119

برطانیہ میں شہریت کا 5سالہ قانون ختم


برطانوی حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو سیٹلمنٹ حاصل کرنے کی مدت 10سے 30 سال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہےجو یورپ میں سب سے طویل مدت ہوگی۔اس نئے قانون کا شکاربالخصوص وہ پاکستانی ہو گے جو سیاسی اور انسانی حقوق کی بنا پر جلاوطنی اختیار کرتے ہیں،وزٹ ویزہ اوریورپ کے راستے برطانیہ پہنچ کر پناہ گزین بن جاتے ہیں۔اس قانون کے مطابق تارکین وطن کو پانچ سال بعد خود بخود مستقل سکونت کے بجائے آئندہ 15، 20 اور 30 سال انتظار کرنا ہوگا۔اس قانون سے وہ لوگ بھی متاثر ہو گے جو ورک پرمٹ پر کام کررہے ہیں۔ 2021 کے بعد آنے والے ان لوگوں کو پانچ سال بعد مستقل سکونت کی درخواست دینی تھی۔ 2021 سے 2024 تک پانچ سالہ روٹ پر برطانیہ آنے والے 16 لاکھ لوگ 2030 تک شہریت کے اہل ہوگے جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 23 لاکھ لوگوں کوشہریت ملنی ہے لیکن اچانک یہ مدت دس سال کردی گئی ہے۔مستقل سکونت یعنی سیٹلمنٹ کے حوالے سے 50 برس میں یہ سب سے بڑی اصلاحات ہیں۔
20نومبر کو نئے قانون کا مسودہ ہوم آفس کی ویب سائٹ پر جاری کردیا گیابرطانیہ میں قانون کی منظوری سے قبل عوامی مشاورت ہوتی ہے اور اس مقصد کے لئے ہوم آفس کی ویب سائٹ پر 50سے زائد صفحوں پر مشتمل رپورٹ میں ایک مفصل سروے شامل ہے جس کے ذریعے عوام تین مہینوں یعنی 12 فروری 2026 تک اپنی رائے دے سکتے ہیں۔برطانیہ میں تارکین وطن کے لئے مستقل سکونت جسے Indefinite Leave to Remain (ILR) بھی کہا جاتا ہے، سب سے اہم ہے جو انھیں برطانیہ میں غیر معینہ مدت تک رہنے کا حق دیتی ہے۔اس کے ایک سال بعد تارکین وطن شہریت کی درخواست دیتے ہیں اور انھیں برطانیہ کا پاسپورٹ مل جاتا ہے۔لیبر پارٹی کی حکومت نے رواں سال مئی میں امیگریشن وائٹ پیپر جاری کیا تھا جس میں تعلیم، ملازمت ، مستقل سکونت اور شہریت کے قوانین تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔پہلے مرحلے میں انٹرنیشنل سٹوڈنٹ ویزہ اور ورک پرمٹ کے قوانین سخت کئے گئے اور اب مستقل سکونت کاقانون تبدیل کیا جارہا ہے جس سے پانچ سال کی مقررہ مدت کے بعد خود بخود سکونت نہیں ملے گی، بلکہ صرف ان لوگوں کو مستقل سکونت ملے گی جوجرائم نہیں کرتے ، ٹیکس ادا کرتے،بنکو ں کے نادہندہ نہیں اور انگریزی زبان میں اے لیول کی مہارت ثابت کرسکیں گے۔برطانیہ میں نئے امگریشن قوانین سے 16 لاکھ لوگوں کا مستقبل دائو پر لگ جائے گا۔ہوم سیکریٹری شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین بھی بہتر زندگی کے لیے 1970 میں آزاد کشمیر سے برطانیہ آئے تھے۔حکومت کے مطابق 2021 سے 2024 کے درمیان سب سے زیادہ تارکین وطن برطانیہ پہنچے ان میں ایک لاکھ 54ہزار ہانگ کانگ ویزہ سکیم، چھ لاکھ 16 ہزار ہیلتھ ویزہ، تین لاکھ 22 ہزار ورک پرمٹ روٹ سے ملک میں داخل ہوئے،شریک حیات، نابالغ بچوں،سیاسی جلاوطن، انٹرنیشنل سٹوڈنٹ روٹ سے بھی لاکھوں افراد برطانیہ میں پہنچے۔حکومت کا کہنا ہے کہ پانچ سال مکمل کرنے کے بعد ان افراد کو مستقل سکونت دینا ہو گی اور یوں 2030 تک 16لاکھ افراد برطانیہ میں سکونت اور شہریت کے اہل ہو گےیعنی تارکین وطن میں ہر 30 میں ایک شخص ان چار برسوں میں برطانیہ پہنچا۔خصوصاً ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا کے ذریعے 2022 سے 2024 تک 616,000 افراد آئے، حالانکہ 6 ہزار سے 40 ہزار ہیلتھ ورکر کی ضرورت تھی۔حکومت کو خدشہ ہے کہ یہ لاکھوں لوگ مستقل سیٹلمنٹ کے بعد جب سرکاری گھراور مالی مراعات لیں گے تو یہ بندوبست ناممکن ہو گا۔اسی لیے زیادہ تر افراد کے لیے سیٹلمنٹ کی مدت 10 سال کر دی جائے گی۔
اب درخواست دہندگان کو (1)صاف کریمنل ریکارڈ (2)اعلیٰ درجے کی انگریزی (3) ٹیکسوں کی ادائیگی (4) بنکوں کے نادہندہ نہ ہونےکا ثبوت دینا ہوگا۔ان چار بنیادی نکات کی مزید تفصیل اس طرح ہے کہ مستقل سکونت کی صرف ان درخواستوں پر غور ہو گا جن میں درخواست گزار امیگریش قوانین کی خلاف ورزی اور سزا یافتہ نہ ہو، اس کے خلاف این ایچ ایس، ٹیکس اور نادہندہ ہونے کا عدالتی کارروائی نہ ہو، انگریزی زبان میں B2 لیول کی مہارت ہو،لائف ان یوکے ٹیست پاس ہو، انکم ٹیکس کی شرائط پوری کرتی ہو،غیر قانونی داخلے والوں کو سزا کے طور پر برطانیہ میں 5کے بجائے 30سال میں سکونت ملے گی۔دوسری جانب حکومت نے بعض لوگوں جن میں این ایچ ایس میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسیں ہیں وہ صرف 5 سال بعد سیٹل ہو سکیں گی،برطانیہ میں بزنس ویزہ ہولڈر،گلوبل ٹیلنٹ اور فائونڈر انوویٹر کو تین سال میں سیٹلمنٹ ملنےکا امکان ہے۔اعلی تنخواہ سالانہ 125140پونڈ والے تین سال بعد درخواست دے سکیں گے۔دیگر اہم تجاویز میں برطانوی شہریوں کے خاندان کے افراد اور ہانگ کانگ سکیم کے تحت آنے والوں کی موجودہ 5 سالہ سیٹلمنٹ مدت برقراررہے گی۔دستاویز میں مستقل سکونت (آئی ایل آر) کی بنیادی مدت 10 سال مقرر کردی گئی ہے تاہم اچھے پوائنٹس کی وجہ سے مدت میں کمی ممکن ہو گی مثال کے طور پر جن ورک پرمٹ ہولڈر کی سالانہ تنخواہ ایک لاکھ 25ہزار 400 پونڈ ہے سات برس رعایت، جن کی سالانہ تنخواہ 50270 پونڈسالانہ پانچ سال رعایت ہو گی،اس سے کم سالانہ تنخواہ پر آئی ایل آر کی مدت دس سال ہو گی۔برطانوی شہری کے بیوی، بچوں اور والدین کو پانچ سال رعایت ،ہانگ کانگ سکیم پانچ سال رعایت، گلوبل ٹیلنٹ ورکر، انوویٹر فائونڈر کو سات سال رعایت ہو گی۔یہاں سب سے اہم بات ہے کہ غیر قانونی آنے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو وزٹ ویزہ اورجنھوں نے ویزہ کے مدت ختم ہونے کے بعد قیام کیا، یورپ سے سمندر کے غیر قانونی راستے سے داخل ہوئے،ان میں سیاسی جلا وطن بھی شامل ہیں جنھیں پناہ گزین کہا جاتا ہے اور ان تمام غیر قانونی مہاجرین کو سیٹلمنٹ کے لیے 30 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔دستاویز میں ان تمام کو سزا کے طور پر منفی پوائنس دئیے گئے ہیں مثال کے طور پر جنھوں نے ایک سال تک بینیفٹ لئے ان کی درخواست کی مدت 15 سال، ایک سال سے زائد بینیفٹ والوں کو 20سال، سمندر راستے غیر داخل ہونے والے پناہ گزین 30 سال، وزٹ ویزہ سے آنے والے 30 سال اور ویزہ کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام پذیر افراد بھی 30سال بعد درخواست دینے کے اہل ہو گے۔
نئے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا پر کم آمدنی والے افراد کے لیے علیحدہ 15 سالہ روٹ ہو گاکیونکہ یہ گروہ زیادہ مالی بوجھ کا سبب بنتا ہے۔بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی حکومت چاہتی ہے کہ جب ان افراد کو کئی برس انتظار کے بعد مستقل سکونت مل جائے تو اس کے بعد بھی وہ برطانیہ میں سرکاری گھر اور مالی مفادات یعنی پبلک فنڈز کے اہل نہ ہوگے۔اس کے لئے جو اصطلاح استعمال ہوتی ہے وہ
No Recourse to Public Fund(NRPB)
کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔یعنی بینیفٹس تک رسائی نہ دینا ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ ورک پرمٹ اور دیگر قانونی طریقوں سے آنے والوں کے لئے ایک نیا پوائنٹس ماڈل پیش کیا جا رہا ہے جس کے تحت انھیں سیٹلمنٹ خود بخود نہیں بلکہ سخت محنت کے بعد ملے گی۔ورک پرمٹ ہولڈر کے اہل خانہ یعنی بیوی بچوں کی سیٹلمنٹ کی درخواستوں پر پانچ سال کی شرط اورپوائنٹ سسٹم لاگو ہو گا اور ان کی درخواستوں کی پرمٹ ہولڈر سے الگ پڑتال ہو گی۔۔چار شرائط پر پورا نہ اترنے والوں کی سیٹلمنٹ کا عرصہ بڑھ جائے گا۔سروے میں معذور اور سنگین امراض میں مبتلہ افراد کو متعدد شرائط سے استثنا حآصل ہے۔حکومتی اندازوں کے مطابق 2026 سے 2030 تک سولہ لاکھ لوگ برطانیہ میں سیٹلمنٹ حاصل کریں گے۔ سال 2028 میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہو کر 450,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اضافے کی وجہ 2022 سے 2024 کے دوران بڑھتی ہوئی امیگریشن ہے،جن میں خاص طور پر ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا پر آنے والے افراد شامل ہیں۔حکومت کے مطابق 2022–2024 کے دوران ہیلتھ اینڈ کیئر ویزا پر آنے والے 616,000 افراد میں سے 384,000 افراد 2027 سے 2029 کے درمیان سیٹلمنٹ کے قابل ہوں گے۔
344,000افرد ورک پرمٹ سے آئے، جن کی 222,000 سیٹلمنٹ درخواستیں متوقع ہیں۔انفرادی حالات، مثلاً بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچے، خاندان کے افراد، یا گھریلو تشدد کے شکار افراد کی تعداد الگ ہے وہ بھی ان راستوں کے ذریعے مستقل سیٹلمنٹ کے امیدوار ہیں۔حکومت نے مشاورت کے لیے ہوم آفس ویب سائٹ پر ایک آن لائن فارم بھی جاری کیا ہے جہاں عوام رائے دے سکتے ہیں۔ سروے مکمل کرنے میں 20 سے 30 منٹ لگتے ہیں۔ مشاورت کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) بھی ڈیٹا کے تجزیے میں مدد دے سکتی ہے۔اس سروےمیں تمام متاثرین طالب علم، ورک پرمٹ ہولڈر، ان کے اہل خانہ، سیاسی پناہ گزین، مہاجرین، کئیر ورک سمیت اب لوگ رائے دے سکتے ہیں اور ان کا ڈیٹا پوشیدہ رکھا جائے گا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ کا عرصہ بڑھانا ناانصافی ہے، آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ انھیں جب 2021 میں ورک پرمٹ دئیے تو پانچ سال بعد سیٹلمنٹ کا وعدہ کیا گیا لیکن مدت پوری ہونے پر مزید اضافہ کردیا گیا، وہ دلبرداشتہ ہیں اور امریکہ اور یورپ منتقل ہونے کا سوچ رہے ہیں، یہ بھی کہنا ہے کہ نئے قوانین کا نفاذ تاریخ منظوری کے بعد ہوتا ہے لیکن موجودہ قانون پانچ سال قبل کیسے نافذ ہو سکتا ہے؟ایسا ہوا تو متاثرین عدالتوں میں جائیں گے جہاں ضرور انصاف ہو گا۔برطانیہ میں اس قانون کے متعلق غیر یقینی صوتحال ہے تاہم متاثرین کو ہوم آفس سروے میں ضرور اپنی رائے دینے کی ضرورت ہے، قانون کی حتمی منظوری اگلے سال مارچ کے بعد پارلیمنٹ دے گی۔ z

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں