252

گنج بخش فیض عالم


حضرت سید ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری ثم لاہوری معروف بہ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ400 ھ میں غزنی شہر کے متصل علاقے جلاب کے محلے ہجویر میں تولد ہوئے ۔شروع میں آپ کا قیام یہیں رہا اس لیے ہجویری اور جلابی کہلائے۔ سلسلہ نسب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ روحانی تعلیم جنیدیہ سلسلہ کے بزرگ حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔ مرشد کے حکم سے 1039ء میں لاہور پہنچے کشف المحجوب آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ لاہور میں بھاٹی دروازہ کے باہر آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔عوام آپ کو گنج بخش (خزانے بخشنے والا) اور داتا صاحب کہتے ہیں اور آپ انہی القابات سے مشہور ہیں۔آپ شہر لاہور کے عظیم ترین بزرگ ہیں آپ کا پورا نام شیخ سیّد ابو الحسن علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ہے۔ لیکن عوام و خواص سب میں ’’گنج بخش‘‘ یا ’’داتا گنج بخش‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کے والد بزرگوار کا اسم گرامی سید عثمان جلابی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ ہے۔ جلاب بھی غزنی سے متصل ایک دوسری بستی کا نام ہے جہاں سید عثمان رحمتہ اللہ علیہ رہتے تھے۔ حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ، حضرت زید رحمتہ اللہ علیہ کے واسطے سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اولاد سے ہیں۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کے اساتذہ میں حضرت شیخ ابو العباس اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ، شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی رحمتہ اللہ علیہ، شیخ ابو القاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری رحمتہ اللہ علیہ، شیخ ابوالقاسم بن علی بن عبداللہ الگرگانی رحمتہ اللہ علیہ، ابو عبداللہ محمد بن علی المعروف داستانی بسطامی رحمتہ اللہ علیہ، ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی اور ابو احمد مظفر بن احمد بن حمدان رحمتہ اللہ علیہ کے نام ملتے ہیں۔شیخ ابو العباس اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں حضرت علی ہجویری بیان کرتے ہیں کہ آپ علم اصول اور فروع میں امام اور اہل تصوف میں اعلٰی پایہ کے بزرگ تھے۔ مجھے آپ سے بڑی محبت تھی اور آپ بھی مجھ پر سچی شفقت فرماتے تھے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، آپ کے مانند کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ نہ آپ سے بڑھ کر شریعت کی تعظیم کرنے والا کوئی دیکھا۔ اکثر فرمایا کرتے ’’میں ایسی نیستی چاہتا ہوں جس کا کوئی وجود نہ ہو‘‘۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمائی۔ آپ نے ایک مرتبہ ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا ’’اے کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا۔ اے کاش میں یہ تنکا ہوتا‘‘۔ ایک دفعہ میں شیخ اشقاقی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا تو آپ پڑھ رہے تھے ’’اللہ ایک مثال دیتا ہے، ایک غلام ہے جو دوسرے کا مملوک ہے اور کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا‘‘۔ بار بار اسے پڑھ رہے تھے اور رو رہے تھے، حتیٰ کہ آ پ بے ہوش ہو گئے۔ اور میں نے سمجھا کہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میں نے عرض کیا، اے شیخ! یہ کیا حالت ہے؟ فرمایا کہ گیارہ سال ہو گئے ہیں، یہی میرا ورد ہے، اس سے آگے نہیں گزر سکا۔
شیخ ابو جعفر محمد بن المصباح الصید لانی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صوفیائے متاخرین میں منجملہ روسائے متوصفین میں سے تھے۔ علم حقیقت میں بہت فصیح البیان تھے۔ حسین بن منصور کے طریقہ کی طرف مائل تھے۔ آپ کی بعض تصانیف میں نے ان سے پڑھی ہیں۔شیخ ابو القاسم بن علی بن عبداللہ الگرگانی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ اپنے وقت میں بے نظیر تھے۔ وقت کے تمام طالبان حق کا آپ پر اعتماد تھا۔ وقت کے تمام طالبان حق کا آپ پر اعتماد تھا۔ علوم و فنون میں بہت ماہر تھے۔ آپ کا ہر مرید زیور علم سے آراستہ تھا۔مجھ سے بہت احترام سے پیش آتے تھے اور بہت توجہ سے بات سنتے تھے، حالانکہ میں آپ کے مقابلہ میں نو عمر بچہ تھا۔ ایک روز میں آپ کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آپ مجھ سے اس قدر عاجزی اور انکساری سے پیش آتے ہیں بغیر اس کے کہ میں کوئی بات کہوں، آپ نے فرمایا ’’ اے میرے باپ کے دوست! خوب جان لے کہ میری یہ عاجزی اور انکساری تیرے لیے نہیں، میری یہ عاجزی احوال کے بدلنے والے کے لیے ہے اور یہ تمام طالبان حق کے لیے عام ہے۔ یاد رکھ کہ آدمی خیالات کی قید سے کبھی بھی رہائی حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے بندگی کرنا لازمی ہے۔ خدا کے ساتھ بندگی کی نسبت سے کام رکھ۔ اس ایک نسبت کے سوا دوسری تمام نسبتوں کو اپنے سے دور کر دے۔
شیخ ابو القاسم بن ہوازن القشیری رحمتہ اللہ علیہ کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں کہ اپنے زمانہ میں نادرالوجود اور بلند مرتبہ بزرگ تھے۔ ہر فن میں آپ کی تصانیف محققانہ اور عمدہ ہیں۔ بے کار بحث و گفتگو اور لغو باتوں سے آپ بالکل الگ رہتے تھے۔ حسین بن منصور کے بارے میں صوفیاء میں بحثیں ہوتیں۔ ایک گروہ کے نزدیک وہ مردود اور دوسرے کے نزدیک مقبول بارگاہ تھے۔ آپ فرماتے کہ اگر منصور ارباب معافی وحقیقت میں سے تھا تو کوئی چیز اسے خداوند کریم سے علیحدہ نہیں کر سکتی اور اگر خدا کی درگاہ سے مردود تھا تو مخلوق میں سے کوئی اسے بارگاہ خداوندی میں مقبول نہیں بنا سکتا۔ ہم اسے حوالہء خدا کرتے ہیں۔ شیخ سہلکی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ بسطام میں ٹڈی دل آیا۔ تمام درخت اور کھیت اس کے بیٹھنے کی وجہ سے سیاہ ہو گئے۔ لوگوں نے بہت شور مچایا۔ شیخ نے پوچھا، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ٹڈی دل آیا ہے اور لوگ سخت غمزدہ ہیں۔ شیخ اْٹھے اور کوٹھے پر تشریف لے گئے اور منہ آسمان کی طرف کیا۔ اْسی وقت ٹڈی اْڑ گئی اور عصر کی نماز تک ایک ٹڈی بھی کہیں نظر نہیں آتی تھی، اور کسی کھیتی کا ایک پتہ تک بھی ضائع نہ ہوا۔
ابو سعید فضل اللہ بن محمد مہینی رحمتہ اللہ علیہ کے ذکر میں لکھتے ہیں کہ آپ طریقت کے جمال اور وقت کے صاحب دبدبہ بادشاہ تھے، اور تمام اہل زمانہ آپ کے گرویدہ تھے۔ بہت شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ زیخ ابو مسلم فارسی نے مجھے بتایا کہ میری گودڑی بہت میلی کچیلی تھی۔ آپ کے پاس پہنچا، تو آپ بہت شاہانہ لباس میں تخت پر دراز تھے اور اوپر مصری دیبا کی چادر اوڑھ ہوئے تھے۔ میں نے یہ دیکھ کر دل میں خیال کیا کہ اس ٹھاٹھ کے ساتھ فقر کا دعویٰ بھی عجیب بات ہے۔ مجھے دیکھو کہ میں اس گودڑی میں فقر کا دعویٰ کرتا ہوں۔ لیکن میرے کوئی بات زبان پر لائے بغیر آپ نے فرمایا کہ تم نے یہ باتیں کس دیوان میں لکھی پائی ہیں؟ میں اس پر اپنے دل میں بہت شرمندہ ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تصوف تو اللہ سے دل لگانے کا نام ہے۔
ایک دفعہ آپ نیشا پور سے طوس کو جارہے تھے۔ راستے میں سرد گھاٹی پڑتی ہے۔ آپ اپنے پاؤں میں سردی محسوس کر رہے تھے۔ ساتھ جو درویش تھا وہ بیان کرتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا کہ اپنے رومال کے دو ٹکڑے کر کے آپ کے پاؤں پر لپیٹ دوں لیکن پھر خیال آیا کہ میرا رومال بہت اچھا ہے اسے ضائع کیوں کروں لیکن میں نے کچھ کہا نہیں۔ طوس پہنچ کر ہم مجلس میں بیٹھے تھے کہ میں نے آپ سے سوال کیا۔ اے شیخ حقّانی! الہام اور وسوسہ میں کیا فرق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ الہام تو وہ ہے جس نے تیرے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ اپنے رومال کر ابو سعید کے پاؤں کے گرد لپیٹ دوں تاکہ اس کے پاؤں کو سردی نہ لگے اور شیطانی وسوسہ وہ تھا کہ جس نے تجھے ایسا کرنے سے روکا۔
طریقت میں آپ ؒکے شیخ شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ ان کے حالات قلمبند کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ طریقت میں میری اقتداء آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کے ساتھ ہے۔ تفسیر، حدیث اور تصوف تینوں کے آپ عالم تھے۔ تصوف میں آپ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کے مذہب پر تھے۔ حضرت شیخ حضرمی رحمتہ اللہ علیہ کے مرید اور حضرت سروانی رحمتہ اللہ علیہ کے مصاحب تھے۔ ساٹھ سال تک مخلوق سے گم اور پہاڑوں میں گوشہ نشین رہے۔ زیادہ تر قیام جبل لگام پر رہتا تھا۔ میں نے آپ سے زیادہ بارعب اور صاحب ہیبت کوئی شخص نہیں دیکھا۔ صوفیوں کے لباس سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔ ایک مرتبہ میں آپ کو وضو کرانے کے لیے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ میں ایک آزاد آدمی ہوں آخر میں ان پیروں کی کیوں غلامی کروں جو قسمت میں لکھا ہے وہ ضرور پورا ہو گا۔ آپ نے فرمایا، بیٹا جو خیال تیرے دل میں پیدا ہوا ہے میں اسے جانتا ہوں، ہر کام کا ایک سبب اور ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ خدمت اور ملازمت آدمی کی بزرگی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حق تعالٰیٰ چاہتا ہے تو ایک سپاہی زادے کو تاج شاہی پہنا دیتا ہے۔جس روز آپ کی وفات ہوئی تو آپ بانیاں اور دمشق کے درمیان پہاڑ پرواقع ایک گاؤں بیت الجن میں تھے، اور آپ کا سر میری گود میں تھا۔ میرا دل سخت مضطرب اور تکلیف میں تھا، جیسے کہ ایسے محسن اور دوست کی علیحدگی کے خیال سے ہونا ہی چاہیے تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا، بیٹا! میں اعتقاد کا مسئلہ بیان کرتا ہوں۔ اگر تو اپنے آپ کواس کے مطابق درست کر لے گا تو تیرے دل کی یہ تمام تکلیف دور ہو جائے گی۔ یہ بات یاد رکھ کہ اللہ عزل و جل کوئی کام بے وجہ نہیں کرتا، وہ تمام حالات کو ان کے نیک وبد کا لحاظ رکھ کر پیدا فرماتا ہے۔ تیرے لیے لازم ہے کہ خدا کے فعل میں اس سے جھگڑا نہ کر اور جو کچھ وہ کرتا ہے۔ اس پر رنجیدہ نہ ہو۔ آپ نے ابھی اتنی بات فرمائی تھی کہ اپنی جان خداوند کریم کے سپرد کر دی۔
کسب روحانی کے لیے آپ (حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ) نے شام، عراق، فارس، قہستان، آزربائیجان، طبرستان، خوزستان، کرمان، خراسان، ماور النہر اور ترکستان وغیرہ کا سفر کیا۔ ان ممالک میں بے شمار لوگوں سے ملے اور ان کی صحبتوں سے فیض حاصل کیا۔ صرف خراسان میں جن مشائخ سے آپ ملے ان کی تعداد تین سو ہے۔ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ میں نے خراسان میں تین سو اشخاص ایسے دیکھے ہیں کہ ان میں سے صرف ایک سارے جہان کے لیے کافی ہے۔ حضرت داتا گنج بخش صوفی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جلیل القدر عالم بھی تھے۔ مسئلہ حیات و وفات حضرت عیسیٰ کے متعلق آپ نے اپنی کتاب کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو معراج میں دوسرے انبیاء کے ساتھ روحوں میں ہی دیکھا تھا نہ کہ جسمانی طور پر زندہ۔
تلاش و جستجو کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے ایک مشکل پیش آئی۔ اس کے حل کے لیے میں نے بہت مجاہدے کیے۔ مگر یہ مشکل حل نہ ہوئی۔ اس سے پہلے بھی مجھے ایک مشکل پیش آئی تھی اور اس کے حل کے لیے میں نے حضرت شیخ ابو یزید رحمتہ اللہ علیہ کی قبر کی مجاوری اختیار کر کے اس پر غور وفکر کیا تھا اور میری وہ مشکل وہاں حل ہو گئی تھی۔ اب کے میں نے پھر ایسا کیا۔ برابر تین ماہ تک ان کا مجاور (پڑوسی) بنا رہا۔ ہر روز تین مرتبہ غسل کرتا رہا۔ اور تیس دفعہ وضو کرتا رہا۔ لیکن میری یہ مشکل حل نہ ہوئی۔ بالآخر میں نے خراسان جانے کا ارادہ کیا اور راستے میں رات کے وقت ایک خانقاہ میں رات بسر کرنے کے لیے ٹھہرا۔ وہاں صوفیوں کی ایک جماعت بھی تھی۔ میرے پاس اس وقت موٹے کھردرے ٹاٹ کی ایک گودڑی تھی اور وہی میں نے پہن رکھی تھی۔ ہاتھ میں ایک عصا اور کوزہ (لوٹا) تھا۔ اس کے سوا اور کوئی سامان میرے پاس نہیں تھا۔ ان صوفیوں نے مجھے بہت حقارت کی نظر سے دیکھا اور اپنے خاص انداز میں ایک دوسرے سے کہا کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔ وہ اپنی اس بات میں سچے تھے، کیونکہ میں فی الواقع ان میں سے نہ تھا۔ میں تو محض ایک مسافر کی حیثیت سے رات بسر کرنے کے لیے ان کے پاس پہنچ گیا تھا۔ ورنہ ان کے طور طریقوں سے میرا کوئی سروکار نہ تھا۔ انہوں نے خانقاہ کے نیچے کے ایک کمرہ میں مجھے بٹھا دیا۔ ایک سْوکھی روٹی اور وہ بھی روکھْی میرے آگے رکھ کر خود کھانے کے لیے اوپر چوبارہ میں جا بیٹھے۔ جو کھانے وہ خود کھا رہے تھے ان کی خوشبو مجھے آ رہی تھی۔ اور اس کے ساتھ چوبارہ پر سے وہ طنزیہ انداز میں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو خربوزے لے کر بیٹھ گئے اور چھلکے مجھ پر پھینکتے رہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طبیعت کی خوشی اس وقت میری توہین پر موقوف تھی۔ میں اپنے دل میں خدا سے کہہ رہا تھا، بارِ خدایا، اگر میں نے تیرے دوستوں کا لباس نہ پہنا ہوا ہوتا تو میں ضرور ان کی ان حرکات کا مزا ان کو چکھادیتا لیکن چونکہ میں اسے خداوند تعالٰیٰ کی طرف سے ابتلا سمجھ کر برداشت کر رہا تھا، اس لیے جس قدر وہ طعن وملامت مجھ پر زیادہ کرتے تھے میں خوش ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اس طعن کا بوجھ اٹھانے سے میری وہ مشکل جس کے لیے میں مجاہدوں اور اس سفر کی مشقت اٹھا رہا تھا وہیں حل ہو گئی۔ اسی وقت مجھ کو معلوم ہو گیا کہ مشائخ رحمہم اللہ جاہلوں کو اپنے درمیان کیوں رہنے دیتے ہیں اور ان کا بوجھ کس لیے اٹھاتے ہیں۔ نیز یہ کہ بعض بزرگوں نے ملامت کا طریقہ کیوں اختیار کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اس سے بعض اوقات وہ عقدے حل ہو جاتے ہیں جو دوسرے طریقوں سے حل نہیں ہوتے۔
عراق کا ایک واقعہ اپنے متعلق بیان کرتے ہیں کہ عراق میں اپنے قیام کے زمانے میں ایک دفعہ میں دنیا کمانے اور اسے خرچ کرنے میں بہت دلیر ہو گیا تھا۔ جس کسی کو ضرورت پیش آتی وہ میری طرف رجوع کرتا اور میں نہ چاہتا کہ میرے دروازے سے کوئی خالی جائے۔ اس لیے اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتا، یہاں تک کہ میں بہت زیادہ مقروض اور اس صورتحال سے پریشان ہو گیا۔ آخر وقت کے بزرگوں میں سے ایک بزرگ نے مجھے لکھا۔بیٹا دیکھو! اس قسم کی مشغولیت میں کہیں خدا سے دور نہ ہو جاؤ، یہ مشغولیت ہوائے نفس ہے۔ اگر کسی کے دل کو اپنے سے بہتر پاؤ تو اس کی خاطر پریشانی اْٹھاؤ تمام مخلوق کے کفیل بننے کی کوشش نہ کرو۔ کیوں کہ اپنے بندوں کے لیے خدا خود کافی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس نصیحت سے مجھے سکون قلب حاصل ہوا۔ اور میں نے یہ جانا کہ مخلوقات سے دور رہنا صحت وسلامتی کی راہ ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ خود اپنی طرف نہ دیکھے تاکہ کوئی اور بھی اس کی طرف نہ دیکھے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ آدمی خود ہی اپنے آپ کو اہم اور بڑی چیز عیاں کرتا ہے ورنہ دنیا اسے کچھ بھی نہیں سمجھتی، وہ تو صرف اس سے اپنا کام نکالتی ہے۔
آپ کے نزدیک صوفی صفا سے مشتق ہے۔ اور صفا کی اصل دل کو غیر اللہ سے منقطع اور دنیا سے خالی کر کے اسے اللہ سے جوڑنا ہے۔ گویا اس کا مطلب اخلاص اور سچی محبت کے ساتھ خدا کی بندگی کی راہ اختیار کرنا ہے نہ کہ کوئی خاص وضع قطع اختیار کرنا۔ آپ فرماتے ہیں کہ طالب کو تمام احوال میں شرع اور علم کا پیرو ہونا چاہیے۔ کیونکہ سلطانِ علم سلطانِ حال پر غالب اور اس سے افضل ہے۔ چنانچہ آپ چالیس برس مسلسل سفر میں رہے لیکن کبھی نماز باجماعت ناغہ نہیں کی اور ہر جمعہ کی نماز کے لیے کسی قصبہ میں قیام فرمایا۔ رہن سہن عام لوگوں کی طرح رکھتے۔ صوفیوں کی ظاہری رسوم اور وضع قطع سے آپ شیخ طریقت شیخ ابوالفضل محمد بن ختلی رحمتہ اللہ علیہ کی طرح ہمیشہ مجتنب رہے۔ بلکہ اس سے آپ کو ایک گونہ نفرت تھی، اور ان چیزوں کو ریا کاری ونمائش اور معصیت کا نام دیتے تھے۔
آپ اپنے مرشد کے حکم سے خدا کے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین کے زمانے میں لاہور تشریف لائے۔ آپ سے پہلے آپ کے پیر بھائی حسین زنجانی اس خدمت پر مامور تھے۔ اس لیے جب آپ کو لاہور آنے کا حکم ہوا تو آپ فرماتے ہیں، کہ میں نے شیخ سے عرض کیا کہ وہاں حسین زنجانی موجود ہیں میری کیا ضرورت ہے؟ لیکن شیخ نے فرمایا، نہیں تم جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت لاہور پہنچا اور صبح کو حسین زنجانی کا جنازہ شہر سے باہر لایا گیا۔تبلیغ و اشاعت دین کے سلسلے میں آپ نے برصغیر ہند کے دوسرے حصّوں کا بھی سفر کیا لیکن آپ کا مقام اور مرکز لاہور ہی رہا اور آخر کار لاہور ہی میں ۴۶۵ ھ میں انتقال فرمایا اور یہیں مدفون ہیں۔ آپ کا روضہ ناصر الدین مسعود کے بیٹے ظہیر الدین الدولہ نے تعمیر کروایا۔ اور خانقاہ کا فرش اور ڈیوڑھی جلال الدین اکبر بادشاہ کی تعمیر ہیں۔ خواجہ معین الدین اجمیری رحمتہ اللہ علیہ اور خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے کسب فیض کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر چلہ کشی کی، اور خواجہ معین الدین اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے چلہ کے بعد رخصت ہوتے وقت یہ شعر کہا
گنج بخش فیضِ عالم مظہر نورِ خْدا
ناقصاں راپیرِ کامل، کاملاں را رہنما
اسی سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی’’ گنج بخش‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی۔آپ نے متعدد کتب کی تصنیف فرمائی، لیکن اب کشف المحجوب کے سوا کوئی اور کتاب نہیں ملتی۔ شعر وشاعری سے بھی آپ کو دلچسپی تھی اور آپ کا دیوان بھی تھا۔ کشف المحجوب میں اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ بعض لوگ دوسروں کی تصانیف کو اپنے نام سے منسوب کر کے شائع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص نے مجھ سے میرے شعروں کا دیوان دیکھنے کے لیے مانگا اور پھر واپس نہیں کیا اور اس کے شروع سے میرانام محو کر کے اپنے نام سے پیش کر دیا۔ چونکہ دیوان کا یہی ایک نسخہ تھا جو وہ لے گیا۔ اس لیے میں کچھ نہ کر سکا اور اس نے میری محنت کو برباد کر دیا۔اسی طرح ایک اور شخص نے میری دوسری کتاب’’ منہاج الدین‘‘ جو میں نے تصوف پر تصنیف کی تھی، مجھ سے مانگی اور اس پر سے میرا نام مٹا کر عوام الناس میں اسے اپنے نام سے شائع کر دیا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے ’’نفس کو اس کی خواہش سے دور رکھنا حقیقت کے دروازے کی چابی ہے‘‘۔ سرزمین لاہور اس بات پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے یہ اس میں داتا گنج بخش رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ ایسی ہستی محو استراحت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں