59

آؤ روشنیاں بانٹیں!


کوثر عباس
پاکستان میں ایسے بہت ادارے ہیں جو فلاحی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں بلکہ حکومت کے حصے کا کام کر کے ایک لحاظ سے اس کا بوجھ بھی بٹاتے ہیں۔ انہی اداروں میں ایک ادارہ ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل‘‘ بھی ہے جس کا کام بڑا وسیع لیکن میڈیا پر مشہوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے تمام چھوڑے بڑے شہروں‘ قصبوں اور دیہات سمیت دنیا کے 22 ممالک میں ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل‘‘ کا فعال سیٹ اپ دُکھی انسانیت کے درد بانٹنے کے لیے ”ہر وقت خدمت اور بروقت خدمت‘‘ کے جذبے کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ ان کا سب سے اہم اور بڑا پروجیکٹ ”روشنی سب کے لیے‘‘ کے خوب صورت سلوگن سے بین الاقوامی سطح پر مصروف عمل ہے اور اب تک پاکستان، بنگلہ دیش، کینیا، گیمبیا، سری لنکا، یمن، شام، انڈونیشیا، ملاوی، نائیجیریا، افغانستان، عراق اور برما سمیت مختلف غریب خطوں اور ملکوں میں ”فری آئی کیمپ‘‘ لگا کر 150000 کامیاب آپریشن کر چکا ہے۔ ان فری آئی کیمپوں میں آپریشن سے پہلے ہر مریض کے بلڈ پریشر، شوگر، ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے ٹیسٹ بھی مفت کیے جاتے ہیں اور مریضوں کو’’ المصطفیٰ‘‘ کی طرف سے عینکیں، لینز، ادویات اور کھانا بھی مفت پیش کیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال 2021 کے دوران’’ المصطفیٰ‘‘ کے زیراہتمام پاکستان میں 603، غزہ فلسطین میں 62، بنگلہ دیش میں 298، برما میں 21، گیمبیا میں 106، سوڈان میں 21، کینیا میں 33 اور سری لنکا میں 39 فری آئی کیمپ لگائے گئے جبکہ 651 سکولوں میں بچوں کی آئی سکریننگ کی گئی۔
لاہور اور لاہور کے دل مزنگ روڈ پر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سے متصل نہایت شاندار’’ المصطفیٰ‘‘ اس ٹرسٹ کی عظمت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کا افتتاح سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور معروف روحانی و علمی شخصیت پیر سید ریاض حسین شاہ نے کیا۔ افتتاح کے بعدایک سال کے مختصر عرصہ میں ”المصطفیٰ آئی ہسپتالــ‘‘ میں چارہزارآنکھوں کے مفت آپریشن مکمل کرکے یہ ہسپتال حالیہ دنوں میں لاہور میں آنکھوں کے سب سے زیادہ آپریشن کرنے والا ہسپتال بن چکا ہے۔ ہسپتال میں جدید ترین مشینری نصب کی گئی ہے۔ میو ہسپتال لاہور کے شعبہ امراض چشم کے چیئرمین اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر ناصر چوہدری H.O.D اور سرجن کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ہسپتال کی ٹیم لاہور کے مختلف علاقوں اور لاہور کے گرد و نواح میں ہر روزO.P.D کیمپ لگا کر مریضوں کی سکریننگ کر کے مریضوں کو آپریشن کے لئے ہسپتال لانے کا بندوبست کرتی ہے۔ ہر بدھ اور جمعہ کو ہسپتال میں آپریشن کئے جاتے ہیں۔ ہسپتال کے توسیعی منصوبہ کے تحت مزید دو فلور کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ مستقبل میں المصطفیٰ آئی ہسپتال میں آنکھوں کی پیوندکاری شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ ہسپتال میں صبح شام فری دسترخوان کی سہولت بھی موجود ہے جبکہ رمضان المبارک میں سحر و افطار کا بہترین بندوبست کیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں اور ممالک میں بھی جاری ہے۔ اس سال ٹرسٹ کے ”رمضان فوڈ پروجیکٹ‘‘ کے تحت 88000 رمضان فوڈ پیکٹ تقسیم کیے گئے۔ ایک اور منصوبے کا نام ”ونٹر پروجیکٹ‘‘ ہے جس کے تحت ہر سال سردیوں کے موسم میں مستحق افراد اور غریب خاندانوں کو رضائیاں، گرم کپڑے، جرسیاں اور گرم چادریں فراہم کی جاتی ہیں۔اس سال 50000 ونٹر پیکج کی تقسیم کا ہدف پورا کیا جا چکا ہے۔ لاہور اور دوسرے کئی شہروں میں ہر سال سردیوں میں’’ المصطفیٰ‘‘ کی ٹیم فٹ پاتھوں اور پارکوں میں کھلے آسمان کے نیچے سونے والوں کو رضائیاں، کمبل اور گرم چادریں پیش کرنے کی مہم بھی چلاتی ہے۔
’’ المصطفیٰ‘‘ کے زیرانتظام ایک اور اہم منصوبہ ’’کلین واٹر پروجیکٹ‘‘ مختلف پسماندہ خطوں اور ملکوں سمیت پاکستان کے محرومیوں کے شکار علاقہ تھر، جنوبی پنجاب اور چولستان میں کلین واٹر پروجیکٹ نتیجہ خیزی اور کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔المصطفیٰ کی طرف سے اب تک 12137 پانی کے نلکے‘ 5988 بجلی کی پانی والی موٹریں‘ 341 پانی کے کنویں‘ 471 پانی کے ٹیوب ویل‘ 27 سولر پانی کے کنویں نصب کئے جا چکے ہیں۔ پچھلے سال یمن، شام، فلسطین اور برما کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے مناظر دیکھ کر عبدالرزاق ساجد صاحب کے لیے دل سے دعائیں نکلیں۔ میرے لیے ان لمحات کو فراموش کرنا کسی طور ممکن نہیں جب شامی اور فلسطینی بچوں کے چہروں پر ایک دل آویز مسکراہٹ بکھرتے دیکھی۔
اکتوبر 2019 میں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے طویل ترین کرفیو اور سخت ترین لاک ڈاؤن سے متاثرہ کشمیری بچوں کے لئے عالمی سطح پر ’’سیو آور چلڈرن ان کشمیر مہم‘‘ چلائی گئی اور برطانیہ سے ممبران پارلیمنٹ، انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے مبصرین کو آزاد کشمیر لایا گیا۔ مظفرآباد سے کشمیری بچوں کے لئے اشیائے خورد و نوش اور ادویات پر مشتمل 100 ٹرک ایک کاروان کی صورت کنٹرول لائن کے قریب چکوٹھی کے مقام پر پہنچا کر عالمی نمائندوں کے ہمراہ بھارت سے اپیل کی گئی کہ وہ’’ المصطفیٰ‘‘ ٰ کا امدادی سامان بھارتی ریڈ کریسنٹ کے ذریعے وصول کر کے سری نگر پہنچائے لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور’’ المصطفیٰ‘‘ کی انسانی بنیادوں پر کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا۔ تین گھنٹے انتظار کے بعد امدادی سامان آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر اور ریڈ کریسنٹ آزاد کشمیر کے سربراہ کے حوالے کر دیا گیا جنہوں نے یہ سامان بھارتی گولہ باری سے متاثرہ کنٹرول لائن کے نواحی علاقوں میں تقسیم کر دیا۔رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں یہ ادارہ آپ کی محبتوں کا منتظر ہے۔ روشنی کے اس سفر میں ان کا ساتھ دے کر آپ بھی ”ہر وقت خدمت، بر وقت خدمت‘‘ کے نقیب بن جائیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں