چوتھے دیوان بخشی کی قبر بیجاپور میں ہے ۔
پہلا شاہ غریب وزیر آباد سے تین کوس کے فاصلے پر بمقام رتی ٹھٹھ مد فون ہے ۔ دوسرا موضع لنگو والی (وزیر آباد ، میں ، تیسرا چیلا پور علاقہ دکن میں اور چوتھے شاہ غریب کی قبر شاہ حسین کی قبر کے پاس لاہور میں ہے ۔ خاکیوں میں پہلے خاکی مولا بخش اور دوسرے خاکی ، شاہ لاہور میں بجوار مزار حسین مدفون ہیں۔ تیسرے خاکی شاہ وزیر آباد میں اور چوتھے حیدر بخش خاکی دکن میں پیوندز میں ہیں۔
بلاول نام کے خلیفوںمیں پہلے شاہ رنگ بلاول ، دوسرے بدھو بلاول ، تیسرے شاہ مست بلاول لاہور میں اور چوتھے شاہ بلاول دکن میں مدفون ہیں۔
پہلے تو حسین نو مسلم زادہ ہونے کی وجہ سے شیخ حسین ، حافظ قرآن ہونے کی وجہ سے حافظ حسین ، باپ کے پیشہ یافندگی کی وجہ سے حسین جو لاہا اور دردیش صفت ہونے کے لحاظ سے شاہ حسین کہلاتے تھے۔لیکن اب ایک ایسا دور آیا کہ اس نے پہلے تمام ناموں پر خط تنسیخ کھینچ کر ان کا نام مادھو لال حسین مشہور کر دیا ۔ چنانچہ آج تک وہ اسی نام سے مشہور ہیں۔ اس جمال کی تفصیل یہ ہے : ۔
مادھویا مادھو لال شاہد رہ کا ایک برہمن زادہ تھا جو بقول تحقیقات چشتی 982ھ میں پیدا ہوا ۔ اس وقت حافظ شیخ حسین کی عمر 38سال تھی ۔
آپ اس برہمن زادے کا نام پتہ اور حسب نسب دریافت کرکے خود بھی شاہدرہ میں جا بیٹھے ۔ اس وقت مادھو کی عمر اٹھارہ سال تھی اور وہ شادی شدہ تھا۔ آپ کی توجہ سے متاثر ہو کر مادھو نے بھی آپ کے پاس آنا جانا شروع کردیا۔ یہاں تک رفتہ رفتہ وہ شراب نوشی میں بھی ان کا شریک رہنے لگا۔ یہ کہنا درست ہے کہ مادھو اور شیخ حسین کے عشق و محبت کے افسانوں میں بہت سی بے سرو پا باتیں پائی جاتی ہیں ۔ لیکن مادھو کے وجود سے انکار کرنا اور پھر دونوں کے تعلقات کو جھٹلانا کسی واقعہ نگار کے بس کا روگ نہیں۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شیخ حسین کو مادھو سے محبت تھی۔ اس کی شکل دیکھے بغیر انہیں کل نہ پڑتی تھی ۔ چونکہ سچی اور پاک محبت تھی۔ اس لیے مادھو پر بھی اس کا اثر ہو ا اور آخر وہ مسلمان ہو کر ان کا مرید ہو گیا ۔ اس جگہ شاہ حسین کے ان پنجابی شعروں کا اندراج شاید بے محل نہ ہو گا ۔
تُسیں رُل مل دیو ممار کھاں میرا سوہنا سجن گھر آئیا ہی
جس سجن نوں میں ڈھونڈھد ی وتاں سوسجن میں پائیاہی
ویہڑاتاں آنگن میرا بھئیا سہا و نا ماتھے نور سہا ئیا ہی
کہے حسین فقیر نما ناں مرشد دوست ملائیاہی
ڈاکٹر لاجو تنی کے متعلق آپ نے لکھا ہے کہ : ۔
’’ اس نے بڑا ظلم کیا ہے کہ شیخ حسین کا نام ہی مادھو لال حسین لکھ دیا ہے اور ادھر ادھر کی کرامتوں اور گپوں سے حسین کو ملوث کر دیا اور داراشکوہ کی شطحیات (حسنات العارفین ) نہیں دیکھی ۔ ‘‘
’’ مادھو برہمن کا قصہّ بھی محض گپ ہے اور حسین کے تصوّف کوبدنام کرنا ہے ۔ حسین کی کافیوں میں مادھو کا کہیں نام نہیں ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ‘‘
اب ڈاکٹر موہن سنگھ دیوانہ کا اپنا طرز عمل دیکھئے ۔ آپ نے 1942ء میں ’’ مکمل کلام شاہ حسین لاہوری ‘‘ مرتب کرکے پنجابی زبان اور فارسی رسم الخط میں شائع کیا ۔ اس کتاب میں واقعی آپ نے مادھو کا کوئی ذکر نہیں کیا ۔ نہ اس کے برہمن ہونے کا نہ بعد میں مسلمان ہونے ا ور نہ حسین سے اس کا کوئی تعلق ظاہر کیا ہے ۔ لیکن 1943ء میں آپ نے ایک اور تصنیف ’’ حالات و کافیاں مادھولال حسین ‘‘ شائع کی ۔ اس کتاب کا نام ہی آپ نے مادھو لال حسین تجویز کیا ۔ پھر دیباچے کے صفحہ اوّل پر لکھا :۔
’’ لاہور میں جو ہمارے صوفی اور شاعر کا مولدہے آپ مادھو لال حسین کے نام سے پکارے جاتے ہیں ۔ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مادھو آپ کے خلفا سے ایک شخص کا نام تھا ۔ اس کے ہندو ہونے کی طرف مادھو اور حسین کی باہمی دوستی کے قصوں میں خاصا واضح اشارہ موجود ہے ۔ مادھو یا مادھولال آپ کا مرید ہو کر مشرف بہ اسلام ہوا ‘‘ اس طرح جو اعتراض آپ نے ڈاکٹر لا جونتی پر کیا تھا اس کا خود بھی اعادہ کیا ۔ مگر جب آپ کو خود ہی ان سب باتوں کااقبال ہے تو اس پر مزید حاشیہ آرائی بے سود ہے ۔ البتہ ثبوت کے لیے شاہ حسین کے ایسے اشعار کا اندراج نامناسب نہ ہو گا جن میں گو مادھو کا نام لے کر انہوں نے اس کے ہندو یا برہمن ہونے یا روای پار (یعنی شاہدرہ ) رہنے کا ذکر نہیں کیا ۔ لیکن اشاروں کنایوں میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ کہتے ہیں ۔
پوتھی کولی دکھا بھائی باہمناں
پیارا کدوں طیسی سامنا
اس بیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ محبوب دوسری طرف یعنی دریا پار رہتا ہے ۔ اور دوسرے ہندوئوں میں عام دستور ہے کہ وہ کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے برہمنوں سے شگون لے لیا کرتے ہیں ۔ یہ خالص ہندوانہ رسم ہے چونکہ شاہ حسین کا منظور نظر ہندو تھا اس لئے وہ یہاں ہندو رسم و رواج کا ذکر کرتے ہیں ۔
پھر دوسری جگہ اس کا پتہ نشان اس طرح بتاتے ہیں ۔
من اٹکیابے پرواہ نال اوہ دین دنی دے شاہ نال
قاضی مُلاّں متیں دیندے کھرے سیانے راہ دسیندے
عشق کی لگے راہ نال
ندیوں پار رانجھن دا ٹھاناں کیتا قول ضرورت جاناں
منتا کراں ملاح نال
اس کافی کے دوسرے بند سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ حسین کا محبوب ندی کے اُس پار رہتا ہے جسے ملنے کیلئے دریا عبور کرنا ضروری ہے اور دریا ملاّح کی مدد کے بغیر عبور نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے اس کی منتیں کی جار ہی ہیں ۔ اس طرؒح انہوں نے ندی ، ملاح اور رانجھن کے کنایوں سے اپنے معشوق کے ٹھکانے کی طرف اچھا خاصا اشارہ کر دیا ہے۔
مندرجہ ذیل کافیوں میں لال کا لفظ مادھولال کے نام کی صحیح غمازی کرتا ہے ۔
پیارے لال کیا بھروسا دم دا
اُڈیا بھور ۔ تھیا پردیسی ۔ اگیّ اگم دا
کوُڑی دنیا کوُر پسا را ۔ جیوں موتی شبنم دا
جناں میرا شوہ ریجھایا ۔ تنہاں نہیں بھئو جم دا
کہے حسین فقیر سائیں دا۔ چھوڑ سریر بھسم دا
یعنی پیارے لال !زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ۔
جب روح تن سے نکل گئی تو آدمی دوسری دنیا کا ہو گیا ۔ جہاں کا حال کسی کو معلوم نہیں۔
یہ دنیا اور اس کا تمام کھیل جھوٹا ہے۔ شبنم کے قطرے کی طرح اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
جس نے اپنے مولا کو راضی کر لیا ، اسے موت کا کوئی ڈر نہیں رہا ۔
فقیر حسین کہتا ہے کہ خاکی جسم تج کرروحانی زندگی اختیار کر ۔
دوسری جگہ شاہ حسین پھر لال کی تکرار کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
مائے نی کینوں آکھاں درد دچھو ڑے دا حال
دُھوآں دُھکھیّ میرے مرشد والا جاں پھولا تاں لال
سُولاں مار دِدانی کیتی برہوں پیا سا ڈے خیال
دُکھاں دی روٹی سُو لاں دا سالن آہیں دا بالن بال
کہے حسین فقیر نما ناں شہ مِلے تاں تھیواں نہال
یعنی اے ماں !میں اپنے درد فراق کا حل کسے سنائوں ؟ مرشد کے عشق نے آگ لگا رکھی ہے۔ دھواں اٹھ رہا ہے ۔ چھیڑنے سے شعلے اٹھتے ہیں ۔ سوزوکرب نے دیوانہ کر دیا ہے ۔ محبت کر کے روگ لگا بیٹھا ہوں ۔ خون دل پینے کو اور لخت جگر کھانے کو ملتا ہے ۔ ہر دم آہ زاری سے کام ہے ۔ آتشیں آہیں نکلتی ہیں۔ جنگل جنگل ڈھونڈتا پھرتا ہوں مگر لال نہیں ملتا ۔ مِل جائے تو جان میں جان آئے ۔ زندگی سنور جائے ۔
ڈاکٹر موہن سنگھ کا ارشاد ہے کہ حسین اور مادھو کی محبت کا ذکر کر کے حسین کے تصّوف کو بدنام کر دیا گیا ہے ۔ اول تو معلوم نہیں وہ کس قسم کا تصوّف ہے جس میں دن رات شراب کا دور چلتا ہے ۔ پھر پیرو مرشد کے تعلق میں مولانا روم اور ان کے مرشد شمس تبریز، امیر خسرو اور ان کے مرشد حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء اور اسی طرح بعض دیگر صاحبان سلوک کے درمیان جو محبت عشق کے درجہ تک پہنچی ہوئی تھی ۔ اس کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ۔ اس قسم کی پاک محبت سے نہ تصّوف کبھی بدنام ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر موہن سنگھ کو حسین کی شراب نوشی سے بھی انکار ہے۔ فرماتے ہیں :
’’ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شیخ حسین کو اکبر کے روبر و مواخذہ میں لایا گیا تھا ۔ کیونکہ وہ داڑھی منڈواتا اور کھلم کھلا شراب خوری کرتا تھا۔ مگر یہ محض افسانہ ہے ۔ اس بارے میں کوئی مصدقہ شہادت بیان نہیں کی گئی ۔ داراشکوہ کے بیانات کو ہم بجا طور پر معتبر سمجھتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ حسین صوفیہ کے فرقہ ملا متیہ سے تھا ۔ ‘‘
پھر خود ہی دوسری جگہ لکھتے ہیں۔
’’ شیخ کی روش عجب تھی ۔ صبح سے شام تک گانے بجانے والوں کے ساتھ منڈھی داڑھی سے شہر میں مست الست رندانہ چکر کاٹتے رہتے ۔ کبھی کسی کے دائو پیچ میں نہ آئے ۔ بہت سی کرامات اور طارق فطرت امور آپ سے ہویدا ہوئے ‘‘ ۔
اس کے بعد ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں ۔
’’ شراب نوشی ، ریش تراشی اور کرامات کی صحت و عدم صحت کی ذمہ داری راویوں پر ہے ۔ مگر یہ تو ہم صاف دیکھ سکتے ہیں کہ کلام میں کہیں شراب کا نام تک نہیں ۔ نہ صاحب اعجاز ہونے کا دعویٰ ہے نہ ہی احکام شرع سے تجاوز کی تحریک و ترغیب ہے ۔ یہاں تک کہ رندی و مستی ، نازو انداز کا بھی کہیں مظاہرہ نہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ شیخ صاحب شراب کا استعمال کرتے تھے اور ڈاڑھی منڈوانے پر زور دیتے تھے ۔ اس صورت میں بھی ان پر کوئی الزام عائد نہ ہونا چاہئے کیونکہ ان کے یہ کام نفس پروری کے لیے نہیں بلکہ نفس کشی کے لیے تھے۔ نفس کا آخری اور سب سے زبردست عیب غرور و شہرت پسندی ہے اور غرور و شہرت پسندی کے عیب دور کرنے کا بہترین ذریعہ یہ ہے کہ ایسے کام دیدہ و دانستہ کئے جائیں جن سے ہر طرف سے بدنامی لعنت و ملامت کے آوازے کئے جانے لگیں ۔ اس متواتر ملامت کی برداشت سے نفس یقینا حلیم ہو جائے گا اور دنیا سے بھاگ کر سیدھا خدا کی آغوش میں پناہ لے گا۔ نفس کو اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ دنیا ظاہر پرست ہے ۔ کسی کے باطن کی پاکی سے اسے کوئی غرض نہیں۔
شیخ صاحب کو داراشکوہ ایسے نکتہ شناس مرد نے اپنے عصر کے گروہ ملامتیہ کا امام بے وجہ نہیں کہا ‘‘۔
داراشکوہ نے حسین کی شراب نوشی اور داڑھی مونچھ منڈانے کے علاوہ ان کی چند ایک کر امتوں ہی کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے سوا شیخ حسین کے متعلق داراشکوہ کی شطحیات میں اورکچھ نہیں۔ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ ڈاکٹر صاحب اس کتاب کو سب سے معتبر سمجھ کر اس کے مندرجہ واقعات اپنی دوسری کتاب ’’ حالات و کافیاں مادھو لال حسین ‘‘ میں درج بھی کرتے ہیں اور پھر شراب نوشی ، ریش تراشی او ر کرامات کی صحت و عدم صحت کی ذمہ داری راویوں پر ڈالتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ شاہ حسین کی کافیوں میں شراب کا کہیں نام نہیں آیا مگر کون کہہ سکتا ہے کہ ان کا کلام ان کے مطبوعہ اشعار سے زیادہ نہ ہو گا ۔ پھر بھی انہوں نے اپنی بے اعتدالیوں کا اکثر جگہ اظہار کیا ہے۔ کیا کونڈی ڈنڈا ، بھنگ اصافی ، مرچ ، رنگ ، پوست ، بالٹی ، مٹکا اور کھانڈ (چینی ) کا اہتمام کرنے کے بعد بھی شراب کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔
دینا والے نو دنیادا ماناں ننگاں نوں ننگ منی
نااسیں ننگ نہ دنیا والے ہسدی جنی کھُنی
دنیا چھوڑ فقیر تھیا سے جاگی پریم کنئی
کہے حسین فقیر سائیں دا جانے آپ دھنی
اور دیکھئے فقیر کی تمنا کیا ہے ۔ کئی حسرت رہ نہ جائے ۔
کو نڈا دئیں سُوٹا دِئیں کو ٹھی دِئیں بھنگ دی
صافی دئیں مرچاں دئیں بے منتی دئیں رنگ دی
پوست دئیں باٹی دئیں چاٹی دئیں کھنڈ دی
گیان دئیں دھیان دئیں مہمان سادھو سنگ دی
شاہ حسین فقیر سائیں دا ایہہ دعا ملنگ دی
ڈاکٹر موہن سنگھ کو باوا بدھ سنگھ سے بھی شکایت ہے۔ ان کے متعلق لکھتے ہیں ۔
’’یہ غلط ہے کہ شیخ حسین کی پریت ہندئوں کے ایک لڑکے مادھو لال سے تھی ۔
اس کو باواجی ناے ہیر رانجھے کا قصہّ بنا دیا ہے ‘‘
حقیقت یہ ہے کہ باوا بدھ سنگھ نے نہیں بلکہ شاہ حسین نے خود ہی اس واقعہ کو اپنے مختلف اشعار میں ہیر رانجھے کا قصہّ بنا دیا ہے ۔ وہ انہی دو لفظوں کے ہیر پھیر میں اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی قریباً پندرہ بیس کافیوں میں ہیر رانجھے کے الفاظ موجود ہیں۔ چند ایک ملاحظہ ہوں ۔
ماہی ماہی کو کدی میں آپے رانجھن ہوئی
رانجھن رانجھن مینوں سبھ کوئی آ کھو ہیر نہ آکھو کوئی
یعنی رانجھے کے نام کا ورد کرتے کرتے میں خود رانجھا بن گئی ۔ اب مجھے کوئی ہیر کے نام سے نہ پکارے ۔
ڈولی پائے لے چلے کھیڑے نا میتھوں عذر نہ زور
رانجھن سانوں کنڈیاں پائیاں دِل وچ لگیا زور
مچھی وانگوں پئی تڑپھاں قادر دے ہتھ ڈور
کہے حسین فقیر سائیں دا کھیڑیاں دا کوڑا شور
یعنی ہم نے دنیاکو چھوڑ کر فکر اختیار کیا ۔اس سے محبت جاگ اٹھی ۔اب اللہ بہتر جانتا ہے ہمارا حشر کیا ہو گا ۔
شاہ حسین 1008ھ 1599ء میں شہنشاہ اکبر کی وفات سے سات سال قبل فوت ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر 63برس تھی ۔ صاحب حقیقت الفقراء نے ’’ مست عشق ازل ‘‘ اور ’’ مے محبت مست ‘‘ سے آپ کی تاریخ وفات نکالی ہے۔ مفتی غلام سرور لاہوری نے خزنیۃ الاصفیار میں آپ کی تاریخ وفات کا قطعہ یوں درج کیا ہے۔
طالب عشق و عاشق جانباز
ماہ عالم حسین نور العین
گشت خوشحال دل بتو لیدش
نیز سلطان سید اثقلین
ہم رقم شد نیس دیں سر مست
طرفہ تولید اونر نیت دزیں
گفت سرور محقق سرمست
سال ترحیل آں شہ کونیں
شیخ محمود ونیز شیخ زماں
رحلتش ہست شمع عشق حسین
ہست فیض حسن وصالش ہم
اہل دل بے نیاز خلق حسین
شاہنشہ دیں حسین مخدوم
خورشید زمیں حسین مخدوم
ورسال ولا دتش رقم کن
ہادی وا میں حسین مخدوم
ورسال وصال او بفرما
ہادی یقین حسن محدوم
شاہ حسین سے منسوب کرامات :
ایک شخص ھاجی یعقوب بہت عرصہ مکہ اور مدینہ میں رہا اس نے روضہ روسول ؐ پر ایک نوجوان کو دیکھا جو دن رات عبادت میں مصروف ہے ۔راہ و رسم بڑھی تو دونوں نے اکھٹے حج کیا ۔پھر ایک دن یہی شخص اپنے کاروبار کے سلسلے میں لاہور آ گیا ۔ایک بازار میں مکہ اور مدینے کے اسی ساتھی کو دیکھا جو سر بازار رقص کئے جا رہا ہے۔ حاجی یعقوب نے اس شخص سے پوچھا کہ میں اگر غلطی پر نہیں تو تم وہی نوجوان نہیں جو میرا ساتھ یثرب میں تھا یہ تو نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے ۔۔شاہ حسین نے حاجی یعقوب کی بات سن کر کہا کہ میری ظاہری صورت پر نہ جا اگر آنکھ رکھتا ہے تو میرے اندر جھانک ۔اگر پھر بھی کچھ نہیں نظر آتا تو اپنی آنکھ بند کر ۔جب اس نے آنکھیں بند کیں تو کیا دیکھتاہے کہ شاہ حسین روضہ رسول ؐ پر شرعی لباس میں بیٹھے ہیں ۔
شاہ حسین کے دور میں لاہور میں یعقوب نام کا ایک کیمیا گر رہتا تھا جو سونا بنانے میں مہارت رکھتا تھا ایک دن وہ اپنی کیمیا گری کا اکسیر لے کر شاہ حسین کی خدمت میں پہنچا ۔شاہ حسین نے دیکھا کہ اسے اپنے ا س کام پر بڑا فخر ہے اور اب وہ شاہ حسین سے داد تحسین چاہتا ہے ۔شاہ حسین نے کہا کہ تم نے یہ اکسیر بنانے کے لئے ساری زندگی لگا دی ۔طرح طرح کی دوائیں بنائیں اور ان پر تجربات کر کے تو ا س نتیجے پر پہنچا ۔ہم فقیروں کو تیرے اس اکسیر سے غرض ہے نہ سونے سے ۔ورنہ فقیر ایک نگاہ سے ہی مٹی کو سونا بنا دیں ۔یہ کہہ کر شاہ حسین نے کیمیا گر کو ساتھ لیا اور ایک کونے میں جا کر پیشاب کیا ۔جہاں جہاں پیشاب پہنچا وہ جگہ سونا بن گئی ۔شاہ حسین نے کہا یہ سونا اٹھا لے ۔تو اس کیمیا گری کو ترک کر کے خدا کو تلاش کر ۔کیمیا گر شاہ حسین کا مرید ہو گیا اور ان کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گیا ۔
ایک رات کا قصہ ہے شاہ حسین قلعے کے اندر محفل جمائے بیٹھے تھے ۔اچانک ان کی نظر مادھو پر پڑی تو دیکھا کہ مادھو کے کپڑے میلے ہیں ۔شاہ حسین نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ وہ فوراً مادھو کے کپڑے دھو کر لائے ۔اس نے کہا کہ آدھی رات کا وقت ہے باہر اندھیرا ہے ۔باہر راستوں پر پہرے دار بیٹھے ہیں ۔اس وقت کوئی دریا کے کنارے کیسے پہنچے گا اور اگر پہنچ بھی گیا تو کپڑے کیسے خشک ہوں گے ۔شاہ حسین نے کہا کہ تم ڈرو مت باہر جائو ۔وہ بندہ باہر نکلا تو دیکھا کہ تیز دھوپ ہے اور پورا شہر اپنے کام کاج میں مصروف ہے ۔جب وہ شخص کپڑے دھو کر قلعے کے اندر شاہ حسین کی محفل میں پہنچا تو دیکھا تو اندر پھر وہی رات تھی ۔
ایک روز شاہ حسین اپنے اپنے دوستوں کے ہمراہ موجودہ شرق پور کے آس پاس ایک قصبہ منڈیانوالہ گئے ۔دوستوں نے ایک شرط رکھی کہ شاہ حسین وہاں انہیں اعلیٰ قسم کی گھی اور شکر اور نان کھلائے گا ۔گائوں والوں کو جب درویشوں کی آمد کا پتہ چلا تو انہوں نے سوچا کہ درویشوںکا پکڑ کا باندھ دیتے ہیں اور جب ان کا پیر انہیں چھڑانے آئے گا تو اسے کہیں گے اگر تو اتنا ہی بڑا پیر ہے تو پہلے یہاں بارش برسا کیونکہ یہاں طویل خشک سالی ہے ۔گائوں والوں نے یہی کیا سب کو رسی سے باندھ دیا جب شاہ حسین کو پتہ چلا تو آپ درویشوں کو چھڑانے گئے ۔گائوں والوں نے کہا کہ ان کی رہائی اسی صورت ہو گی جب یہاں بارش ہو گی ۔شاہ حسین نے کاہ کہ یہ اختیار تو خدا کا ہے ہاں البتہ تم لوگ اگر میرے درویشوں کو گھی اور شکر کھلائو تو ہم تم لوگوں کے لئے دعا کریں گے ۔ گائوں والوں نے تجویز منظور کر لی اور گھر شکر کا اہتمام کیا جب درویشوں کے پیٹ بھر چکے تو سب ناچنے لگے ۔اسی اثنا میں آسمان پر بادل چھانے لگے ۔جیسے جیسے درویش رقص کرتے جاتے بادل چھم چھم برسنا شروع ہو گیا ۔اتنی بارش برسی کہ گائوں والوں کو خدشہ ہوا کہ کہیں ان کے مکانات ہی نہ بہہ جائیں ۔اس لئے انہوں نے رقص بند کرنے کی التجا کی ۔ جیسے ہی درویش رکے بارش بھی رک گئی ۔
ابتدا میں مزار آپ کا شاہدرہ کے پاس بنا دیا گیا مگر جب دریائے راوی نے اپنا رُخ بدلا تو آپ کا صندوق نکال کر باغبانپورہ کے شمال میں اس جگہ دفن کیا گیا جہاں اب آپ کی خانقاہ واقع ہے ۔ 1056ھ ، 1646ء میں جب آپ کا خلیفہ مادھو فوت ہوا تو وہ بھی آپ کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔ احاطہ مزار کی چار دیواری پختہ ہے۔ دروازہ کلاں جس سے آمدورفت ہوتی ہے بجانب غرب ہے ۔ احاطے کے درمیان میں اونچے چبوترے پر قبر کے تعویذ ہیں۔
شاہاں چغتائی میں سے جو بادشاہ لاہور آتا وہ آپ کے مزار پر حاضر ہو کر نذریں چڑھاتا اور مجاوروں اور سجادہ نشینوں کی پرورش کرتا ۔ نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی جیسے حملہ آور بھی اس درگاہ پر آکر جھکے ۔ ناظمان لاہور بھی آپ کے عقیدت مند تھے۔ نواب ذکریا خاں نے آپ کی خانقاہ سے مغرب کی جانب ایک مسجد بنوائی جو اب تک موجود ہے ۔ معز الدین جہاندارشاہ جب اپنے بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے ہاتھ سے تنگ آکر آپ کے مزار پر آیا تو اس نے عہد کیا کہ اگر خداوند کریم نے مجھے بادشاہی عطا کی تومیں آپ کے مزار پر طلائی چوبوں کا سائبان اور روپیہ اشرفی سے بھری ہوئی دو دیگیں نذر کروں گا ۔ چنانچہ جب وہ دوبارہ تخت نشیں ہوا تو اس نے دلی خلوص اور عقیدت مندی سے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ جس سے مزار کا احاطہ اور چار دیواری حضرت بلاول کی سعی سے بہت عمدہ تیار ہو گئی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے آپ کی کرامات کا حال سُن کر خانقاہ کی مرمت اور سالانہ عرسوں کے اخراجات کے لیے مفصلّہ ذیل معافیاں عطا کیں۔
1۔ چاہ موراں والہ جصن کی زمین 32بیگھہ تھی ۔
2۔ چاہ مان دا لا جس کی اراضی 20بیگھر تھی ۔
3۔ چاہ پیر والا جس کا رقبہ 43بیگھہ تھی
4۔ چاہ لکینم جس کی زمین 66بیگھہ تھی ۔
5۔ ضلع امرتسر میں ایک چاہ جس کی زمین 10بیگھہ تھی
6۔موضع فتح گڑھ ضلع لاہور میں ایک بیگھہ زمین ۔
7۔ اٹاری ضلع امر تسر میں سات بیگھہ زمین ۔
8۔ موضع کوٹ بیگم میں تین بیگھہ زمین ۔
ان کے علاوہ مہاراجہ خاص عرس اور بسنت کے دن بھی بہت کچھ امداد دیا کرتے تھے ۔ وہ بسنت کادربار یہیں لگاتے اور یہیں نذریں وصول کرکے امراء کو خلعتیں بخشتے تھے ۔ مہارا جہ دلیپ سنگھ کے عہد تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا مگر سکھوں کی سلطنت کے زوال کے ساتھ سارا کھیل بگڑ گیا اور آمدنی بند ہو گی ۔
عرس سال میں ایک باراب بھی ہوتا ہے ۔ پہلے قمری حساب سے یکم رجب کو ہو تا تھا۔ اس صورت میں عرس کی تاریخ کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں پڑتی تھی ۔ اور نزدیک و دور سے آنے والوں کو موسم کے ادل بدل سے تکلیف ہوتی تھی۔ 1863ھ سے قمری تاریخ بدل کر مارچ کا آخری ہفتہ مقرر کر دیا گیا۔ اس رات مزار اور اس کے تمام احاطے میں چراغ جلائے جاتے ہیں ۔ اس بنا پر عوام میں یہ عرس میلہ چراغاں کے نام سے مشہور ہو گیا ہے ۔ چراغاں کی بہار دیکھنے اور مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد لوگ تفریح کے لیے شالامار باغ میں چلے جاتے تھے جو بالکل ہی قریب واقع ہے ۔ آہستہ آہستہ عرس کو تو لوگ بھُول گئے اور اسے شالا مار باغ کا میلہ ہی سمجھنے لگے۔ یہ میلہ پنجاب کا ایک قومی تہوار بن گیا ہے ۔ جس میں شہری اور دیہاتی یکساں دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ 1880ء سے اس موقعہ پر مال مویشی کی منڈی بھی لگتی ہے اور اس میلہ کو ایک تجارتی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں