40

یوکرین روس جنگ کے چار مہینے — آگے کیا ہو گا ؟

رپورٹ : نثار احمد
یوکرین کے مشرقی حصوں میں روس کے حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے۔ رہائشی اپنے تباہ شدہ گھر میں اپنے سامان کی تلاش کر رہے ہیں۔جنگوں کے دوران اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ یوکرین پر مسلط کردہ جنگ بھی اس سے مبرا نہیں۔ روس کی فوری فتح کے خدشات کی جگہ یوکرین کی مزاحمت اور روس کی پسپائی نے لے لی ہے۔
جنگ کے 100 دن مکمل ہو چکے ہیں، اب اس جنگ کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟
یہ جنگ اگر برسوں نہیں تو مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
جنگ کا توازن تبدیل ہوتا رہتا ہے، کبھی ایک فریق کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی دوسرے کا۔ کوئی فریق بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔
روس کے صدر سمجھتے ہیں کہ وہ صبر کا مظاہرہ کر کے یورپی ممالک کو یوکرین کی حمایت سے تھکا کر ان کی توجہ معاشی بحرانوں اور چین کے خطرے کی طرف موڑ سکتے ہیں۔ مغربی ممالک نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھی ہوئی ہے جس سے یوکرین میں ایسی سرحدیں وجود میں آتی جا رہی ہیں جہاں کوئی بھی فریق آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے اور یہ ایک ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ میں بدل رہی ہے۔ ایک ریٹائرڈ آسٹریلوی جنرل اور عسکری ماہر مک ریان کہتے ہیں: ’مختصر مدت میں کسی بھی طرف سے آپریشنل یا سٹریٹجک فتح کا بہت کم امکان ہے۔‘ صدر پوتن یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیں۔ یوکرین میں کچھ علاقوں پر اپنا غلبہ قائم کر کے انھیں اپنا قرار دے کر روس اپنی فتح کا اعلان کر دے۔ صدر پوتن دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ’یوکرین میں فوجی آپریشن‘ ختم ہو گیا ہے۔ ڈونباس کے علاقے میں روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کو تحفظ اور کرائیمیا تک زمینی راستہ قائم کرنے کے بعد روس یوکرین پر جنگ بند کرنے کے لیے اخلاقی دباؤ ڈال دے۔
چیٹھم ہاؤس تھنک ٹینک میں روس کے ماہر کیئر جائلز کہتے ہیں: ’یہ ایک ایسی چال ہے جسے روس کسی بھی وقت استعمال کر سکتا ہے، وہ یوکرین پر یورپی دباؤ کا فائدہ اٹھا کر تصوراتی امن کے بدلے ہتھیار ڈالنے اور علاقے کو چھوڑنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔‘
روسی صدر شاید یہ سوچ رہے ہوں کہ یورپی ممالک یوکرین کی حمایت کرتے ہوئے تھک جائیں گے
اسی طرح کے دلائل پیرس، برلن اور روم میں پہلے ہی سنے جا رہے ہیں کہ جنگ کو مزید طویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، عالمی معاشی تکالیف کو ختم کرنا چاہیے اور آئیے جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
اگرچہ امریکہ، برطانیہ اور زیادہ تر مشرقی یورپ کے پالیسی ساز اس کی مخالفت کریں گے جو سمجھتے ہیں کہ عالمی امن اور یوکرین کی خاطر روس کو ناکام ہونا چاہیے۔ لہٰذا اگر روس یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر بھی دے تو بیانیہ تو شاید بدل جائے، لیکن لڑائی نہیں رکے گی۔
اگر یوکرین اور روس دونوں اس نتیجے پر پہنچ جائیں تو وہ جنگ کے ذریعے مزید کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور سیاسی تصفیے کے لیے بات چیت شروع کر دیں، تو پھر کیا ہو گا؟ ان کی افواج تھک چکی ہیں، افرادی قوت اور اسلحہ ختم ہو رہا ہے۔
مزید لڑائی کے لیے جانوں اور دولت کے ضیاع کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ روس اپنے فوجی اور اقتصادی نقصانات کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا۔ یوکرین کے لوگ بھی جنگ سے تھک چکے ہیں اور ایک مکمل فتح کے لیے مزید جانیں خطرے میں ڈالنے کو تیار نہیں۔
اگر کیئو میں قیادت مغربی حمایت پر اعتماد کھو دیتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت کرنے کا وقت آ گیا ہے؟
امریکی صدر جو بائیڈن کھلے عام اعتراف کر چکے ہیں کہ امریکہ کا مقصد یوکرین کو ’مذاکرات کی میز پر مضبوط ترین ممکنہ پوزیشن میں رکھنا ہے۔‘
لیکن ہو سکتا ہے کہ میدان جنگ میں کئی مہینوں تک تعطل نہ ہو اور کوئی بھی سیاسی تصفیہ مشکل ہو کیونکہ یوکرین کو روس پر اعتماد کی کمی ہے۔ امن معاہدہ شاید زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے اور دوبارہ لڑائی چھڑ جائے۔
کیا یوکرین اپنی تمام مشکلات کے باوجود کسی ایسی صورتحال میں پہنچ سکتا ہے جسے وہ فتح سے تعبیر کر لے؟ یا یوکرینی افواج روسی افواج کو پسپائی پر مجبور کرتے ہوئے انھیں اسی مقام تک پیچھے دھکیل دیں جہاں وہ جنگ سے پہلے تھیں۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے رواں ہفتے ڈچ ٹی وی کو بتایا کہ یوکرین یقینی طور پر جنگ جیت سکتا ہے۔ اگر روس ڈونباس کے تمام علاقوں پر قبضہ نہیں کر پاتا اور اسے مزید نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں تو؟ مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیاں روس کی جنگی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں اور یوکرین دور تک مار کرنے والے راکٹوں کے حصول کے بعد روسی افواج پر جوابی حملے شروع کر دیتا ہے اور ان علاقوں کو روسی افواج سے چھین لیتا ہے جن پر انھیں قبضہ کر رکھا تھا تو اس سے روسی افواج کو سازو سامان کی سپلائی میں خلل پیدا ہو جائے گا اور یوکرین اپنی فوج کو دفاعی فوج سے حملہ آور میں بدل دے گا۔
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے لاکٹ لانچر فراہم کرے گا ۔یہ منظر نامہ پالیسی سازوں کی تشویش میں اضافہ کر دیتا ہے کہ اگر پوتن کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو ممکنہ طور پر کیمیائی یا جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا امکان بڑھ جائے گا۔
تاریخ دان نیال فرگوسن نے حال ہی میں کنگز کالج لندن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ جب تک پوتن کے پاس جوہری آپشن موجود ہے، وہ روایتی فوجی شکست کو قبول نہیں کریں گے۔‘
مغربی حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روس ابتدائی ناکامیوں کے باوجود اب بھی دارالحکومت کیئو پر قبضہ کرنے اور یوکرین کے زیادہ تر حصے کو اپنے قبضے میں کرنے کے اپنی خواہش کو حاصل کرنے پر قائم ہے۔
روس ڈونباس میں اپنی کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی افواج کو وہاں سے ہٹا کر کسی اور جگہ استعمال کر سکتا ہے اور شاید وہ ایک بار پھر کیئو کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
یوکرین کے لوگ بھی منقسم ہیں، کچھ لڑتے رہنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ چاہتے ہیں کہ امن کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح کچھ مغربی ممالک یوکرین کی حمایت سے تھک سکتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں اگر لگا کہ روس جیت رہا ہے، تو وہ جنگ کی شدت کو بڑھانا چاہیں گے۔
ایک مغربی سفارت کار نے مجھے ذاتی طور پر بتایا ہے کہ روس کو متنبہ کرنے کے لیے مغرب کو بحرالکاہل میں جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کرنا چاہیے۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہو گا، یہ واضح نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں