75

سورۃ البقرہ کی آیت163-162–161کی تفسیر


اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَا تُوْا وَھُمْ کُفَّاراُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ہفِیْھَا لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ہ
’’ بے شک دولوگ جنہوں نے کفر کیا اور کفر ہی کی حالت میں مر گئے ، وہ لوگ ہیں کہ ان پراللہ کی پھٹکار اور فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے، ہمیشہ اس میں رہیں گے نہیں تخفیف کی جائے گی ان کے عذاب میں اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی‘‘ ۔
قرآن مجید کی ان دوآیتوں میں کفر کا وہاں اور ذلت بیان کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی ہٹ دھرمی ،ضد تعصب اور عناد کی ظلمت سے باہر نکلنے کی سعی نہیں کرتے اور کفر اور گستاخی پر جمے رہتے ہیں اور اسی حالت میں ان کی موت ان کو آگھیرتی ہے ایسے لوگوں پر اللہ فرشتوں اور لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ تعالی نے ان دو آیتوں میں لعنت کے سوا کسی دوسرے عذاب کا ذکر نہیں کیا، ہاں یہ ضرور کہا ہے کہ اللہ تعالی ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہیں فرمائے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی ۔ آیت کے اسلوب سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ لعنت اتنی بری چیز ہے کہ دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بھی یہ تخت ہے۔آیتوں کے اندر حضور ؐ کی نعت کا کتمان کرنے والے کافروں کے لئے سخت اور شد ید سزاسنائی گئی ۔علامہ واحدی نے یہی لکھا کہ سزا کی سنگینی یہ ہوگی کہ نہ معذرت قبول ہوگی ، نہ تو بہ قبول ہوگی اور نہ ہی واپس پلٹا جا سکے گا (146) ۔
لعنت کرنے میں احتیاط
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐنے ارشادفرمایا کہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرے تولعنت آسان کی طرف چڑھ جاتی ہے اور آسمان کے دروازے اس کے لئے بند کر دئے جاتے ہیں، اس طرح لعنت زمین کی طرف مراجعت کر لیتی ہے لیکن زمین کے دروازے بھی بند کر لئے جاتے ہیں ، پھر وہ دائیں بائیں اپنا راستہ تلاش کرتی ہے، جب وہ کوئی جگہ نہیں پاتی تو اس پر لوٹ جاتی ہے جس پر لعنت بھیجی ہے ۔ اگر وہ اس کا اہل ہو تو اس پر پڑ جاتی ہے اور اگر وہ اس کا اہل نہیں تو اس پرلوٹ جاتی ہے جس نے لعنت کے الفاظ زبان سے نکالے ہیں (147)۔
وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہ’‘ وَّاحِد’‘ ج لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ہ
’’اور معبودتمہارا معبود ایک ہی ہے ، کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی مہربانیوں والا بے حد رحم فرمانے والا‘‘
عقیدئہ توحید روحانی اسباق میں مرکزی سبق ہے ۔ کائنات کا ہر رنگ ، ہر جلوہ اور روشنی کی ہرکرن اسی مرکز سے منور ہوتی ہے ۔ بعض اعتقادی خرابیاں اس عقیدہ کے ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ۔ اس آیت سے پہلی آیات میں یہودیوں اور بعض دوسرے لوگوں کے جرائم بیان ہوئے ۔ اب قرآن مجید قاری قرآن کے سامنے یہ تجز یہ عدالت کے ساتھ رکھ دیتا ہے کہ وہ لوگ بنیادی طور پر اللہ پر ایمان کے معاملے میں ڈنڈی مارنے لگ گئے تھے، اگر ان کا ایمانِ توحید درست ہوتا تو ایمانِ رسالت بھی درست ہوسکتا تھا لیکن وہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں خائن ہو گئے اس لئے ان میں ہر قسم کی خرابی آ گئی ۔ اس آیہ کریمہ میں ’’ایمان توحید‘‘ کومحکم اور مضبوط کیا جارہا ہے اور سمجھایا جارہا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے ۔کوئی علوی یا سفلی ، ارضی یا سماوی ، نوری یا ناری اور خا کی اور بادی معبود نہیں ہوسکتا۔آیت میں اللہ تعالی کی دوصفات بیان ہوئی ہیں : ایک اس کا رحمان ہونا اور دوسرا اس کا رحیم ہونا۔ یہ دونوں توحید پر دیلیں بھی ہیں اور تربیت کے دوسر چشموں کی نشان دہی بھی ہیں ۔ رحمنٰ تو وہ ہے جس نے دنیا میں انسان کو مادی اور روحانی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے اور رحیم وہ ہے جو آخرت میں خاص لوگوں کے لئے اپنے کرم اور رحمت کے دروازے کھول دے گا ۔ایسی صفات رکھنے والا مالک ہی انسانوں کا معبود ہوسکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں