16

خطرے کی گھنٹی


حامد خان المشرقی:
آج کا کالم میں بہت ہی تکلیف اور پریشانی میں لکھ رہا ہوں وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں حالات جس طرف جا رہے ہیں اور جس طرح رجیم چینج کی گئی ہے اور جس انداز میں پاکستان کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے اس کے بین الاقوامی طور پر بدترین نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں اور ان اثرات کی قیمت پاکستان کی آئندہ نسلوں کو ادا کرنا پڑے گی ۔
پچھلے ایک ہفتے میں جو دو تین بڑی ڈویلپمنٹ ہوئی ہیں وہ پاکستان کے ارباب اختیار ، نیوٹرلز اور دیگر سب کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں جیسا کہ بھارت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے سال ہونے والی G20 کانفرنس جس میں دنیا کے 20 بڑے ممالک کے سربراہ شرکت گے اور اس کانفرنس کا ایک سیشن مقبوضہ کشمیر میں ہونے جا رہا ہے ،اس سے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی جائے گی کہ کشمیر پر مکمل بھارت کا کنٹرول ہے اور مقبوضہ کشمیر میں حالات بالکل نارمل ہیں، وہاں کے لوگ ان کے حق میں ہیں اور بھارت ممکنہ طور پر اگلے 2سال کے لیے G20 کا سربراہ بننے بھی جا رہا ہے ، بدقسمتی سے پاکستان کی وزارت خارجہ اس معاملے میں کوئی بیان دینے سے بھی قاصر ہے ۔جناب وزیر خارجہ بلاول بھٹو بھی اس معاملے میں ابھی تک کوئی پالیسی بیان جاری نہ کر سکے اور نہ ہی ایسا لگتا ہے کہ ان کی اس ضمن میں کوئی تیاری ہے اس کے برعکس جب وہ اپوزیشن میں تھے تو عمران خان کی حکومت اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر کشمیر کے حوالے سے بہت تنقید کرتے نظر آئے حالانکہ عمران خان بہت بہتر انداز میں کشمیر کا مقدمہ دنیا کے ہر فورم پر لے جاکر یونائیٹڈ نیشن تک بھرپور اجاگر کر رہے تھے۔
بھارت کی اس دلیری کی وجہ اور کچھ نہیں بس ہماری کمزور حکومت اور اس کی پالیسی ہے اسی کمزور پالیسی کی وجہ سے ہمارے دوست اور اسلامی ممالک بھی اس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں جو بہت ہی افسوس ناک اور ہمارے لیے شرمندگی کی بات ہے ۔یہ تو ہو گئی آئندہ سال ہونے والی پیشرفت جس کے انعقاد پر ابھی سے کام شروع ہو چکا ۔
میرے لیے اور پور ی قوم کے لیے دوسری خبر انتہائی دکھ ، شرمندگی اور افسوس کی ہے جس سے میں تو بہت دکھی ہوں اور اگر آپ کو بھی سمجھ آ گئی تویقینا آپ کی بھی یہی کیفیت ہی ہو گی وہ یہ کہ پچھلے دنوں شنگھائی میں جو کانفرنس ہوئی ہے۔ اس میں BRICS ایک ادارہ بنایا گیا جس میں برازیل ، روس، انڈیا ، چائینہ اور ساؤتھ افریقہ شامل ہیں جس کا مقصد امریکہ کی اجارہ داری کو جنوبی ایشیائی ممالک میں مقابلہ یا کم کرنا ہے ۔ BRICSکے اجلاس انہی ممالک میں ہوتے ہیں چنانچہ اس دفعہ یہ اجلاس چائینہ میں ہو اور پاکستان کو اس کانفرنس میں بطور مبصر تک بھی مدعو نہیں کیا گیا۔ جبکہ بھوٹان ، مالدیپ اور دس دوسرے چھوٹے ممالک بطور مبصر شامل ہوئے یعنی بھوٹان جیسا ملک جو دنیا کے عالمی نقشے پر نقطے سے زیادہ نظر نہیں آتا اس کے برعکس پاکستا ن کو یکسر نظرانداز کیا گیا اور اس اجلاس میں اسے آبزرور کے طور پر بھی مدعو نہیں کیا گیا ۔ تاکہ اگر پاکستان کل کو اس کارکن بننا چاہے تو اس کا راستہ بھی ہموار نہ ہو ۔ ایسا لگتا ہے بھارت اپنے مقاصد میں پاکستان کی اس موجودہ کمزور سیاسی حکومت میں کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں چائینہ میں ہونے والے BRICSکے اجلاس میں پاکستان کی شمولیت نہ ہونا انتہائی پریشانی کا باعث ہے ۔
جس کی وجہ رجیم چینج کے الزام میں بننے والی موجودہ حکومت کو چائینہ جیسا عظیم دوست بھی کوئی اہمیت نہیں دے رہا اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان خطے میں تنہائی کا شکار ہو رہا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کابینہ میں شامل وزاراء کی اکثریت بشمول وزیر اعظم کے کرپشن کے الزامات میں ملوث ہیں اور چائینہ بظاہر ایسی حکومت اور ایسے لوگوں سے تعلقات میں محتاط رہنا چاہتا ہے جس طرح چائینہ نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ ہم اس حکومت کیساتھ تعلقات میں محتاط رہیں گے ۔ جبکہ عمران خان کے ہوتے ہوئے چائینہ پاکستان کو دوسرے ممالک کی نسبت سب سے زیادہ اہمیت دے رہا تھا اور اسے چائینہ اور روس کی طرف سے یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے امریکہ کے زیر اثر ہی رہنا ہے تو چائینہ اور روس کیساتھ الائنس بنانے کی گنجائش ختم ہو جائے گی اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ پاکستان کی دوستی جس کے ہمالیہ سے بلند ہونے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں آج اس مقام پر آگئی ہے کہ چائینہ میں اتنے اہم ایونٹ میں پاکستان کو مدعو تک نہیں کیا گیا اور جس انداز میں سربراہان نے چائے کا کپ ہاتھ میں پکر کر لہرایا ہے ۔ اس میں پاکستان کے لئے ایک پیغام ہے کہ ایک فنٹاسٹک ٹی آپ نے پلائی اس وقت آپ کاٹائم تھا اور آج ہندوستان اپنی فتح کے طور پر دنیا کو دکھا رہا ہے کیا ارباب اختیار وزیراعظم شہبازشریف ، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اس کی ذمہ داری لیں گے ؟
اگر نہیں تو اس ناکامی اور شرمندگی کی کون ذمہ داری لے گا ؟
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو اب آنے والے دنوں میں مزید اکیلا کرنے کی کوششیں ہوں گی اور اس کی کوئی اور وجہ نہیں بلکہ ہمارے اندرونی خلفشار ، امریکہ کے زیر اثر آنا اور غلامی قبول کرنے کی ہم مزید قیمت بھی ادا کریں گی چنانچہ پھر سے کہنا کہ امریکہ رجیم چینج میں شامل نہیں ہے یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ساری دنیا جانتی ہے پاکستان میں آنے والی حکومت میں کس کا کیا کردار ہے بدقسمتی سے نیوٹرلز نے اس اہم رول ادا کیا ہے جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو ادا کرنے پڑے گی جس کا شائد وہ ا بھی اندازہ نہیں لگا سکتے ۔
پاکستان کے ارباب اختیار کو بس ایک ہی پیغام ہے کہ اگر پاکستان کا وقار دوبارہ بحال کرنا ہے اور خارجہ پالیسی آزاد بنانی ہے تو فوری طور پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کروائیں جو اکثریتی جماعت ہو اسے اقتدار دیں اور کوئی ایسا ایڈونچر نہ کیا جائے جس سے عوامی مینڈیٹ کی توہین ہو اور انتخابات خونی یا پرُتشد د ہوں اور پاکستان دنیا میں انتشار کا شکارہو جائے ۔
صورت حال بہت پریشان کن ہے ، چائینہ جیسے دوست کا اس طرح پاکستان سے بظاہر اپنی راہیں جدا کرنا یا منہ موڑنا اور ہندوستان کے ساتھ دوستی کو ترجیح دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
ارباب اختیارکو اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی اور فوری طور پر اپنی سمت درست کرنا ہو گی ورنہ خدانخواستہ ہماری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں