52

سورۃ البقرہ کی آیت 165کی تفسیر


وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ وَ لَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا وَّاَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَاب
’’اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر بناتے رہتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے وہ اللہ سے محبت کر رہے ہوں اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہوتے میں وہ حد سے بڑھ بڑھ کر اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں، کاش اندھیر مچانے والے دیکھ ہی لیتے جب وہ عذاب دیکھ کر مان جائیں گے کہ قوّت ساری تو اللہ ہی کے لئے ہے اور بے شرک اللہ کا عذاب سخت ہے‘‘ ۔
قرآن مجید کی اس آیت سے پہلے تخلیق کے جلوے قاری قرآن کی نظر کے سامنے پھیلا دئے گئے ۔ حسن و جمال کی عروس بہار سجادی گئی ۔ زمین سے آسمان تک حق و حقیقت کے نغموں کی موسیقیت روح نواز بنادی گئی ۔ ستاروں کے دئیوں اور دھنک کے رنگوں میں روشنی ہی روشنی پھیلا دی گئی ۔ فطرت کی مسکراہٹوں اور زماں ومکاں کی دلکشیوں میں خطرہ ہوا کہ آدم کا بیٹا کہیں دل نہ لگا بیٹھے اور اس کی محبت دیوانی ہو کر معبود کے سوا کوئی اور معبود نہ تلاش کرنے بیٹھ جائے ،اس آیت میں قوت کا اصل سر چشمہ بتا دیا گیا اور شرک اور بت پرستی کا گند آشکار کر دیا گیا اس لئے کہ ابن آدم گند گیوں سے بچ کر رہے اور وہ اپنی جبیں شرک سے آلودہ نہ کرے اور قلب سلیم میں صنم نہ ڈالے معبود کی را واکثر مظاہر فطرت کو دلیل اور بر ہان سمجھنے کی بجائے مقصودعبادت سمجھنے سے کم ہوتی ہے۔
زیر تفسیر آیت اس فطری سبق سے شروع ہوتی ہے کہ مخلوق اور خالق کبھی برابر نہیں ہو سکتے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کو’’ند‘‘ قرارنہیں دیا جا سکتا ہے، نہ اس کے برابر کوئی ہے اور نہ اس کے کوئی مشابہ ہے اور نہ اس سے کسی کو بڑا مانا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی کو چھوٹا قرار دے کر اس کی مانند قرار دیا جا سکتا ہے ۔ شرک غلاظت ہے ، شرک گندگی ہے اور شرک ظلمت ہے اور ان آلائشوں سے بچنا ہیتکوینی تشریعی حق ہے۔
یہ آیت محسن اور شفیق استاد کی طرح ہر انسان کو شرک کی غلاظتوں سے بچاتی ہے ۔ انسان اکثر بگڑ تا دوہی اسباب سے ہے: ایک بے جا خوف سے اور دوسرا بے جا محبت سے ۔خوف میں عرفان صحیح ہو تو تعمیر ہی تعمیر ہوتی ہے اور طاقت کا سرچشمہ صحیح نہ مانا جائے تو تخریب ہی تخریب ہوتی ہے ۔ یہی حال محبت کاہے یہ کشش کا طوفان سفینے کوڈ بوتا بھی ہے اور ساحل آشنا بھی کروادیتا ہے ۔
قاری قرآن محسوس کر سکتا ہے کہ یہ آیت معبود اور محبوب میں فرق بتاتی ہے اور کمال بڑجستگیکے ساتھ’’ظلم‘‘ کی نفسیات سے آگاہ کر دیتی ہے کہ یہ پیدا کہاں سے ہوتا ہے اور دل کی بستیوں کو اجاڑتا کیسے ہے اور سوچ اور عمل کی یہ بدتمیزی سنگ وخشت کے خوبصورت جہانوں کو ویرانے میں کس طرح تبدیل کر دیتی ہے؟
قرآن مجید کی اس آیت میں مشرکین اور مومنین میں فرق بتایا ہو تا ہے ، یہ کہ اصحابِ ایمان فکر ونظر اور علم و دانش کے حامل ہوتے ہیں۔وہ ا پنی وابستگیاں اسی معبود سے مر بوط رکھتے ہیں جو تمام کمالات اور صفات کمالیہ کا منبع و مخزن ہے ۔ وہ اللہ کی محبت میں ڈوبے ہوتے ہیں ۔ ان کے نزدیک اللہ کی محبت اور لگاؤ کے مقابلہ میں ہر چیز بے قیمت ، نا چیز اور حقیر ہوتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ایک دعا میں اللہ سے قریب ہو کر کر یہ کناں ہوتے ہیں ۔ مشکلات کا ہر لمحہ تمام تر ایذیتوں کے باوجود ہمیں صبر سے جد انہیں کر سکتا لیکن اللہ کی محبت سے جدائی اور فراق ہمارے لئے نا قابل برداشت ایذیت ہے۔
قرآن مجید میں سمجھا تا ہے کہ ہم دل ، دماغ اور روح و جسم سب کچھ اللہ کے لئے وقف کر دیں۔تفویضسیکھ لیں شعار بنالیں، تعمیل کو عادت بنالیں، اللہ کی عظمت جیسی عظمت اور اللہ کی محبت ایسی محبت کسی اور کو نہ دیں ۔ اللہ کے علاوہ کسی اور سے محبت جرم نہیں بلکہ جرم یہ ہے کہ اللہ پر کسی غیر کی محبت کو فائق کر دیا جائے ۔
اللہ سے ٹوٹ کر محبت کرنے والا ہمیشہ اس گلی کا دیوانہ بن جاتا ہے جہاں مصطفی کریم ؐ اپنے روحانی قافلے سے اسے کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ قرآن کا یہ سبق لازوال ہے قطعی ہے، اٹل ہے ۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ عبادت اور چیز ہے اور تعظیم اور چیز ہے ۔ عبادت صرف اللہ کی ہے اورتعظیم اللہ کے لئے ہے وہ شعائر اسلام کی بھی ہوسکتی ہے ، رسولوں کی بھی ہوسکتی ہے، اہل اللہ کی بھی ہوسکتی ہے ، بڑوں کی بھی ہوسکتی ہے لیکن عبادت اللہ کے سوا کسی کی بھی نہیں ہوسکتی ۔ عبادت نہ روح کی ہے نہ ہندسوں کی ہے، نہ حرفوں کی ہے ، نہ شخصیات کی ہے ، نہ تصورات کی ہے ، نہ جمادات کی ہے ، نہ نباتات کی ہے، نہ اقدار کی ہے اور نہ فرضی افکار کی ہے ۔ عبادت صرف اور صرف محض اور محض اللہ کی ہے۔ یہی قرآنی سبق ہے اور یہی رسولی تعظیم ہے ۔ لا الہ الا اللہ ہاں سید قطب کی یہ بات پسندیدہ ہے(151): ’’بندے اور خدا کے درمیان محبت کی تعبیر خوبصورت تعبیر ہے ۔ اللہ کے ساتھ بندے کا تعلق قلبی محبت ، روحانی کشش، تقرب ، ولایت اور پر خلوص نورانی جذبوں کا تعلق ہے۔ اسے ہمہ دم بڑھتے رہنا چا ہے‘‘۔
قرآن مجید کی اس آیت کا آخری حصہ لرزہ طاری کر دینے والا ہے، ہلا دینے والا ہے اور حسرتوں کی وادیوں میں دھکیل دینے والا ہے ۔
مفسرین کے نزدیک’’ ولویری ‘‘میں’’ لو ‘‘ تمنائی بھی ہوسکتا ہے اور شرطیہ بھی ہوسکتا ہے (152 ) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے ساتھ ہمسر گھڑے ہوئے ہیں انہوں نے سچائی کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔ خود اپنے او پرظلم کیا ہے کاش! وہ آنکھیں کھول کر دیکھ لیتے ۔ اس منظر کا تصور روح میں اتار لیتے جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ کاش! وہ اس عذاب کو دیکھ لیتے جو منکروں اور مشرکوں کواپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
شرک سے بچنا مومنین اور متقین کا شعار ہے، وہ نہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اور نہ غیر اللہ کی رضا کے مطابق حلال وحرام میں دخل دے کر اللہ کی کتاب اور حضورؐکی دعوت کو ترک کرتے ہیں اور یہ کہ نذر یںبھی غیر اللہ کے نام پر نہیں مانتے ۔ آیت کا ہر سبق روشنی کا مینار ہے اور طبیعتوں ، ذہنوں ، دلوں اور روحوں کا تزکیہ کر دینے والا ہے ۔ اللہ ہمیں اپنی بندگی کا نو رعطافرمائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں