118

حضرت عثمان کی حضورؐ سے محبت


حضرت عثمان بن عفّا ن رضی اللہ عنہ اسلام کے سابقین اولین میں سے ہیں ، اور عظیم قدر و منزلت کے مالک ہیں، انہوں نے اللہ کی راہ میں سخت تکلیفیں اٹھائیں،اس کے باوجود وہ نبی کریم کی محبت میں آگے بڑھتے گئے اور نبی کریم کی محبت ان سے بڑھتی گئی اور جب ابو لہب کے دوبیٹوں نے ( جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے)اپنے والدین کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں: رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دے دی، تاکہ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچے تو حضرت عثمان رضی اللہ آگے بڑھے اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ طلب کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کانکاح کردیا۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ان کی حسنِ معاشرت سے بہت خوش ہوئیں ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مشرکین مکہ کی طرف سے بہت تکلیفیں اٹھانی پڑیں، آخر کار اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ کی طرف دوبار ہجرت فرمائی ، پھر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں محبت اتنی بڑھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں دے دیا اوریہ سنہ ۳ہجری کا واقعہ ہے ۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” اے عثمان! یہ جبریل ہیں ، انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالی نے ام کلثوم کا آپ سے نکاح کردیا ہے، رقیہ جیسے مہراور اس جیسے حسن ِ معاشرت کے ساتھ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اگر انتہائی محبت نہ ہوتی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غایت محبت نہ ہوتی تو آپ ان سے دوسری صاحبزادی کانکاح نہ فرماتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مستقبل میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر بڑا اعتماد تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ ایک عظیم منقبت ہے کہ سابقہ امتوں میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے پیغمبر کی دوبیٹیوں سے شادی کی ہو، سوائے حضرت عثمان بن عفانے ۔
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بڑے شرم و حیا والے اور کریم النفس تھے یہاں تک کہ فرشتے بھی ان سے شرم کرتے تھے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہو اہے ، اور ہروہ کام جس سے اللہ اوراس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے اس میں کبھی انہوں نے کوتا ہی نہیں کی ، اور مشہور ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جیش عسرہ کی پوری تیاری آپ نے کی تھی اور یہ غزوہ مسلمانوں کی تنگی کے وقت یعنی مال کی کمی کے وقت پیش آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پور ے لشکر کی تیاری کی، یہاں تک کہ اونٹوں کے لئے نکیل اور رسی تک مہیا کی ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جیش العسرہ کے لئے نو سوچالیس اونٹ اور ساٹھ گھوڑے پیش کر کے ایک ہز ار مکمل کردئیے ، ایک روایت میں ہے :تین سو اونٹ ان کے پالان اور جُھل کے ساتھ اللہ کی راہ میں دئیے ۔غالباً یہ ابتداء میں ایسا ہوا پھر ہزار پورے کردئیے جیسے پہلے ذکر ہوا ، جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : ” ماضرّ عثمان ماعمل بعد الیوم“ یعنی۔”آج کے بعد عثمان جو کام کرے اسے کوئی نقصان نہیں ۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ بار بار دُہرایا ،اس کے علاوہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مزید ایک ہزار اشرفی مصارف کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں لا کر ڈال دی (اور دینا ر پانچ گرام سونے کا ہوتا ہے )اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول پر کسی تعجب کی ضرورت نہیں ۔
آئیے! آپ کو ایک سخاوت کی قیمت بتاوں ، ایک اونٹ قربانی کے سات بکروں کے برابر ہوتا ہے اور دینا رکم ازکم ایک قربانی کے جانور کے برابر اور کبھی دو جانور کے برابر ہوتا تھا۔تواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں ”ماضرّ عثمان ماعمل بعد الیوم“یعنی:۔”آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اس کے لئے مضر نہیں“۔فرمانے کے بعد آپ کو ان جاہلوں کے اتہامات کا اندازہ ہوجائے گا جو انہوں نے حضر ت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے ولات پرباندھے ہیں، کیوں کہ انہوں نے انہی حضرات کو مختلف عہدے سونپے ہیں جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں سونپے گئے تھے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کو اپنا نمائندہ بنا کر قریش مکہ کے پاس بھیجا اور ان کے واپس آنے میں تاخیر ہوگئی تو مسلمانوں کو گمان ہوگیا کہ قریش نے ان کو قتل کردیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے لڑنے کے لئے بیعتِ رضوان کی دعوت دی ،تاکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لیں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعتِ رضوان فرمائی اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو مبار ک ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو اٹھاتے ہوئے فرمایا : یہ عثمان کی طرف سے ہے اور اس سے دوسرے ہاتھ مبارک پر بیعت فرمائی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی یہ وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبار ک ان کے لئے ان سب کے ہاتھوں کے مقابلہ میں بہترتھا ۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی عظیم کارناموں سے بھری پڑی ہے ، جب سے وہ حبشہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جو ان سے ممکن ہوا خیر کے کاموں میں حصہ لیتے رہے ، پھر ان کی خلافت کا دور بھی عظیم فتوحات سے بھرا پڑا ہے ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غایت ِ محبت کا اندازہ آپ اس گفتگو سے لگائیں جس سے انہوں نے خوارج کو لاجواب کردیا تھا ۔چنانچہ محدثین حضرات کی اسانیداور باریک شرائط کے ساتھ حضرت ثُمامہ بن حَزْن قشیر ی مشہور ثقہ تابعی رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں : میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر باغیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : اپنے ان دو ساتھیوں کو میرے سامنے لاؤ جنہوں نے تمہیں میرے خلاف ابھارا ہے ! چنانچہ ان دونوں کو لایاگیا گویا کہ وہ دو اونٹ ہیں یا جیسے وہ دوگدھے ہیں ! اب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے آئے اور فرمایا، میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں : کیا تمہارے علم میں ہے کہ جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ میں سوائے ” بئر رَومہ “ کے میٹھے پانی کا کوئی کنواں نہ تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کوئی ہے جو بئر رُومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کردے اوراس میں اس کا حصہ ہواس خیر کے بدلے جو اسے جنت میں دی جائے گی ؟ تومیں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خریدا ؟ اور آج تم نے مجھے اس کے پانی پینے سے بھی روک رکھا ہے، جبکہ میں عام کھارا پانی پی رہا ہوں ! سب نے کہا: اللہ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہے ۔
پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسجد نبوی نمازیوں کے لئے تنگ ہوگئی تھی تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو فلاں خاندان کی زمین خرید کر مسجد میں شامل کردے؟ اس خیر کے بدلے جو اسے جنت میں دی جائے گی ؟ تو میں نے وہ زمین اپنے ذاتی مال سے خرید کر مسجد میں شامل کی، اور آج تم نے مجھے اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی روک رکھا ہے ؟ سب نے کہا :اللہ گواہ ہے، ایسا ہی ہے۔
پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ ” جیش العسرہ “ کا انتظام میں نے اپنے مال سے کیا تھا؟ سب نے کہا اللہ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہوا ہے ۔
پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتاہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثبیر کے پہاڑ پر کھڑے تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر وعمر اور میں کھڑا تھا تو پہاڑہلنے لگا یہاں تک کہ اس کے پتھر نیچے گرنے لگے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مبار ک مارا اور فرمایا : ٹھہر جاؤ اے ثبیر! تجھ پر اس وقت ایک نبی ایک صدیق اور دوشہید کھڑے ہیں ؟ تو سب نے کہا:اللہ گواہ ہے کہ ایسا ہی ہو اتو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” اللہ اکبر “ سب نے میری گواہی د ی ہے اور رب کعبہ کی قسم میں شہیدہونے والا ہوں۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی ۔یہاں تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو ذکر ہو ا،یہ بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اس کے علاوہ بھی آپ کے فضائل اور مناقب میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔
نیز بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صحیح اور حسن اسانید سے یہ بھی ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کے بارے میں خبر دی ہے جس میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوں گے اور وہ حق پر ہوں گے ۔اور وہ مظلوم قتل ہوں گے۔ ان احادیث میں ایک حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی حدیث ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کاذکر فرمایا، اتنے میں ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ شخص جو منہ پر کپڑا لٹکائے جارہا ہے، یہ اس فتنہ میں مظلوم قتل ہوگا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیاء اور لوگوں کی جان کی فکر کا یہ حال تھا کہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اپنے محافظوں اور اپنے غلاموں کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ ان کی طرف سے باغیوں سے قتال کریں اور فرمایا کہ : میری وجہ سے کسی کا خون نہ بہایاجائے ، اور انہیں قسم دے کر فرمایا کہ وہ چلے جائیں، اور اپنے غلاموں سے فرمایا: جس نے اپنے ہتھیار پھینک دئیے وہ آزاد ہے اوران کے گھر میں سات سو کے قریب ایک بڑی جماعت تھی، اگر ان کو چھوڑ دیتے تو وہ ان باغیوں کو ماربھگاتے ۔ آخری دن انہوں نے اپنی شہادت کے بارے میں بھی گفتگو فرمائی اور فرمایا کہ: یہ لوگ مجھے قتل کریں گے، پھر فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھ ابوبکر و عمرکو خواب میں دیکھاہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عثمان ! ہمارے ساتھ افطار کرو، چنانچہ اس دن آپ نے روزہ رکھا اور روزہ کی حالت میں شہید کردئیے گئے ۔”رضی الله عنہ وأرضاہ وأجزل عن القرآ ن و خدمات الاسلام مثوبتہ وأعلیٰ مأ واہ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں