438

نابینائی سے بنیائی تک


’’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ‘‘ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2ارب 20کروڑ افراد بینائی کی خرابی یا اندھے پن کا شکار ہیں ، مذکورہ رپورٹ کا زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ان 220کروڑ افراد کو اندھا ہونے سے بچایا جا سکتا تھا اگر ان کا علاج مناسب اور بروقت ہو سکتا ، لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے یہ کروڑوں انسان نگا ہ کی خرابی ، گلوکوما ، موتیا اور مکمل اندھے پن کا شکار ہو گئے ۔ انسان ہو یا کوئی بھی جاندار اس کیلئے آنکھ ایک بہت بڑی نعمت ہے ، آنکھ انسانی جسم کا مرکزی حصہ ہوتی ہے اس عضو کی افادیت صرف دیکھنے کی حد تک نہیں بلکہ اس کے آگے بھی اس کے متنوع اور رنگارنگ کردار ہیں شاعروں نے بھی آنکھوں اور ان کی خوبصورتی کو نئے نئے ڈھنگ سے باندھا ہے مثلاً بقول ناصر کاظمی
اس قدر رویا ہوں تیری یاد میں
آئینے آنکھوں کے دھندلے ہو گئے
آنکھوں کے اس دھندلے پن کو بینائی لوٹانے کیلئے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں حکومتی سطح پر بھی اور مختلف این جی او زکے پلیٹ فارم سے بھی کام ہو رہا ہے ۔ایسی ہی ایک این جی او برطانیہ میں قائم ’’ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ بھی ہے یہ ادارہ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیبّ کی سربراہی اور ’’ انجمن طلباء اسلام پاکستان ‘‘ کے سابق صدر عبدالرزاق ساجد کی چیئرمین شپ میں گذشتہ تقریباً پندرہ سال سے یو کے ’پاکستان ‘ بنگلہ دیش ، برما ، شام ، یمن ، صومالیہ، سوڈان اور دنیا کے دیگر بیشمار آفت زدہ علاقوں میں انسانی خدمت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے لیکن میں ذاتی طورپر ’’ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے زیر انتظام آنکھوں کے علاج اور مفت ہونے والے آپریشنز کے منصوبوں کا مشاہدہ کر چکا ہوں اس لئے اپنی آنکھوں دیکھے اس کام کی گواہی دے سکتا ہوں کہ ابھی اسی سال اس تنظیم نے پاکستان میں ایک لاکھ نابینا افراد کے آپریشنز کئے اور ان کی بینائی واپس لانے میں اپنا انسانی فریضہ ادا کیا ہے ۔پچھلے دنوں ایک میڈیا کانفرنس میں عبدالرزاق ساجد بتا رہے تھے کہ مزنگ روڈ لاہور پر ان کا ادارہ آنکھوں کے علاج اور آپریشنز کیلئے ایک فری ہسپتال قائم کر چکا ہے جہاں غریب اور ضرور مند لوگوں کا مفت علاج کیا جائے گا ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر دس افراد میں سے ایک فرد کمزور بینائی کا شکار ہے جبکہ 20لاکھ سے زیادہ افراد ایسے ہیں جو دونوں آنکھوں سے اندھے ہیں اور مہنگے علاج کی وجہ سے بینائی کی طرف نہیں جا سکتے لیکن اگر ایک چھوٹا سا آپریشن ہو جائے تو ان کی آنکھوں کی روشنی لوٹائی جا سکتی ہے لیکن افسوس کہ مناسب سہولیات اور وسائل کی کمی انہیں تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور رکھتی ہے ، ایسے میں ’’ سندس فائونڈیشن‘‘لاہور ’’ابراہیم آئی ہسپتال ‘‘ کراچی ’’الاحسان ویلفیئر آئی ہسپتال ‘‘ لاہور ’’ پی او بی ٹرسٹ ‘‘ پاکستان اور ’’ المصطفیٰ ویلفیئر نمایاں اور کلیدی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ لوگ خدمت خلق کو انسانیت کی معراج سمجھ کر اپنا کام کر رہے ہیں ، ’’اے ایم ڈبیلو ٹی ‘‘ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد کے مطابق لاہور میں ان کے نئے ہسپتال میں جدید ترین مشینری اور ماہر ترین ڈاکٹروں کی ٹیم مستحق مریضوں کے آپریشن سے پہلے ان کے بلڈ ٹیسٹ مثلاً ہیپاٹائٹس اور شوگر ٹیسٹ بھی مفت کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ صاف ستھرا ماحول اور ڈسپلن کا حامل خدمت گار سٹاف بھی ہماری پہلی ترجیح ہے ۔
دنیا کے تمام مہذب ملکوں میں لاکھوں ’’این جی اوز ‘‘ یا خیراتی ادارے کام کر رہے ہیں صرف برطانیہ میں ہی ایک لاکھ 66ہزار چیزیٹز موجود ہیں ان کامجموعی سالانہ ٹرن اورر 48ارب پائونڈ ہے۔ چیریٹی کمیشن یو کے، کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس کا بھی ایک مربوط سسٹم قائم ہے، 150سال سے قائم ریڈکراس سمیت برٹش ہارٹ فائونڈیشن ، آکسفام ، یونیسف جیسی بڑی چیرٹیز بھی دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت کر رہی ہیں ، مغربی حکومتیں انہیں ہر ممکن تعاون بھی دیتی ہیں اور ان کے خدمت ِ انسانی کے کاموں کو خراج تحسین بھی پیش کرتی ہیں کیونکہ چیر ٹیز ایک طرح سے حکومتوں کا ہاتھ بھی بٹاتی بلکہ ان کا بوجھ بھی کم کرتی ہیں اور ناداروں کا آسرا بھی بنتی ہیں۔پاکستان میں بھی ڈیڑ ھ لاکھ کے قریب این جی اوز رجسٹرڈ ہیں جو مختلف سیکڑز میں کام کرتی ہیں حکومت کیلئے ضروری ہے کہ اس ضمن میں چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم بھی کڑا رکھے لیکن ان کی حوصلہ افزائی بھی کرے۔ لاہور میں قائم ہونے والے ’’ المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ کے زیر اہتمام فری آئی ہسپتال یقینا سراہے جانے والا ایک فلاحی کام ہے اس لیے جہاں اس تنظیم کی انتظامیہ نے انسانی خدمت کی ایک شمع روشن کی ہے ہم اہل قلم بھی ان کی انسانی کوشش کو مہمیز دے کر اس کام میں شامل ہو کر ہو سکتے ہیں اپنی تحریر کے ذریعے ، چنانچہ اسی سوچ کے تحت میں نے بھی اپنی آزادانہ رائے دی ہے کیونکہ میں اس تنظیم کے کام کا عینی شاہد ہوں۔ اہل ادب کی نظر میں آنکھ روح کا آئینہ ہوتی ہے اور اسے حواس انسانی کا سب سے معتبر ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے ۔انسان کے رد و قبول کے فیصلے میں آنکھ کا رول سب سے بڑا اور اہم ہوتا ہے ، انسانی اعمال و افعال کی ہر سطح پر آنکھ کی ہمہ گیر مرکزیت کے نقوش ثبت ہیں آنکھ باہمی ربط و سلسلہ کا نقش اوّل بھی ہے اور خاتم بھی ، لہٰذا شعرا کے ہاں بھی آنکھوں کی اہمیت یوں دیکھئے کہ مولانا حسرت موہانی نے آنکھ اور چشم کے مابین ایک نیا حس تشبیہ علاقہ دریافت کیا ہے یوں کہ
آنکھوں ہی میں کٹ گئی شب ِ ہجر
رونے سے نہ آئی چشم ِ تر باز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں