70

سورۃ البقرہ کی آیت160کی تفسیر

اِلَّاالَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْم
ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح میں لگے رہے اور وضوح حق کرتے رہے یہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مجھے ان کی توبہ قبول ہوگی اور میں ہوں ہی بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان‘‘۔(۱۶۰)
قرآنی تعلیمات میں اگر امعان نظر سے غور وفکر کیا جائے تو ماحول کو روحانی بنانے کے لئے کسی بھی مجرم کے لئے تو بہ کے دروازے بند کرنے کی سفارش نہیں کرتیں۔ وہ لوگ جو توبہ کی روش اختیار کرتے ہیں اور عملا ًخلوص نیت سے اپنے گناہوں کی تلافی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے لئے راہ نجات کو واضح کر کے پیش کیا جا تا ہے۔ اسلام بحیثیت دین کسی کو جلانے کا شوق نہیں رکھتا ، بچانے کے ضابطے عطا کرتا ہے ۔ یہ لوگ خود ہیں جنہیں خود کو آتش سوزاں میں پٹخنے کا شوق ہوتا ہے ۔ دین مبین نے تو تین کاموں کو رحمت سے قریب ہونے کے مترادف قرار دیا ہے:
٭پہلا کام ہے تو بہ کرنا
٭دوسرا کام ہے اصلاح کرنا
٭ اور تیسرا کام ہے احکام الہیہ اور محامدمحمد کو خوب کھول کر بیان کرنا
آیت میں دو جملے
ایک تو یہ کہ یہ لوگ اگر اپنی روش سے پلٹ آئیں تو میں بھی پلٹ آؤں گا یعنی انہیں معاف کر دوں گا اور دوسرا جملہ یہ ہے کہ میں تو اب اور رحیم ہوں ، اللہ تعالی کی انتہائی محبت اور کمال شفقت پر دلالت کرتے ہیں ۔
ایک شیعہ مفسر نے بات سمجھانے کے لئے اچھے لفظوں کا انتخاب کیا ہے (144):
’’انا‘‘ واحد متکلم کی ضمیر ہے جس کا معنی ٰہے میں خود۔ یہ ایسے مقامات پر آتا ہے جہاں کہنے والا براہ راست سننے والے سے رابط رکھتا ہو، خصوصا کوئی بزرگ ہستی اگر یوں کہے کہ میں خود یہ کام تمہارے لئے کروں گا ، بجائے اس کے کہ وہ کہے’’ہم یہ کام اس طرح کر میں گئے دونوں لہجوں میں فرق ہے پہلے انداز کا لطف وکرم حد بیان سے بہت بلند ہے ۔
’’اتوبُ‘‘ کے بعد اللہ تعالی کے لئے قرآن حکیم نے تواب اور حیم کی صفات بیان کی ہیں۔ تواب میں مبالغہ ہے۔ یہ انداز انسانوں کی روحوں میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔
تفسیر سمرقندی کی یہ بات بڑی پسند آئی کہ اللہ اورفرشتوں کی لعنت کو کوئی چیز روک نہیں سکتی ہاںایک تو یہ ہے جو بندے کو دھو دیتی ہے (145)۔
آیت کا یہ تقاضا بھی ہے کہ انسان کو مصلحت کوشیوں کے فتنوں سے بچنا چاہئے اور اصلاح کے اس دروازے سے داخل ہونا چاہئے جو حضور ؐ کی محبت اور خوبیوں کی خوشبو سے معطر ہواور حضورؐ کی خوبیوں کے بیان میں بخل نہیں برتنا چاہئے یہ ملکوتی عزتوں اورفضیلتوں کا منور راستہ ہے۔ واللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں