114

“ اللّٰہ میاں کے نام ایک خط”


پیارے اللّٰہ میاں !
السلامُ علیکم ورحمةُ اللہ وبركاته
(آپ پر سلامتی اور آپکی اپنی ہی رحمت اور برکتیں نازل ہوں)
حالانکہ آپ کو السلامُ علیکم کہنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن کیونکہ ہمارے ہاں خط لکھنے کے یہی آداب ہیں اس لئے ایسا کیا۔
اُمید ہے آپ اپنی وسعتِ رحمت کے ساتھ خیریت سے ہوں گے۔میں جانتا ہوں کہ آپ کو خط لکھنا، یوں لفظوں میں باندھنے کی کوشش کرنا، میری نادانی ہے۔ آپ تو میرے دل کے ہر کونے سے واقف ہیں، میری ہر آہ اور ہر بے آواز چیخ آپ تک بغیر ڈاک اور بغیر لفافے کے پہنچ جاتی ہے مگر آج دل نے ضد پکڑ لی تھی کہ کچھ باتیں لکھ کر آپ کے حضور بھیجوں شاید خود کو سمجھانے کے لیے، شاید اپنے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے۔
اے پیارے اللہ میاں !
معاملہ اصل میں یہ ہے کہ میں تھک سا گیا ہوں دُنیا کے اس ہجوم میں، جہاں ہر شخص (Masquerade)ہے اور نقاب پہنے چلتا ہے، سچائی تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جھوٹ مکرو فریب میرے دائیں بائیں بھی ہے اور آگے پیچھے بھی،کبھی لگتا ہے کہ لوگ میرے ساتھ ہیں، مگر ایک قدم آگے بڑھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ میں تو اکیلا ہی تھا۔ لیکن پھر دل کے کسی کونے سے آواز آتی ہے
“تم کبھی اکیلے نہیں تھے، تمہیں اکیلا چھوڑنے والا میں نہیں ہوں۔ یقینا، دُنیا بہت تیز ہو گئی ہے،لوگ دوڑ رہے ہیں، چیزیں بدل رہی ہیں، خواب ٹوٹ رہے ہیں، رشتے کمزور پڑ رہے ہیں، اور میں بس ایک چھوٹا سا انسان ہوں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا واقعی یہ سب زندگی ہے یا ہم سب ایک ایسے سفر میں چل رہے ہیں جس کی منزل کا صحیح نقشہ صرف آپ کے پاس ہے؟
پیارے اللہ میاں !
میں آپ سے شکایت تو نہیں کرنا چاہتا تھا مگر کبھی کبھی دل اُلجھ جاتا ہے۔ یہ آزمائشیں کچھ زیادہ لمبی نہیں ہوگئیں؟ میں جانتا ہوں کہ آپ کے فیصلے حکمت سے بھرپور ہوتے ہیں، مگر میرا دل بہت جلدی گھبرا جاتا ہے، جلدی بُجھ جاتا ہے کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کیا یہ سب میری اصلاح کے لیے ہے؟ یا یہ بھی آپ کی مُحبت کا کوئی چُھپا ہوا رنگ ہے جسے میں ابھی پڑھ نہیں پا رہا، میں دن رات جھوٹ پڑھتا جھوٹ سُنتا جھوٹ بولتا ہوں اور اُسے اس معاشرے میں نان ونفقہ کا حصول اور زندگی کرنے کی ایک مجبوری قرار دے کر آنکھیں موند لیتا ہوں۔
بہر کیف پہلے تو اس جُرأت رِندانہ پر طلبِ عفو ہوں کہ کہاں آپ جَلّ جَلالُہ وَ جَلّ شانُہ اور کہاں میں حقیر، بے وقعت ،خاکی بَندَۂ ناچیز جو بجائے کسی خاص الخاص اور دعویداران حاجت روائی کے مرقد و تربت پر سَر بَسُجُود ہونے اور نامَہ بَری کی درخواست کرنے کے سیدھا آپ کے ساتھ ڈائریکٹ ہی ہو گیا لیکن مسائل ہی اسقدر گُنجلک ہیں کہ میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور خود کو یہ خط لکھنے کا “رسک” لینے پر آمادہ کیا کیونکہ جبار و قہار ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے آپ کے رحیم و کریم ہونے کا بھی مُصمم یقین ہے !
ویسے بھی ہمارے معاشرے میں خط لکھنے کی روایت اب تقریباً مٹ چکی ہے۔ ای میل، وائس نوٹس اور چیٹ کے اس ہجوم میں خط کی وُہ سادگی اور تاثیر کہاں ملتی ہے ! مگر کچھ خط ایسے ہوتے ہیں جو نہ ڈاک خانے سے گزرتے ہیں، نہ کسی ڈاکیے کی راہ دیکھتے ہیں وہ دل سے نکلتے ہیں، ہوا میں تحلیل ہوتے ہیں اور دُعا بن کر آسمانوں تک پہنچتے ہیں چنانچہ ایسا ہی ہے یہ خط۔
اے مُولائے کریم !
آپ کو تو پتا ہی ہو گا لیکن گفتگو سے پہلے حُجت تمام کے لئے میں خود بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ میں صَوم و صَلٰوۃ اور دیگر عبادات جو آپ سے منصوب کر کے رواج دی گئی ہیں کا قطعی پابند نہیں ہوں اور بظاہر دیندار کی بجائے ایک دُنیا دار آدمی ہوں کیونکہ میں آپ کے اس” فلسفے “ کو مانتا ہوں کہ مُناجات سے زیادہ اہم ترین انسان ہوتا ہے اس لئے میں دکھاوے کی نیکو کاری کے بجائے انسانیت کو اہمیت دیتا ہوں اور سُنا ہے کہ ایسا کرنا آپکو بھی پسند ہے اور آپکو جاننے والے ایک بندے بُلھے شاہ نے بھی تو کہا ہے کہ
*مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے
ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا
*اک بندے دا دل نہ ڈھاویں
رب! دلاں وچ رہندا
لِہٰذا میں تو اسی فلاسفی کو مان کر آپکی دی ہوئی زندگی کے دن پورے کر رہا ہوں !
اے رب العزت!
یہ خط دراصل مجھ جیسے انسان کی اُس کمزوری، اُس بے بسی، اور اُس اُمید کا نام ہے جو اسے ہر مشکل وقت میں اپنے خالق کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ انسان جتنا بھی مضبوط ہو جائے، تہذیبیں جتنی بھی ترقی کر لیں، دل کی وہ خاموش چیخیں، وہ چُھپے ہوئے سوالات، وہ شکستہ خواہشیں ابھی تک ویسے ہی اللہ کے حضور پیش ہوتی ہیں جیسے صدیوں پہلے ہوتی تھیں
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ آپ بہت آزماتے ہیں پھر جھولی میں ثمرات ڈالتے ہیں، کیا میں واقعی اتنا مضبوط ہوں
میں غلطیاں بہت کرتا ہوں ایسی غلطیاں جن کا سوچ کر بھی شرمندگی ہوتی ہے لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں آپ ناراض نہ ہو جائیں۔
پیارے اللہ میاں !
کیا میں یہ پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ آپ کی رحمتوں کے خزانے اُنہی پر کُھلتے ہیں جو دونمبری کرتے ہیں جو چوری اور فراڈ کرتے ہیں جو امانت میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں آپ کے نام پر آپ کے بندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں دکھاوے کی خیراتیں اور دکھاوے کی عبادتیں کر کے انسانوں کی آنکھوں میں دھول تو جھونکتے ہی ہیں بلکہ بڑی (conviction) سے سمجھتے ہیں کہ “خُدا نخواستہ” آپ کو دھوکہ دینے پر بھی قادر ہیں ! ایسے ماحول اور معاشرے کی ایسی آپا دھاپی میں رہتے ہوئے میں تو ایسے لوگوں کے مقابلے میں خود کو پارسا سمجھنے لگا ہوں کیونکہ کم از کم میں نیکو کار کہلوانے کے لئے دکھاوے کی مذہبی ڈیوٹیاں تو نہیں کرتا لیکن اللہ جانے پھر بھی “مَن و سَلویٰ” اور ہُن اس قماش کے بندوں پر ہی کیوں برس رہاہے؟
پیارے اَنْتَر جامی !
آخر میں یہ کہ مجھے لگتا ہے، اللہ میاں کے نام لکھا گیا خط کبھی مکمل نہیں ہوگا یہ زندگی بھر ساتھ چلتا رہے گاکبھی مختصر، کبھی طویل کبھی صرف آنکھوں کی نمی، کبھی دل کی دھڑکن، اور کبھی لفظوں کی صورت میں اور شاید میرا یہ خط بھی ادھورا ہی رہے گا اور آپ سے ملنے سے پہلے جب تک میں اس دُنیا میں ہوں آپ کے ساتھ میرا یہ مکالمہ جاری رہے گا۔
میں جانتا ہوں کہ آپ کو خط لکھنا دراصل اپنے دل کی الجھنوں کو کاغذ پر انڈیلنا ہے، ورنہ آپ تو میرے ہر خیالات سے پہلے ہی واقف ہیں مگر انسان ہوں نا دل میں جو بھاری پن تھا اسے لفظوں میں سمیٹ کر پیش کرنے سے ایسا لگتا ہے جیسے بوجھ ہلکا ہو گیا ہو، شاید اسی مکالمے کا نام ہی زندگی ہے؟ مجھے آپکی وسعتِ رحمت سے اُمید کامل ہے کہ آپ میرے تھوڑے کہے کو بہت جانیں گے، مجھے خود ہی بچا لیں گے اور میرے اندر جو بے صبری ہے، جو انا ہے، جو ضد ہے اسے کم کر دیں گے اور میرے فیصلوں میں اپنے کرم و فضل کی روشنی ڈال دیں گے۔ جب میں غلط راستے پر چلنے لگوں تو کوئی ایسا اشارہ دے دیں کہ میں رک جاؤں، لوٹ آؤں ، میں کمزور ہوں لیکن آپ کے سہارے پر اپنے قدموں پر کھڑا رہ سکتا ہوں۔ میں نے اپنے “ گناہوں کا پراستش” کرنے کے لئے My Lies کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کرنا شروع کر دی ہے تاکہ جُرائم کا کچھ تو بوجھ ہلکا ہو سکے۔
پیارے رحیم و کریم !
حقیقتا میں تھک سا گیا ہوں، زندگی کی دوڑ میں سب مُجھ سے آگے نکلے جاتے ہیں، کبھی لوگ چھوڑ جاتے ہیں، کبھی حالات ساتھ نہیں دیتے، کبھی خود ہی اپنے آپ سے ہار جاتا ہوں۔ لُب لباب یہ کہ معاف فرمائیے گا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ خط یک طرفہ ہے مجھے اس کا جواب نہیں ملے گا مگر ایک موہوم سی اُمید ہے کہ خُدا ہمیشہ جواب دیتا ہے ، بس اُس کا خط لفظوں میں نہیں، واقعات میں آتا ہے،کبھی امن کی صورت، کبھی کسی نئی راہ کے کُھلنے میں، کبھی کسی غم کے درمانے میں، اور کبھی ایک ایسی قوت کے روپ میں جو انسان کے اندر جاگ اٹھتی ہے۔
پیارے اللہ میاں !
میں اس قسم کے جوابات کا انتظار کروں گا لیکن ( میرے منہ میں خاک) فرض کریں مجھے میرے خط کا کوئی جواب نہ ملا تو I am very much loud and clear” میں اپنے صحافی، مصنف اور شاعر دوست افتحار قیصر کے اس شعر پر ایمان لانے کےلئے مجبور ہو جاؤں گا کہ
* آواز کس کو دیں کہ وہاں کوئی بھی نہیں
* کہتا ہے آسماں بھی یہاں کوئی بھی نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں