76

یو کرینی مہاجرین اور جاری جنگ

ایک روسی ماہر معاشیات کا اندازہ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً دو لاکھ شہری ملک چھوڑ چکے ہیں۔ بیلاروس کے لوگ بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی مدد کرنے پر الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت پر مغربی پابندیوں سے تنگ آ کر بیلاروس کے شہری بھی دوسرے ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ نہ صرف ہوائی جہازوں کا کرایہ بڑھ گیا ہے بلکہ استنبول اور آرمینیا کے دارالحکومت یریوان جیسے بڑے شہروں میں رہائش کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنی پڑ رہی ہیں ۔اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر آنیا نے کہا، ’استنبول جانے والے جہاز کا یک طرفہ کرایہ میری اور میرے شوہر کی پورے مہینے کی تنخواہ کے برابر تھا۔‘ آنیا نے روس چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب روس میں غداری کے حوالے سے نیا قانون آیا۔ اس کے تحت یوکرین کی حمایت کرنے والوں کے لیے 20 سال تک قید کی سزا شامل ہے اور آنیا کو لگتا ہے کہ وہ بھی اس کا نشانہ بن سکتی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’بند سرحدوں کا خوف، سیاسی جبر اور جبری فوجی خدمات ہمارے ڈی این اے میں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میری دادی ہمیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں کہ کیسے وہ سٹالن کے دور میں خوف کے ماحول میں جیتے تھے۔‘ بدترین جنگوں کا بھی اختتام ہوتا ہے۔ جیسے دوسری عالمی جنگ میں آخری نتیجے یہی تھا کہ مرنے تک لڑائی جاری رہے۔ اکثر جنگیں ایسے معاہدوں پر ختم ہوتی ہیں جن سے کوئی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔ لیکن اس سے کم از کم خونریزی رُک جاتی ہے۔ اور اکثر سب سے بُری لڑائیوں کے باوجود متحارب فریق بتدریج اپنے پرانے اور کم دشمنی پر مبنی تعلقات کو بحال کر لیتے ہیں۔ اگر ہماری قسمت اچھی ہو تو روس اور یوکرین کے درمیان امن کے لیے اِسی عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ یوکرین میں روس سے متعلق ناراضی کئی دہائیوں تک چلے گی۔ مگر دونوں فریقین امن چاہتے ہیں: یوکرین اس لیے کہ اس کے شہر اور گاؤں تباہ ہو چکے ہیں۔ اور روس اس لیے امن چاہتا ہے کہ (یوکرینی صدر کے مطابق) اُس نے چیچنیا میں دونوں پُرتشدد جنگوں سے زیادہ فوجی اور ساز و سامان کا نقصان اٹھایا ہے۔ (تاہم یوکرینی صدر کے اس دعوے کی تصدیق ناممکن ہے۔ لیکن کوئی بھی ایسے امن معاہدے پر دستخط نہیں کرنا چاہے گا جس سے اُن کے اپنے زوال کا امکان پیدا ہو۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن اپنی ساکھ اور عزت کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اپنی سفارتکاری کا ہنر منوایا ہے اور وہ کچھ بھی کہنے یا کرنے کو تیار ہیں جو اُن کے لیے اور اُن کے لوگوں کے لیے قابل قبول ہو تاکہ اُن کا ملک روسی افواج سے نجات پا سکے۔ صدر زیلنسکی کا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ یوکرین یہ سب کچھ ہونے کے بعد ایک متحد ملک بن کر اُبھرے، نہ کہ بطور ایک روسی صوبہ یا خطہ۔ یہ وہ تاثر ہے جو اس جنگ کے آغاز سے قبل روسی صدر پوتن کا خیال تھا۔ صدر پوتن کی توجہ اس بات پر ہے کہ وہ کسی طرح اپنی فتح کا اعلان کر دیں۔ انھیں اس بات سے فرق نہیں پڑے گا اگر ان کی پوری انتظامیہ یہ سمجھتی ہو کہ روس نے بلاضرورت یوکرین میں مداخلت کی۔ نہ ہی انھیں اس بات سے کوئی سروکار ہو گا کہ 20 فیصد کے قریب روسی، جو دنیا کے حقائق جانتے ہیں، وہ یہ کہیں کہ پوتن نے اپنی خواہش کی بنیاد پر سب داؤ پر لگایا اور ہار گئے۔ یہ لڑائی ان لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں لڑی جا رہی ہے جو سرکاری ٹی وی کی ہر بات سُنتے اور مانتے ہیں۔ بے شک روسی ٹی وی پر بہادر ایڈیٹر ماریا نے پس منظر میں بینر اٹھا رکھا تھا کہ آپ کو جو کچھ بتایا جا رہا ہے وہ پراپیگنڈا ہے، اس کے باوجود بعض ناظرین پوتن کی مہم پر یقین کرتے رہیں گے۔ تو کیا صدر پوتن اس تباہ کن جنگ کے بعد بھی روسی اکثریت کو اچھے ہی دکھائی دیں گے؟ شاید ایسا اس صورت میں ممکن ہو سکتا ہے اگر یوکرین کے آئین میں لکھا جائے کہ وہ مستقبل میں نیٹو کا رُکن نہیں بنے گا۔ صدر زیلنسکی نے پہلے ہی اس کی تیاری کر لی ہے جب انھوں نے نیٹو سے کچھ ایسا مانگا جو وہ کبھی نہیں دے سکتا تھا (یوکرین میں نو فلائی زون کا مطالبہ)۔ پھر انھوں نے مایوس ہو کر نیٹو پر تنقید کی۔ زیلنسکی نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر نیٹو کا یہ رویہ ہے تو یہ شمولیت کے لائق نہیں۔ ہوشیار اور عقلمندانہ سیاسی حکمت عملی میں اس سے بہتر کچھ نہیں۔ نیٹو پر ایسا الزام عائد ہوتا ہے جس سے وہ آسانی سے نکل سکتا ہے۔ اور یوکرین کو اس کی آزادی واپس مل جائے گی۔ لیکن یہ تو صرف آسان مرحلہ ہے۔ زیلنسکی اور یوکرین کے لیے فوراً یورپی یونین کا حصہ بننا مشکل ہو گا۔ روس اُن کی اس خواہش سے بھی خوش نہیں۔ تاہم اس سے بھی نکلنے کے طریقے موجود ہیں۔ یوکرین کے لیے سب سے مشکل بات یہ ہضم کرنا ہو گی کہ روس اس کے علاقوں پر قابض ہو جائے گا۔ یہ اس عزم کی خلاف ورزی ہو گی جس کا اعادہ اس نے یوکرینی سرحدوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط ک ساتھ کیا تھا۔ 2014 میں کریمیا کو کھونا پھر بھی یوکرین کے لیے کچھ حد تک قابل قبول ہو۔ روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین کے علاقوں پر قابض رہے گا جہاں اس نے اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں